بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کبر و غرور اور علماء

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

کتاب و سنت ہی کا علم اگر فضل الہی شامل ہو، یعنی علم کے ساتھ عمل بھی ہو تو انسان کو کبر و غرور سے محفوظ رکھ سکتا ہے ورنہ سب سے زیادہ عالم ہی کبر و غرور کی ہلاکت آفریں بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔۔۔۔ جس شخص پر دنیا کی محبت غالب ہوتی ہے اور عقبی کی طرف سے بے فکر ہو جاتا ہے، وہ جوں جوں علم میں ترقی کرتا ہے، اس کے دل کی بیماریاں بھی عموما ترقی کرتی جاتی ہیں اور کبر و غرور عموماً سب سے زیادہ نشوونما پا جاتا ہے۔

ایسا شخص اللہ تعالی کی جانب سے سزا پا رہا تھا جو جھوٹی بات کو لیتا تھا اور پھر اسے پوری دنیا میں پھیلا دیا کرتا تھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

علم اگرچہ خود کبر و غرور کی بیماری کا علاج ہے۔۔۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء (فاطر 35:4) سے یہی ثابت ہے لیکن وہ حقیقی علم دین یعنی کتاب و سنت کا علم ہے۔ لوگوں نے چونکہ صرف فقہ اور مبادیات علم دین کو ہی علم دین سمجھ رکھا ہے اور فقیہ اور ادیب و منطقی و فلسفی کو ہی عالم کہا جاتا ہے، لہذا سب سے زیادہ ایسے عالم ہی کبر و نخوت و پندار میں گرفتار نظر آتے ہیں۔

یہ لوگ ظاہری طہارت یعنی جسم، لباس، جگہ اور پانی کی طہارت میں تو انتہا سے زیادہ احتیاط کرتے ہیں مگر دل کی پلیدی کے دور کرنے کی ان کو مطلق فکر نہیں ہوتی۔ نماز کی ظاہری صورت کے سنوارنے اور اپنے لباس کو شرع کے موافق بنانے میں تو بخوبی ہمت صرف کرتے ہیں لیکن دل کو خدا کی طرف متوجہ کرنے اور نماز کی اصل حقیقت کے پالینے کی کوئی پرواہ اور خواہش ان کو نہیں ہوتی۔

اپنے آپ کو مستحق عزت و تکریم سجمھ کر دوسروں سے اپنے لئے خدمت و عاجزی کے متوقع رہتے اور اپنی فضیلت علمی کے اظہار و اعلان کو ضروری سمجھ کر ہر شخص کے کلام کو رد کرنے اور مباحثہ و مناظرہ کی مجلس گرم کرنے اور کفر کے فتوے صادر کرنے پر ہمہ اوقات مستعد رہتے ہیں۔ نہ ان کے دلوں میں خدائے تعالی کا خوف ہوتا ہے نہ صلاح و فلاح امت مسلمہ کی خواہش، نہ روز جزا کی فکر۔ خدائے تعالے فرماتا ہے:

تِلْكَ الدَّارُ الآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لا يُرِيدُونَ عُلُوّاً فِي الأَرْضِ وَلا فَسَاداً وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ۔ (قصص 28:83)

سعادت آخرت کی تو ہم نے ان لوگوں کے لئے مقرر کی ہے جو دنیا میں بڑائی اور جاہ نہیں ڈھونڈتے اور نہ فساد کے خواہاں ہیں۔ اور انجام بخیر تو پرہیز گاروں ہی کا ہے۔

علوم الحدیث کیا ہیں؟ ان میں کن مباحث کی تعلیم دی جاتی ہے؟ صحیح و ضعیف حدیث میں کیا فرق ہے؟ صحیح اور من گھڑت احادیث میں فرق کیسے کیا جاتا ہے؟ اس کی تفصیل کے لئے "علوم الحدیث: ایک تعارف" کا مطالعہ فرمائیے۔

۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ "خلق کو دو چیزوں نےہلاک کیا۔ ایک ہوا و ہوس کی پیروی اور دوسرے اپنی ثنا و صفت کو دوست رکھنا۔" علمائے ربانی کی ایک شناخت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان کی مدح کرے تو وہ اس شخص کو اس کے حق سے زیادہ کچھ نہ دیں اور اگر کوئی ان کی مذمت اور ہجو کرے تو اس کے حق میں رتی برابر کمی نہ کریں۔

عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عالم میں کوئی برائی یا عیب یا اس کی کوئی غلطی دیکھ کر اس کو آگاہ کرے اور بتائے کہ آپ نے یہ غلطی یا گناہ کا کام کیا ہے تو وہ عالم آگ بگولا ہو جاتا اور کہتا ہے کہ تجھ کو کیا حق ہے کہ ہم کو نصیحت کرے۔ ہم عالم ہیں تو جاہل ہے، تو نے بہت بڑی گستاخی اور ہماری توہین کی ہے اور اپنی غلطی کی عجیب و غریب توجیہیں کر کے اس بے چارے کو شرمندہ کر دیتا ہے۔ [اگر عالم خود ایسا نہ کرے تو اس کے پیروکار یہی سب کچھ کہہ دیتے ہیں اور عالم اس کی خاموش تائید کرتا ہے۔]

وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالإِثْمِ ۔ (البقرۃ 2:206 )

اور جب اس سے کہا جائے کہ خدا سے ڈر تو شیخی دامن گیر ہو کر اس کو گناہ پر آمادہ کرے۔

۔۔۔ علم سیکھنے سے جو لوگوں کا تکبر بڑھ جاتا ہے اس کے دو سبب ہیں، ایک تو یہ کہ علم حقیقی جو علم دین ہے، اسے نہیں سیکھتا۔ حساب، نجوم، ادب، مناظرہ اور مباحثہ وغیرہ کے علوم سیکھتے ہیں جن سے تکبر ہی بڑھتا ہے۔ علم فقہ و فتاوی بھی علم دنیا ہے، اگرچہ دین کو اس کی احتیاج ہے مگر اس سے خوف الہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ اگر آدمی صرف علم فتاوی میں اٹکا رہے اور دوسرے علوم سلوک و معرفت کو ترک کر دے تو سیاہ دل اور متکبر ہو جاتا ہے۔

یہی حال خطباء و واعظین کا ہے۔ ان کی مسجع و پرتکلف اور بے فائدہ باتیں اور ان باتوں کی تلاش جن کے ذریعہ سامعین سے واہ واہ کے نعرے بلند کراتے اور وہ باریکیاں جن کے سبب سے مذہبوں میں تعصب پیدا کراتے ہیں کہ عوام سمجھیں کہ یہی دین کی باتیں ہیں۔ یہ سب امور کبر و حسد اور عداوت کا تخم دل میں بوتے ہیں، ان کے ذریعہ درد اور شکستگی نہیں بڑھتی بلکہ تکبر اور نخوت میں ترقی ہوتی ہے۔

دوسرا سبب فطری خبث طینت اور بداخلاقی ہے کہ کوئی شخص علم نافع مثلاً تفسیر و حدیث پڑھے اور پھر بھی متکبر ہو اور اس علم دین کے پڑھنے سے اس کی غرض بیان کرنا ہی ہو کہ اس طرح لوگوں میں اس کو بڑائی حاصل ہو۔ اس کی غرض عمل کرنا نہ ہو۔

(مصنف: اکبر شاہ خان نجیب آبادی، "معیار العلماء" سے انتخاب)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      غرور و تکبر کے انسانی شخصیت پر کیا اثرات رونما ہوتے ہیں؟ ایک متکبر انسان کے تعلقات دیگر افراد سے کیسے ہوتے ہیں؟

      علم کے نتیجے میں تکبر پیدا ہوتا ہے۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ اگر ہاں، تو پھر ایسا طریقہ بیان کیجیے جس کی مدد سے علم کی بنیاد پر پیدا ہونے والے تکبر کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے