بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

خدا، انسان اور سائنس: حصہ سوم

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

انسان کا روحانی وجود اور علم ا لانسان (Anthropology)

انسان ایک حیوانی وجود رکھتا ہے۔ اس میں وہ تمام بنیادی جبلتیں پائی جاتی ہیں جو حیوانوں کا خاصہ ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ انسان جانوروں سے بلند تر ایک وجود اور شعور رکھتا ہے جسے مذہبی اصطلاح میں روحانی وجود کہا جاتا ہے۔

اہل مغرب علم الحیوانات سے تو کسی طور یہ ثابت نہیں کرپائے کہ کب اور کیسے یہ نرا حیوان ایک بلند تر ذہنی اور روحانی شخصیت میں تبدیل ہوا۔ لیکن وہاں اصولی طور پر یہ طے ہوچکا تھا کہ انسان کی تشریح خدا اور بائبل والے آدم علیہ السلام سے ہٹ کر ہی کرنی ہے۔ لہٰذا علم الانسان کی بنیاد رکھی گئی اور ایک پورا فلسفہ گھڑ لیا گیا۔ جس میں انسان کے ذہنی اور روحانی ارتقا کا سفر وحشی انسان سے متمدن انسان تک دکھایا گیا۔ اس سلسلے میں جس استدلال کا سہارا لیا گیا وہ تحقیق کا نہیں حماقت کا شاہکار تھا۔

اس شعبے کے ماہرین کا طریقۂ کار یہ ہے کہ یہ معاصر غیر متمدن قبائل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان کی توہم پرستی اور وحشیانہ زندگی کو دیکھ کر انہیں یقین ہوجاتا ہے کہ جس گوہرِ نایاب کی وہ تلاش میں تھے وہ ان کے ہاتھ آگیا۔ یعنی انہوں نے انسان کی اصل ڈھونڈ لی۔ وہ ان قبائل کی تمام خصوصیات کو دورِ قدیم کے انسان پر چسپاں کردیتے ہیں۔ پھر اپنی یہ نادر تحقیق دنیا کے سامنے بڑے اعتماد کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ یہ ہے ہمارا آغاز۔

اس استدلال کی بنیادی کمزوری اصولی طور پر یہ مان لینا ہے کہ تمدن کا شجر اسی غیر متمدن بیج سے پھوٹا ہے، حالانکہ اس بات کا پور ا امکان ہے کہ یہ وحشی انسان شاخِ تمدن سے ٹوٹ کر گرا ہو اور ناموافق حالات میں پروان چڑھ کر اس حال کو پہنچا ہو۔ انسانی تمدن کو اپنے ارتقا کے لیے مناسب ماحول چاہیے۔ جس جگہ یہ حالات دستیاب نہ ہوں انسان مجبوراً خود کو صرف بنیادی جبلی ضروریات تک محدود کرلیتا ہے اور وحشیانہ اور جانوروں سے قریب تر اندازِ زندگی اختیار کر نے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔

آج کے متمدن انسان کو بھی تنہا کسی غیرآباد ویرانے میں پہنچا دیں جہاں کسی قسم کے وسائل نہ ہوں۔ پھر دیکھئے کہ وہ اپنی زندگی کا سفر کس طرح طے کرتا ہے۔ اسی طرح افریقہ، آسٹریلیا اور امریکا کے قدیم قبائل کی مثال کو بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ زمانہ قبل از تاریخ کے کسی دور میں تہذیبِ انسانی کے مرکزی دھارے سے کٹنے کے نتیجے میں وجود پذیر ہوئے ہوں گے۔ ان کی موجودگی سے یہ نتیجہ کیسے برآمد ہوتا ہے کہ تہذیب کا دھارا لازماً ان سے نکلا ہے۔

اس بات کو ایک مثال سے سمجھئے۔ آج سے چند ہزارسال قبل ایک مرد و عورت میں عشق ہوا۔ ان کا تعلق باہمی دشمن قبائل سے تھا۔ جسکی بنا پر ان کی شادی ناممکن تھی۔ چنانچہ یہ دونوں نہ صرف اپنے قبائل بلکہ اس سارے علاقے سے دور فرار ہوگئے جہاں تک ان کی پہنچ ممکن تھی وگرنہ یہ دونوں قتل کردیے جاتے۔ اب یہ دونوں اس دور کی متمد ن دنیا سے دور کسی ویرانے میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ جہاں ان کا واسطہ انسانوں سے زیادہ حیوانوں سے پڑتا ہے۔ یہ دونوں تنہا ملکر کونسا تمدن تعمیر کرینگے۔

تمدن صرف انسانی ہاتھ تشکیل نہیں دیتے۔ یہ سیکڑوں نسلوں کے تجربات، ہزاروں سالوں کی تحقیق کے بعد جنم لینے والے آلات اور مخصوص قدرتی وسائل وحالات کا محتاج ہوتا ہے۔ ان سب کے بغیر یہ دونوں کیا تیر چلائیں گے؟ ان کی اولاد کی باہمی شادیوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ ان کے لباس، رہنے سہنے اور کھانے پینے کے معاملات ان کے پرانے قبیلے کی سطح کا کیسے ہوسکتا ہے؟

لازمی طور پر چند صدیوں میں ان دونوں سے ایک غیر متمدن قبیلہ جنم لے لیگا۔ یہ محض ایک مثال ہے وگرنہ عشق کے علاوہ جنگ وجدل، قدرتی حوادث، معاشی مسائل اور دیگر کئی وجوہات کی بنا پر بارہا انسان اپنی اصل سے کٹے ہیں۔ جس براعظم پر بیٹھا میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں یہاں بھی انسان چالیس ہزار سال قبل، چائنا کو اس وقت امریکا سے ملانے والے ایک گلیشیئر کے ذریعے، شکار کے پیچھے آئے تھے۔ بعد میں آئس ایج کے خاتمے سے یہ زمینی رابطہ منقطع ہوگیا تو یہ لوگ یہیں پھنس گئے۔ ایشیا والوں نے تو عظیم تہذیبیں جنم دیں مگر یہ لوگ آخری وقت تک شکاری ہی رہے۔

رہی عقائد و نظریات کی بات تو اس معاملے میں انسان نے ہر دور میں الٹی سمت میں سفر کیا ہے۔ یہ کہنا قطعاً غلط ہے کہ انسان نے شرک اور توہم پرستی سے اپنا آغاز کیا اور پھر خداؤں کی تعداد کم کرتا کرتا ایک خدا تک پہنچا۔ انسان نے تو معلوم تاریخ میں بھی ایک خدا سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہے اور تین سے تین کروڑ خداؤں تک پہنچ گیا۔ خود اپنی امت کو دیکھ لیں۔ شرک کی جتنی مذمت اس دین میں ہے کسی اور میں نہیں۔ اس کا آغاز آخری درجے کے موحدین سے ہوا۔ اور آج حال دیکھ لیجیے۔ خدا کے گھر میں بیٹھ کر شرک کی دہائی دی جاتی ہے۔ انسان کی اس طبیعت سے واقف کوئی شخص کسی قبیلہ کے توہم پرستانہ عقائد دیکھ کر کبھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا کہ یہ انسان کے ابتدائی عقائد ہیں۔

قرآن کا علم ا لانسان

اہل مغرب کے علم ا لانسان کی بنیادی غلطی واضح کردینے کے بعد یہ مناسب ہوتا ہے کہ قرآن کا علم ا لانسان بھی بیان کردیا جائے کیونکہ اس کے بغیر یہ بحث مکمل نہ ہوگی۔ مغرب کا علم ا لانسان ہمیں انسان کی ایک ایسی تصویر دکھاتا ہے جس میں وہ صرف ایک ترقی یافتہ جانور نظر آتا ہے۔ جو بخت و اتفاق کے ہاتھوں اس اتھاہ مگر بے آباد کائنات کے ایک حقیر سے ذرے یعنی زمین پر نمودار ہوگیا۔ جسے اپنے آغاز کا کچھ پتا ہے نہ ا نجام کا۔ بقول شاعر

سنی حکایتِ ہستی تو درمیاں سے سنی

نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم

قرآن اس بے یقینی کی کیفیت سے نکال کر ایک مکمل، معقول اور قابلِ قبول بات ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ قرآن کے مطابق اس دھرتی پر انسان کا وجود خدا کی اس اسکیم کا حصہ ہے جس کے تحت اس نے اپنی تمام مخلوقات کے سامنے ایک پروگرام رکھا۔ جس میں مخلوقات کو یہ موقع دیا گیا تھا کہ وہ خدا کی طرف سے دیے گئے بارِ امانت کو اٹھا لیں۔

امانت سے مراد یہ تھی کہ وہ مخلوق عارضی طور پر خدا کے دائرہ قدرت سے باہر ہوجائے گی۔ یعنی خدا غیب کے پردہ میں چلا جائے گا اور اس کے بعد اس مخلوق کو مکمل آزادی ہوگی کہ چاہے تو بلا جبر و اکراہ خدا کے احکامات مانے اور چاہے تو انکار کردے۔ جس نے پہلا راستہ اختیار کیا اس کا بدلہ ابدی جنت کی نعمتیں اور جس نے دوسرا راستہ اختیار کیا اس کا بدلہ جہنم کی سزا۔ تمام مخلوقات نے اس امتحان کی ممکنہ اور بہت حد تک متوقع ناکامی اور اسکے بھیانک نتائج کو دیکھ کر اس میں کودنے سے ان کار کردیا۔ لیکن انسان نے اس بارِگراں کو اٹھانے کا فیصلہ کرلیا، ( الاحزاب 33:72

اس امتحان کے پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں (کی ارواح) کو ایک ساتھ پیدا کیا اور ان سب سے اپنے رب ہونے کا اقرار لیا۔ انہیں رسمی طور پر اس بات سے آگاہ کیا کہ قیامت کے دن جب ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہوگا تو اسکی بنیاد یہی توحید ہوگی۔ یعنی خدا کو ماننا اور ایک ماننا، ( الاعراف : 172-174)۔ اس واقعے کو اصطلاحاً عہدِ الست کہا جاتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے آدم و حوا کو پیدا کر کے یہ بتایا کہ انہیں دنیا کے امتحان میں کیا کیا رکاوٹیں پیش آئیں گی جو انہیں ناکام کرسکتی ہیں۔ اسکا پہلا مظاہرہ اس وقت ہوا جب فرشتوں نے خدا کے حکم پر، کچھ سوال و جواب کے بعد، بلا جھجک آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا۔ لیکن ابلیس نامی جن نے نہ صرف سجدے سے ان کار کیا بلکہ اپنی بڑائی کے زعم میں وہ خدا سے بغاوت اور سرکشی پر اتر آیا۔ جس کے نتیجے میں اسے راندۂ درگاہ کردیا گیا۔ یہ پہلا سبق تھا کہ خدا سرکشی کو معاف نہیں کرتا۔ اس لیے کبھی خدا کے سامنے سرکشی مت کرنا۔

دوسرا سبق انسان کو اس وقت دیاگیا جب آدم و حوا ابلیس کے بہکانے میں آگئے اور اپنی پوشاک سے محروم ہوگئے۔ خدا نے اس معاملے کو بڑے مہذب انداز میں بیان کیا ہے۔ لیکن قرآن بالخصوص سورۂ الاعراف کا گہرا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ دراصل یہ جنس کا درخت تھا جس کا ثمر وہ شیطان کے بہکانے میں آ کر چکھ بیٹھے۔ کیونکہ شیطان نے انہیں ابدی زندگی کا لالچ دیا تھا۔ تاہم شیطان کے برعکس انہوں نے سرکشی کا رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ ندامت اورشرمندگی کا راستہ اختیار کیا تو خدا نے انہیں معاف کردیا۔

اس واقعے میں یہ سبق تھا کہ جس دنیا میں امتحان کے لیے رکھا جارہا ہے اس میں برائی کی طاقتیں وسوسہ اندازی کر کے ہمیشہ انہیں بہکاتی رہیں گی کہ وہ خدا کے احکام کو سن لینے کے بعد بھی ان کی خلاف ورزی کریں۔ اور اس بہکانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ جنسی داعیات اور عریانیت ہوگی۔ تیسرا سبق یہ تھا کہ جب کبھی غلطی ہوجائے تو خدا کے حضور معافی مانگنے سے معافی مل جائے گی۔

آخری بات خدا نے یہ بتائی کہ اب قیامت تک کے لیے میں اپنے اور انسانوں کے بیچ میں غیب کا پردہ حائل کر رہا ہوں اور اب تم جانو اور تمہارا امتحان۔ میرے پیغمبر آ کر میرے اس منصوبے کی یاددہانی تمہیں کراتے رہیں گے۔ اور میرے تازہ ترین احکامات تمہیں دیتے رہیں گے۔ جو ان کو مانے گا وہ نجات پا جائے گا وگرنہ بربادی اسکا مقدر ہوگی۔ قرآن میں یہ قصہ سات سورتوں میں بیان کیا گیا ہے یعنی البقرہ، الاعراف، الحجر، بنی اسرائیل، الکہف، طہ، ص۔

یہ ہے قرآن کا علم الانسان جس کے مطابق انسان پورے دن کی روشنی میں اس دنیا میں آیا ہے۔ اس کے پاس ہر سوال کا جواب اول دن سے موجود تھا۔ وہ اپنی، کائنات کی اور خدا کی حقیقت سے خوب باخبر تھا۔ انسان نہ کسی ارتقائی سفر کے نتیجے میں پیدا ہوا اور نہ ہی اسکا علم کسی ارتقائی مرحلے سے گزر کر اس مقام تک پہنچا۔

قرآن کے مطابق ہاں یہ ضرور ہوا کہ احسن تقویم پر پیدا ہونے والا انسان بار بار پستی میں گرا اور اتنا گرا کہ جانوروں سے بھی نیچے پہنچ گیا۔ اس بحث کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے تمدن نے ارتقا نہیں کیا۔ تمدن نے تو کیا مگر خدا کے بارے میں انسان کے علم نے کوئی ترقی نہیں کی۔ بلکہ یہ الٹی سمت میں ہی گیا۔ کبھی اپنے سے کمتر درجے کی مخلوقات کو معبود بنا کر اور کبھی خود کو محض ایک ترقی یافتہ حیوان سمجھ کر۔ اب آپ اگر قرآن اور مغرب دونوں کے علم الانسان کا موازنہ کریں تو جان لیں گے کہ کون سی بات زیادہ معقول اور مکمل ہے۔

تاریخِ انسانی اور خدا کے امتحان کی نوعیت

جب ہم انسانی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو قرآن کے بیان کردہ اس امتحان اور جن جن امور سے خدا نے متنبہ کیا تھا ان میں انسانوں کا مبتلا ہونا بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ انسانوں کی اکثریت حسبِ توقع اس امتحان میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ کمال یہ ہے کہ انسانوں کے بارے میں جن توقعات کا اظہار فرشتوں اور شیطان نے کیاتھا، انسانوں نے ان سب کو پورا کیا۔

مایوسی سے نجات کیسے۔ مایوسی گناہ ہے۔ ایک مایوس انسان کفر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس سے نجات کیسے حاصل کی جائے۔ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

فرشتوں نے فساد اور خونریزی کا امکان ظاہر کیا تھا۔ آپ عالم کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں، آپ کو اس میں سب سے زیاد ہ نمایاں چیز جنگ و جدل ہی ملے گی۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعویٰ کیا تھا کہ جن کو تو نے مجھ پر ترجیح دی ہے ان کی اکثر یت میری پیروی کرے گی اور تو ان کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا۔ ہم میں سے ہر شخص یہ جانتا ہے کہ یہ بات کتنی سچی ثابت ہوئی۔ لمحے لمحے اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں پلنے والا انسان جس طرح اپنے رب کی ناشکری اور اپنے دشمن شیطان کی پیروی کرتا ہے اسکا حال ہر دور میں عیاں رہا ہے۔

بنیادی طور پر انسانیت کے سامنے اصل مقصد پرچۂ توحید میں کامیابی کا حصول تھا۔ اس کی یاد اسکے لاشعور میں اتنی گہری ہے کہ انسان ہر دور میں ایک برتر ہستی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے بے قرار رہا ہے۔ منکرینِ مذہب بھی یہ بات ماننے پر مجبور ہیں کہ مافوق الفطری قوت کا تصور انسان میں اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان۔ شیطان انسانوں کے اندر سے توحید کی اس فطری پیاس کو تو ختم نہیں کر سکا لیکن اس نے کبھی ان کے سامنے شرک کی نشہ آور شراب رکھ دی اور کبھی مادیت و انکارِ خدا کا رنگین شربت۔

حضرت آدم علیہ السلام کی داستان میں جن رکاوٹوں کا ذکر ہے وہ بالعموم رسولوں کی امتوں کو پیش آئیں۔ یہود و نصاریٰ آج بھی اس بات کی صداقت پر مہر لگانے کے لیے موجود ہیں۔ یہود اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ پہلی رکاوٹ کا شکار ہوگئے۔ شیطان کی طرح انہوں نے تکبر کیا اور اپنی برتری کے زعم میں مبتلا ہو کر مغضوب ہوگئے۔ جبکہ عیسائی دوسری رکاوٹ کا شکار ہوئے۔ توحید کے عَلم کو تین ٹکڑوں میں تبدیل کرنے کے علاوہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام یعنی شریعت کی پابندی کا چوغہ ہی سر سے اتار پھینکا۔ بالخصوص عریانیت اور جنسی بے راہروی جس بڑے پیمانے پر ان کے ہاں عام ہے اسکی مثال ملنی مشکل ہے۔ یہ خود بھی گمراہ ہوئے دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔

جو شخص دوسروں کے ساتھ نرمی و رحم دلی سے پیش نہیں آتا، اس کے ساتھ بھی نرمی و رحم دلی کا برتاؤ نہیں کیا جائے گا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (بخاری)

ایک سوال

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جواکثر لوگ مجھ سے کرتے بھی ہیں کہ خدا نے انسان کو اس آزمائش میں کیوں ڈالا جس میں ان کی اکثریت ناکام ہوگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس امتحان سے انسانیت گزررہی ہے اس میں اسے خدا نے نہیں ڈالا۔ انسان نے خود اس آگ میں چھلانگ لگائی ہے۔

انسانوں کے رویے نے ہمیشہ اس بات کی تصدیق کی ہے۔ آج بھی انسان فائدہ حاصل کرنے کے لیے نقصان کا خطرہ مول لیتا ہے۔ آج بھی انسان نے اپنی دنیا میں کامیابی کے لیے امتحان کا اصول قائم کررکھا ہے جس میں ناکامی کا پورا امکان ہوتا ہے۔ آج بھی انسان تجارت میں نفع کے حصول کے لیے اپنی پونجی کو داؤ پر لگانے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ یہ انسان کی طبیعت ہے۔ جو آج بھی ہے، ہمیشہ رہی ہے اور اس وقت بھی یقیناً ہوگی جب یہ امتحان ساری مخلوقات کے سامنے رکھا گیا تھا۔

انسان نے ابدی کامیابی، جنت کی بے مثال نعمتوں اور خدا کے تقرب کو دیکھ کر جہنم کے اندیشے سے آنکھیں بند کرلیں۔ کہانیوں کے اس غریب لکڑہارے کی طرح جو حسین و جمیل شہزادی اور شاہی تخت وتاج کو پالینے کی خواہش میں کسی بھی ناممکن مہم پر جانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ وہ لکڑہارا کامیاب ہوجاتا ہے۔ آج کا انسان بھی اکثر دنیاوی امتحان اور تجارت میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ یہاں مہم کو مہم، تجارت کو تجارت اور امتحان کو امتحان سمجھا جاتا ہے۔ مگر افسوس آخرت کی مہم، آخرت کی تجارت اور آخرت کے امتحان کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ انسان آخرت میں اس لیے ناکام ہوگا کہ وہ اس سے غافل ہوگیا، اس لیے نہیں کہ اس میں کامیابی کی صلاحیت نہیں تھی۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      اہل مغرب نے علم الانسان سے کیا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے؟

      قرآن کے علم الانسان کا خلاصہ بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے