بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

رمضان کو پا لینے والے

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

رمضان کا مہینہ جیسے جیسے قریب آتا ہے لوگوں میں مختلف نوعیت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ ایک لوگ وہ ہوتے ہیں جنہیں رمضان کے آنے اور جانے سے کوئی فرق نہیں پڑ تا۔وہ نہ روزہ رکھتے ہیں ، نہ دیگر عبادات کے جھمیلے میں پڑ تے ہیں ۔گھر کے کسی فرد نے روزہ رکھ لیا ہو تو وہ اس کے ساتھ افطاری میں شریک ہوجاتے ہیں ۔باہر بھی افطار پارٹی میں شرکت کا موقع ملا تو سماجی پہلو سے یا پھر افطارسے اپنا حصہ وصول کرنے پہنچ جاتے ہیں ۔ البتہ عید یہ لوگ بہت اہتمام سے مناتے ہیں ۔ عید کی رات اگر خرمستیوں میں کالی نہ کی ہوتوعیدکی نمازپڑ ھ کرمسجد میں سالانہ حاضری کی رسم بھی پوری کر لیتے ہیں ۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو رمضان میں چار و ناچار روزہ رکھتے ہیں ۔مگروہ سمجھتے ہیں کہ مشقت اور تنگی کا مہینہ آ رہا ہے ۔سخت گرمی میں پیاس کی مشقت اور بھوک کی تکلیف جھیلنی پڑ ے گی۔راتوں کی نیند خراب ہو گی۔ کاروبارحیات متاثراورمعمولات زندگی درہم برہم ہو جائیں گے ۔ایسے لوگ رمضان کا ایک ایک دن گن کر مہینہ پورا کرتے ہیں ۔آخرکار اس مہینے کے خاتمے پر ان کی یہ سالانہ مشقت ختم ہوجاتی ہے ۔ وہ جیسے رمضان سے پہلے تھے ویسے ہی رمضان کے بعد رہتے ہیں ۔

ایک تیسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو رمضان کے روزے ذوق و شوق سے رکھتے ہیں ۔ تلاوت قرآن، نوافل اور دیگر عبادات کا بھی اہتمام کرتے ہیں ۔روزہ کی مشقت تو خیر انہیں بھی محسوس ہوتی ہے ، مگر وہ اسے حوصلے سے برداشت کرتے ہیں ۔وہ امید رکھتے ہیں کہ اس مشقت کے بدلے میں جو اجر انہیں ملے گا اس کے مقابلے میں یہ تکلیف کچھ بھی نہیں ۔ امید ہے کہ ایسے صالحین اللہ سے اپنی محنت کا بہترین اجر پائیں گے ۔

چوتھی قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو رمضان کے آنے سے قبل ہی رمضان کے انتظار میں ڈھل جاتے ہیں ۔وہ شب اور شعبان کے مہینوں کا ایک ایک دن گن گن کر گزارتے ہیں ۔ ا ن کی عید اس دن ہی سے شروع ہوجاتی ہے جب رمضان کا چاند طلوع ہوتا ہے ۔تیسرے گروہ کی طرح یہ لوگ بھی روزہ کی مشقت خوش دلی سے جھیلتے اور عبادات میں سرگرمی سے حصہ لیتے ہیں ، مگر ان کا اصل امتیاز یہ ہوتا ہے کہ رمضان کا مہینہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا مہینہ بن جاتا ہے ۔ روزہ کی ایک ایک مشقت ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کا تعارف بن جاتی ہے ۔

جب پیاس کی شدت سے حلق میں کانٹے پڑ نے لگتے ہیں تو وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں کہ مالک ایک ایسی کائنات میں جہاں پانی کا ایک قطرہ نہیں تونے اس کرہ ارض کو پانی کا گہوارہ بنا دیا۔مالک تو ساری زندگی ہمیں پانی پلاتا ہے مگر ہم نہ جان سکے کہ یہ پانی کیسی نعمت ہے ۔ آج جب حلق میں کانٹے پڑ ے تو معلوم ہوا کہ یہ بے ذائقہ مشروب کائنات کے ہر ذائقے سے بڑ ھ کر ہے ۔ ہم اس نعمت کے لیے شکر گزار ہیں ۔

جب بھوک سے ان کا وجود نڈھال ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ آقا تو سورج، بادل، ہوا، سمندر، پہاڑ ، دریا اور زمین سب کو ملا کر ہمارے لیے غذا فراہم کرتا ہے ۔جس دنیا میں ہزاروں قسم کے حیوانات کے لیے صرف بے ذائقہ گھاس اگتی ہے وہاں تونے ایک انسان کے لیے ہزار ہا قسم کے ذائقے تخلیق کر دیے ۔ہم دل کی گہرائیوں سے تیری عظمت و عنایت کے معترف ہیں ۔

غرض روزہ کی ہر مشقت اور بے آرامی ان کے لیے معرفت الہی کے نئے دروازے کھول دیتی ہے ۔کھانے پینے کی محرومی ان پر یہ واضح کر دیتی ہے کہ ان جیسی لاکھوں نعمتوں میں وہ ہر لمحے جی رہے ہیں ۔اس احساس سے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں ۔ ان کا سینہ خدائی احساسات کی تجلیوں سے جگمگا اٹھتا ہے ۔ان کی راتیں ذکر الہی سے منور ہوجاتی ہیں ۔ ان کا وجود اس خدائی جنت کے لیے سراپا طلب بن جاتا ہے جہاں کوئی بھوک ہو گی نہ پیاس۔ جہاں ہر نعمت بے روک ٹوک اور بے حد و حساب ملا کرے گی۔جہاں سے وہ نکلنا چاہیں گے اور نہ کوئی انہیں نکالے گا۔

وہ اس جہنم کے تصور سے لرز جاتے ہیں جہاں محرومی کی ہر ممکنہ شکل جمع کر دی جائے گی۔ جہاں خدا کے مجرم، سرکش اور غافل ابدتک خود پر پچھتاو وں کی سنگ باری کرتے رہیں گے کہ کیسا عظیم موقع انہوں نے گنوادیا۔جہاں وہ ہمیشہ ندامت کے اشکوں کے سیلاب بہاتے رہیں گے کہ انہوں نے کیسے مہربان رب کو پایا اور کس بے دردی سے اسے بھلادیا۔

یہ اہل ایمان روزہ کی حالت میں اس جہنم سے اپنے رب کی پناہ مانگتے رہتے ہیں ۔ وہ اپنی خطاؤں پر شرمسار رہتے ہیں ۔ وہ سراپا احتساب بن کر اپنی سیرت وکردار کا جائزہ لیتے ہیں ۔ وہ عمل صالح کی ہر شکل کو اپنے وجود کا حصہ بنانے کا عزم کرتے ہیں ۔وہ معصیت کی ہر قسم کو زہریلا سانپ سمجھ کر اس سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے رمضان میں اپنے رب سے ملاقات کر لی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے جان لیا کہ اللہ معبود حقیقی بھی ہے اور منعم حقیقی بھی۔

کہ ہے ذات واحد عبادت کے لائق

زبان اور دل کی شہادت کے لائق

اس کے فرماں اطاعت کے لائق

اسی کی ہے سرکارخدمت کے لائق

لگا ؤ تو لو اس سے ا پنی لگا ؤ

جھکاؤ تو سر اس کے آگے جھکاؤ

خدا کو اسی طرح پانے والے درحقیقت رمضان کو پانے والے ہیں ۔ یہی مقربین ہیں ۔ دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔

(ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

۱۔  مصنف نے رمضان کے حوالے سے کون سے چار رویے بیان کیے ہیں؟

۲۔  رمضان کے حوالے سے آپ ان چاروں میں سے کس  گروہ سے تعلق رکھتے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter