بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سینٹ سائمن اپنی ابتدائی زندگی میں شام کے ملک میں رہنے والے ایک چرواہے تھے۔ انہوں نے چرچ میں گائے جانے والے چند گیت سنے اور اس کے نتیجے میں ایک خانقاہ کی طرف چل دیے۔ یہاں وہ کئی دن بغیر کچھ کھائے پئے دہلیز پر پڑے رہے اور خود کو اس خانقاہ کا حقیر ترین خادم بنا لینے کی فریاد کرتے رہے۔ انہوں نے خود کو ہفتے میں صرف ایک دن اتوار کو کھانا کھانے کا عادی بنا لیا ۔اپنے چلّے کے دوران انہوں نے چالیس دن گرم ترین علاقے میں بغیر کسی خوراک کے بسر کئے۔ اس کوشش کے نتیجے میں وہ موت سے ہمکنار ہوتے ہوتے بچے لیکن انہوں نے (خدا سے کئے ہوئے )اپنے وعدے کی پاسداری کی۔

ہر طرح کی محنت سے انسان کو دولت ملتی ہے لیکن محض باتیں کرنے سے غربت ہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام

جب تھیوڈورٹ ان سے ملنے آیا تو وہ بغیر خوراک کے 26 چلّے لگا کر (اپنے تئیں) موسیٰ، الیاس اور عیسیٰ (علیھم الصلوۃ والسلام) سے بھی آگے بڑھ چکے تھے جنہوں نے اپنی زندگیوں میں صرف ایک ایک مرتبہ چالیس دن کا روزہ رکھا۔

ان کی ایک اور غیر معمولی کوشش یہ تھی کہ انہوں نے اپنے جسم کو اتنی سختی سے رسیوں سے باندھ لیا تھا کہ وہ ہڈیوں میں چبھتی تھیں اور شدید تکلیف پہنچائے بغیر انہیں کاٹا بھی نہ جاسکتا تھا۔ بعد ازاں انہیں خانقاہ سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد وہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر چلے گئے جہاں انہوں نے اپنے پاؤں کو ایک وزنی لوہے کی زنجیر سے باندھ لیا۔

جب انہیں اس سے بھی اطمینان حاصل نہ ہوا تو وہ انطاکیہ کے مشرق میں دو دن مسافت کے مقام پرموجود ایک چالیس ہاتھ اونچے تنگ سے ستون پر چڑھ گئے ۔ یہاں وہ اپنی وفات تک موجود رہے۔ اس جگہ وہ نہ تو لیٹ سکتے تھے اور نہ ہی بیٹھ سکتے تھے بلکہ بڑی مشکل سے صرف جھک سکتے تھے چنانچہ انہوں نے خدا کے سامنے جھکنا شروع کردیا۔ کسی نے خدا کے سامنے ان کے رکوع کرنے کو گننا شروع کیا تو صرف ایک دن میں ان کے 1244 رکوع شمار ہوئے۔ انہوں نے جانوروں کی کھالیں پہن رکھی تھیں اور ان کی گردن کے گرد ایک موٹی زنجیر تھی۔ یہاں سینٹ سائمن ہفتوں، مہینوں بلکہ سالوں تک کڑکتی دھوپ، طوفانی بارشوں اورشدید برفباری میں کھڑے رہے اور روزانہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔

(History of Christian Church, www.ccel.org)

یہ رہبانیت کی تاریخ کی ایک مثال تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: و رھبانیۃ ن ابتدعوھا۔ ما کتبنٰھا علیھم الّا ابتغاء رضوان اللّٰہ فما رعوھا حق رعایتھا۔ (الحدید57:27) رہبانیت تو انہوں نے خود ہی ایجاد کر لی تھی۔ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا۔ انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے (اسے ایجاد تو کرلیا ) مگر اس کی رعایت نہ رکھ سکے۔

اس رہبانیت کی ایجاد کی وجہ یہ تھی کہ جب انسان دین کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس کی نظر میں دنیا کی وقعت کچھ نہیں رہتی۔ اسی بنا پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی رہبانیت اختیار کرنے کی کوشش کی اور یہ ارادہ کیا کہ وہ رات بھر نمازیں پڑھا کریں گے، ہمیشہ روزہ رکھیں گے اور ہمیشہ اپنی بیویوں سے دور رہیں گے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے حدود کا پاس رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بیاہ بھی کرتا ہوں۔ جس نے میرے طریقے سے انحراف کیا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ (بخاری، کتاب النکاح)

کسی دینی مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک طالب علم کو عملی زندگی میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ جدید ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنے والا کوئی شخص اگر دین کی طرف مائل ہو جائے تو اس پر کیا گزرتی ہے؟ دین دار افراد کو اپنے معاشی مسائل کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے: دین کے معاملے میں خود پر سختی نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر سختی کرے۔ ایک گروہ نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی۔ یہ انہی کی باقیات ہیں جنہیں تم گرجوں اور خانقاہوں میں دیکھتے ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت رہبانیت تلاوت فرمائی۔ (ابوداؤد، کتاب الادب)

موجودہ دور کے بہت سے دین دار افراد میں بھی یہی جذبہ پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر میرے کئی جاننے والوں نے اپنی تعلیم کو اس لئے خیرباد کہا کہ وہ اپنا وقت تعلیم کی بجائے اپنی دینی جماعت کی سرگرمیوں میں لگانا چاہتے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد انہیں اپنی جماعت سے نظریاتی اختلافات پیدا ہوگئے جس کے نتیجے میں انہیں اس سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اب وہ صورتحال سامنے آئی کہ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے ۔

اسی طرح میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو دین کی تبلیغ کے لئے اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر کئی کئی ماہ کے لئے چلے جاتے ہیں اور ان کے خاندان کا خرچ ان کے رشتہ داروں کو بادل نخواستہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ وہ رشتہ دار ان کا خرچ اٹھانے پر جس طرح کی طعن و تشنیع کرتے ہیں اور اس سے ان کی بیوی اور بچوں کی عزت نفس جس بری طرح سے مجروح ہوتی ہے اس کا حال وہی جانتے ہیں یا پھر خدا جانتا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ایک حکم پر تو عمل کر رہے ہیں لیکن دوسرے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔ اپنے فرائض کو انجام دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے دین کی خدمت ہی دین کا اصل تقاضا ہے۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      دینی جذبہ رکھنے والے لوگ رہبانیت کی طرف مائل کیوں ہوتے ہیں؟

      دین اور دنیا میں توازن برقرار رکھنا ہی دین کا تقاضا ہے۔ یہ توازن کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter