بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

لو لاک یا رسول اللہ!

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

مجھ سے بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور اس کی بڑائی پر تو بہت کچھ لکھتا ہوں، مگر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں مضامین کیوں نہیں لکھتا۔ حتیٰ کہ ربیع الاوّل کے مہینے میں بھی نہیں۔ میں اس کے جواب میں دو باتیں کہتا ہوں۔ ایک یہ کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اعلیٰ ترین سطح پر مدحتِ رسول کا کام کررہے ہیں۔ ان کے کام ہی کا اثر ہے کہ اس معاشرے میں عشقِ رسول کی گرمی کمزور ترین ایمان کے مسلمان کے لہو میں بھی خون بن کر دوڑتی ہے۔ بڑے سے بڑا سیکولر اور غیر مذہبی اور عقلی آدمی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں بے پناہ جذباتی ہوتا ہے۔ ایسے میں کچھ لکھ کر میں کسی کمی کو پورا نہیں کروں گا۔

دیانتدار شخص بے خوفی سے زندگی بسر کرتا ہے مگر بددیانت شخص (اپنی غیر معمولی احتیاط کے باعث) پہچانا جاتا ہے۔ سیدنا سلیمان علیہ والصلوۃ والسلام)

دوسرا سبب یہ ہے کہ جو کام خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر کرتے رہے، جو دین کا بنیادی مطالبہ بھی ہے، اس کے حوالے سے ایک عمومی غفلت پائی جاتی ہے۔ یعنی اللہ کا ذکر، اس کا شوق، اس کی تسبیح، اس کی تعریف، اس کی حمد اور اس کے کبر کا بیان۔ اس معاملے میں ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم اپنی ہر تقریر کے آغاز پر بلا سوچے سمجھے 'نحمدہ' کہتے ہیں اور اختتام پر الحمد اللہ رب العالمین کہہ دیتے ہیں۔ ہمارے شعرا اور ادیب، مقرر اور خطیب، عالم و واعظ سب کا معاملہ کم و بیش یہی ہے۔ لیکن کبھی خدا کے نام سے ہماری زبان میں مٹھاس نہیں گھلتی، کبھی اس کی یاد میں دل نہیں تڑپتا، کبھی اس کی محبت میں آنکھوں سے آنسوں نہیں ٹپکتے، کبھی اس کی ملاقات کے شوق میں موت کی تمنا پیدا نہیں ہوتی۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ایک ایک سانس، ہماری ایک ایک دھڑکن، ہمارا رواں رواں، ہمارا ریشہ ریشہ ،زندگی کے ہر اک لمحے میں، اس کے احسانوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اس بات کو سب سے بڑھ کر اگر کسی نے جانا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ آپ کی پوری زندگی خدا کے شوق اور اس کی یاد کے سوا کچھ نہیں تھی۔ آپ کی حیات "الذین امنو اشد حبا للہ" (اہل ایمان تو سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت رکھتے ہیں، البقرہ165:2) کا عملی نمونہ تھی۔ نہ صرف یہ آپ کی عملی زندگی تھی بلکہ یہی آپ کی دعوت بھی تھی۔

اسلام اور دور جدید کی تبدیلیاں۔ معاشرے مستقل تبدیلی کا شکار رہا کرتے ہیں۔ ہے ثبات اس زمانے میں اک تغیر کو۔ موجودہ دور میں ہماری فکر میں کیا تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے اثرات ہمارے معاشروں پر رونما ہو رہے ہیں۔ مصنف نے ان تبدیلیوں کا اسلام کے نقطہ نظر سے جائزہ لیا ہے۔

آپ نے اپنی زندگی میں اگر بے پناہ تکلیفیں جھیلیں تو صرف اس لیے کہ بندگان خدا، اپنے رب کو پہچان لیں۔ مخلوق کی پرستش چھوڑ کر خدا کی پرستش شروع کردیں۔ انسانوں کے بجائے رب کی عظمتوں میں جینا سیکھ لیں۔ اپنے نفس کی خواہشات کے بجائے رب کی سچی ہدایت کی پیروی کریں۔ اپنے آپ کو غیر اللہ کے بجائے مالکِ دوجہاں کی غلامی میں دیدیں۔ میں نے خدا کی طرف بلانے کا یہ راستہ اگر اختیار کیا ہے تو صرف اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی میں کیا ہے۔میری خواہش ہے کہ اسی راستے پر چلتے ہوئے میری موت واقع ہو۔

میں جب اس مضمون کے بارے میں سوچ رہا تھا تو میں عین دوپہر کے وقت سڑک پر موجود تھا۔ سورج سر پر تھا اور اس کی تیز روشنی نے ہر شے کو منور کر رکھا تھا ۔ مگر روشنی کے اس سیلاب کے باجود جاتی سردی اور آتی بہار کے اس سورج میں کوئی تپش نہ تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری شخصیت کی اس سے اچھی کوئی مثال اس دنیا میں نہیں مل سکتی۔ آپ کی ذات موسم بہار کا وہ سورج ہے جس میں بہت چمک ہے، مگرتپش نہیں۔ آپ ہدایت کی وہ روشنی ہیں جس کے بعد کوئی اندھیرا باقی نہیں رہ سکتا مگر آپ کی سیرت میں تپش کا کوئی ایسا عنصر نہیں جو ہم گنہگاروں کے وجود کو جھلسا دے۔ مگر کتنی عجیب بات ہے کہ لوگ آپ کی ذات اور سیرت سے وہ سبق حاصل نہیں کرتے جس کا پیغام لے کر آپ آئے تھے بلکہ خود کو اپنی خواہشات کے اندھیروں کے حوالے کردیتے ہیں۔

میں ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں داخل ہوا۔ ابھی جماعت میں کچھ دیر باقی تھی۔ کچھ لوگ مسجد کی عمارت کے اندر نوافل پڑھ رہے تھے اور کچھ لوگ مسجد کے صحن میں۔ میں نے گھڑی دیکھی اور پھر ایک نظر موسم بہار کے ٹھنڈے سورج کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ لولاک یا رسول اللّٰہ! لما دریت الکتاب ولاالایمان۔ (اے اللہ کے رسول! اگر آپ نہ ہوتے تو میں نہ ایمان کو جان پاتا اور نہ شریعت کو۔)

پھر میں سایہ میں کھڑے ہونے کے بجائے صحن میں پھیلی ہوئی سورج کی ٹھنڈی روشنی میں کھڑے ہوکر نوافل پڑھنے لگا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ہم پر کیا احسانات ہیں؟

      اللہ تعالی کے احکامات کو جاننے کا ہمارے پاس واحد ذریعہ کیا ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے