بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

مذہب کا انکار کرنے کے بعد اہل مغرب کے سامنے دو سوال آ کر کھڑے ہوگئے تھے۔ یہ محض اخلاقی نوعیت کے سوال نہیں تھے بلکہ خالص عقلی اور منطقی نوعیت کے سوالات تھے۔ پہلا یہ کہ کائنات کو کس نے پیدا کیا اور دوسرا یہ کہ مخلوقات اورخود انسان جیسی باشعور ہستی کیونکر کائنات کے سادہ صفحے پر ابھری۔

ان سوالات کا سبب یہ علم تھا کہ کائنات ایک مادی وجود ہے۔ ہر مادی چیز کی طرح کائنات بھی خود بخود وجود پذیر نہیں ہوسکتی۔ اسکی کوئی علت ہونی چاہیے۔ یہ علت وہ شے خود نہیں ہو سکتی۔ ایک سادہ سی مثال سے یوں سمجھیں کہ کسی کمرے میں اگر فرج رکھا ہوا ہے تو اسکے بارے میں یہ سوال لازماً اٹھے گا کہ اسے کس نے بنایا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ فرج خود اپنے آپ کو بنالے۔ ٹھیک یہی بات اس کائنات کی ہر شے اور خود کائنات پر بھی صادق آتی ہے کہ ان میں کوئی بھی اپنی تخلیق پر آپ قادر نہیں۔ یہ محض ایک منطقی نوعیت کی بحث نہیں بلکہ سائنسی بنیاد رکھتی ہے۔

قرآن اور بائبل کے دیس میں۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے متعلق مقامات کا سفرنامہ۔ اس سفر نامے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے متعلق مقامات مکہ، مدینہ، طائف، بدر اور تبوک کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ قوم کے ثمود کے پہاڑوں میں تراشے گئے گھر، نبطی قوم کے تاریخی آثار، قوم لوط اور قوم شعیب علیہما الصلوۃ والسلام کے علاقے، بنی اسرائیل کی تاریخ اور سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے منسوب مقامات کی تاریخ اس سفرنامے کا حصہ ہے۔ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

سائنس یہ مان چکی ہے کہ کائنات کا وجود ابدی نہیں ہے۔ یہ آج سے پندرہ بلین سال قبل ایک عظیم دھماکے (Big Bang) کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا اور کس نے کیا۔ اس بات کے جواب میں سائنس بالکل خاموش ہے۔ وہ صرف اتنا بتادیتی ہے کہ یہ دھماکہ کسی خارجی طاقت کی مداخلت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ لیکن یہ خارجی طاقت کون تھی اور اس نے ایسا کیوں کیا، اس کا جواب سائنس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ کیونکہ یہاں سے عالم شہود ختم ہوجاتا ہے اور عالم غیب شروع ہوتا ہے۔

اس بات کا جواب صرف مذہب دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کائنات کو اللہ تعالیٰ نے بنایا۔ ( خیال رہے کہ یہاں اور اس بحث میں آگے ہر جگہ مذہب سے میری مراد اسلام ہے۔ کیونکہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جسکے من جانب اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور اسکی کتاب بالکل محفوظ ہے۔)

ملحدین (یعنی خدا کے منکر) مذہب کے اس دعوے کے جواب میں فوراً کہتے ہیں کہ پھر خدا کو کس نے بنایا۔ لیکن یہ قطعاً ایک غیر عقلی اور غیر منطقی سوال ہے۔ کائنات اور اسکی ہر چیز کے بارے میں ایک خالق کا سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ انکا تجزیہ کرکے یہ بتایا جاسکتا ہے کہ انہیں ایک خالق کی ضرورت ہے۔ انکا مادی ہونا اور قابل تجزیہ ہونا لازم کرتا ہے کہ یہ بنائی گئی ہیں، خود بخود سے وجود میں نہیں آئیں۔

کیا کوئی ملحد خدا کی ذات کا تجزیہ کرکے یہ ثابت کرسکتا ہے کہ خدا ایک مخلوق ہے جس کا کوئی خالق ہونا منطقی طور پر ضروری ہے؟ کیا مذہب یہ کہتا ہے کہ خدا ایک مادی وجود ہے کہ سائنسی اعتبار سے یہ سوال اٹھے؟ دراصل خدا کے غیر مادی ہونے کی وجہ سے سائنس کی بنیاد پر خدا کا اقرار ممکن ہے نہ انکار۔ سائنس صرف یہ کر سکتی ہے کہ مادی دنیا کے مطالعے کے بعد، خدا کے امکان کے بارے میں کوئی منفی یا مثبت شہادت دے۔ دوسرے الفاظ میں آپ یہ کہہ لیں کہ اس بحث میں سائنس کی حیثیت ایک جج کی نہیں بلکہ گواہ کی سی ہے۔ اور اس دور میں سائنس نے خدا کے ہونے کے امکان کے حق میں شہادت دے دی ہے۔

حسد بدن کو گلا دیتا ہے جبکہ قناعت بدن کو تازگی بخشتی ہے۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام

اس معاملے میں فیصلہ کن کردار عقلِ عام (Common Sense) کا ہے۔ چنانچہ مذہب کا مقدمہ سائنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقلِ عام کی بنیاد پر ہے۔ اس لیے کہ مذہب کا مخاطب انسان ہے۔ اور انسان اپنی زندگی سائنس کے اصولوں پر نہیں بلکہ عقلِ عام کے اصولوں پر گزارتاہے۔ وہ اپنی زندگی کا پورا ڈھانچہ عقلِ عام کو استعمال کر کے ہی قائم کرتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی جان لیں کہ خدا تو بہت آگے کی ہستی ہے خود انسان سائنس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ انسان سائنس کے دائرہ کارمیں آتا ہے نہ اسکے اعتبار سے چیزیں سمجھتا ہے۔ یہاں انسان سے میری مراد اس کا حیوانی وجود نہیں بلکہ عقلی اور شعوری وجود ہے۔ سائنس کا دائرہ کارصرف اور صرف جمادات، نباتات اور حیوانات تک محدود ہے۔

اس بات کو چند مثالوں سے سمجھیں۔ نیوٹن کا تیسرا قانون ہے کہ ہر عمل کا ردعمل اتنا ہی ہوتا ہے اور مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ آپ نے کتنی دفعہ انسانوں کے شعوری وجود کو اس اصول کی پابندی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ انسان اس اصول کی پابندی کر سکتا ہے مگر اس اصول کا پابند نہیں۔ جبکہ پوری کائنات اس اصول کی پابند ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ زمین ہر آن متحرک ہے۔ آپ نے کرسی پر بیٹھے ہوئے کسی شخص کو کبھی کہتے سنا ہے کہ میں حرکت کر رہا ہوں۔ کوئی ایسا کہے گا تو لوگ اسے پاگل خیال کریں گے۔ انسان اپنی زندگی کی ترتیب عقلِ عام کے اصولوں کے تحت بناتا ہے، نہ کہ سائنس کے تحت۔ وہ سائنس کی اس وقت تک پیروی کرتا ہے جب تک وہ عقلِ عام سے موافقت کررہی ہو۔ انسانوں کے لیے آج بھی سورج "ڈوبتا" اور "طلوع" ہوتا ہے۔ سائنس کا جو دل چاہے کہتی رہے۔

لہٰذا مذہب نے انسان پرخدا کے وجود کی دلیل سائنس سے قائم نہیں کی بلکہ عقلِ عام کی مدد سے بالواسطہ دلیل قائم کی ہے۔ پورا قرآن ان دلائل سے بھرا پڑا ہے جو اس نے عقلِ عام کی روشنی میں انسانوں کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ جس کو دیکھنا ہو وہ قرآن میں انکی تفصیل دیکھ لے۔

ان کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات اور خود انسان کے وجود میں کوئی کام الل ٹپ نہیں ہورہا۔ بلکہ ایک حکمت، ربط اور ترتیب کے ساتھ ہورہا ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے انسانوں سے منوانے کی ضرورت پڑے۔ یہ اسکا مشاہدہ ہے۔ یہ اسکے لیے ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ قرآن ان حقیقتوں کو اس کے سامنے رکھ کر اکثر خاموش ہوجاتا ہے۔ اسکے بعد اگر انسان عقلِ عام کو استعمال کرے تو ٹھیک نتیجے پر پہنچ جائے گا بشرطیکہ وہ وہاں پہنچنا چاہے۔ اسکی عقلِ عام اسے یہ بتا دے گی کہ حکمت اگر پائی جارہی ہے تو لازماً اسکے پیچھے ایک حکیم موجود ہے، اگر نظم موجود ہے تو عقلِ عام کے لیے اس کے سوا چارہ ہی نہیں کہ ناظم کو مانے۔ قرآن کا اصل زور اس ذات کو منوانے پر نہیں، اسکی صفات کے صحیح تعارف پر ہے۔ کیونکہ انسان اصل ٹھوکر یہاں کھاتا ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

ممکن ہے کہ آپ کے سوالات یا تاثرات سے دوسروں کی الجھنیں دور ہو جائیں۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      یہ کائنات کس طریقے سے خدا کی پہچان کرواتی ہے؟ مخلوق کس طرح سے اپنے خالق کی نشاندہی کرتی ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے