بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

سوک سینس

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ .

بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے۔ (الرعد 13:11)

کسی بھی قوم کی ترقی اور اس کی بقا کا دار و مدار اسی بات پر ہوتا ہے کہ اس کے افراد اپنے معاشرتی فرائض کی ادائیگی کس حد تک کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال اور ذمہ داریاں صرف انہی کی ذات تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ایک وسیع دائرہ ہوتا ہے جس پر ان کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کسی قوم میں تعلیم و ہنراور ظاہری عبادات کا اہتمام بدرجۂ اتم موجود ہو، لیکن ان کی شخصیت و کردار پست ہو تو وہ تعلیم و ہنر اور عبادت ہماری فلاح کا ضامن نہیں ہوسکتی۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اگر ہمارا کردار اچھا نہ ہو اور بحیثیت شہری ہمیں اجتماعی زندگی میں رہنے کے بنیادی اصول ہی معلوم نہ ہوں تو ہم اس تعلیم کے باوجود بد تہذیب اور غیر متمدن کہلائیں گے۔ جس قوم کے لوگوں میں جس قدر معاشرتی آداب موجود ہوتے ہیں وہ قوم اسی قدر مہذب اور ترقی یافتہ خیال کی جاتی ہے۔

بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے کی حالت بھی یہی ہے کہ تاریخ باسانی ہم پر غیر متمدن ہونے کا فتویٰ صادر کرسکتی ہے۔ ہمارے ہاں نصابی تعلیم کو تو اہمیت دی جاتی ہے اور اس مقصد کے لیے بڑے بڑے اسکولز ، مدارس اور یونیورسٹیز قائم کردی جاتی ہیں لیکن ان میں ہمارے نوجوانوں کے لیے تعمیر شخصیت و کردار کا خاص اہتمام نہیں ہوتا، اور جب یہ نوجوان طلباء معاشرے کا حصہ بنتے ہیں تو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان کا رویہ سراسر خلاف تہذیب ہوتا ہے۔ حالت اب یہ ہے کہ ہمارے شہریوں میں اس بات احساس ناپید ہوچکا ہے کہ انہیں معاشرے میں کس طرح رہنا چاہیے اور ان کے حقوق و فرائض کیا ہیں؟ نہ صرف عام تعلیمی اداروں کا یہ معاملہ ہے بلکہ ان اداروں جہاں دین کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے، کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ چنانچہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے نوجوان خواہ دین دار ہوں یا دنیا دار، وہ اپنے ہی بھائیوں کے حقوق پامال کرتے ہیں۔

ہمارا دین بحیثیت مسلمان شہری ہم سے کیا تقاضے کرتا ہے۔ سوک سنس دراصل اسی علم کا نام ہے جس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک اچھے اور ذمہ دار شہری کو معاشرے سے کیا برتاؤ کرنا چاہیے اور اسے انفرادی زندگی کے علاوہ اجتماعی زندگی میں کس طرح رہنا چاہے۔ اس کتاب کا مقصد یہی ہےکہ ہم مسلمانوں میں سوک سنس کی اہمیت اجاگر ہو اور ہماری یہ تربیت ہوجائے کہ ہمیں بحیثیت ایک مسلم شہری کس طرح رہنا چاہیے۔

اس اسائن منٹ ہم میں جدید علم شہریت (Civic Education)کو سامنےرکھتے ہوئے شہریوں کےحقوق اور ان کے فرائض کا ذکر کیاہے، نیز یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ہمارا دین اس بارے میں ہم سےکیا تقاضا کرتا ہے۔اس مقصد کے لیے ہم نے جو اپروچ اختیار کی ہے وہ دراصل (تفصیلات سے قطع نظر)علم نفسیات کا ایک مقبول نظریہ Humanisticیعنی انسان شناسی پر مبنی ہے۔ یعنی جب تک انسان کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں، تب تک وہ کسی اور کام کے لیے مرغوب (Motivate)نہیں ہوسکتا۔ اسی اصول کےپیش نظر ہم سب سے پہلے ان حقوق کا ذکر کریں گے جو جدید علم شہریت اور اسلام میں بیان کیےگئے ہیں، اس کے بعد ان حقوق کے عوض فرد پر لاگو ہونے والی ذمہ داری کا ذکر کریں گے۔

یہاں ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا ماخذ قرآن و سنت ہے۔ اہل مغرب کے ہاں شہریت سے متعلق جو تصورات پیدا ہوئے ہیں، ان میں بہت کچھ قرآن و سنت اور عقل و دانش کی حدود سے تجاوزپر مبنی ہے۔ اس وجہ سے مغربی تصور شہریت کی جو چیزیں ہمیں قرآن و سنت کے مطابق نظر آئی ہیں، انہیں ہم نے لے لیا ہے اور جو اس کے خلاف معلوم ہوئی ہیں، انہیں چھوڑ دیا ہے۔

اسلام اور معاشرتی فرائض

انسان کو طبعی طور پر اس کے خالق نے مہذّب اور شہری بنایا ہے اور اجتماعی صورت میں رہنا اس کی فطری ضرورتوں میں سے ایک ہے۔لیکن اجتماعی زندگی میں ہر ایک فرد کو ایک بہتر زندگی کے لیے کچھ بنیادی مراعات اور دوسرے افراد سے کچھ خاص اصولوں پر مبنی رویہ درکار ہوتا ہے جسے "حقوق " کہا جاتا ہے۔یہ حقوق فرد کے جان و مال ، اہل و عیال ، سیاست، معیشت اور معاشرتی معاملات سے متعلق ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے کہ ماضی میں مسلمان سیاست و مدنیت (Civics)کو دین کا حصہ سمجھتے تھے اور وہ ذمہ داریاں جسے موجودہ دور میں "شہری ذمہ داریاں" (Responsibilities of a Citizen) کہا جاتا ہے انہیں مسلمان اپنے دینی فرائض میں شمار کرتے ہوئے ادا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نہ مذہبی احکامات دیے بلکہ ایسے معاملات کو بھی دین کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان کی تربیت کی جو انسان کے کردار سے متعلق ہیں۔ اسی بدولت مسلمان ماضی میں ترقی کی اس معراج کو پہنچ گئے کہ صدیوں تک دنیا پر حکومت کرتے رہے۔ علم ،جنگ ، مہارت و ہنر ، دعوت و تبلیغ ،غرض کہ زندگی کے ہر شعبے میں وہ کارنامے انجام دیے جس کی نظیر کوئی پیش نہ کرسکا۔

لیکن جب مسلمانوں پر سماجی وفکری زوال آیا اوران میں ذمہ داری اور خدا کے حضور جوابدہی کا احساس بے جان ہوگیا تو انھوں نے بھی دیگر مذاہب کی طرح دین اسلام کو چند مذہبی رسوم کی ادائیگی تک محدود کرلیا اور دین کواپنی شہری و تمدنی زندگی سے بے دخل کردیا۔ آج ہم مسجدوں تک جانے اور نماز پنج وقتہ نماز ادا کرلینے کے بعد یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دین کی ذمہ داری پوری ہوگئی اور اب ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں آزاد اور خود مختار ہیں۔ہمارے نزدیک اس بات سے ہماری دینداری میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم معاشرے میں کس طرح رہتے ہیں۔ حالانکہ اسلام صرف مسجدوں میں نہیں بلکہ مسجد سے باہر آنے کے بعد معاشرتی زندگی میں بھی لاگو کرنے کا نام ہے۔ ہمارے ہاں جو فقہ کی کتابیں ہیں ان کا 80 فیصد حصہ معاملات اور صرف 20 فیصد عبادات سے متعلق ہےجس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں معاملات کی اہمیت کیا ہے۔اسلام نے انسانوں کو جہاں زندگی کے دیگر شعبوں کے متعلق احکام دیے ، خدائے واحد کی پرستش کا طریقہ بتلایا، وہیں ہمیں اس بات سے بھی جاہل نہیں رکھا کہ ہمیں بحیثیت ایک شہری معاشرے میں کس طرح رہنا چاہیے۔ بلکہ اس اعتبار سے اسلام نےان معاملات کو حقوق اللہ سے بھی آگے قرار دیا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپناحق معاف کردیں گے لیکن اس نفسی نفسی کے عالم میں کوئی کسی کواپنا حق معاف نہیں کرے گا۔اسی اہمیت کے پیش نظر شریعتِ اسلامی میں معاشرے میں لوگوں کے درمیان محبت و الفت قائم رکھنے کے لیے کچھ معاشرتی قوانین اور اخلاقی اصول مقرر کیےگئے ہیں ؛ جس کی پابندی ہر مسلمان شہری پر واجب ہے۔ پڑوس کے ساتھ ، محلے والوں اور شہر والوں کے ساتھ ہمار اسلوک کیا ہونا چاہیے ، ان سب کے بارے میں اسلام نے ہمیں صریح احکامات دیے ہیں۔آج امّت مسلمہ کی زبوں حالی کے پیش نظر یہ بات بلا تردد کہی جاسکتی ہے اخلاقی قدروں کو خدا پرستی کے تحت رواج دینا اور اس ضمن میں لوگوں کی صحیح تربیت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پیش نظر کتاب اسی سمت میں ایک کوشش کی ہے ہم اپنے کھوئے ہوئے تصور دین کو دوبارہ دل و جان سے اپنا لیں، ہمارے اعمال و اخلاق ہمارے دین کی ترجمانی کریں اور ہم سارے عالم میں ایک مہذب قوم کی حیثیت سے پہچانے جائیں۔

مسلم شہری کے فرائض

عام طور پر شہری ان افراد کو کہا جاتا ہے جو کسی ریاست کے شہر میں رہتے ہیں ، لیکن علم مدنیات (Civics) کی اصطلاح میں اس سے مراد ریاست کے وہ باشندے ہیں جنھیں سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق حاصل ہوں۔ نیز ان حقوق کے عوض ان پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہوں۔

شریعت اسلامی ایک مسلمان شہری سے مندرجہ ذیل ذمہ داریوں کا تقاضہ کرتی ہے۔

۱۔ حقوق العباد/معاشرتی حقوق: ایک مسلمان شہری کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ اُن حقوق کا خاص خیال رکھے جو ہمارے دین نے اللہ کی مخلوق کے لیے مقرر کیے ہیں۔ اس ضمن میں یہ اصول اہم ترین ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

۲۔ قوانین کا احترام اور متعلقہ حکام سے تعاون: شہریوں کو ریاست کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ انہیں کبھی تشدد پر نہیں اترنا چاہیے اور قوانین اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی سے بچنا چاہیے۔

۳۔ ایمانداری اور فرائض کی ادائیگی: ایک مسلم شہری کو اپنے فرائض پوری ذمہ داری ،توجہ اور ایمانداری سے ادا کرنے چاہیے اور کبھی بھی کسی فراڈ یا دھوکے میں ملوث نہیں ہونا چایئے۔ انہیں تمام ٹیکس پورے اور بر وقت ادا کرنے چاہیے۔

۴۔ فلاح و بہبود اور ترقی کے فروغ کا ذریعہ: شہریوں کو ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے جو دینی و ریاستی یکجہتی، وقار اور ترقی کو فروغ دیتی ہوں۔

قوانین کی پابندی اور متعلقہ حکام سے تعاون

جب کوئی شخص کسی ریاست کا شہری بنتا ہے تو وہ خود بخود اس ریاست کے دوسرے شہریوں کے ساتھ ایک معاہدے میں بندھ جاتا ہے جسے معاہدہ عمرانی (Social Contract) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہر شہری کے ذمے کچھ حقوق اور کچھ فرائض ہوتے ہیں۔ ہر معاہدے کی پوری طرح پابندی ہمارے دین کا تقاضا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق مومن کی یہ شان ہے کہ وہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا، وہ جو بھی عہد کرتا ہے تو پھر اس کا پاس بھی رکھتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ جو بھی عہد کرے اسے ہر حال میں پورا کرے۔ایفائے عہد کا حکم قرآن مجید میں کئی مقامات پرمختلف انداز میں ملتا ہے۔

وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا.

عہد کی پابندی کیجیے کیونکہ عہد کے بارے میں آپ لوگوں سےباز پرس ہوگی۔ (بنی اسرائیل 17:34)

الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ

اے ایمان والو! اپنے معاہدات کو پورا کیجیے۔ (المائدہ 5:1)

الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ.

جو اللہ کے معاہدہ کو مضبوط کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور اس چیز کو قطع کرتے ہیں جسے ملانے کا اللہ نے حکم دیا اور زمین میں فساد کرتے ہیں، تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (البقرۃ 2:27)

اسلام میں شدت کے ساتھ عہد شکنی کی مذمت کی گئی ہے اور عہد کی پاسداری نہ کرنے والا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق "منافق" ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

منافق کی تین علامتیں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ (بخاری، مسلم)

ایفائے عہد کے حکم میں وہ تمام چھوٹے بڑے معاہدے آجاتے ہیں جو مذہبی احکامات سے متعلق ہوں یا معاشرتی معاملات سے۔ یہ حکم انسان کے تمام چھوٹے بڑے ، تحریری و غیر تحریری معاہدوں پر محیط ہے۔ حلف اور لائسنس تحریری معاہدوں میں شامل ہے۔یہ معاہدے خواہ علانیہ (Expressed) کیے ہوں یا معاشرے میں طے شدہ حیثیت (Implied) رکھتے ہوں، ان سب کی پابندی ضروری ہے۔ ملکی آئین کی حیثیت معاہدے ہی کی ہے جس پر حرف بحرف عمل کرنا دین کا حکم ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی ریاست کے قوانین موجودہ دور کی طرح بطور آئین کی شکل میں موجود تھے ، اس کے علاوہ جو معائدے کیے جاتے تھے ان کی پاسداری لازم ہوتی تھی۔نیز امیر یا حاکم جو حکم دیتا مسلمانوں کے لیے اس کی پیروی شریعت کی رُو سے ضروری تھی۔لہٰذا ایک مسلمان کے لیے یہ اس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ ان تمام معاہدوں کا پاس رکھے جو اس نے معاشرے میں کسی بھی حیثیت سے کیے ہوں۔ ٹریفک کے قوانین، پارکنگ، امن و امان سے متعلق قوانین ، ناجائز تجاوزات اور دیگر کسی بھی قسم کی خلاف ورزی اس میں شامل ہے۔

(حافظ محمد شارق،truewayofislam.blogspot.com)

سوک سینس کے موضوع پر یہ پہلی تحریر تھی۔ اس سلسلے کی مزید تحریروں کے مطالعے کے لیے وزٹ کیجیے:

http://mubashirnazir.org/PD/Personalityurdu.htm

غور فرمائیے!

      سوک سینس کسے کہتے ہیں؟

      عمرانی معاہدہ یا سوشل کنٹریکٹ سے کیا مراد ہے؟

      عمرانی معاہدے کی پابندی کیوں ضروری ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیجیے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html