بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

خزانے کا نقشہ

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

انسان کہانیوں کوبہت پسند کرتے ہیں۔خاص طور پر وہ کہانیاں جن میں کسی پوشیدہ خزانے کا ذکر ہو ان کہانیوں میں کوئی مہم جو خطرات سے کھیلتا اور مشکلات جھیلتا ہوا اس خزانے تک جا پہنچتا ہے۔ اس مہم کے دوران اس کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ ایک نقشے کا بھی ذکر ہوتا ہے جس کی مدد سے وہ نامعلوم منزل تک جاپہنچتا ہے۔

اگر غور کیا جائے تو پوشیدہ خزانے کے حصول کی یہ کہانی انسانی فطرت کے ایک خاص پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جس کی بنا پر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا بھر کی ساری نعمتیں اور راحتیں حاصل کرلے۔ یہ سب کچھ مال و دولت کے بغیر نہیں مل سکتا ۔ خزانے کی کہانی میں یہی مال و دولت عالم شباب میں اس مہم جو کو مل جاتا ہے جو پڑھنے والے کے لیے ہیرو کی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟ اس تحریر میں مصنف نے 40 سے زائد شخصی اوصاف کا جائزہ لے کر شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی تعمیر کا لائحہ عمل بیان کیا ہے۔ ان خواتین و حضرات کے لئے مفید ہے جو اپنی شخصیت کی تعمیر سے دلچسپی رکھتے ہوں۔

لیکن کہانیاں پسند کرنے والوں بلکہ درحقیقت اکثر انسانوں کو یہ بات معلوم نہیں کہ خزانے کی کہانی کوئی فلم، کوئی داستان نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ زندگی کی ایک ایسی حقیقت جس میں مرکزی کردار خود ان کا اپنا ہے۔ روز ازل سے خدائے ذوالجلال نے زندگی کی سچی کہانی میں انسان کو مرکزی رول کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اس کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ایک مہم جو کی طرح دنیا کے مصائب و آلام اور راحت و سکون کو نظر انداز کرتا ہوا آگے بڑھے اور جنت کے اس خزانے کو پالے جس کے بعد انسان ہر عیش و آرام کا حقدار اور ہر دکھ و غم سے نجات پا لے گا۔

خدا نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے جنت کے پوشیدہ خزانے تک پہنچنے کا ایک نقشہ بھی عطا کیا ہے۔ یہ نقشہ پیغمبروں کی رہنمائی کے ذریعے سے انسان کو ملتا رہا ہے۔ اور آخری دفعہ یہ نقشہ قرآن پاک کی شکل میں تحریری طور پر محفوظ کرکے انسانوں کو دے دیا گیا ہے۔ اس نقشے میں علامات نہیں بلکہ الفاظ کی شکل میں بتا دیا گیا ہے کہ کون لوگ ہیں جو اس خزانے تک پہنچنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ سیدھا راستہ کیا ہے؟ اس پر چلنے میں کیا مشکلات آتی ہیں؟ ان سے کیسے نبرد آزما ہونا ہے؟ اس راستے کا زاد راہ کیا ہے؟ راستہ بھٹک جائیں تو کیا کرنا ہے؟ یہ سب اس میں تفصیل کے ساتھ بتادیا گیا ہے۔

ایسا شخص جس کے پاس علم ہے مگر وہ اس پر عمل نہیں کرتا، کی مثال اس نابینا کی طرح ہے جو چراغ تھامے کھڑا ہو۔ ساری دنیا اس کی روشنی سے فائدہ اٹھا رہی ہو مگر وہ خود محروم ہو۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

مگر بدقسمتی سے انسان اس نقشے کو چھوڑ کر خواہش کے صحرا اور توہمات کے جنگل میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ یہ بھول چکے ہیں کہ وہ عالم زیست میں ایک مہم پر بھیجے گئے ہیں۔ اس مہم میں ان کا مقصد جبلِِ زندگی کے اس پار ایک اور دنیا میں موجود فردوس کے خزانے تک پہنچنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کے اس جنگل سے وہ محتاط انداز میں گزریں۔ کیونکہ یہاں قدم قدم پر گناہ کی دلدل ہے، ابلیس کے چھوڑے ہوئے شکاری درندے ہیں اور نفسانی خواہشات کے اژدہے ہیں۔ انہیں اس جنگل سے اپنا زاد راہ تو لینا ہے ، مگر اسے اپنا مسکن و مقصد نہیں بنانا ہے۔ جس نے ایسا کیا وہ ابد تک اس جنگل میں بھٹکتا رہے گا۔

خزانے کے اس نقشے کو چھوڑ دینا ہر چند کہ تمام انسانیت کی بدقسمتی ہے، مگر سب سے بڑھ کر یہ ان لوگوں کی بدقسمتی ہے جن کے حوالے کر کے پیغمبر علیہ السلام دنیا سے گئے تھے۔ اس لیے کہ دوسروں کو یہ سب کچھ سمجھانے کی ضرورت ہے ، مگر انہیں تو اس بات پر یقین ہے کہ واقعتاً یہ قرآن جنت کے پوشیدہ خزانے کا نقشہ ہے۔ دنیا کے دوسرے لوگ تو کل قیامت کے دن یہ عذر پیش کرسکتے ہیں کہ ہمارے پاس خزانے کا یہ نقشہ نہیں تھا مگر مسلمان قیامت کے دن کیا عذر پیش کریں گے؟

آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ خدا کی کتاب اور ان کے پیغمبر کا دیا ہوا سب سے عظیم تحفہ ان کے پاس موجود ہے، مگر انہیں توفیق نہیں ہوتی کہ وہ اس کو کھول کر پڑھ لیں۔ جنہیں یہ توفیق ہوتی ہے وہ بے سوچے سمجھے اس کو پڑھتے ہیں اور ادب سے کسی بلند مقام پر رکھ دیتے ہیں۔ جو لوگ اس کے سمجھنے کے دعوے دار بن کر کھڑے ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ بس دنیا میں سیاسی انقلاب برپا کرنے کا ایک منشور ہے۔ جب مسلمانوں کا یہ حال ہو تو کسی غیر مسلم سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔

آج خدا اور انسانوں سے محبت کرنے والے لوگوں کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ وہ انسانوں کو خدا کی اس کتاب کی طرف بلائیں۔ پیغمبر کے اس کلام کی طرف بلائیں۔ اس لیے کہ ہر انسان کے پاس وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے۔ ہر مہم جو کے لیے مہلت عمل ختم ہورہی ہے۔ اس نے اس نقشے کی مدد سے فردوس کے خزانے کو نہ پایا تو اس کا انجام جہنم کی گہری کھائی ہوگی۔ وہ کھائی جہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رونا ہوگا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلانا ہوگا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      اس تحریر کا سبق کیا ہے؟

      مصنف نے خزانے کے جس نقشے کا ذکر کیا ہے، اسے استعمال کرتے ہوئے ہم کس طرح زندگی کا اصل خزانہ پا سکتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے