بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ایمان کی آزمائش

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

قرآن میں باربار یہ بات بیان کی گئی ہے کہ جنت ایمان اور عمل صالح کا بدلہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی یہ دعوت پہنچائی تو اس کے جواب میں وہ ایمان لے آئے اور اپنی زندگی کو اعمال صالح کے مطابق ڈھالنے لگے۔ آج بھی اگر کوئی غیر مسلم جب اسلام قبول کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا امیدوار بننا چاہتا ہے تو ایمان اور عمل صالح کی شرائط پوری کرنا اس کے لیے لازم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑی عجیب بات ہے کہ وہ لوگ جو مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں ایمان کی شرط سے ہمیشہ خود کومستثنی سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کے ایمان کا مرحلہ ایک مسلم گھرانے میں پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے خود ہی طے کردیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم فحش گوئی، گالی گلوچ اور لعنت ملامت کو سخت ناپسند فرمایا کرتے تھے۔

قرآن پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان خدا کو اپنی عبادت، وفاداری کا مستحق اور آخرت کی کامیابی کواپنا مقصدِ زندگی بنا لینے کا نام ہے۔ ان دونوں مقاصد کے حصول کے لیے تنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کو درست سمجھنا ایمان کا دوسرا بنیادی جز ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں کلمہ طیبہ کا زبانی وردایمان کا ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ یا بہت ہوا تو سابقہ اعمال سے توبہ کے بعد تجدیدِ ایمان (renewal of faith) کاایک تصورکہیں مل جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایمان سے متعلق تو ہیں لیکن اصل ایمان نہیں ہیں۔

اصل ایمان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ صحابہ کرام کو سامنے رکھا جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک ایسی سوسائٹی کے فرد تھے، جہاں مذہب کے نام پر ایک عقیدہ موجود تھا۔ اس عقیدے سے وابستہ مذہبی لوگ کوئی اور نہیں، حرم پاک کے متولی اور اولاد ابراہیم میں سے تھے۔ انہیں اپنی سچائی پر اتنا یقین تھا کہ جب یہ لوگ جنگ بدر کے موقع پر مکہ سے روانہ ہوئے تو حرم پاک کے پردے پکڑ کر یہ دعا کی کہ اے اللہ اگر یہ دین اسلام سچا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے۔

علوم الحدیث کیا ہیں؟ ان میں کن مباحث کی تعلیم دی جاتی ہے؟ صحیح و ضعیف حدیث میں کیا فرق ہے؟ صحیح اور من گھڑت احادیث میں فرق کیسے کیا جاتا ہے؟ اس کی تفصیل کے لئے "علوم الحدیث: ایک تعارف" کا مطالعہ فرمائیے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ برس تک ان لوگوں کے سامنے ایمان کی دعوت رکھی۔ دلائل کی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ ان کی عبادت، محبت اور وفاداری کا تنہا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ اللہ کی عبادت کے لیے میرے طریقے کی پیروی کریں گے تو آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے حق دار ہوں گے۔ صحابہ نے اس دعوت کو قبول کیا اور ہر طرح کی قربانی دے کر اسلام کو اختیار کرلیا۔

صحابہ کرام کی یہ مثال بتاتی ہے کہ ایمان اصل میں ایک فکری دریافت ہے۔ یہ رائج نظریات، معاشرتی تصورات اور باپ دادا کے عقائد پر غور کرکے صحیح بات کو اختیار کرلینے کا نام ہے۔ یہ انسانوں کے اور مخلوق کے بجائے خدا کی بڑائی میں جینے کا نام ہے۔ یہ مذہبی اکابرین اورمسلم رہنماؤں کے بجائے اللہ کے پیغمبر کو اپنا اصل رہنما سمجھنے کا نام ہے۔ عمل صالح اگر عمل کی آزمائش ہے تو ایمان فکر کی آزمائش ہے۔ جنت اگر پہلے کے بغیر نہیں مل سکتی تو دوسرے کے بغیر بھی اس کا حصول ممکن نہیں۔

عمل صالح کی طرح ایمان کی آزمائش آج تک جاری ہے۔ غیر مسلموں کو یہ آزمائش اگر ان کے آبائی مذہب کی بنا پر پیش آتی ہے تو مسلمانوں کو یہ آزمائش ان کے آبائی فرقے کی طرف سے پیش آتی ہے۔

آج مسلمان جب آنکھ کھول کر اردگرد دیکھتا ہے تو وہ خود کو کسی نہ کسی مذہبی گروہ سے وابستہ پاتا ہے۔ ایسا شخص اپنے ماحول کے اثر یا کسی دعوت کی بنیاد پر اگر دینداری اختیار کرتا ہے تو اصل میں یہ اس کی جماعت یا اس کا فرقہ ہوتا ہے جو اس کے گرد اپنے شکنجے کو سخت کرنا شروع کردیتا ہے۔ وہ بظاہر اللہ رسول اور آخرت کے الفاظ بول رہا ہوتا ہے مگر اس کی اصل وابستگی اپنے فرقہ، اپنی فکر اور اپنے بڑوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس کے لیے اپنے طریقہ اور اپنی فکر کے سوا ہر دوسری چیزغلط ہوتی ہے۔ ایسا شخص اپنے فرقہ کو نجات یافتہ فرقہ اور باقی لوگوں کو جہنمی سمجھتا ہے۔ اس کے لیے قابل فخر شناخت وہ نہیں ہوتی جو اسلام نے دی ہے یعنی مسلم بلکہ وہ اپنے فرقہ کے حوالے سے ہی اپنا تعارف کرانا قابل فخر سمجھتا ہے۔

یہی وہ صورتحال ہے جو آج کے ایک مسلمان کے لیے ایمان کے اس امتحان کو از سر نو زندہ کردیتی ہے جس سے صحابہ کرام کو واسطہ پڑا یا آج کے کسی غیر مسلم کو واسطہ پڑتا ہے۔ اس میں کامیابی کا طریقہ بھی وہی ہے جو صحابہ کرام کا تھا کہ اپنی ہر وفاداری کا رخ اللہ اور اس کے رسول کی طرف کرلیا جائے۔ تمام مسلمان اہل علم کو اپنا رہنما سمجھا جائے۔ ہر شخص کی بات کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھا جائے اور جس کی بات قرآن و سنت سے قریب لگے اسے اختیار کرلیا جائے۔

یہ تو ممکن نہیں ہو سکتا ہے کہ ہر آدمی دین پر تحقیق شروع کردے، لیکن جب کبھی اپنے کسی دینی عمل یا عقیدے یا فکر پر کوئی سوال پیدا ہوجائے تو تعصب اور نفرت کے ساتھ اسے جھٹکنے کے بجائے دیگر اہل علم سے رجوع کرکے دوسروں کا نقطہ نظر اور ان کے دلائل معلوم کرلیے جائیں۔ مختلف اہل علم میں سے جس کی بات درست لگے اسے بلا تعصب اختیار کرلیا جائے۔

یہی وہ طریقہ ہے جو قیامت کے دن ہمارے ایمان کا سب سے بڑا ثبوت بن جائے گا۔ اس بات کا ثبوت کہ ہماری وفاداری اپنے بڑوں کے لیے نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص تھی۔ یہی وہ ایمان ہے جو ہمارے معمولی سے عمل کوبھی اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہت قیمتی کردے گا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

 

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      ہمارے ایمان کی اصل آزمائش کیا ہے؟

      تعصبات سے بالاتر ہو کر ایمان لانے کی دین میں کیا اہمیت ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے