بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

تحقیر آمیز رویہ

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"اے ایمان والو! نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں کیا عجب وہ ان سے بہترنکلیں اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب لگاؤاور نہ(ایک دوسرے کو) برے القاب سے پکارو۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگانا برا ہے۔اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم لوگ ہیں۔" (الحجرات۔۴۹:۱۱)

ذرا سوچیے!

      کیا آپ مذاق اڑانے اور مزاح کرنے کا فرق جانتے ہیں؟

      کیا آپ لوگوں پر طنز کرتے، ان پر پھبتی کستے اور انہیں طعنے دیتے ہیں؟

      کیا آپ دوسروں کو کسی ناپسندیدہ نام یا چڑ سے پکارنے کے عادی ہیں؟

اگر ان میں سے کسی سوال کا جواب ہاں میں ہے تو آپ ایک بڑے گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اس تحقیر آمیز روئیے کو جاننے اور اس سے بچنے کے لئے درج ذیل مضمون کا مطالعہ کریں۔

کیس اسٹڈی

کیس نمبر ۱: سعدیہ کا چھ ماہ کا بیٹا کمرے میں سو رہا تھا، اچانک اسکی بہن رابعہ نے بچے کو دیکھ کر شرارت کا سوچا۔ اور بچے کو دوسرے کمرے میں چھپادیا۔ جب سعدیہ نے بچے کو غائب پایا تو شور مچادیا، سب گھر والے اکھٹے ہوگئے، اور سب نے رابعہ سمیت لاعلمی کا اظہار کیا۔ رابعہ اپنی بہن کی حالت دیکھ کر محظوظ ہوتی رہی۔ پھر جب سعدیہ کی حالت غیر ہوئی تو اس نے سچ اگل دیا۔

کیس نمبر ۲: کریم کی بیو ی (جو ایک غریب گھر انے سے تعلق رکھتی تھی )اپنے بچپن کی باتیں کررہی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ بچپن میں فانٹا کی ٹافی بڑے شوق سے کھاتی تھی جو آٹھ آنے کی آتی تھی۔ کریم نے کہا، "ا وہ، اتنے پیسے تم کتنے دن میں جمع کرتی تھیں۔"

۱۔تمسخر یا مذاق اڑانے کی تعریف: تمسخر ہر وہ قول یا فعل ہے جو کسی فرد یا قوم کی ایسی تحقیر یا تقصیر بیان کرے جس سے اس فرد یا قوم کو تکلیف ہو۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ" فلاں قوم نہایت ہی بزدل ہوتی ہے۔" اس جملے کا مقصد اس قوم کی تحقیر کرنا ہے۔

۲۔ عیب جوئی یا طعنہ زنی: کسی کی تحقیر کرنے کا ایک اور اسلوب یہ ہے کہ اس پر ہمز یعنی اشارے بازی (باڈی لینگویج) سے تضحیک کی جائے جیسے طنزیہ مسکراہٹ، ناک چڑھانا، منہ بنانا وغیرہ ۔ اس کی دوسری صورت لمز یعنی زبان سے عیب لگانے یا طعنہ دینے کی ہے ۔ چنانچہ عیب جوئی یا طعنہ زنی میں ہر وہ قول یا اشارہ شامل ہے جس کا مقصد تحقیریا تضحیک کرنا ہو۔

۳۔ برے القاب سے پکارنے کا مفہوم: کسی فرد یا گروہ کو اس نام سے پکارنا جس سے اسکی تحقیر یا تقصیر ہوتی ہو اوروہ اسے برا محسوس کرے۔ اس میں لوگوں کے ناموں کی چڑ بنا لینا وغیرہ شامل ہیں۔ جیسے کسی کو چھوٹو کہنا وغیرہ۔

* تمسخر کے اطلاق ( کاحکم لگانے) کے لیے مندرجہ ذیل لوازمات کا ہونا ضروری ہے:

۱) کسی فرد ، قوم، برادری، ذات،کنبہ ، خاندان، نسل، قبیلے، گروہ یا طبقے کے بارے میں کوئی مذاق کیا جائے (مذاق قولی یا فعلی دونوں صورتوں کا ہو سکتا ہے) ۔

۲) مذاق کی نوعیت ایسی ہو کہ اگر وہ شخص یا قوم خود سن لے تو اسے برا لگے یا اسے تکلیف ہو۔

۳) اس کا مقصود اس فرد یا گروہ کی تحقیر کرنا یا اسے کمتر ثابت کرنا ہو۔

مزاح کرنے اور مذاق اڑانے میں فرق

مذاق کرنے اور مذاق اڑانے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اول الذکر کا بنیادی مقصد کسی کا دل دکھائے بنا ایک پاکیزہ تفریح فراہم کرنا ہوتا ہے جبکہ مذاق اڑانے میں مقصود کسی کی تحقیر کرنا ہوتا ہے جس کا کا عمومی نتیجہ دل آزاری کی شکل میں نکلتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات ایک مذاق کرنے والے کی نیت کسی کو کمتر ثابت کرنا نہیں ہوتی لیکن پھر بھی سامنے والا برا مان جاتا ہے۔ اس صورت میں اس عمل کو مذاق اڑانا ہی سمجھا جائے گا خواہ اس کا مقصد یہ نہ ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاح

حدیث نمبر ۱: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکبھی سارے دانت کھول کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کا حلق نظر آنے لگے،بلکہ آپ صرف تبسم فرماتے تھے۔(بخاری : حدیث ۱۰۲۵)

حدیث نمبر ۲: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہم سے خوش طبعی کی باتیں کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا(ہاں) میں حق بات ہی کہتا ہوں۔(ترمذی حدیث۲۰۵۶)

حدیث نمبر ۳: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے سواری طلب کی تو آپ نے (مذاق میں) اس سے کہا کہ میں تو تمہیں اونٹ کا بچہ دونگا۔ اس شخص نے کہا کہ میں اونٹ کے بچے کا کیا کرونگا۔ آپ نے فرمایاکہ ہر اونٹ کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے۔(ترمذی حدیث صحیح غریب :۲۰۵۶)

حدیث نمبر ۴: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس کو یا ذوالاذنین کہہ کر پکارا۔ اس کا مطلب ہے اے دو کانوں والے۔(ترمذی حدیث ۲۰۵۷)

حدیث نمبر۵: حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت آپ کے پاس آئی اور جنت میں داخلے کی دعا کی درخواست کی۔آپ نے فرمایا کہ بوڑھی عورت جنت میں داخل نہیں ہوسکتی۔ وہ روتی ہوئی واپس ہونے لگی تو آپ نے کہا کہ اس سے کہہ کہ وہ جنت میں بڑھاپے کی حالت میں داخل نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ سب اہلِ جنت عورتوں کو نوعمر کنواریاں بنا دیں گے اور حق تعالیٰ کی اس آیت میں اس کا بیان ہے جس کا بیان ہے کہ ہم نے ان (جنتی) عورتوں کو خاص طرز پر بنایا ہے کہ وہ کنواری ہیں۔(شمائل ترمذی: حدیث ۲۷۷)

عیب جوئی ،مذاق اڑانے اور برے القاب سے پکارنے کے مختلف طریقے

۱۔قول سے علی اعلان مذاق اڑانا مثلاً لطیفے بیان کرنا یامحفلوں میں کسی متعین شخص کو نشانہ بنا کر اس پر طعنہ زنی اور طنز کرنا (سامنے یا پیٹھ پیچھے)

۲۔ حرکات و سکنات سے کے ذریعے جیسے کسی کی طرف آنکھوں اشارہ کرنا،آنکھ مارنا، نقل اتارنا، معنی خیز مسکراہٹ سے پیغام دینا

۳۔ کسی قوم یا فرد کے خلاف تحقیر آمیز ای میل یاایس ایم ایس بنانا یا فارورڈ کرنا

۴۔ فحش لطیفوں کے ذریعے مذاق اڑانا

تحقیر آمیز رویے میں بیان ہونے والے عمومی امور

۱۔جسمانی ساخت کی تحقیر جیسے کالی رنگت، پست قامتی، بدصورتی، گنج پن، ناک کی ساخت، کوئی جسمانی معذوری۔

۲۔حرکات و سکنات کا مذاق اڑانا مثلاََ چلنے، اٹھنے بیٹھنے یا بولنے کا انداز۔

۳۔ پیشے کا مذاق جیسے کسی کو حقارت سے موچی کا طعنہ دینا۔

۴۔حسب نسب یا ذات پات کا تمسخر کرنا

۵۔لسانی بنیادوں پر مذاق اڑانامثال کے طور پر پشتو بولنے والوں کی تحقیر یا اردو بولنے والوں پر جملے بازی

۶۔مالی تفریق کی بنیاد پر مذاق جیسے غریبوں کی غربت کی تضحیک یا ان سے متعلق چیزوں کی تحقیر

۷۔جنسی تفریق پر مذاق مثال کے طور پر عورتوں کا مرد ذات پر اور مردوں کا عور ت ذات پر ہنسنا

۸۔مذہبی اختلاف پر تمسخر جیسے مسلمانوں کا سکھوں کو بے وقوف قوم کے طور پر بیان کرنا اور سکھوں کا مسلمانوں کا مذاق اڑانا

۹۔مسلکی تفریق پر مذاق جیسے شعیہ، سنی، دیو بندی بریلوی وغیرہ کا ایک دوسرے پر طعن کرنا تاکہ غیر علمی طریقے سے تحقیر کی جاسکے

۱۰۔برے ناموں سے پکارنا جیسے کسی کو تحقیر کی نیت سے چاچا ، کالو، لمبو، موٹے وغیرہ کہنا،

۱۱۔دین کا مذاق اڑانا یا دین پر عمل کرنے والوں کا مذاق اڑانا

۱۲۔اللہ کا یا اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا

۱۳۔ رسولوں کا مذاق اڑانا

تحقیر آمیز رویے کے اسباب و محرکات

۱۔تکبر: تمسخر، عیب جوئی اور برے القاب سے پکارنے کے پیچھے اصل علت استکبار ہے یعنی خود کو برتر اور فریق کو کمتر سمجھنا

۲۔نفرت اور کینہ: کسی کے خلاف کسی بھی وجہ سے کینہ پیدا ہوجائے اور پھر اس کا بدلہ اسے دوسروں کی نظروں میں گراکر لیا جائے

۳۔دوسروں کے متعلق سوچنے کا منفی انداز: مثلاً جس شخص کے بارے میں بھی بات کی جائے ہمیشہ اس کا کوئی نہ کوئی منفی پہلو ہی پیش نظر رکھا جائے

۴۔حسد: مثلاً کسی کے مال و دولت، اولاد یا ترقی سے جل کر اس تحقیر کرنا

۵۔ کثرت کلام یا بنا سوچے سمجھے بولنے کی عادت

۶۔احساسِ کمتری: اس احساس کو مٹانے کے لیے دوسروں کو کمتر ثابت کرنا اور ان کی برائیاں بیان کرنا

۷۔بدگمانی : کہ فلاں شخص میرے خلاف ہے اور پھر اس کی تحقیر

۸۔مخاطب کو خوش کرنا: کسی دوسرے کو خوش کرنے کے لیے کسی کا مذاق اڑانا یا اس میں ساتھ دینا

تحقیر آمیز رویے سے بچاؤ کی تدابیر

۱۔ اگر آپ تکبر کی وجہ سے مذاق اڑاتے ہیں تو یہ جان لیں کہ تکبر حرام ہے اور اونٹ تو شاید سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے لیکن متکبر شخص جنت میں نہیں جائے گا۔

۲۔عام طور پر لوگ کمزوروں کا ہی مذاق اڑاتے ہیں جو غربت، جسمانی کمزروی یا احساس کمتری کی بنا پر کسی فوری رد عمل کا اظہار نہیں کرسکتے۔ اگر آپ بھی ایسا کرتے ہیں تو وہی مذاق کسی صاحب حیثیت شخص کے سامنے کردیں کچھ دنوں میں طبیعت راہ راست پر آجائے گی۔

۲۔بولنے سے پہلے سامنے والے کے جذبات کا خیال کیا جائے ۔ اس کے لئے وہی بات خود پر لاگو کرکے سوچا جائے۔

۳۔دوسروں کے متعلق گفتگو کرنے میں احتیاط برتی جائے اور ان کی پردہ پوشی کی جائے اور لوگوں کے بارے میں اچھا سوچنے کی عادت ڈالی جائے۔

۴۔حسد پر قابو پایا جائے اور محسود (جس سے حسد کیا جائے) کے حق میں دعائے خیر کی عادت ڈالی جائے۔

۵۔نفرت، کینہ، غصہ اور دیگر اخلاقی آفات پر نظر رکھی جائے اور انہیں اپنی شخصیت اور نفسیات کا حصہ بننے سے روکا جائے۔

۶۔غلطی ہوجانے کی صورت میں اس شخص سے معافی مانگی جائے یا اس کے ساتھ خصوصی برتاؤ کیا جائے اور ساتھ ہی اپنے لیے جرمانے کا نظام نافذ کیا جائے مثلاً اس شخص کو تحفہ دینا جس کی برائی سرزد ہوگئی ہو، اس کی دعوت کرنا، اس کے ساتھ کوئی خصوصی برتاؤ کرنا وغیرہ۔

۷۔اگر یہ شک ہو کہ یہ مزاح ہے یا تمسخر تو خاموشی کو جائز مزاح پر ترجیح دیجیے۔

ہوم اسائنمنٹس

اس مشق کو گھر پر ڈائری میں حل کیجیے اور ایک مہینے تک ان ہدایات پر عمل کیجیے۔ ایک مہینے بعد اس مشق کو دوبارہ پر کر کے یہ دیکھیے کہ کیا ترقی یا تنزلی ہوئی۔

۱۔ ان شخصیا ت کے نام لکھئے جن کا آپ بالعموم مذاق اڑاتے، جن کی عیب جوئی کرتے یا جن کو آپ برے القاب سے پکارتے ہیں۔

۲۔ان محفلوں یا لوگوں کی نشاندہی کیجیے جن کے ساتھ رہ کر آپ تحقیر آمیز روئیے کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ جیسے دفتر میں، گھر میں، بیوی کے ساتھ یا دوست کے ساتھ۔

۳۔ان امور کی نشاندہی کیجیے جوتمسخر یا طعنہ زنی میں زیرِبحث آتے ہیں جیسے کسی کی جسمانی برائی، دولت کی برائی وغیرہ۔

۴۔ان اسباب کی نشاندہی کیجیے جن کی بنا پر آپ اس روئیے پر مجبور ہوجاتے ہیں مثلاً زیادہ کینہ، تکبر، بے احتیاط گفتگو وغیرہ۔

۵۔ ان سب باتوں کی نشاندہی کے بعد تحقیر آمیز رویے سے بچاؤ کی ہدایات پر ایک ماہ تک عمل کیجیے اور ایک مہینے کے بعد ان سوالات کا جواب دیجیے ۔

سوال۱: میں تحقیر آمیز روئیے کے اسباب اور نوعیت کو جان چکا ہوں۔

سوال۲: میں گفتگو میں احتیاط کرتا اور لوگوں کا مذاق اڑانے سے گریز کرتا ہوں۔

سوال۳: میں لوگوں کے احساسات کی قدر کرتا اور بولنے سے پہلے سوچتا ہوں۔

سوال۴: میں تکبر نہیں کرتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ صرف اللہ ہی کو زیبا ہے۔

سوال۵: میں اس جگہ سے اٹھ جاتا ہوں جہاں خدا کی آیات کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔

سوال۶: میں نے تحقیر آمیز رویئے پر قابو پالیا ہے اور اب میں دانستہ طور پر یہ عمل کرتا۔

(پروفیسر محمد عقیل)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter