بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا: اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

اللہ تعالی آسمان اور زمین کی روشنی ہے۔ہدایت کا نور اسی کی ذات سے پھوٹا اور اس کے نبیوں کی معرفت ہم تک پہنچا ہے۔ اس ہدایت کا مرکزی خیال قیامت کے دن سے شروع ہونے والی ابدی زندگی ہے۔ اس ابدی زندگی کے آغازپر جو سب سے اہم واقعہ رونما ہوگا وہ یہی ہے جو قرآن بیان کرتا ہے کہ زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اور ان لوگوں نے خدا کی صحیح قدر نہیں جانی! زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمانوں کی بساط بھی اس کے ہاتھوں میں لپٹی ہوئی ہوگی! وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ بناتے ہیں۔اور صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب بے ہوش ہو کر گرپڑیں گے، مگر جن کو اللہ چاہے۔پھر دوبارہ اس میں پھونکا جائے گا تو دفعتہ وہ کھڑے ہوکر دیکھنے لگیں گے۔اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور رجسٹر رکھا جائے گا اور انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے۔اور لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔اور ہر جان کو اس کاپورا بدلہ دیا جائیگا جو کچھ کہ اس نے کیا ہوگا۔اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔ (الزمر 39:67-70)

کتاب الرسالہ از امام شافعی۔ یہ کتاب امام شافعی نے اب سے بارہ سو سال پہلے لکھی تھی اور اس کا مقصد اصول فقہ کے فن کو مدون کرنا تھا۔ اس کتاب کا آسان اردو زبان میں اب تک ترجمہ نہ ہو سکا تھا۔ یہ ترجمہ اب دستیاب ہے۔ یہ کتاب ان اصولوں کو بیان کرتی ہے جن کا خیال رکھنا قرآن و سنت میں غور کرنے کے لئے ضروری ہے۔

اس دنیا میں انسان جس آزمائش میں ہے اس کی حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نور پر غیب کا پردہ حائل ہے۔اس نے انسان کو صالح فطرت،عقل عام کی نعمت اور ارادہ و اختیار کی عزت دے کر دنیا میں بھیجا کہ وہ غیب کے پردے کو پھاڑ کر نور یزدانی تک پہنچے اور اپنی زندگی کو اس کے رنگ میں رنگ لے۔مگر افسوس کہ ایمان و اخلاق کی ہر سچائی جو روشنی سے زیادہ چمک دار اور آئینے سے زیادہ شفاف ہے، جہالت ،تعصب، مادیت اور حیوانیت کے دبیز پردوں میں چھپ جاتی ہے ۔

ایسے میں یہ قرآن کی پکار ہے جو اندھیروں میں بھٹکنے والے ان لوگوں کے لیے منزل کا نشان ہے جنہوں نے اپنی فطرت کا صالح چراغ بجھنے نہیں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائبین کا ایک گروہ، آپ کی اتباع میں، قرآن کی اس پکار کو ماحول کے ہر شور و غل کے باجود اللہ کے بندوں تک پہنچانے میں مشغول ہے۔

قرآن کی یہ روشنی اور اس کے ابلاغ کا یہ عمل اس روز تک باقی رہے گا جس روز زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔اس روز ہر اندھے کو ۔ ۔ ۔ خواہ دل کا ہو یا عقل کا۔ ۔ ۔ ایمان و اخلاق کی تمام سچائیاں اپنے سر کی آنکھوں سے نظر آنا شروع ہوجائیں گی۔اس روز نامۂ اعمال کھول کر سنائے جائیں گے اور گواہ پیش ہوجائیں گے۔ سو جس نے روز قیامت سے پہلے قرآن میں خدا کے نور کو دیکھ لیا وہ نجات پائے گا۔ اور جس نے اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر، ایمان و اخلاق کی ہر پکار کا گلا گھونٹ دیا، وہ ہلاک ہوجائے گا۔ خوش نصیب ہیں وہ جو آج ہی ایمان و اخلاق کی اس روشنی کو اپنی آنکھوں کا نور بنا لیں جس کا ماخذ اب قیامت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔

ہدایت کی وہ شمع جو نورِ ازل نے چلتے وقت زادِراہ کے طور پر آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو دی تھی اور جس کی لو نوح علیہ الصلوۃ والسلام، ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام، موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام، عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے بجھنے نہیں دی اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم جسے قرآن کے فانوس میں تا قیامت محفوظ کرگئے، امت مسلمہ کے صالحین سے ہوتی ہوئی پندھوریں صدی تک آپہنچی ہے۔آج جب انسانیت کا سفر اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، امت محمدیہ کی اکثریت ایمان و اخلاق پر مبنی ہدایت کے پورے مشن کو بھول کر سیاست، اقتدار اور عالمی غلبہ کی نفسیات میں گم ہے۔ ان کے سامنے آدم تا محمد ہدایت کا سفر نہیں بلکہ مسلمانوں کا ہزار سالہ دور اقتدار ہے۔

عمل، فکر کی اولاد ہے اور تجربہ عمل کی اولاد ہے۔ بنجمن ڈسرائیلی

ایسے میں ہماری دعوت اس کے سوا کچھ نہیں کہ اہل زمین کو اس دن سے خبردار کردیا جائے جو اب بہت قریب آلگا ہے۔جس روز انسانی بادشاہی کے ہر نام و نشان کو مٹاکر خدا زمین کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔یہی دن روزِ اشراق ہوگا۔ ۔ ۔ جب زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔

دنیا کے ہنگاموں میں گم لوگوں کو یہ بتانا کہ زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے کوئی آسان کام نہیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ لیکن کرنے کا اگر کوئی کام ہے تو بس یہی کام ہے۔ یہی کام ہم نے اپنے لیے منتخب کیا ہے۔ہمارا مقصد کوئی انقلاب برپا کرنا نہیں۔ ہدایت کی روشنی کو برقرار رکھنا ہے۔وہ روشنی جو غفلت، جہالت، ظلم، تعصب، مادیت، شہوت اور مخالفت کے ہر طوفان میں انبیاء کرام پھیلاتے رہے ہیں۔آج یہی روشنی اشراق کی دعوت بن کر طلوع ہوتی ہے۔

ہدایت کی یہ روشنی ہمارے پاس آپ کی امانت ہے جو ہم آپ کو لوٹا رہے ہیں۔آپ بھی اس روشنی کو امانت سمجھ کر دوسروں تک پہنچائیے۔جگنوؤں کا یہ سفر،تاریکی سے روشنی کا یہ جہاد۔ ۔ ۔ جاری رہے گا۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      امت محمدی کا اصل مشن کیا ہونا چاہیے؟

      جس وقت اللہ تعالی کے نور سے زمین چمکے گی، اس وقت ہمارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟ مندرجہ بالا آیات کی روشنی میں وضاحت کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے