بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

Search the Website New

اردو اور عربی تحریروں کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

Home

تزکیہ نفس : حسد

 

 

 

Click here for English Version

(نوٹ: یہ تحریر پروفیسر محمد عقیل صاحب کے تزکیہ نفس پروگرام کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کی مزید تحریریں وقتاً فوقتاً شائع کی جاتی رہیں گی۔)

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ہر اخلاقی برائی نقصان دہ ہے ۔ کبھی یہ نقصان دنیاہی میں نظر آجاتا اور کبھی آخرت تک موقوف ہو جاتا ہے۔ حسد ایک ایسی ہی بیماری ہے جس کا شکار شخص دنیا ہی میں نفسیاتی اذیت اٹھاتا اور دل ہی دل میں گھٹ کر مختلف ذہنی و جسمانی امراض میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔یعنی حاسد کی سزا کا عمل اس دنیا ہی سے شروع ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن میں حسد کرنے والے کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے کیونکہ وہ اس باؤلے پن میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جیسے سوکھی لکڑی کو آگ۔ لہٰذا دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے اس بیماری کو جاننا اور اس سے بچنے کی تدابیر اختیا ر کرنا ضروری ہے۔

حسد کی نوعیت

 حسد کی حقیقت یہ ہے کہ کسی دوسرے شخص کی نعمت اور کامیابی کا ناگوار گذرنا اور یہ آرزو کرنا کہ یہ سب کچھ اس سے چھن کر مجھے مل جائے یا اگر مجھے نہ بھی ملے تو کم از کم اس سے تو چھن ہی جائے۔ مثال کے طور پر ایک شخص جب دیکھتا ہے کہ اسکے بھائی کے پاس کار آگئی ہے تو وہ آرزو کرتا ہے کہ کاش یہ کار اس سے چھن کر میرے پاس آجائے، یا کم ازکم اس کے پاس نہ رہے یا اس کی کار کو کوئی نقصان پہنچ جائے تاکہ اس حا سد کی راحت میں اضافہ ہو ۔

حسد کے لوازمات

 حسد ثابت ہونے کو لئے مندرجہ ذیل لوازمات کا پورا ہونا ضروری ہے۔

۱۔کسی کی ترقی سے دل میں گھٹن محسوس ہو نا اور ناخوش ہونا

۲۔ اسکے نقصان کی تمنا کرنا یا نقصان ہوجانے پر خوش ہونا

۳۔یہ آرزو کرنا کہ محسود(جس سے حسد کیا جائے) سے نعمت چھن کر مجھے مل جائے۔

پہلے مرحلے میں یہ معلوم کریں کہ آپ حسد کا شکار ہیں یا نہیں۔اسکا ٹیسٹ یہ ہے کہ اگر آپ کو دوسروں کی تکلیف پر خوشی اور انکی کامیابی پر دکھ ہوتا ہے یا آپ اس کے نقصان کے متمنی اور اسکی نعمت چھننے کے منتظر ہیں تو آپ حسد میں مبتلا ہیں۔

حسد کیا نہیں ہے؟

ایک جملہء معترضہ کے طور پر یہ بات بھی سمجھ لیں کہ محض کسی کی کوئی چیز (مکان ، کپڑے وغیرہ) اچھی لگنا حسد نہیں۔مزید یہ کہ اس شے کوجائز حدود میں حاصل کرنے کی کوشش کرنا بھی بذاتِ خود برا عمل نہیں بلکہ اس سے مقابلے کی فضا پروان چڑھتی اور ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔اسی طرح وہ وسوسے بھی حسد کے زمرے میں نہیں آتے جو اچانک غیر ارادی طور پر آپ کے دل میں آجائیں البتہ ان خیالات کو پختہ ارادے کے ساتھ پروان چڑھانا قابلِ نکیر ہے۔

حسد کی مختلف شکلیں

 ہماری سوسائٹی میں حسد عام طور پر مندرجہ ذیل صورتوں میں پایا جاتا ہے:

۱۔کسی کے اچھے کپڑوں یا زیورات سے حسد ۔ (اس کا شکار عام طور پر عورتیں ہوتی ہیں)

۲۔ کسی کی اچھی شکل و صورت یا شخصیت سے حسد

۳۔ کسی کے کاروبار، تعلیم یا ملازمت میں ترقی سے حسد( یہ عام طور پر مردوں میں ہوتا ہے)

۴۔ کسی کی اولا د بالخصوص اولادِ نرینہ سے حسد

۵۔کسی کے مکان، جائداد، کار اور دیگر سا مانِ تعیش سے حسد

۶۔کسی کی شہرت ،عزت، قابلیت یا عہدے سے حسد

۷۔کسی کے تقویٰ اور عبا دت گذاری سے حسد کہ یہ سب کچھ اس سے چھن جائے

۸۔کسی کی صحت سے حسد

۸۔ اسکے علاوہ بھی حسد کرنے کی لامحدود صورتیں ہیں جو ایک حاسد اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔

حسد کے اسبا ب اور انکا تدارک

حسد کرنے کے عام طور پر مندرجہ ذیل اسباب ہوسکتے ہیں۔

۱۔ محرومی یا احساسِ کمتری ۲۔خدا کے فلسفہء آزمائش سے لا علمی ۴۔نفرت و کینہ

۵۔ غرورو تکبر ۶۔ منفی سوچ ۷۔دیگر اسباب

۱۔ حسد کا بنیادی سبب تو یہی ہے کہ حاسد اس نعمت سے محروم ہے جو دوسرے کو مل گئی ہے(لیکن کبھی کبھی نعمت کی موجودگی میں بھی حسد ہوجاتا ہے)۔ مثال کے طور پر جب ایک بس کا مسافر ائیر کنڈیشن کار میں بیٹھے لوگوں کو دیکھتا ہے تو فطری طور پر اسے اپنی محرومی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ اس احساس کا ہونا غیر اختیاری ہے لیکن کا ر والوں کی برائی چاہنا اختیاری اور گناہ کا عمل ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ حتی الامکان ان لوگوں کے بارے میں سوچنے سے گریز کریں جو آپ سے کسی معاملے میں بہتر پوزیشن میں ہیں اور اگر کوئی خیال آجائے تو اپنے سے نیچے کے لوگوں پر تفکر کریں ۔ دوسرا تدارک یہ ہے کہ جب تک پختگی نہ آجائے اس وقت تک زیادہ وقت ان لوگوں میں گذاریں جو آپ جیسے ہیں۔ مزید یہ کہ خدا کی آزمائش کی اسکیم پر غور کریں جسکا بیان آگے آرہا ہے۔

۲۔فلسفہء آزمائش سے لا علمی اور دنیاوی نعمتوں کو دائمی سمجھ لینا بھی حسد کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اللہ نے جو شکل وصورت ،دولت ، گاڑی، مکان ،اولاد اور دیگر سامانِ زندگی عطا کیا ہے یا عطا نہیں کیا ہے اسکی بنیادی وجہ آزمائش ہے۔ وہ کسی کو دے کر آزماتا ہے اور کسی سے لے کر۔ اسکے نزدیک ا س دنیاوی سازو سامان کی حیثیت ایک مردہ بکری کے بچے سے بھی کم ہے۔ ایک حاسد شخص ان نعمتوں کو حقیقی اور مقصود سمجھ کر ان کے حصول کو کامیابی اور ان سے محرومی کو ناکامی گردانتا ہے۔ وہ دنیا کی محبت اور حرص میں پاگل ہو جاتا اور دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر جل اٹھتا ہے ۔اگر غور سے دیکھا جائے تو حسد کرنے والے کا معترض ہونا بالواسطہ طور پر خدا کی تقسیم اور اسکی حکمت پر اعتراض کرنا ہے۔ لیکن یہ شخص حسد کی آگ میں جلتے جلتے خدا کی مخالفت بھی گوارا کرلیتا ہے۔اسکا علاج یہ ہے کہ خدا کی آزمائشی اسکیم کو سمجھا جائے، دنیا کی حرص و محبت کو کم کیا جائے اور خدا کی حکمت اور تقسیم پر ہر حال میں راضی رہا جائے کیونکہ یہاں کا ملنا ملنا نہیں اور یہاں کی محرومی محرومی نہیں۔

۳۔ کسی کے خلاف نفرت بھی آپ کو مجبور کرسکتی ہے کہ آپ اس شخص کے نقصان کے متمنی ہوں۔حسد نفرت کو اور نفرت حسد کو جنم دے سکتی ہے۔چو نکہ اس حسد کی بنیادی وجہ نفرت اور کینہ ہے لہٰذانفرت کے اسباب اور اس کے تدارک کا علاج کیجئے جب نفرت ختم ہو جائے گی تو اسکی بنا پر پیدا ہونے والا حسد خود بخود دور ہو جائے گا۔

۴۔ بعض اوقات غرور اور تکبر بھی حسد کا سبب ہوتا ہے بالخصوص ان لوگوں کے لئے جو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دوسروں کی کامیابیوں سے جلتے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ہر نعمت اور کامیابی پر انکی اجارہ داری اور انکا حق ہے ۔اس سے نمٹنے کے لئے تکبر سے نجات ضروری ہے کہ استکبار صرف اللہ ہی کو زیبا ہے اور انسان کا تکبر اسے جہنم میں لے جاسکتا اور جنت کی ابدی نعمتوں سے محروم کرسکتا ہے۔لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ دنیا وی نعمتوں کی قربانی پر اکتفا کرلیا جائے۔ مزید یہ کہ تمام خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے وہ جس کو چاہے اور جس طرح چاہے نوازے۔ اس پر کسی قسم کا اعتراض براہِ راست خدا کی حکمت پر اعتراض کے مترادف ہے۔

۵۔ کچھ لوگوں کی سوچ منفی خیالات پر ہی مشتمل ہوتی ہے ۔ یہ لوگ ہر مثبت یا نیوٹرل بات میں منفی پہلو نکالنے اور نکتہ چینی کے ماہر ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر یہ کسی کی کامیابی پر ناخوش اور اسکی نعمتوں میں کیڑے نکالتے ہیں۔ اسکا حل یہی ہے کہ زندگی کے بارے میں مثبت رویہ اختیا ر کرکے لوگوں کی کامیابیوں کو سراہا جائے اور انکی خوشیوں میں شریک ہو کر اپنے حسد اور منفی طرزِعمل کی تطہیر کی جائے۔

۶۔ اسکے علاوہ بھی حسد کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں مثلاََ کسی قدرتی آفت سے اپنی نعمتوں کا چھن جانا ، استحقاق کے باوجود مادی کامیابیوں سے محروم رہنا، ہم عصروں کا کامیابی کے جھنڈے گاڑنا، کسی کا طنزیہ گفتگو سے محرومی کا احساس دلانا وغیرہ۔ان تما م اسباب کا تدارک مندرجہ بالا بحث اور مندرجہ ذیل ہدایات میں موجود ہے۔

حسد سے گریز کے لئے عمومی ہدایات

 پہلے مرحلے میں آپ حسد کی نوعیت اور اسکا سبب معلوم کرلیں پھر اس سبب کے مطابق اسکاتجویز کردہ علاج آزمائیں۔اسکے ساتھ ہی ذیل میں دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔

۱۔ جن نعمتوں پر حسد ہے ان پر اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو بھی مل جائیں اگر وہ اسبا ب و علل کے قانون کے تحت ممکن ہیں یعنی ناممکن چیزوں کی خواہش سے ذہن مزید پراگندگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

۲۔وہ مادی چیزیں جو آپ کو حسد پر مجبور کرتی ہیں انہیں عارضی اور کمتر سمجھتے ہوئے جنت کی نعمتوں کو یاد کریں۔

۳۔ نفس کو جبراََ غیر کی نعمتوں کی جانب التفات سے روکیں اور ان وسوسوں پر خاص نظر رکھیں۔

۴۔محسود(جس سے حسد کیا جائے) کے لئے دعا کریں کہ اللہ اس کو ان تما م امور میں مزید کامیابیاں دے جن پر آپ کو حسد ہے۔

۵۔محسود سے محبت کا اظہار کیجئے اور اس سے مل کر دل سے خوشی کا اظہار کریں۔

۶۔ ممکن ہو تو محسود کے لئے کچھ تحفے تحائف کا بندوبست بھی کریں۔

۷۔اگرپھر بھی افاقہ نہ ہو تو ہو تو محسودسے مل کر اپنی کیفیت کا کھل کر اظہار کردیں اور اس سے اپنے حق میں دعا کے لئے کہیں۔لیکن اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کہیں بات بگڑ نہ جائے۔

۸۔ کسی بھی مشکل کی صورت میں مندرجہ ذیل ای میل پر رجوع کریں۔ ishraqdawah@gmail.com

 (پروفیسر محمد عقیل)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

۱۔ کیا آپ کو کبھی کسی سے حسد محسوس ہوا ہے؟ اگر ہاں تو اس کی وجوہات کیاتھیں؟

۲۔  ہم کس طریقے سے حسد پر قابو پا سکتے ہیں؟

۳۔ حسد اور رشک میں کیا فرق ہے؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter