بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

لکھ لیا کرو۔۔۔

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

انسانوں میں حرص اور لالچ کی اخلاقی خرابی عام پائی جاتی ہے۔ لین دین، خرید و فروخت اور روپے پیسے کے دیگر معاملات کے وقت اس کا اظہار عام طور پر ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح انسان کی طبیعت میں بھول اور نسیان کا مادہ بھی خِلقی طور پر موجود ہے۔ ہم نئی چیزیں یاد رکھتے ہیں اور پرانی چیزیں فراموش کرتے جاتے ہیں۔

ایسا شخص اللہ تعالی کی جانب سے سزا پا رہا تھا جو جھوٹی بات کو لیتا تھا اور پھر اسے پوری دنیا میں پھیلا دیا کرتا تھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

انسانوں کے درمیان جب کبھی زر اور زمین کے معاملات پیش آتے ہیں تو طمع اورنسیان کے عناصر بارہا جھگڑے فساد کا سبب بن جاتے ہیں۔ وراثت، قرض اور خرید و فروخت کے معاملات میں تو اکثر اس کی نوبت آجاتی ہے۔ عام طور پر لوگ خرید و فروخت میں تو کچھ محتاط رہتے ہیں، مگر قرض اور وراثت کے معاملات چونکہ فوری نہیں ہوتے اور ان میں اکثر معاملہ اپنے قریبی لوگوں ہی سے پڑتا ہے، ا س لیے لوگ محتاط نہیں رہتے اور کچھ عرصہ بعد باہمی اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔

دین نے اس معاملے میں ہماری یہ رہنمائی کی ہے کہ جب کبھی قرض کا معاملہ ہوتو پوری بات کو لکھ کر دو گواہ بنا لینے چاہییں۔ اسی طرح وراثت کے مسئلے کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک پورا قانون دے کر خود حل کیا ہے۔ جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے اسے جہنم کی وعید دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ وصیت کا ایک حکم دے کر امکانی طور پر پیدا ہونے والے جھگڑوں کا راستہ روک دیا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نہ قرض کے وقت گواہ اور تحریر کا اہتمام کیا جاتا ہے، نہ دین کے مطابق وراثت کی تقسیم کا۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص اپنی وصیت لکھ کر رکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔

حالانکہ ان چیزوں کا اہتمام کرلیا جائے تو بہت سے اختلافات، دل شکنیوں اور تعلقات کی خرابی کی نوبت نہیں آتی۔ مثلاً قرض کے معاملات میں رقم کی مقدار، اس کی ادائیگی کی شکل اور مدت پر بارہا اختلاف ہوجاتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ قرض کی رقم کے ساتھ تحریری طور پر یہ بھی لکھ لیا جائے کہ یہ رقم کب واجب الادا ہوگی۔ مقروض کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ قرض بہرحال اسے ادا کرنا ہے۔ اس دنیا میں اگر وہ ادا نہیں کرے گا تو آخرت میں اسے اپنی نیکیوں کی کرنسی میں اس قرض کی ادائیگی کرنی ہوگی جو یقینا بہت نقصان کا سودا ہوگا۔

زندگی کی ناکامیاں، رشتوں کی تلخیاں، انسانوں کے رویے ہمیں مایوس کر دیتے ہیں۔ بسا اوقات یہ مایوسی انسان کے ذہن پر اس حد تک دباؤ پیدا کر دیتی ہے کہ انسان دنیا کی جدوجہد کے مقابلے میں اس دنیا سے فرار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس حد تک پہنچنے سے پہلے اس تحریر کا مطالعہ کر لیجیے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تحریر آپ کے کام آ جائے۔

اسی طرح وراثت کے دینی حکم کو نظر انداز کرکے اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلہ کرنا، اللہ تعالیٰ سے سرکشی اور بغاوت کے ہم معنی ہے، جس کا انجام سوائے جہنم کی آگ کے اورکچھ نہیں۔ وراثت کے حکم کی طرح وصیت کاحکم بھی بہت سے اختلافات کو پیدا نہیں ہونے دیتا۔ وصیت کے حکم کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے مال میں ہر چیز اس طرح نہیں ہوتی جس طرح کاغذات میں نظر آرہی ہوتی ہے۔ مثلاً بہت سی زمین اور مال ایسا ہوتا ہے جو ہماری ملکیت ہوتا ہے، مگر ہم نے بعض مصالح کی بنا پر اسے کسی اور کے نام کر رکھا ہوتا ہے۔

بعض اوقات بہت سے وارثوں میں سے کسی ایک وارث کے نام کچھ زمین جائداد کررکھی ہوتی ہے۔ بارہا اس بات کا کسی اور کو علم نہیں ہوتا اور جس کے نام جائداد ہوتی ہے وہ خاموشی سے اسے دبا لیتا ہے حالانکہ اس پر سب وارثوں کا حق ہوتا ہے۔ اگر دوسروں کو اس کا علم ہوتا ہے تو عموماً یہ ایک زبانی بات ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں اختلافات اور جھگڑوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ عدالتوں کے چکر لگتے ہیں اور خاندانی تعلقات ختم ہوجاتے ہیں۔

ہمارے ہاں وصیت نہ لکھنے کا ایک اور سبب لوگوں کا یہ سمجھنا ہے کہ سب وارثوں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا ہے۔ حالانکہ اپنے مال کے ایک تہائی پر وصیت کا حق ہمیں بہرحال حاصل ہے۔

ہمارے ہاں عام دینی رائے یہ ہے کہ کسی وارث کو اپنی طرف سے کچھ نہیں دیا جاسکتا۔ یہ بات عام حالات میں بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن ایک بہت اہم دینی رائے یہ بھی ہے کہ کسی وارث کو اس کے حقِ قرابت کی بنا پر تو اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حصے سے زیادہ کچھ نہیں دیا جاسکتا، مگر ضرورت یا خدمت کی بنیاد پر یقیناً دیا جا سکتا ہے۔ مثلاً کسی شخص نے اپنے پانچ بچوں میں سے چارکی شادیاں کرکے انہیں سیٹ کرادیا۔ اب اس کا آخری بچہ یا بچی کم سن ہے تو اس کے بارے میں یہ وضاحت کی جاسکتی ہے کہ اگر میں اس کی شادی سے قبل مرجاؤں تو وراثت کی تقسیم سے قبل اس کی شادی کا خرچہ الگ کیا جائے گا، پھر جائیداد تقسیم ہوگی۔

یہ بات عین عدل پر مبنی ہے۔ شریعت کے کسی اصول کی روشنی میں اس پر اعتراض کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر اس بات میں کوئی خرابی ہے۔ اس لیے کہ باپ نے اگر چار بچوں کی شادی کا اہتمام کیا ہے تو پانچویں کو اس سے محروم رکھنا ایک ظلم ہوگا۔ شریعت کبھی ظلم گوارا نہیں کرسکتی۔ اس لیے یہ ہدایت کی جاسکتی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ وصیت کے بغیر ممکن نہیں۔

ہم میں سے ہر شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی وصیت تحریرکرے۔ جس طرح بہت سے لوگ ہر رمضان میں زکوٰۃ کی ادائیگی کو معمول بناتے ہیں، اسی طرح ہر سال اپنی وصیت پر حالات کے مطابق نظر ثانی کرتے رہنا چاہیے۔ اس سے بہت سے مسائل، ناانصافیوں، حق تلفیوں اوراختلافات کا خاتمہ ہوجائے گا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      مالی معاملات کو لکھنا کیوں ضروری ہے؟

      ہمارے ہاں مالی معاملات کو لکھنے کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ اسے برا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے اور اس کے کیا اثرات ہمارے معاشرے اور خاندان پر مرتب ہو رہے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے