بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

دینی درد

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

طلبا کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا جلوس یونیورسٹی سے روانہ ہوا۔ عزم وہمت سے روشن یہ سب چہرے وطن عزیز میں اسلامی انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے۔ نعرے لگانے کے عمل میں ہر نوجوان دوسرے سے آگے بڑھنا چاہ رہا تھا۔اس اثنا میں ایک طالب علم کو پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی، اس نے رینگتی ہوئی بس کی چھت سے چھلانگ لگائی اور سڑک کنارے درخت کی اوٹ میں کھڑے کھڑے پیشاب کیا اور پیشاب کے پس ماندہ قطروں کو اپنے ہی لباس میں سمیٹتا ہوا واپس بس کی طرف بھاگا اور دوسرے سے مائیک چھین کر پرزور نعرہ لگایا:'' غلام ہیں غلام ہیں، نبی کے غلا م ہیں۔۔۔۔ اسلامی انقلاب ۔۔ زندہ باد۔''

اسلام کے لیے مرنے والوں کایہ جلوس ،جنہیں اسلام کے لیے جینا مشکل لگتا تھا،جب بدقت اسمبلی ہال پہنچا تو ان کا جذبہ جہاد عروج پر پہنچ چکا تھا۔ اس کے اظہار کے لیے انہوں نے وہاں موجود اُن چند کاروں کو نذر آتش کر دیاجنہیں ان کے مالکوں نے قرض لے کر خریدا تھااور جب اسی جذبے میں ایک بلڈنگ بھی آگ کے حوالے ہوئی تو ہر طرف سرخ روشنی پھیل گئی اورنوجوانوں کا مقصد روشنی پھیلانا ہی تو تھا۔اس جلوس کے چشم دید گواہ کہتے ہیں کہ یہ نوجوان اپنی دھن کے بہت پکے تھے ۔وہ پولیس کے آگے بھاگتے ہوئے بھی مسلسل یہ کہتے جا رہے تھے کہ'' غلام ہیں غلام ہیں، نبی کے غلا م ہیں۔۔۔۔ اسلامی انقلاب، زندہ باد۔''

جلوس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا ۔ لوگ جہاد کا ثواب سمیٹتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو سدھارے ۔ اگلے روز اخبارات میں بڑی بڑی خبریں شائع ہوئیں۔سب نے بہت دلچسپی سے جلوس کی روداد پڑھی۔ مگر اکثر لوگوں کی نگاہوں سے یہ خبر اوجھل رہ گئی اور ویسے بھی یہ خبر ایک کالم میں بہت باریک سی چھپی تھی کہ جلتی ہوئی بلڈنگ سے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کرنے والا ایک ملازم سیڑھیوں سے گر کر جان بحق۔یہ ملازم آٹھ بچوں کا واحد کفیل تھا۔

٭٭٭

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانوں اور پروانوں کا قافلہ ایک مذہبی جلوس میں شرکت کے لیے سیکڑوں ٹرکوں ،ٹرالیوں، کاروں ، بسوں ،اور پےدل جوانوں اور بچوں کی صورت میں لاہور کے صد ر بازار کی جانب رواں دواں تھا ۔ہر چہر ہ روشن اور خوش تھا۔ آخر خوش کیوں نہ ہوتا نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت کا ثبوت فراہم کرنے کاموقع آن پہنچا تھا اور یہ موقع کوئی روز روز ملتاہے ۔ سال بھر میں یہ ایک ہی تو دن ہوتا ہے ۔ آخر یہ بھی کیا مسلمانی ہوئی کہ ایک دن بھی مسلمان گھر سے نکل کرکاروان عشق میں شامل نہ ہوں؟ ہر موٹر اور ہر گاڑی پر نعت خوانی جاری تھی۔ اگرچہ بعض نعتیں سن کر بعض لوگوں کی زبان پر فلمی گانوں کے بول بھی آجاتے تھے مگر دیکھنے والے کہتے ہیں کہ ان کا ایمان بہت قوی تھا، وہ فوراً شیطان پر لعنت بھیج کر نعتیں پڑھنے لگتے تھے۔

سب لوگوں کا نبی علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت کاجذبہ دیدنی تھا۔ان کے عزم سے لگتا تھا کہ آج وہ یہ فیصلہ کرکے آئے ہیں کہ اب زندگانی کا کوئی ایک لمحہ بھی نبی علیہ الصلوۃ والسلام (فداہ ابی و امی) کی اطاعت سے باہر نہ گزرے گا۔ جلوس صد ر کے گول چوک میں پہنچا تو ظہر کی اذان ہورہی تھی۔کچھ لوگوں نے جلوس روک کر نماز پڑھنا چاہی تو جلوس کے لیڈر نے عشق و محبت میں ڈوبی آواز میں کہا: سجنو، سال بعد ایک ہی تو دن آتا ہے ،نعتیں پڑھتے چلو اورعشق رسول میں آگے بڑھتے چلو۔

اسی اثنا میں دو سمتوں سے دو ایمبولینسیں آن رکیں۔ ایک میں ہارٹ اٹیک کا مریض جاں بلب تھا اور دوسری میں درد زہ میں مبتلا ایک خاتون۔ دونوں سی ایم ایچ جانا چاہتے تھے لیکن راستہ ندارد ۔ ڈرائیور سائرن پر سائرن بجا رہے تھے مگر شور میں کو ن سنتا ۔ بالآخر آد ھ گھنٹے کی جدوجہد کے بعد ڈرائیور بیچارے بمشکل اور بہ منت تمام راستہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن جب ہسپتال پہنچے تو ہارٹ اٹیک کا مریض تو بالکل ہی جا ن ہار چکا تھا البتہ زچہ کے سانس ابھی باقی تھے ۔ اسے بچا لیا گیا جب کہ اس کے پیٹ سے چار بہنوں کے بعد پیدا  ہونے والا اکلوتا بیٹا رخصت ہو گیا۔لوگ کہتے ہیں کہ ہسپتال کے اندر ڈاکٹر لواحقین سے یہ کہہ رہے تھے کہ اگر آدھ گھنٹا قبل یہ مریضہ پہنچ جاتی تو شاید ہم بچے کو بھی بچانے میں کامیاب ہو جاتے اور ہسپتال سے باہر محبت رسول میں غرقاب یہ صدائیں مسلسل آرہی تھیں: نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت ۔۔۔۔

اسی شام جب مردہ بچے کاباپ اسے ہاتھوں پہ لیے قبرستان جا رہا تھا تو اسے بہت قلق ہو رہا تھا کہ اس برس وہ جلوس میں شمولیت کے ثواب سے محرو م رہ گیا ۔ اسے یاد آیا کہ پچھلے برس وہ کتنی عقیدت اور ذوق و شوق سے جلوس میں شامل ہوا تھا۔ اس نے نہ صرف تین ٹرالیاں فراہم کی تھیں بلکہ جلوس میں راستہ تلاش کرتی ہوئی ایک ایمبولینس کی چھت پر چڑھ کر پوری طاقت سے یہ نعر ہ بھی لگایا تھا: "نعرہ  تکبیر، نعرہ رسالت ۔۔۔۔"

٭٭٭

مولوی صاحب کی دکان پر دودھ خریدنے والوں کا بہت ہجوم تھا۔ ان کے میٹھے بول اور اخلاق سے سبھی بہت متاثر تھے، اسی لیے تووہ دور دور سے دودھ لینے یہیں آتے ۔ سب کو اعتماد تھا کہ یہاں دودھ بہت خالص ملتا ہے اور ویسے بھی مشہور تھا کہ ان کی دکان کا ددوھ بہت گاڑھا ہوتا ہے اور اس پر ملائی بھی خوب آتی ہے ،اور یہ بات ہے تھی بھی ٹھیک۔یہ بات ٹھیک کیوں نہ ہوتی آخر مولوی صاحب کا حاجی صاحب سے خاص تعلق تھا اور وہ ہمیشہ انہی کی فیکٹری سے مال منگواتے تھے۔حاجی صاحب کی بندروڈ پر ہڈیاں کرش کرنے کی بڑی فیکٹری تھی اور ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ہڈیوں سے جیلی ، جیلٹن اور سفوف وغیرہ بناتے ہوئے یہ خاص احتیاط کرتے ہیں کہ ان میں مردار جانوروں، گدھوں اور کتوں کی ہڈیاں شامل نہ ہوں اگرچہ کرش کرنے والے پلانٹ کے سپر وائزر نے مولوی صاحب کو بتا یا تھا کہ عملاً یہ ہوتا نہیں لیکن مولوی صاحب کہتے تھے کہ ہمیں حاجی صاحب کی بات پر یقین کرنا چاہیے۔

مولوی صاحب کی دکان پر گاہکوں کا رش بڑھتا جا رہاتھا اور ادھر مغرب کی اذان شروع ہو چکی تھی۔ مولوی صاحب نے' 'چھوٹے ''کو آواز دی اور اسے ایک ڈول میں ہڈیوں کا سفوف خاص اورچند دوسری پڑیاں دیتے ہوئے کہا: جلدی دودھ تیار کرو، میں اتنی دیر میں نماز پڑھ کر آتاہوں۔

٭٭٭

شیخ صاحب کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا ۔ ماشاء اللہ پہلے گھی کی ایک مل تھی اب دو ہو چکی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دین کی خدمت میں بھی بہت سر گرم عمل رہتے تھے ۔ پہلے ہر سال بڑی دھوم دھا م سے محفل نعت کرواتے تھے اور اس میں عمرے کے تین ٹکٹ خا ص اپنی گرہ سے دیتے تھے لیکن جب سے ایک دینی جماعت کے ساتھ ان کا تعارف ہوا تھا، ان کی تو گویا دنیا ہی بدل گئی تھی۔اب ان کی زبان پر ہر وقت ماشا ء اللہ ، سبحان اللہ اور اللہ اکبر کا ورد رہتا۔ چلہ لگانے کے بعد تو ان کی زبان کی مٹھاس اور بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ لوگوں سے بھی بہت اخلاق سے پیش آتے اور ہر وقت ہر ایک کو راہ خدا میں وقت دینے کی دعوت دیتے رہتے ۔ وہ جان چکے تھے کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد دین کی دعوت ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ملازموں کی تنخواہوں میں بھی ایک فیصد اضافہ کر دیا تھا کیونکہ ان کا منافع سو فیصد بڑھ چکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پچھلے برس انہوں نے کیمسٹری کے جو دو ماہر بھرتی کیے تھے انہوں نے شیخ صاحب سے بہت تعاون کیا تھا۔ ان ماہرین نے اگرچہ شیخ صاحب کو یہ بتایا تھا کہ اگر گھی سے 'نکل' اور دوسرے کیمیکل صاف نہ کیے جائیں تو کینسر کا خطرہ ہوتا ہے مگر شیخ صاحب نے فرمایاتھا کہ نکل اور کیمیکلز میں کیا طاقت ہے کہ وہ کینسر پیداکریں، کینسر تو اللہ کے حکم ہی سے ہو گا۔ انہوں نے اپنے ملازمین کو بتایا تھا کہ اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین اورمخلوق سے کچھ نہ ہونے کا یقین ہمارے دلوں میں آجانا چاہیے اور ان ماہرین نے بھی اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ نکل، کیمیکلز سب مخلوق ہی تو ہیں۔

واقف حال کہتے ہیں کہ اپنے گھر میں شیخ صاحب صرف وہ گھی استعمال کرتے تھے جو اس دوران میں بنتا تھا جب وہ اللہ کی راہ میں دعوت و تبلیغ کے لیے گئے ہوتے تھے۔آخر وہ ماہرین بھی مسلمان تھے اور ویسے بھی انہیں معلوم تھا کہ شیخ صاحب یہ پسند نہیں کرتے کہ جب وہ اللہ کی راہ میں ہوں تو کوئی سپیشل کام کیا جائے۔ (محمد صدیق بخاری)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

۱۔ ان واقعات میں جو  رویے بیان ہوئے ہیں، ان کے مثبت اور منفی پہلو کیا ہیں؟

۲۔ انجیل متی میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک وعظ نقل ہوا ہے ۔ اسے پڑھ کر بتائیے کہ اس تحریر میں بیان کردہ   واقعات کی اس وعظ سے کیا مناسبت ہے؟  یہ یہاں دستیاب ہے: http://mubashirnazir.org/PD/Urdu/PU02-0014-Jerusalem.htm

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter