بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

نماز فجر کے لیے کیسے اٹھا جائے؟

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اگر ہم اپنے اردگرد مساجد کا جائزہ لیں تو ہم اس بات کا آسانی سے مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ مختلف اوقات اور نمازوں میں باجماعت نماز پڑھنے والوں کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ عمومی طور پر پنجگانہ نمازوں میں مغرب کی نماز میں نمازیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے جبکہ سب سے کم تعدادنماز فجر میں ہوتی ہے ۔ موجودہ دور کی شہری زندگی میں تو یہ مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ شہروں میں لوگوں کی اکثریت نماز عشا کے بعد بھی دیر تک جاگتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے صبح نماز فجر کے لئے اٹھنا مشکل ہوتا ہے۔ کیا آپ کی زندگی میں کبھی ایسا واقعہ پیش آیا ہے کہ آپ پختہ ارادہ کرکے سوئیں کہ آپ نے صبح نماز فجر کیلئے اٹھنا ہے یا آپ کو پورا یقین ہو کہ آپ نماز فجر مسجد میں با جماعت ادا کرسکیں گے ۔ تھوڑی دیر کیلئے اپنی زندگی کے دو مناظر کے بارے میں تصور کیجیے کیونکہ یقینا ہم میں سے ہر ایک کی زندگی میں یہ دو مناظر ضرور واقع ہوئے ہوں گے۔

پہلا منظر

آپ کا ایمان اور تقوی اللہ کے فضل سے بہت زیادہ بڑھا ہوا ہے ۔ آپ نے نماز عشا ادا کرنے کے بعد کچھ دیر قرآن بھی پڑھا اور آپ کو پختہ یقین ہے کہ آپ صبح فجرکی نماز کے لئے اٹھ جائیں گے کیونکہ آپ ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پراس کے لئے بالکل تیار ہیں بلکہ بعض اوقات تو آپ رات کو کئی مرتبہ اس ڈر سے اٹھے ہوں کہ کہیں فجر کی باجماعت نماز آپ سے رہ نہ جائے۔ اگر آپ کو اس طرح کا کوئی تجربہ پہلے کبھی نہیں ہوا تو پھرذرا اس بات کا تصور کیجیے کہ جب آپ نے صبح جلدی اٹھ کر کوئی فلائٹ پکڑنا ہو یا کسی بس پر سوار ہونا ہو تو یقینا اکثر و بیشتر آپ اٹھ جاتے ہیں، چاہے آپ کتنی دیر سے ہی کیوں نہ سوئے ہوں۔ پھر نماز فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد انسان سارا دن ہشاش بشاش گزرتا ہے کیونکہ نماز فجر باجماعت ادا کرنے سے ایک انسان کوخوشی کا احساس ہوتا ہے۔

دوسرا منظر

پہلےمنظر کے برعکس آپ کی زندگی میں اکثر ایسا بھی ہوتا ہوگا کہ آپ باوجود بہت کوشش کرنے کے صبح نماز فجر کے لئے اٹھ نہ سکے ہوں اور پھر دن چڑھے لیٹ سو کر اٹھنے اور نماز فجر کو باجماعت نہ پڑھ سکنے پر آپ کو افسوس بھی ہوا ہوگا۔ یا بالفرض آپ الارم کی وجہ سے صبح وقت پر اٹھ بھی گئے ہوں مگر snooze کا بٹن دباکر پھر سوگئے ہوں یا پھر شیطان نے آپ کو یہ بہلا کر دوبارہ سلادیا ہوکہبس پانچ منٹ اور۔

ہم میں سے ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ ہرروز اس کی زندگی میں پہلا منظر ہی دہرایا جائے۔ یہاں ہم کچھ عملی طریقے بیان کریں گے جن پر عمل کرکے ان شاء اللہ روزانہ فجر کی نماز کے لئے اٹھا جا سکتا ہے۔ مگر ان طریقوں کو یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف ان کو پڑھ لینا ہی نہیں بلکہ ان کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہے۔

۱۔ پختہ نیت رکھیے

سب سے اہم اور ضروری بات جو نماز فجر کو باجماعت اداکرنے کے لئے ضروری ہے وہ پختہ نیت اور ارادہ ہے اگر آپ کی نیت پختہ نہیں تو آپ جو مرضی کرلیں آپ نماز فجر کے لئے نہیں اٹھ سکتے۔ یہ ہماری نیت اور ارادے کی کمزوری ہی ہوتی ہے کہ ہم باوجود ہزار کوشش کے نماز فجر کے کئے نہیں اٹھ پاتے۔ رات کو سونے سے پہلے خلوص دل سے یہ نیت کریں کہ میں نے ان شااللہ صبح اٹھ کر نماز فجر باجماعت ادا کرنی ہے۔ اور اپنے آپ سے یہ عہد کرکے سوئیں۔

۲۔ وضو ، تلاوت قرآن اور مسنون اذکار کا اہتمام کیجیے

اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ رات کو قرآن پڑھے بغیر نہ سوئیں۔ کوشش کریں کہ سونے سے پہلے کم از کم دو رکوع ضرور پڑھیں اس سے آپ کو نماز فجر کے لئے اٹھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ رات کو سونے سے پہلے ایسے اذکار، جو کسی صحیح حدیث میں بیان ہوئے ہوں، کا ورد بھی اپنی روزانہ کی روٹین کا حصہ بنائیں۔ کوشش کیجیے کہ سونے کے وقت کی مسنون دعائیں کو ترجمے سمیت کسی ڈائری میں لکھ کر سوتے وقت اپنے ساتھ رکھیں اور پڑھتے ہوئے ترجمہ پر بھی غور فرمائیے۔ ان شا اللہ ایک یا دو ہفتوں میں یہ اذکار آپ کو ترجمے سمیت مکمل یاد ہوجائیں گے۔سونے کی بعض مسنون دعائیں اور ان کا ترجمہ یہاں سرخ الفاظ میں دیا گیا ہے:

حدثنا مسدَّد: حدثنا عبد الواحد بن زياد: حدثنا العلاء بن المسيَّب قال: حدثني أبي، عن البراء بن عازب قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أوى إلى فراشه نام على شقه الأيمن، ثم قال: (اللهم أسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، ونبيك الذي أرسلت). وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من قالهن ثم مات تحت ليلته مات على الفطرة).

حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لاتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور عرض کرتے: اے اللہ! میں آپ کا اپنی جان سمیت فرمانبردار بنتا ہوں۔ اپنے چہرے کا رخ آپ ہی کی جانب کرتا ہوں۔ اپنے معاملے کو آپ کی طرف سپرد کرتا ہوں۔ اپنی کمر کو آپ [کے دین کی] خدمت کے لیے تیار کرتا ہوں۔ آپ کی جانب رغبت اور خوف رکھتا ہوں کہ آپ کے سوا نہ تو کوئی ایسا ہے جس کے سپرد خود کو کیا جائے اور نہ ہی آپ کے سوا کوئی نجات دینے والا ہے۔ میں آپ کی نازل کردہ کتاب اور آپ کے بھیجے ہوئے نبی [کی نبوت] پر پر ایمان رکھتا ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ بات کہی اور پھر رات میں وفات پا گیا تو وہ فطرت پر فوت ہوا۔(بخاری۔ کتاب الدعوت۔ حدیث 5956)

حدثنا عثمان بن أبي شيبة وإسحاق بن إبراهيم - واللفظ لعثمان - (قال إسحاق: أخبرنا. وقال عثمان: حدثنا) جرير عن منصور، عن سعد بن عبيدة. حدثني البراء بن عازب؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "إذا أخذت مضجعك فتوضأ وضوءك للصلاة. ثم اضطجع على شقك الأيمن. ثم قل: اللهم! إني أسلمت وجهي إليك. وفوضت أمري إليك. وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك. لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك. آمنت بكتابك الذي أنزلت. وبنبيك الذي أرسلت. واجعلهن من آخر كلامك. فإن مت من ليلتك، مت وأنت على الفطرة".

برا بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ بستر پر لیٹیں تو نماز کی طرح کا وضو کر کے دائیں کروٹ پر لیٹیں اور عرض کیجیے: اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ آپ کی جانب جھکا دیا ہے اور اپنے معاملے کو آپ کے سپرد کر دیا ہے اور خود کو کو آپ کی رغبت اور خوف کے لیے کمر بستہ کر لیا ہے۔ آپ کے سوا نہ تو کوئی اعتماد کا سہار ا ہے اور نہ آپ [کے عذاب سے] نجات دینے والا۔ میں آپ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لایا اور آپ کے بھیجے نبی پر بھی۔ اس دعا کو [سونے سے پہلے] اپنا آخری کلام بنا لیجیے۔ اگر آپ اس رات فوت ہو گئے تو آپ دین فطرت پر ہوں گے۔ (مسلم۔ کتاب الذکر و الدعا و التوبہ و الاستغفار۔ حدیث 2710)

حدثنا أبو نُعَيم: حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن ينام قال: (باسمك اللهم أموت وأحيا). وإذا استيقظ من منامه قال: (الحمد الله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو عرض کرتے: اے اللہ! میں آپ کے نام ہی کے ساتھ مرتا اور جیتا [یعنی سوتا اور جاگتا ] ہوں۔ جب آپ نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے: اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی دی اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ (بخاری۔ کتاب الدعوت۔ حدیث 5965۔ مسلم، حدیث 2711)

حدثنا عقبة بن مكرم العمي وأبو بكر بن نافع. قالا: حدثنا غندر. حدثنا شعبة عن خالد. قال: سمعت عبدالله بن الحارث يحدث عن عبدالله بن عمر؛ أنه أمر رجلا، إذا أخذ مضجعه، قال "اللهم! خلقت نفسي وأنت توفاها. لك مماتها ومحياها. إن أحييتها فاحفظها، وإن أمتها فاغفر لها. اللهم! إني أسألك العافية" فقال له رجل: أسمعت هذا من عمر؟ فقال: من خير من عمر، من رسول الله صلى الله عليه وسلم.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو تلقین کی کہ جب وہ سونے کے لیے لیٹیں تو کہیں: اے اللہ! آپ نے میری جان کو تخلیق فرمایا اور آپ ہی اسے موت دیں گے۔ اس کی موت اور زندگی آپ کے ہاتھ ہی میں ہے۔ اگر آپ اسے زندگی دیجیے تو اس کی حفاظت فرمائیے اور اگر موت دیجیے تو اسے معاف کر دیجیے۔ اے اللہ! میں آپ سے عافیت مانگتا ہوں۔

ان صاحب نے ابن عمر سے پوچھا: کیا آپ نے اسے حضرت عمر سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے ان سے سنا ہے جو عمر سے بہتر ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (مسلم۔ کتاب الذکر و الدعا و التوبہ و الاستغفار۔ حدیث 2712)

سوتے جاگتے ہمیں ان دعاؤں کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔

۳۔ نماز فجر کی فضیلت و اہمیت یاد کیجیے

کتب احایث میں نماز فجر کو باجماعت وقت پار ادا کرنے کی جو فضیلت اور اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے اسے اپنے ذہن میں رکھیے۔ان تمام باتوں کا اہتمام کرلینے کے بعد اب آخری کام نماز فجر کے لیے دعا کا اہتمام کرنا ہے۔ کوئی بھی انسان اللہ کی مدد اور توفیق کے بغیر کوئی بھی عمل نہیں کرسکتا ۔ لہذٰا اب اللہ تعالٰی سے مدد کی درخواست کیجیے کہ وہ آپ کو نماز فجر باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انسان کے دماغ میں ایک لمحے کے لئے بھی یہ خیا ل نہ آے کہ وہ نیکی کا کوئی کام اپنے بل بوتے پر بھی کرسکتا ہے اور ہر عمل کے لئے اسے ہر وقت اللہ کی مدد درکار ہے اور یہ کہ اس کا نما ز فجر کے لئے اٹھنا بھی اللہ کی مدد اور توفیق کے ساتھ ہی ہوگا جس میں اس کا کوئی کمال نہیں۔

ابھی تک ہم نے یہاں جو بھی طریقے بیان کیے ہیں وہ سب قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں البتہ اب ہم یہا ں کچھ دوسرے عملی طریقے جو نماز فجر کے لئے اٹھنے کے لئے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

۴۔ کسی قریبی عزیز یا دوست کی مدد حاصل کریں

یہ صبح کی نما کے لئے اٹھنے کا سب سے موثر طریقہ ہے ۔ اپنے کسی قریبی دوست، رشتہ دار،ماں باپ یا شریک حیات کو آپ کو صبح اٹھا نے کا کہیں اور اگر آپ ان سے پہلے اٹھ جائیں تو انہیں بھی نماز فجر کے لئے اٹھا ئیے اور اپنی نماز کے ساتھ ساتھ ان کی نماز کا بھی اجر حاصل کیجیے۔

۵۔ الارم ڈیوائس کو کسی مناسب جگہ رکھیں

ایک اور نہایت موثر طریقہ جو نماز فجر کے لئے بیدار ہونے کےلئے نہایت مددگار ہوسکتا ہے ، وہ الارم والی گھڑی یا موبائل فون کو کسی ایسی جگہ رکھنا ہے جو آپ کے بستر سے قدرے دور ہو اور جس کو بند کرنے کے لئے آپ کو بستر کو چھوڑ کر اٹھ کر جانا پڑے۔ میرے لئے صبح کے وقت بیدار ہونے کا ایک نہایت موثر طریقہ، جو ہمیشہ کام کرتا ہے وہ یہ ہے کہ میں اپنے الارم کو باتھ روم میں الارم کو بیسن کے ساتھ شیلف پر رکھ دیتا ہوں اور جب میں الارم بند کرنے کے لئے صبح اٹھتا ہوں تو اپنے آپ کو بیسن کے سامنے پاتا ہوں، بس اب کیا مزید سونا اب وضو کیا اور نماز کے لئے تیاری شروع۔

۶۔ نماز سے تھوڑی دیر پہلے جاگیے

نماز فجر سے صرف اتنی دیر پہلے جاگنے کی کوشش کریں جس میں آپ وضو کرکے مسجد پہنچیں اور باجماعت نماز میں شامل ہوسکیں ۔ عمومی طور پر اگر آپ تکبیر اولیٰ سے بس 10-15 منٹ پہلے اٹھیں تو بآسانی نماز میں شامل ہو سکتے ہیں۔

۷۔ دوپہر کو قیلولہ کیجیے

دوپہر کو تھوڑی دیر کے لئے قیلولہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین سے بھی ثابت ہے اور یہ بھی صبح بیداری کے لئے نہایت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے لئے بس تھوڑی سی پریکٹس کی ضرورت ہوگی لیکن اگر اس عادت کو اختیار کر لیا جائے تو یہ صبح بیداری کے لئے بڑی مددگار ثابت ہوگی۔

۸۔ اپنے آپ کو انعام دیں یا جرمانہ عائد کریں

اپنے ٹارگٹ خود سیٹ کیجیے اور اپنی مدد خود کرنا سیکھیے۔ اگر یہ سب اوپر بیان کئے گئے طریقے کارگر ثابت ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو کوئی انعام دیجیے اور اپنی کامیابی اور اس معاملے میں خوشی کو سیلی بریٹ کیجیے۔ اگر کبھی آپ نماز فجر کے لئے اٹھنے میں ناکام رہیں تو اپنے آپ پر جرمانہ عائد کیجیے۔ مثال کے طور پر ایک مخصوص رقم اللہ تعالی کی راہ میں کسی مستحق غریب (پروفیشنل بھکاری نہیں) کو دیجیے اور اگلی صبح نئے جذبے کے ساتھ صبح سویرے بدار ہونے کی تیاری کیجیے۔

(باسط رحمن)

غور فرمائیے!

      فاضل مصنف نے جو طریقے بیان کیے ہیں، ان پر ایک ہفتہ عمل کر کے اپنے نتائج کا جائزہ لیجیے۔

      کیا آپ کے ذہن میں کوئی اور طریقہ بھی آتا ہے جس پر عمل کر کے آپ نماز فجر کے لیے اٹھ سکتے ہوں۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html