بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

کمیونزم کی تحریک ایک رد عمل کی تحریک تھی۔ انیسویں صدی میں یورپ اور روس کا سرمایہ دارانہ نظام جبر اور ظلم پر مبنی نظام تھا۔ اس نظام کے ظلم و جبر کے خلاف کارل مارکس نے آواز اٹھائی جس کے نتیجے میں کمیونسٹ تحریک نے جنم لیا۔ اگرچہ اس تحریک میں اچھا اور مثبت ذہن رکھنے والے افراد بھی شریک ہوئے لیکن اس تحریک کی قیادت انتہا پسند طبقے کے پاس چلی گئی۔ یہ طبقہ اپنے نظریات کے مطابق نظام کو طاقت اور جبر کے بل بوتے پر قائم کرنے کا قائل تھا۔

اسلام نے انسانوں کو برابر قرار دیا ہے۔ ان میں مختلف قسم کے امتیازات کیسے پیدا ہوئے؟ ان امتیازات کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے اس تحریر کا مطالعہ کیجیے۔

1917 میں روس میں ایک بڑی سول وار کے بعد انقلاب آیا۔ اس انقلاب کی بھینٹ ہزاروں انسانوں کو چڑھایا گیا۔ اس انقلاب کے بعد دنیا کے تمام ممالک میں کمیونسٹ سرگرم عمل ہو گئے۔ چین میں بھی ایک طویل خانہ جنگی کے بعد انقلاب آیا۔ اس خانہ جنگی میں بلا مبالغہ لاکھوں افراد مارے گئے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کمیونسٹوں کی بڑی تعداد نے مسلح بغاوت کا طریقہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں دنیا کے بہت سے ممالک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور انسانوں کی بہت بڑی تعداد موت اور معذوری سے ہم کنار ہوئی۔ جہاں جہاں کمیونسٹوں کی حکومت قائم ہوئی وہاں ذرہ برابر بھی اختلاف رکھنے والوں کو موت کی سزا دی گئی۔ جوزف اسٹالن کے دور میں بہت سے اختلاف رائے رکھنے والوں کو سائبیریا کے برف زاروں میں بھیج دیا گیا۔ ان سے طویل مشقت لی جاتی اور مناسب خوراک نہ دی جاتی جس کے باعث یہ قیدی موت سے ہم کنار ہو جاتے۔

مسلم انتہا پسندی کی لہر بھی ایک رد عمل کی تحریک تھی۔ مسلم دنیا پر پہلے یورپی اقوام کے قبضے اور اس کے بعد امریکہ اور روس کی ریشہ دوانیوں کے باعث مسلمانوں کے ہاں بھی انتہا پسندی کو فروغ ملا۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی واضح تعلیمات کے بالکل برعکس دشمن افواج کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے قتل کو بھی جائز قرار دیا گیا اور دنیا بھر میں دہشت گردی کا طوفان برپا کر دیا گیا۔

اگر کمیونسٹ انتہا پسندوں اور مسلم انتہا پسندوں کی نفسیات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں بہت سے باتیں مشترک ہیں۔ انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا تعلق کسی ایک مذہب، فلسفے یا نقطہ نظر کے ساتھ نہیں۔ یہ انسانی رویوں کا نام ہے جنہیں باقاعدہ تربیت کے ذریعے کسی بھی مذہب کے ماننے والے فرد کی شخصیت کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

انتہا پسند کو شروع ہی سے یہ تربیت دی جاتی ہے کہ اسے دوسروں کو مارنا ہے خواہ اس کے لئے اسے خود کو ختم کیوں نہ کرنا پڑے۔ اسے دوسروں کو غلام بنانا ہے خواہ اس کے لئے اس کی اپنی زندگی، اپنے لیڈروں کی غلامی میں ہی بسر کیوں نہ ہو۔ اسے دوسروں کو بے عزت کرنا ہے خواہ اس کے لئے اسے اپنی عزت ہی داؤ پر کیوں نہ لگانی پڑے۔ اسے دوسروں کو نقصان پہنچانا ہے خواہ اس کے لئے اسے اپنی بیوی، اولاد، کاروبار یا زندگی کا نقصان ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔ انتہا پسند کی پوری زندگی Do or die کی عملی تعبیر ہوتی ہے۔

انتہا پسندوں کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اجتماعیت پر بہت زور دیتے ہیں۔ اجتماعیت سے ان کی مراد پورا معاشرہ اور اس کا نظم حکومت نہیں ہوتا بلکہ صرف اپنی تنظیم یا جماعت ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان ہاں تنظیمی قائد کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور قائد کے کسی حکم سے انحراف کو بہت بڑا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ لیڈر کے حکم پر جان بھی قربان کر دی جاتی ہے جبکہ والدین کے حکم سے سرتابی کی جاتی ہے۔

سب سے بڑا گناہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک کرنا ہے۔ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ کسی ایسے شخص کو قتل کرنا ہے جسے قتل کرنے سے اللہ تعالی نے منع فرمایا ہے۔ اور اس کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کے ساتھ برا سلوک کرنا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "کیا میں تمہیں بڑے گناہوں میں سے ایک بہت بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اور وہ ہے جھوٹی گواہی دینا۔"

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (بخاری)

اس کے برعکس اعتدال پسند کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اپنی زندگی کے لئے دوسرے کو زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔ اپنی آزادی کے لئے ہمیں دوسروں کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔ خود کو نقصان سے بچانے کے لئے ہمیں دوسروں کو نقصان سے بچانا چاہیے۔ اپنی عزت کروانے کے لئے دوسرے کی عزت کرنی چاہیے۔ اعتدال پسند کی پوری زندگی 'جیو اور جینے دو' کے فلسفے کی عملی تعبیر ہوتی ہے۔

ان دونوں نقطہ ہائے نظر میں سے کون سا انسانیت کے لئے مفید ہے، یہ جاننے کے لئے بہت بڑا عالم یا مفکر ہونے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کے تمام الہامی مذاہب اعتدال پسندی کی تعلیم دیتے ہیں۔ قرآن مجید کو بغیر کسی تفسیر کے شروع سے آخر تک پڑھتے چلے جائیے، ہمیں اعتدال پسندی ہی کی تلقین ملے گی۔ اگر ہم کسی شخص کے نظریات کو غلط سمجھتے ہیں، تو ہمیں صرف اور صرف یہی حق حاصل ہے کہ ہم شائستگی کے ساتھ واضح دلائل کی روشنی میں اپنا نقطہ نظر واضح کر کے اس شخص کو قائل کرنے کی کوشش کریں۔ قرآن ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم اپنے نظریات کو دوسروں پر زبردستی مسلط کر دیں۔ یہ قرآن کا واضح پیغام ہے:

لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنْ الغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدْ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لا انفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔

دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہدایت، گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہو چکی ہے۔ اب جو شخص طاغوت (یعنی شیطانی قوتوں) کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لائے گا تو وہ مضبوط ترین سہارے کو تھام لے گا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ اللہ (جس کا سہارا لیا گیا ہے، ہر بات کو) سننے اور جاننے والا ہے۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      انتہا پسندی کی وجوہات بیان کیجیے۔ مذہبی انتہا پسندی کس وجہ سے کسی معاشرے میں فروغ پاتی ہے؟

      انتہا پسند اور اعتدال پسند کی شخصیت کا تجزیہ کیجیے اور اس میں تین فرق بیان کیجیے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے