بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

دوغلا رویہ

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ہمارے سوسائٹی کے اخلاقی انحطاط کے دور میں ایک بڑی بیماری جو ہمارے ہاں پیدا ہوئی ہے، وہ قول و فعل کا تضاد اور دوسرے لفظوں میں منافقت ہے۔

وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ۔ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ۔ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوْا الضَّلالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ۔ (البقرۃ 2: 14-16)

جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، اور جب اپنے شیطانوں سے علیحدگی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے تو ہم محض مذاق کر رہے تھے۔ اللہ ان سے استہزا فرماتا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکے چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ کاروبار ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔

بعض لوگ خود کو ضرورت سے زیادہ ہوشیار سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ دوغلا رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر نیک لوگوں سے ملے تو ایسے جیسے ان سے زیادہ نیک اور کوئی نہیں ہے اور شیطان صفت لوگوں سے ملے تو نیک لوگوں کا مذاق اڑانے لگ گئے۔ عام زبان میں انہیں منافق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور میں مسلمانوں اور یہود میں ایسے ہی منافق موجود تھے جو ایسا دوغلا رویہ اپنائے ہوئے تھے۔

کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ شخص (جنتی ہے) جو عجز و انکسار کرنے والا ہے۔ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔ کیا میں تمہیں اہل جہنم کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ شخص (جہنمی ہے) جو تند خو، اکڑ کر چلنے والا اور تکبر کرنے والا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

انسان منافقت کا رویہ کیوں اختیار کرتا ہے؟ اگر نظر غائر سے دیکھا جائے تو منافقت کی اصل جڑ مفاد پرستی میں پوشیدہ ہے۔ بعض لوگ اپنے دنیاوی مفاد کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ اس کے لئے اخلاقیات کے تمام اصولوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں اصل اہمیت کسی اخلاقیات کی نہیں بلکہ ان کے اپنے فائدے کی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اچھے اور برے تمام لوگوں سے بنا کر رکھنے کے قائل ہوتے ہیں اور دونوں جانب سے مفادات حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

اپنے فائدے کا خیال رکھنا کوئی بری بات نہیں۔ اگر انسان اپنے حقیقی فائدے کو مدنظر رکھے تو وہ آخرت کا فائدہ ہے۔ دنیا میں جو کچھ بھی کمایا جا سکے گا وہ چند دن میں ختم ہو جائے گا لیکن آخرت کی کمائی ہمیشہ باقی رہے گی۔ اپنے مفادات کا صحیح خیال رکھنا یہ ہے کہ انسان تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لیے آخرت کے لامحدود فائدے کو نظر انداز نہ کرے۔ اگر یہ سوچ بن جائے تو پھر انسان دوغلے پن سے نکل کر درست راستے پر آ جاتا ہے۔

امام شافعی کی کتاب الرسالہ کا آسان اردو ترجمہ۔ قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کو سمجھنے کا طریق کار کیا ہے؟ عام اور خاص سے کیا مراد ہے؟ حدیث کے صحیح ہونے کو پرکھنے کا طریق کار کیا ہے؟ علماء کے اختلاف رائے کی صورت میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

ہمارے معاشرے میں بعض لوگ جو علی الاعلان برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ فخر سے یہ کہتے ہیں کہ "ہم منافق نہیں"۔ یہ ایک نہایت ہی سنگین رویہ ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایسا انسان دوغلے پن سے بچ کر ایک طرف ہو گیا ہے لیکن اسے اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ایسا رویہ اختیار کر کے وہ براہ راست خدا کے مقابلے پر آ کھڑا ہوتا ہے اور اپنی برائیوں پر فخر کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ایک خدا پرست جو منافقت سے بچنا چاہتا ہے، وہ دوغلے پن سے نکل کر خالص برائی کی بجائے خالص نیکی کو اختیار کر لیتا ہے۔

نیک لوگوں کا مذاق اڑانے والوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی نے انہیں اس دنیا میں جو ڈھیل دی ہوئی ہے یہ ان لوگوں کے لئے بھی محض ایک مذاق بن سکتی ہے۔ وہ اپنے سرکشی میں آگے بڑھتے جائیں گے اور پھر یکایک ایک دن ان کے پاؤں تلے سے زمین سرک جائے گی اور وہ اپنے رب کی سزا کا سامنا کرنے کی حالت میں آ کھڑے ہوں گے۔ درست راستے کو چھوڑ کر غلط راستے کو اختیار کرنے کا یہ کاروبار کسی طور پر بھی ان کے حق میں فائدہ مند نہ ہو گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی اپنا چلتا ہوا نفع بخش کاروبار بیچ کر اس کے بدلے ایک نقصان دینے والا سفید ہاتھی خرید بیٹھے اور پھر اس کا نقصان ساری عمر بھگتتا رہے۔ ہمیں اپنی شخصیت کو دوغلے پن اور سرکشی دونوں رویوں سے پاک رکھنا چاہیے۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      دوغلے پن اور سرکشی کے جن انتہائی رویوں کی طرف مصنف نے اشارہ کیا ہے، ان کی ایک ایک عملی مثال بیان کیجیے۔

      دوغلے پن سے بچنے کے لئے ہمیں اپنی شخصیت میں جن تبدیلیوں کی ضرورت ہے، ان کی ایک فہرست تیار کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے