بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

18 اکتوبر کے سبق

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

یہ 18 اکتوبر کا دن تھا۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ 8 برس کے بعد وطن واپس آرہی تھیں۔ شہر کراچی میں تعطیل کا سماں تھا اور ہر طرف استقبالی ریلیاں نکل رہی تھیں۔ میرا گھر شارع فیصل پر واقع ہے اور راستہ بند ہونے کی بنا پر آج میں گھر ہی میں تھا۔ ظہر سے لے کر عشا تک کی چاروں نمازوں میں میں نے یہ دیکھا کہ مسجد سے باہر سیکڑوں لوگ موجود ہیں۔ مگر ان میں سے گنتی کے چند لوگوں کے سوا کوئی شخص نماز میں شریک نہیں ہوا۔ حالانکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد مسجد کے بیت الخلا، وضو خانے اور واٹر کولر کو اپنی ضروریات پوری کرنے اور اس کے صحن اور لان کو آرام کرنے کے لیے استعمال کررہی تھی۔ اندرون سندھ اور شہر کے اندرونی علاقوں سے آئے ہوئے ان لوگوں کی زیادہ تر دلچسپی نعرے لگانے اور خیرمقدمی گانوں پر دھمال ڈالنے اور انہیں دیکھنے سے تھی۔

لوگ اپنی آنکھ کے شہتیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں مگر اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکے کی تلاش میں رہا کرتے ہیں۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

میں نے سوچا کہ یہ میری قوم ہے، دین کے علم سے عاری۔ بدقسمتی سے دین سے ناواقف یہ لوگ دنیا سے بھی واقف نہیں۔ اس کا ایک نمونہ میں ٹی وی پر تھوڑی دیر پہلے دیکھ چکا تھا جب ایک چینل پر سانگھڑ سے آئے ہوئے ایک نوجوان سے سوال کیا گیا کہ تم یہاں کیوں آئے ہو۔ تو اس نے جواب دیا کہ پتا نہیں۔ اس سے قبل ایک معروف صحافی انٹرویو میں یہ فرماچکے تھے کہ بی بی کے استقبال کے لیے لاکھوں لوگوں کا آنا یہ بتاتا ہے کہ کرپشن کی بات کرنا شہری علاقوں کے مڈل کلاس لوگوں کی اخلاقیات ہے۔ یہ نہ لوئر کلاس کا مسئلہ ہے اور نہ اپر کلاس کا۔ یہ لوگ بھٹو کے عشق میں گرفتار ہیں اور باپ کے بعد بیٹی سے محبت کا یہ والہانہ اظہار جاری ہے۔ چاہے اس پر کچھ بھی الزامات لگیں۔ مجھے مسجد میں بیٹھے بیٹھے اقبال کی وہ بات یاد آگئی ۔

تیرے امیر مال مست

تیرے غریب حال مست

رات بارہ بجے کے قریب استقبالی جلوس میرے گھر کے قریب پہنچا ۔ میں باہر کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ پھر دو کان پھاڑ دینے والے دھماکے ہوئے اور لوگ بھاگنے لگے۔ وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ انسانی جانوں کا بے دریغ ضیاع، لاشوں کے ڈھیر، زخمیوں کی کراہیں اور لواحقین کی آہیں۔ مگر یہ ایک ایسی قوم میں ہوا جہاں انسانی جان کی حرمت ختم ہوچکی ہے۔ سو سب کچھ حسب روایت ہوگا۔ گھسے پٹے بیانات، روایتی اعلانات، معمول کے حکومتی دعوے اوردو چار دن میڈیا پر ہلچل۔ پھر رات گئی بات گئی ۔ کسی کا کیا جاتا ہے۔ دنیا تو غریبوں کی لٹی ہے۔ کسی اور مہذب معاشرے میں یہ ہوتا تو پوری قوم اٹھ جاتی اورکبھی دوبارہ ایسا نہیں ہو پاتا۔ مگر یہاں اس جیسے ان گنت واقعات میں ہزاروں لوگ مرچکے ہیں اور آج تک کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

مایوسی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ مایوسی کن وجوہات کی بنیاد پر پیدا ہوتی ہے؟ مایوس انسان کو کیا کرنا چاہیے؟ مثبت زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہے؟ ان سوالات کے جوابات کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

مگر کیا کیجیے کہ جب عوام نے اپنے لیے جانور کا کردار پسند کر لیا ہے تو کسی کو کیا پروا کہ وہ جیتے ہیں یا مرجاتے ہیں۔ مجھے اس صحافی کی بات یاد آگئی۔ اس نے غلط کہا تھا ۔ مڈل کلاس کی اخلاقیات ان کی اپنی گھڑ ی ہوئی نہیں ہیں۔ یہ خدا اور پیغمبر کی عطا کردہ اخلاقیات ہیں۔ اس میں جان، مال اور آبرو کے تحفظ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس ملک کے عوام نے اگر اس اخلاقیات کو اختیار نہیں کیا اور اس کے دفاع کے لیے نہیں اٹھے تو اسی طرح سڑکوں پر ان کی لاشیں اور اعضا بکھرے پڑے رہیں گے اور ہر حکمران ان کو رنگین خواب دکھا کر ان کی ٹیکسوں سے لی گئی دولت اپنی ذات پر خرچ کرتا رہے گا۔

فطرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے

کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو کبھی معاف

18 اکتوبر کے اس دن کا دوسرا سبق ہماری قوم میں بڑھی ہوئی وہ خلیج ہے، جسے آج سے پانچ برس قبل میں نے اپنی کتابعروج و زوال کا قانون اور پاکستان میں بیان کیا تھا۔ یہ خلیج معاشرے میں مذہبی انتہا پسندی اور مغرب پرستی کے عناصر سے پیدا ہوئی۔ اس کی تاریخی بنیادیں ہیں جنہیں میں نے اس کتاب میں تفصیل سے بیان کردیا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ فکری خلیج اب عملی ٹکراؤ میں بدل چکی ہے۔

اس وقت ہمارے معاشرے میں ایک طرف وہ مذہبی انتہا پسند ہیں جن کی بنیاد مذہب کا سطحی علم اور مغرب کی شدید نفرت پر قائم ہے۔ دوسری طرف مغرب کی تہذیب کے سامنے فکری اور تہذیبی طور پر شکست کھائے ہوئے وہ لوگ ہیں جو اس معاشرے کو خدا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ صراط مستقیم کے بجائے مغربی اقدار کے سانچے پر قائم دیکھنا چاہتے ہیں۔ مغرب پسند ان لوگوں کو پہلے ہی حکمرانوں کی تائید حاصل تھی کہ بے نظیر صاحبہ کے امریکی حمایت پر مبنی بیانات اور متوقع طور پر ان کے اقتدار میں آنے پر مذہبی انتہا پسند شدید ردعمل کا شکار ہوگئے۔ ان کی آمد پر حملے کی دھمکیاں پہلے ہی سے موجود تھیں اور ہر شخص کسی حملے کی توقع کر رہا تھا۔

ہم نہیں جانتے یہ دھماکے کس نے کرائے ہیں، لیکن یہ خلیج، یہ تقسیم اور یہ نظریاتی اختلاف کوئی واہمہ نہیں بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہ خلیج اگر بڑھتی ہے تو اس کے نتیجے میں عین ممکن ہے کہ ملک کو کوئی شدید نقصان پہنچ جائے۔ ایسے میں یہ باشعور لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ایک اعتدال کی راہ سامنے لائیں۔

وہ لوگ سامنے آئیں جو سچے خدا پرست ہوں لیکن معاشرے کو قرون وسطیٰ میں لے جانا نہ چاہتے ہوں۔ وہ مغرب کے مقابلے میں اپنی قوم کی سرفرازی اور ترقی چاہتے ہوں، لیکن مغرب کی نفرت کی نفسیات میں نہ جیتے ہوں۔ وہ لوگ جدید روشنی کو اپنے معاشرے میں پھیلانے کے خواہش مند ہوں لیکن مغربی اقدار کے بجائے اسلامی اقدار کی بنیاد پر یہ کام کرنا چاہتے ہوں۔ یہ لوگ لباس، زبان اور ثقافت میں جدید ہوں لیکن ذہن، سوچ اور فکر میں نبوی ماڈل کو اپنا معیار بناتے ہوں۔ یہ اعتدال پسند لوگ اگر سامنے نہ آئے تو اندیشہ ہے کہ دو قسم کے انتہا پسندوں کا یہ ٹکراؤ مملکت خداداد کی چولیں ہلا دے گا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      سیاسی اور مذہبی لیڈر کس طریقے سے اپنے پیروکاروں کو بے وقوف بناتے ہیں؟

      لوگ لیڈروں کی اندھی تقلید کیوں کرتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter