بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

سوک سینس ۔۔۔ ہمارے معاشرتی حقوق و فرائض

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس معاشرے کے کچھ حقوق ہیں جو ہم پر لازم ہوتے ہیں۔ یہی حقوق ہمارے فرائض ہیں۔ اسی طرح دوسرے شہریوں پر جو فرائض ہیں، وہ ہمارے حقوق ہیں۔ جدید معاشروں میں اپنے حقوق لینے پر تو بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور اس کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں لیکن دوسروں کے حقوق دینے یعنی اپنے فرائض انجام دینے پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اسلام میں یہ ترتیب الٹ ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے فرائض پہلے انجام دے، پھر اپنے حقوق کا مطالبہ کرے۔ اگر ہم دوسرے شہریوں کے حقوق پر توجہ دیں گے تو ہمیں اپنے حقوق خود بخود حاصل ہو جائیں گے۔ ہم پر دوسرے شہریوں کے یہ حقوق عائد ہوتے ہیں:

      ضرورت مندوں کا خیال

      وسائل کا مناسب استعمال

      دوسروں کی جان کی حفاظت

      دوسروں کو تنگ کرنے سے متعلق حقوق

      آزادانہ نقل و حرکت کا حق

      مذہبی آزادی

      اظہار رائے کی آزادی

      تعلیم کا حق

      خاندان سے متعلق حقوق

      سیاسی حقوق

      تنقید اور احتجاج کا حق

      ذریعہ معاش کا حق

اب ہم ایک ایک کر کے ان کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ کچھ حقوق کی تفصیلات اس تحریر میں ہوں گی اور بقیہ کی اس تحریر کے اگلے حصوں میں۔

ضرورت مندوں کا خیال

ہمارے ہاں ایک عمومی طور یہ خیال پایا جاتا ہے کہ نیک اور بہترین انسان بلکہ اللہ کا ولی صرف وہی ہوتا ہے جو عبادات میں مشغول رہتا ہو اور مذہب کی تبلیغ کرتا ہو۔ یقینایہ اعمال اچھے ہیں ان کی ایک خاص اہمیت دین میں ہے لیکن سارا کا سارا دین یا نیکی اسی کو سمجھ لینا ایک سنگین غلطی ہے۔اسلام ہماری زندگی کو صرف نماز، روزہ ، حج ،زکوٰة اور دعوت و تبلیغ پر ہی محدود نہیں سمجھتا بلکہ یہ ہمیں اُس راستے پر گامزن ہونے کی ہدایت دیتا ہے جس پر انسانیت کے سب سے عظیم محسن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کا مکمل راستہ یہی ہے کہ انہوں نے صرف نماز و روزہ کی تلقین نہیں کی بلکہ حقوق انسانی کے متعلق سب سے بڑھ کر کام کیا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی تلقین کی۔

اسلام میں نیکی کا جو جامع تصور پیش کیا گیا ہے اس میں سوشل سروس ایک لازمی حصہ ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ.

نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اللہ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں ،یتیموں،محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والے [حقیقی ضرورت مندوں]، اور غلاموں کی آزادی پر میں خرچ کرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی متقی ہیں۔(البقرۃ 2:177)

قرآن نے نہ صرف سوشل سروس کی تلقین کی ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی ایمان باللہ اور آخرت کے تصور سے اس میں اخلاص بھی پیدا کردیا کہ جو بھی کام ہو صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو نہ کہ دنیاوی دکھلاوے کے لیے۔ قرآن مجید کی یہ آیت اسلام میں نیکی کے جامع تصور کو بالکل کھول کر بیان کردیتی ہے کہ تمام مخلوق کی بلا امتیاز بقدر طاقت و استطاعت خدمت کرنا اور انہیں نفع پہنچانا اس کا بڑا مقصد اور اسلامی اخلاق ایک اہم ترین منشا ہے۔اس آیت میں صرف عبادات کو نیکی سمجھ لینے کے خیال کی واضح طور پر تردید بھی کی گئی ہے اور صرف سماجی خدمات کو نیکی سمجھنے کی بھی۔ قرآن مجید کے بعد اگر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں بھی اسے دین کا ایک لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، اس پر واجب ہے کہ وہ اس پر کوئی ظلم و زیادتی نہ کرے اور اسے بے یار و مددگار نہ چھوڑے، نہ اسے حقیر جانے اور نہ اس کے ساتھ حقارت کا برتاؤ کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔ آدمی کو بُرا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کے ساتھ حقارت سے پیش آئے ، مسلمان کی ہر چیز دوسرے مسلمان کے لیے قابل احترام ہے، اس کا خون بھی، اس کا بھی اور اس کی عزت و آبرو بھی۔

اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دے کران کے باہم کچھ معاشرتی حقوق مقرر کیے ہیں۔ سب سے پہلا حق ظلم وزیادتی نہ کرنا ہے، اس بارے میں ہم تفصیل سے سابقہ اوراق میں پڑھ آئے ہیں کہ یہ ظلم و زیادتی جسمانی، مالی ، زبانی ، نفسیاتی یا کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے۔دوسرا حق جو بیان کیا گیا ہے وہی ہمارا موضوعِ سخن ہے۔ یعنی جب کسی مسلمان کو مدد کی ضرورت ہو تو دوسرے مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اسے بے یار و مددگار نہ چھوڑے اور اسے غربت یا کسی اور کمزوری کی بناء پر حقیر نہ سمجھے۔ اس عمل کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم نیکی قرار دیا ہے۔

جو شخص جتنی دیر اپنے بھائی کے کام بنانے اور حاجت پوری کرنے میں لگا رہے گا اللہ تعالیٰ اس کے کام بناتے رہیں گے اور اس کی حاجت پوری کرتے رہیں گے۔ (صحیح بخاری۔ کتاب المظالم والغضب)

اگر کسی نے کسی مسلمان کی مصیبت کو دور کردیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبت اور پریشانی دور فرمائیں گے۔ (صحیح بخاری۔ کتاب المظالم والغضب)

اس طرح متعدد احادیث ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھ اور مصیبت میں مبتلاء انسانیت کے لیے بھلائی کے کام کرنے کی تلقین کی ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ان احادیث کا تعلق تمام انسانوں سے ہے، صرف مسلمانوں سے نہیں۔ یہاں پر لفظ مسلم اس لیے آیا ہے کہ سننے والوں کے دل میں جذبہ پیدا کیا جائے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مدد صرف مسلمانوں کی کی جائے اور غیر مسلموں کی نہ کی جائے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کہا جائے کہ اپنے پڑوسی کے حقوق ادا کیجیے۔ اس جملے میں لفظ پڑوسی کا مقصد یہ ہے کہ مخاطب کے دل میں جذبہ پیدا کیا جائے کہ وہ حقوق ادا کرے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ جو پڑوسی نہ ہو، اس کے حقوق ادا نہ کیجیے۔ اسلام نے سوشل ورک کا حکم تمام انسانیت کے لیے دیا ہے۔ چنانچہ ہمیں احادیث میں ملتا ہے کہ جن دنوں اہل مکہ، اسلام کے خلاف شدید مزاحمت کر رہے تھے، انہی دنوں مکہ میں قحط پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں خوراک کے کئی اونٹ بھیجے ۔

اسلامی تاریخ اور سیرت النبی کا ہر ایک باب بھی اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح شب و روز سماج کی خدمت کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعثت سے قبل بھی سماجی کام میں مشغول ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ اس کی شہادت اس طرح ملتی ہے کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے کہا کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ناداروں کی خبر گیری کرتے ہیں،مہمانوں کی میزبانی کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں۔ (بخاری۔ کتاب بدء الوحی)

آج کوئی سماجی ادارہ خواتین کے لیے کام کرتا ہے، کوئی بچوں کے لیے کام کرتا ہے، کوئی تعلیم کے لیے کوئی صحت کے لیے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی خدمات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط تھی۔ بادی النظر سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے سب سے عظیم سماجی کارکن تھے۔ تاریخ انسانی کے اس سب سے بڑھ کر سماجی کام کیا ہوگا کہ عرب میں زندہ بچیوں کو دفنادیا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ظالمانہ رسم کے خلاف جرأت مندانہ قدم اٹھایا۔ خواتین حقوق سے محروم تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہر قسم کے حقوق دلائے۔غلام طبقہ پِس رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے آزادی کی بہت سی راہیں (حکم خداوندی کے تحت) نکالیں اور انہیں وہ مقام عطا کیا کہ جس کے نتیجے میں ایک سیاہ غلام بھی قیادت کا اہل قرار پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل زندگی میں سماجی خدمات کی اور بھی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے ایسے کام شروع کریں جس سے معاشرے کی بھلائی ہو۔ یہ کام غرباء و مساکین کی مدد کرنا اور عوام میں کسی مسئلے پر شعور بیدار کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ کسی کی مالی مدد کرنے کے متعلق مندرجہ ذیل اہم باتوں کا خیال ضرور رکھنا چاہیے۔

        پیشہ ور بھکاریوں کو پیسے دے کر ان کی حوصلہ افزائی ہرگز نہ کریں یہ آپ کے لیے ہی گناہ ہوگا۔ایسے لوگ دراصل خدا کا نام لےکر آپ کا استحصال کرتےہیں اور ضرورت مندوں کا حق مار جاتے ہیں۔

        ایسے افراد کو دیں جو ضرورت مند ہوں لیکن عزت نفس اور خود داری کی وجہ سے ہاتھ نہ پھیلاتے ہوں۔

        زکوۃ و خیرات دیتے ہوئے اپنے ضرورت مند رشتہ داروں کو مت بھولیے، آپ کی زکوۃ و خیرات کے سب سے پہلے مستحق وہی ہیں۔

        مالی مدد میں غیر مستقل امداد کے بجائے ان کے لیے روزگار کا انتظام کیجیے۔ مچھلی کھلانے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھائیے۔

اگلی تحریر میں ہم اسی موضوع کو جاری رکھیں گے اور انسانوں کے علاوہ دیگر مخلوقات کے حقوق پر بات کریں گے۔

(حافظ محمد شارق،truewayofislam.blogspot.com)

سوک سینس کے موضوع پر یہ دوسری تحریر تھی۔ اس سلسلے کی مزید تحریروں کے مطالعے کے لیے وزٹ کیجیے:

http://mubashirnazir.org/PD/Personalityurdu.htm

غور فرمائیے!

      ہم پر دیگر شہریوں کے کون کون سے حقوق عائد ہوتے ہیں؟

      کیا آپ دوسروں کی مدد کرتے ہیں؟

      کہیں آپ اپنا پیسہ پیشہ ور بھکاریوں پر ضائع تو نہیں کرتے؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html