بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

بلا تحقیق

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی اہم خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو، پھر تمہیں اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔(الحجرات ۴۹:۶)

ذرا سوچیے!

۱۔کیا آپ جانتے ہیں کہ دین میں بلا تحقیق بات پھیلانے کا کیا مطلب ہے؟

۲۔ کونسی خبریں ہیں جن کی تحقیق ضروری ہے؟

۳۔بنا سوچے سمجھے خبر پھیلانے کے کیا نقصانات ہیں؟

۴۔ اس عادت سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟

یہ سب جاننے کے لئے درج ذیل مضمون کا مطالعہ کیجیے۔

کیس اسٹڈی

ایک صاحب نے اپنے گھر کا فون نمبر ملایا ، نوکر نے اٹھایا۔

نوکر: " کون ؟"

صاحب: " میں تمہارا صاحب بول رہا ہوں۔"

نوکر: " لیکن میرا صاحب تو اندر بیٹھا ہے۔"

صاحب : لیکن تمہاراصاحب تو میں ہوں۔"

نوکر: " اب میں کیا کروں؟"

صاحب: " لگتا ہے وہ کوئی چور ہے، اسے مار دو۔"

نوکر: " اچھا ساب"

کچھ دیر بعد نوکر واپس آیا اور بولا : " لاش کا کیا کروں۔"

صاحب: " اسے سوئمنگ پول میں پھینک کر بھاگ جاؤ۔"

نوکر: " مگر ہمارے گھر میں تو کوئی سوئمنگ پول نہیں۔"

صاحب کچھ سوچ کر: "اوہ، لگتا ہے یہ میرا گھر نہیں۔ سوری، میں نے رانگ نمبر پر کال کردی۔"

غور فرمائیے!

سوال نمبر ۱: اس کیس میں وہ کونسی خبر یا معلومات تھیں جن کی تحقیق کرنا ضروری تھی۔

سوال نمبر ۲۔ خبر کی تحقیق کی ذمہ داری کس کی تھی؟

خبر بلا تحقیق نشر کرنے کا مفہوم

اس آیت سے مراد یہ ہے اگر خبر کسی معاشرتی ، اخلاقی ، مذہبی یا کسی اور پہلو سے اہمیت کی حامل ہے اور اسکی اشاعت سے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں اور اس خبر کا بتانے والا کوئی شریعت کی حدودو قیود سے لاپرواہ کوئی غیر سنجیدہ شخص ہے تو اس خبر کی اشاعت سے قبل اسکی تحقیق کرلینا ضروری ہے۔

بلا تحقیق بات کو پھیلانے سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان معاشرے کو افواہوں اور انتشار سے بچایا جائے اور باہمی اخوت و یگانگت کو فروغ دیا جائے۔

بلا تحقیق معلومات کو تسلیم کرنے یا پھیلانے کے اسالیب

۱۔ سیاسی گفتگو میں تحقیق کے بغیر بات کہنا جیسے فلاں سیاستدان ایک کرپٹ شخص ہے۔

۲۔مذہبی امور میں نشر کرنا جیسے احادیث یا دینی احکامات کوسند کے بغیر مان لینا یا شخصیات کے بارے میں پروپیگنڈا کرنا کہ فلاں شخص یا گروہ کافر ہے وغیرہ۔

۳۔سماجی معاملات میں خبر نشر کرنا جیسے ساس کی سنی سنائی باتیں شوہر کو بتانا وغیرہ یا کسی قوم کے خلاف پروپیگنڈا کرنا۔

بلا تحقیق معلومات کو تسلیم کرنے یا پھیلانے کی وجوہات اور محرکات

عام طور پر لوگ ان وجوہات کی بنیاد پر بلا تحقیق باتوں کو پھیلا دیتے ہیں۔

۱۔معلومات کاادھوری ہونا: مثال کے طور پر اکرم نے کہا کہ "احمد نے وسیم کو برا بھلا کہا اور بری طرح پیش آیا۔" اس جملے سے بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ احمد ایک بدمزاج انسان ہے۔بات یوں تھی کہ احمد نے وسیم کو نماز نہ پڑھنے پر برا بھلا کہا اور سرزنش کی۔

۲۔ الفاظ میں ہیر پھیر کرنا یا غلط مفہوم اخذ کرنا: جیسے ایک شخص نے توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تو اس کو یہ رنگ دیا گیا کہ اس نے خود توہین رسالت کی ہے۔ پھر یہی بات آگے لوگوں کو منتقل کر دی گئی۔

۳۔ مطلقاً بات کا جھوٹ ہونا: جیسے کسی کے بارے میں پراپیگنڈا کیا گیا کہ وہ بدکار ہے۔

بلا تحقیق معلومات کو تسلیم کرنے یا پھیلانے کے محرکات یہ ہوتے ہیں:

۱۔تفریح کا حصول۔ ۲۔ معاشرے میں انتشار پیدا کرنا ۔ ۳۔بے احتیاطی۔ ۴۔غلط فہمی۔ ۵۔ لوگوں کو متاثر کرنے کا جذبہ

بلا تحقیق معلومات کو تسلیم کرنے کے نقصانات

۱۔سیاسی ابتری ۲۔بداعتمادی کی فضا ۳۔ گروہ بندی ۴۔ مسلکی اختلافات ۵۔بدگمانی ۶۔جنگ و جدل

تحقیق کرنے کے طریقے

کسی معلومات، خبر یا افواہ کی تحقیق ، تصدیق یا تردید کرنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں اور انکا انحصار خبر کی نوعیت اور موقع محل پر ہے۔البتہ کسی بھی اہم بات کی تصدیق یا تردید کے لئے درج ذیل ذرائع استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

۱۔علمی معلومات کی تصدیق کے لئے کتابیں یا انٹرنیٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے مثال کے طور پر کوئی یہ کہے کہ سود حرام ہے تو اس کی تصدیق قرآن کی آیت اور احادیث سے کی جاسکتی ہے۔

۲۔اخبار،ٹی وی یا ریڈیو پر کسی اہم خبر کی تصدیق دیگر ٹی وی چینل اور متعلقہ اداروں سے کی جاسکتی ہے۔

۳۔سماجی غلط فہمیوں کی تحقیق متعلقہ افراد سے پوچھ کر کی جاسکتی ہے۔

بلا تحقیق بات پھیلانے کی عادت کا علاج

۱۔خبر کی نوعیت کو دیکھیں کہ وہ اہم ہے کہ غیر اہم۔ اور کیا اس خبر کی اشاعت سے کوئی فساد پھیلنے کا اندیشہ ہے یا نہیں۔

۲۔ خبر کا حوالہ معلوم کیا جائے جیسے اگر کوئی حدیث بیان کرے تو مکمل حوالہ معلوم کیا جائے۔

۳۔ خبر پہنچانے والے پر نظر رکھی جائے کہ وہ کس کردار یا عادات کا حامل ہے اور اسکا اس خبر سے کیا تعلق ہے۔

۴۔اگر خبر کو آگے بڑھائیں تو اس کو من وعن بیان کریں اور اس کا حوالہ ضرور بیان کریں۔

۵۔ اگر شک ہو کہ خبر یا مخبر میں غلطی ہو سکتی ہے تو خاموشی کئی بلاؤں کو ٹال سکتی ہے۔

غور فرمائیے

۱۔ بھائی مولوی صاحب کہہ رہے تھے کہ پیاز کھانا حرام ہے ۔اکبر نے کہا تم غلط کہہ رہے ہو۔ چلو چل کر پوچھ لیتے ہیں۔ مولوی صاحب سے کہا میاں میں نے کہا تھا کہ بیاج(سود) کھانا حرام ہے۔اس جملے میں خبر غلط کب ہوئی اور اس کی کیا وجہ تھی؟

۲۔ اسلم نے اکبر سے کہا کہ ٹی وی پر بتایا ہے کہ پاکستان چوک پر دھماکہ ہو گیا ہے۔ اکبر نے ٹی وی دیکھے بنا لیاقت کو یہ خبر پہنچادی کیا یہ خبر کو بلاتحقیق آگے بڑھانا ہے؟ وضاحت کریں۔

۳۔ پہلے خبر کی تحقیق ضروری ہے کہ مخبر کی جانچ پڑتال کی جائے کہ وہ کس حد تک قابل اعتماد ہے؟ کیا احادیث کے ضمن میں راویوں اور متن پر ہونے والی جرح کی کیا نوعیت ہوتی ہے؟

۴۔ پورے شہر کی بجلی پچھلے ۴ گھنٹے سے منقطع تھی ، ٹی وی چینل کی نشریات نہ سننے کی بنا پر شہر بھر میں افواہ پھیل گئی کہ ملک پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس افواہ کی تصدیق و تردید کے لئے کون سے ذرائع استعمال کریں گے ؟

۵۔ اکرم نے کسی سے سنا کہ ملک کے صدر کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس نے اپنے دوستوں کو متحیر کرنے کے لئے یہ خبر آگے پھیلا دی۔ لوگ بلا تحقیق بات کیوں آگے بڑھاتے ہیں؟ اسکے اسباب بیان کریں۔

۶۔ کسی نے افوہ اڑادی کہ ایک سیاستدان کو گولی مار دی گئی۔ اس سے شہر میں سراسیمگی پھیل گئی۔ سنی سنائی بات بلاتحقیق آگے بیا ن کردینے کے کیا کیا نقصانات ہیں؟

۷۔ ایک عالم دین نے کسی حدیث سے متعلق اپنی تحقیق بیان کی کہ یہ حدیث مستند نہیں ہے۔ سننے والے نے عالم کے بارے میں یہ رائے پھیلا دی کہ وہ منکر حدیث ہے۔ مذہبی لوگوں میں بلا تحقیق بات آگے پہنچانے کا جذبہ کیوں پایا جاتا ہے؟

(پروفیسر محمد عقیل)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter