بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

تمسخر

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

 

[ارشاد باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَسْخَرْ قَومٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْراً مِنْهُمْ وَلا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْراً مِنْهُنَّ وَلا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ۔ (الحجرات 49:11)

اے ایمان والو! نہ تو مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی خواتین، دوسری خواتین کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن و تشنیع نہ کیا کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کیا کرو۔ ایمان لانے کے بعد فاسقانہ نام بہت ہی بری بات ہے۔ جو لوگ اس روش سے توبہ نہ کریں، وہی ظالم ہیں۔]

مذکور الصدر آیتوں میں اشخاص و افراد کے باہمی حقوق و آداب معاشرت کا ذکر ہے۔ ان میں تین چیزوں کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ اول کسی مسلمان کے ساتھ تمسخر و استہزاء کرنا، دوسرے کسی پر طعنہ زنی کرنا، تیسرے کسی کو ایسے لقب سے ذکر کرنا جس سے اس کی توہین ہوتی ہو یا وہ اس سے برا مانتا ہو۔

کتاب الرسالہ از امام شافعی۔ یہ کتاب امام شافعی نے اب سے بارہ سو سال پہلے لکھی تھی اور اس کا مقصد اصول فقہ کے فن کو مدون کرنا تھا۔ اس کتاب کا آسان اردو زبان میں اب تک ترجمہ نہ ہو سکا تھا۔ یہ ترجمہ اب دستیاب ہے۔ یہ کتاب ان اصولوں کو بیان کرتی ہے جن کا خیال رکھنا قرآن و سنت میں غور کرنے کے لئے ضروری ہے۔

پہلی چیز سخریہ یا تمسخر ہے۔ قرطبی نے فرمایا کہ کسی شخص کی تحقیر و توہین کے لئے اس کے کسی عیب کو اس طرح ذکر کرنا جس سے لوگ ہنسنے لگیں، اس کو سخریہ، تمسخر، استہزاء کہا جاتا ہے۔ اور یہ جیسے زبان سے ہوتا ہے ایسے ہی ہاتھ پاؤں وغیرہ سے اس کی نقل اتارنے یا اشارہ کرنے سے بھی ہوتا ہے۔ اور اس طرح بھی کہ اس کا کلام [بات] سن کر بطور تحقیر کے ہنسی اڑائی جائے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سخریہ و تمسخر کسی شخص کے سامنے اس کا ایسی طرح ذکر کرنا ہے کہ اس سے لوگ ہنس پڑیں اور یہ سب چیزیں بنص قرآن حرام ہیں۔۔۔۔

اس آیت کو سن کر سلف صالحین کا حال یہ ہو گیا تھا کہ عمرو بن شرحبیل نے فرمایا کہ اگر میں کسی شخص کو بکری کے تھنوں سے منہ لگا کر دودھ پیتے دیکھوں اور اس پر مجھے ہنسی آ جائے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں بھی ایسا ہی نہ ہو جاؤں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اگر کسی کتے کے ساتھ بھی استہزاء کروں تو مجھے ڈر ہوتا ہے کہ میں خود کتا نہ بنا دیا جاؤں۔ (قرطبی)۔۔۔

دوسری چیز جس کی ممانعت اس آیت میں کی گئی ہے، وہ "لمز" ہے۔ لمز کے معنی ہیں کسی میں عیب نکالنے اور عیب ظاہر کرنے یا عیب پر طعنہ زنی کرنے کے ہیں۔ علماء نے فرمایا ہے کہ انسان کی سعادت اور خوش نصیبی اس میں ہے کہ اپنے عیوب پر نظر رکھے، ان کی اصلاح کی فکر میں لگا رہے اور جو ایسا کرے گا اس کو دوسروں کے عیب نکالنے اور بیان کرنے کی فرصت ہی نہ ملے گی۔ ہندوستان کے آخری مسلمان بادشاہ ظفر نے خوب فرمایا ہے۔

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنی خبر، رہے دیکھتے لوگوں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر، تو جہاں میں کوئی برا نہ رہا

تیسری چیز جس سے آیت میں ممانعت کی گئی ہے وہ کسی دوسرے کو برے لقب سے پکارنا ہے جس سے وہ ناراض ہوتا ہو، جیسے کسی کو لنگڑا، لولا یا اندھا کانا کہہ کر پکارنا۔۔۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آیت میں تنابز بالالقاب سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے کوئی گناہ یا برا عمل کیا ہو اور پھر اس سے تائب ہو گیا ہو، اس کو اس برے عمل کے نام سے پکارنا مثلاً چور یا زانی یا شرابی وغیرہ۔۔۔ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو ایسے گناہ پر عار دلائے جس سے اس نے توبہ کر لی ہے تو اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ اس کو اسی گناہ میں مبتلا کر کے دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا۔ (قرطبی)

(مصنف: مفتی محمد شفیع، معارف القرآن سے اقتباس)

لوہے کے گرم ہونے کا انتظار مت کیجیے بلکہ چوٹ لگا لگا کر اسے گرم کر لیجیے۔ ویلیم بی اسپریگ

افسوس کی بات ہے کہ اس آیت میں بیان کردہ احکامات کی ہمارے ہاں بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ عام لوگ تو ایسا کرتے ہی ہیں مگر ہمارے مذہبی راہنما اس بھی آیت کی خلاف ورزی میں پوری طرح ملوث ہیں۔ جب کسی معاملے میں ہمارا اختلاف رائے ہو جاتا ہے، تو ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ مختلف نقطہ نظر رکھنے والا ہر شخص گمراہ اور بے دین ہے۔ اس آیت میں بیان کردہ احکامات کا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس شخص کی جان، مال اور آبرو محترم نہیں ہے۔

اس کے بعد ہر طریقے سے ہم مختلف نقطہ نظر رکھنے والے شخص کو رسوا کرنے کی مہم کا آغاز کر دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے بازاری زبان استعمال کی جاتی ہے۔ مخالف پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ اس کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ اگر اس کی کوئی حقیقی خامی دستیاب ہو جائے تو اسے ہر ممکن ذریعے سے مشہور کر دیا جاتا ہے۔ اگر حقیقی خامی دستیاب نہ ہو سکے تو اس کی طرف ایسی برائیاں منسوب کر دی جاتی ہیں جو کہ اس میں حقیقتاً پائی نہیں جاتیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارا عمل دین کی خدمت کے نام پر کیا جاتا ہے۔

یاد رکھیے کہ اگر ہم کسی شخص کے نقطہ نظر کو درست نہیں بھی سمجھتے، تب بھی ہمیں صرف اسی بات کا حق ہے کہ ہم شائستہ زبان استعمال کرتے ہوئے اس کے نقطہ نظر کی خامی کو دلائل کے ساتھ واضح کر دیں۔ اس سے آگے بڑھ کر کسی کی کردار کشی کرنا، قرآن مجید کی رو سے ہمارے لئے جائز نہیں ہے۔ اگر ہم نے اس کا ارتکاب دین کے نام پر کیا، تو یاد رکھیے کہ روز قیامت ہمارا گریبان اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس وقت ہماری نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں منتقل کر دی جائیں گی۔

اگر بالفرض وہ شخص جہنم کا مستحق بھی ہوا، تب بھی دنیا میں کی گئی ہماری کردار کشی کی وجہ سے جہنم میں اس کی سزا میں تخفیف کر دی جائے گی۔ دوسری طرف ہمیں اپنی نیکیوں کا جو نقصان برداشت کرنا پڑے گا، اس کی بدولت ممکن ہے کہ ہمارا ٹھکانہ بھی جہنم میں اسی شخص کے ساتھ کر دیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی زیادتی کے باعث ہمیں اتنی زیادہ نیکیاں اس شخص کو دینی پڑ جائیں کہ ہماری نیکیاں ختم ہو جائیں۔ اس کے بعد ہمیں اس کے گناہ اپنے ذمے لینا ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ اس طریقے سے گناہوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد وہ جنت میں داخل ہو جائے اور ہمیں اپنی زیادتی کی پاداش میں جہنم میں جلنا پڑے۔

اگر ہم کسی کے نقطہ نظر سے اختلاف بھی رکھتے ہوں تو ہمیں بس اسی کا حق ہے کہ اس کے نقطہ نظر کی غلطی کو واضح کر دیں۔ ہمیں بس نظریات پر تنقید تک ہی محدود رہنا ہوگا۔ نظریات سے آگے بڑھ کر کسی شخص کی ذات پر تنقید کرنا ہمیں جہنم کی سزا کا مستحق بنا دینے کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے سابقہ رویے پر توبہ کریں، متعلقہ شخص سے معافی مانگیں اور آئندہ کے لئے اس جرم کا ارتکاب نہ کرنے کا عزم کریں۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ مبشر نذیر

ہم صرف اپنی شخصیت کی تعمیر کے لئے ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ اپنے بیوی بچوں، عزیز و اقارب اور دوستوں کی شخصیت کے تعمیر کے ذمے دار بھی ہیں۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ اس تحریر سے شخصیت سازی میں مدد ملتی ہے تو اسے ان تک بھی پہنچائیے۔

اپنے سوالات اور خیالات ای میل کر کے دوسروں کی مدد کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      اپنی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ بیان کیجیے جس میں کسی شخص نے آپ کے کسی دوست کا مذاق اڑا کر اسے رسوا کیا تھا۔ اس دوست پر اس کا کیا اثر ہوا تھا۔ اپنے دوست کی کیفیت کا ایک پیراگراف میں نقشہ کھینچیے۔

      دو وجوہات بیان کیجیے کہ لوگ دوسروں کا تمسخر کیوں اڑاتے ہیں۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے