بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

نیم ملا خطرہ ایمان

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

فیصل آباد شہر کی اس مسجد میں دس لوگ معتکف تھے ۔ معمول یہ تھا کہ عشا کے بعد مسجد کے مولوی صاحب ان لوگوں کواپنے فیض سے مالا مال فرماتے یعنی ذکر کرواتے اور مختلف دینی مسائل واضح فرماتے۔ چنانچہ ایک رات ، ایسی ہی ایک محفل استفادہ میں انہوں نے ایک حدیث کا غلط ترجمہ کیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ایک شدید نوعیت کی تہمت وارد ہوتی تھی۔ راقم الحروف نے ان کی توجہ دلائی کہ حدیث کا ترجمہ درست نہیں ہوا۔ موصوف اس پر شدید ناراض ہوئے اور غیظ و غضب سے بولے: تم کالجوں سکولوں میں پڑھنے والے ، تمہیں عربی زبان کا کیا پتا۔ بس بس چپ کرو، تم ایک عالم کو چیلنج کر رہے ہو، اپنے ایمان کی خبر لو۔

راقم چپ ہو رہا اورباقی لوگ بھی حیرت سے منہ تکتے رہ گئے اور مولوی صاحب یہ کہتے ہوئے اٹھ گئے کہ تمہیں کیا معلوم نبی کا مقام، بعض حکم نبی کے لیے خاص ہوتے ہیں۔راقم نے رمضان کے بعد تنہائی میں انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتہام ہے آپ کوتوبہ کرنی چاہیے مگر ان کا اصرا ر تھا کہ تم عالم ہو کہ میں ہوں اور میرا اصرار یہ تھا کہ واقعی میں عالم نہیں ہوں لیکن پھر بھی آپ میری بات پر غور کریں یا کسی مستند عالم دین سے پوچھ لیں۔ اس 'مستند عالم دین' کے لفظ سے موصوف اور زیادہ جز بز ہوتے تھے کیونکہ موصوف پہلے رکشا ڈرائیور تھے۔ اس کے علاوہ فلموں میں ایکسٹرا کے طور بھی کام کر چکے تھے لیکن چونکہ کسی زمانے میں کسی مدرسے میں ایک دوسال پڑھا تھا لہذا اس کے بل بوتے پر امام بن بیٹھے اورلوگوں کو بھی اس لیے اعتراض نہ ہوا کہ بظاہر ساری شرطیں پوری تھیں کہ عمامہ بھی باندھتے تھے، داڑھی بھی لمبی تھی اور شلوار بھی ٹخنوں سے اوپر، اور ہمارے معاشرے میں کسی کے مولوی ہونے کے لیے یہ کوالی فیکیشن کافی ہے۔دو چار سال بعد یہ حضرت اسی مسجد سے رسوا ہو کر نکالے گئے اگرچہ بظاہروجوہات اور تھیں لیکن راقم کو آج بیس برس بعد بھی یقین ہے کہ یہ اصل میں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات اقدس پر اسی اتہام کا نتیجہ تھا۔

شہر لاہور کی ایک بڑی مسجد میں راقم جمعہ کی نماز کے لیے داخل ہوا تو ایک طلیق اللسان یا چرب زبان مولوی صاحب پورے خشوع و خضوع سے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وعظ فرما رہے تھے اور لوگ بھی وقفے وقفے سے سجان اللہ ، ماشا ء اللہ کہہ کر ان کا ساتھ دے رہے تھے ۔زیر تقریر مسئلہ یہ تھا کہ محبت رسول کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگایا جائے ۔حضرت فرما رہے تھے : لوگ مجھ سے اس کا حوالہ پوچھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا صحابہ بھی یہ عمل کیا کرتے تھے ۔ فرمایا : لوگو! تم عام صحابہ کا کہتے ہو، ارے یہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کا عمل ہے، ابو بکر رضی اللہ عنہ کا، جو تمام صحابہ میں افضل ہیں۔ اور حوالہ دیکھنا ہوتو حدیث کی مستند کتاب موضوعات کبیر شریف میں دیکھو۔ اس میں لکھا ہے کہ ابوبکر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگاتے تھے ۔

راقم کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ موضوعات بھی نہیں بلکہ موضوعات کبیر، اور اسے یہ حضرت شریف بھی بنا رہے ہیں اور حدیث بھی قرار دے رہے ہیں اور وہ بھی مستند، حالانکہ موضوع یا موضوعات کے معنی ہیں ''گھڑی ہوئی۔'' اب سے چار سو برس پہلے کے مشہور عالم دین ملا علی قاری نے یہ کتاب اس لیے تصنیف کی تھی کہ عوام میں مشہور تمام گھڑی ہوئی جعلی احادیث کو اکٹھا کر دیا جائے تاکہ لوگ ان سے خبردار ہو سکیں۔ اگر ملا علی قاری کو یہ معلوم ہو جاتا کہ میری کتاب کا یہ حشر ہو گا تو شاید وہ کتاب لکھنے کا اراد ہ ہی ترک کر دیتے ۔اللہ معاف فرمائے راقم نماز میں بھی یہ سوچتا رہا کہ جس مولوی کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ لفظ موضوع یا موضوعات کا مطلب کیا ہے،تو اسے پھر بھی منبر رسول پر بیٹھنے کا حق حاصل ہے؟

قارئین محترم !یہ دو واقعات مشتے نمونہ از خروارے تھے ورنہ تو اتنے واقعات موجود ہیں کہ پوری ایک کتاب ترتیب دی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں تقریباً نوے فیصد مساجد ایسے ہی مولویوں کے سپرد ہیں اور عوام اسی کو دین سمجھتے ، جانتے اور مانتے ہیں کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں۔ یہ نیم ملا عا م طور پر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے کسی مدرسے میں ایک یا دو سال لگائے ہوتے ہیں ۔کسی نے چند سورتیں یاد کی ہوتی ہیں توکسی نے چند پارے ، کسی نے عربی کی چند گردانیں رٹی ہوتی ہیں تو کسی نے فارسی کا قاعدہ، کسی کے پاس مولوی مشتاق احمد چرتھالوی کی کتابیں ہوتی ہیں تو کسی کے پاس مولوی عبدالستار کی ، کسی کے دین کا ماخذ چند پمفلٹ ہوتے ہیں توکسی کی فصیح اللسانی کا منبع بارہ تقریروں کی کتاب ،کسی کے علم کا مرکز قصہ گو واعظ ہوتے ہیں تو کسی کی معلومات کامبدا فرقہ پرست مناظر لیکن اس کے باوجودیہ سب خود کو مولوی ، حضرت ،عالم، علامہ ، مولانا ، الحافظ ، القاری ، خطیب اعظم اور پیر طریقت و رہبر شریعت وغیر ہ کہلاتے بھی ہیں اوراہتمام سے لوگوں سے لکھواتے بھی ہیں، البتہ خود اپنے نام کے ساتھ فقیر ، حقیر ، عاجز ، بند ہ عاصی ، خاکسار وغیر ہ لکھتے ہیں لیکن اگر کوئی انہیں عاجز صاحب ، یا فقیر صاحب کہہ کر پکارے تو ناراض ہوجاتے ہیں۔

مرحوم ضیا ء الحق نے ایک بار اپنی تقریر میں بڑے تاسف سے کہا تھا کہ ہم نے کچھ مولوی بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا جنہیں کہ برطانیہ بھیجنا مقصود تھا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرویو کے لیے آنے والوں کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جو تیسویں پارے کی آخری دس سورتیں بھی صحیح طرح پڑھنے کی اہلیت نہ رکھتے تھے اور ان سب لوگوں کے پاس کسی نہ کسی دارالعلوم یا جامعہ کی سند موجود تھی گویا یہ سب سند یافتہ مولوی تھے ۔

ایسے ہی سند یافتہ مولوی جب مساجد میں جاتے ہیں تو پھر یقینا خطرہ ایمان ثابت ہوتے ہیں۔ان کے پاس بیچنے کے لیے ایک ہی چیز ہوتی ہے یعنی دین ۔ وہ بھی اصل دین ہوتا تو غنیمت تھا لیکن یہاں وہ بھی دو نمبر ہوتا ہے ۔ قدرتی بات ہے کہ انسان اسی جنس میں ملاوٹ کرے گا جو جنس اس کے پاس موجود ہو گی اور نیم ملا کی جنس دو نمبر دین ہی ہوتا ہے چنانچہ اسی میں وہ ملاوٹ کر کے اس کا حجم بڑھا لیتا ہے تاکہ منافع زیادہ سے زیادہ ہو۔ ڈاکٹر دواؤں میں ملاوٹ کرتے ہیں، دکاندار اجناس میں کرتے ہیں، وکیل قانون میں کرتے ہیں ،تاجر تجارت میں کرتے ہیں، استاد ٹیوشن سے کرتے ہیں، اور نیم ملا بیچارا کس میں کرے ؟آخر ملاوٹ زدہ معاشر ے میں اس کا دل بھی کرتا ہے کہ ملاوٹ کرے ! ظاہر ہے کہ وہ ملاوٹ دین ہی میں کرے گا۔اور اس کا روزگار اصل میں چلتا بھی اسی ملاوٹ سے ہے ۔کیونکہ نیم ملاؤں نے دین کوتھوڑا بہت پڑھا بھی اسی روزگار کے لیے ہوتاہے ۔

یہ لوگ جب مساجد میں آتے ہیں تو ان کا حقیقی دنیا سے واسطہ پڑتا ہے ۔ لوگوں کے حقیقی مسائل ہوتے ہیں ، لوگ ان سے دریافت کرتے ہیں ۔ کوئی پوچھتا ہے کہ مولوی صاحب اسٹاک ایکس چینج میں انویسٹ منٹ جائز ہے کہ نہیں ، کوئی کہا ہے کہ انسٹال منٹ پر چیزیں لینا جائز ہے کہ نہیں ، کوئی کہتا ہے کہ بنکوں کی کار سکیم یاہاؤس بلڈنگ سکیم جائز ہے کہ نہیں ۔اس طرح کے عملی مسائل کاایک ڈھیر ہوتا ہے۔ کوئی میڈیا کے بارے میں پوچھتا ہے تو کوئی سائنس کے بارے میں ، کوئی نیٹ کے بارے میں پوچھتا ہے توکوئی جدید فیملی مسائل کے بارے میں ۔ لیکن مولوی صاحب کے علم کی رسائی تو نکاح و موت کی چند رسومات تک ہوتی ہے ،وہ بھی سیلف میڈ، یا پھر چند اختلافی فقہی مسائل تک محدود، چنانچہ شعوری یا لاشعوری طور پر یہ نیم ملا کوشش کر تے ہیں کہ جو علم یعنی معلومات ان کے پاس ہیں ان میں لوگوں کو الجھا دیا جائے تا کہ لوگ بھی صرف ایسی ہی باتیں پوچھیں اور باقی مسائل سے ان کی جان چھوٹے ۔ اس طرح مساجد میں وہ نہ صرف اپنا ہم نوا ایک گروپ تیارکرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بلکہ اس گروپ کی وجہ سے ان کی روٹی کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد ان ملاؤں کی کوشش ہو تی ہے کہ اپنی اپنی 'بھیڑوں ' کو رنگ لگا کر رکھیں تا کہ یہ کسی اور کے 'باڑے' میں نہ جانے پائیں کیونکہ اگر ایک بھیڑ بھی کم ہو گئی تو 'دودھ'بھی کم ہوجائے گا۔

یہ لوگ عوام کے ایمان سے کھیلتے ہیں لیکن عوام کو اس کی خبر ہی نہیں ہوتی۔عوام کو خبر کیوں نہیں ہوتی اس لیے کہ عوام خودبھی دین کے بارے میں حساس نہیں اور حساس کیوں نہیں ، اس لیے کہ دین ان کا مسئلہ ہی نہیں ۔نیم حکیم ان کی صحت سے کھیلے تو وہ فوراً اس کی خبر لیتے ہیں کیونکہ صحت اورجان ان کا مسئلہ ہے لیکن نیم ملا ان کے ایمان سے کھیلے تو بھلے کھیلے ،انہیں چنداں تردد نہیں ہوتا کیونکہ ایمان اور آخرت ان کا مسئلہ ہی نہیں ۔جب کوئی چیز کسی کا مسئلہ بن جاتی ہے تو پھر وہ اس کے لیے ہر تگ و دو کرتا اور ہر مشقت برد اشت کرتا ہے ۔انبیا اور رسل کا بہت بڑا احسان یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کا مسئلہ تبدیل کر دیتے ہیں یعنی انسانوں کا مسئلہ مال نہیں اعمال بن جاتے ہیں ، مخلوق نہیں خالق بن جاتا ہے اور دنیا نہیں آخرت بن جاتی ہے ۔بچے کو دنیاوی علوم پڑھانے کے لیے لوگ لاکھوں خرچ کرتے ہیں لیکن قرآن پڑھانے کے لیے دوچار سو خرچ کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے ۔بلکہ بعض تو مفت پڑھانے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اس لیے کہ قرآن ان کامسئلہ ہی نہیں ۔ ایک صاحب کسی کے بچے کو قرآن پڑھانے گئے تو انہوں نے پوچھا کہ مولوی صاحب کیا لیں گے۔ انہوں نے کہا: پانچ سو روپے۔کہا: مولوی صاحب یہ تو بہت ہیں ۔ ہم تو بس ایک سو دے سکتے ہیں ۔پوچھا کہ بیٹا کس سکول میں پڑھتا ہے فرمایا کہ شویفات میں ۔ مولوی صاحب اللہ اکبر کہہ کر اٹھ آئے کہ جو شخص دنیا کے لیے شویفات میں لاکھوں فیس دینے کو تیا رہے۔ وہ قرآن کے لیے پانچ سو دینے کو تیار نہیں ایسے میں اس کابچہ کبھی قرآن نہیں پڑھ سکتا۔

نیم ملاؤں کی دکانداری اس لیے چلتی ہے کہ ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔ آنکھیں تو انسان اس چیز کے لیے کھلی رکھتاہے جو قیمتی ہو۔ دین کی ہمارے ہاں قیمت ہی کیا ہے ؟ شاید کچھ بھی نہیں ۔ یہی تووجہ ہے دین کے نام پرجو بھی کچھ کہہ دے ہم اسے قبول کرلیتے ہیں اور اس کی تحقیق کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے ۔انسان کے ہاں وہی چیز قیمتی بنتی ہے جس پر اس کی جان ، مال یا وقت خرچ ہوتا ہے ۔دین پر ہمارا کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا اس لیے دلوں میں اس کی کوئی قیمت اور اہمیت نہیں بنتی۔ اولاد پہ ، مکان بنانے پہ، جان بھی صرف ہوتی ہے مال بھی خرچ ہوتاہے اور وقت بھی، یہ چیزیں ہرانسان کے ہاں کتنی قیمتی ہوتی ہیں ، ہر شخص کو معلو م ہے ۔ان پڑھ سے ان پڑ ھ کا بچہ بھی اگر بیما ر پڑ جائے تو وہ اس کی دوا کے بارے میں دس لوگوں سے پوچھتا ہے اور دس ڈاکٹروں اور حکیموں کا حال معلوم کرتا ہے لیکن دین کے بارے میں اسے جو بھی بتا دیا جائے وہ اسی پر قانع ہوجاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ اس میں بھی اسی طرح تحقیق کی ضرورت ہے جس طرح بچے کی دوا کے بارے میں تحقیق کی ضرورت تھی۔ جس طرح دس ڈاکٹروں کے بارے میں جان کر اور مختلف آرا کی روشنی میں فیصلہ بہر حال اس کی عقل نے کیا تھا کہ فلاں ڈاکٹر بہتر معلوم ہوتا ہے، اس طرح کسی بھی دینی بات یا رائے کے بارے میں دس نہیں تو کم از کم دو چار لوگوں سے تو تحقیق کی جاتی اور پھر اپنی عقل استعمال کی جاتی کہ یہ بات زیادہ قرین قیاس یا دین کے ماخذ قرآن وسنت کے زیادہ نزدیک معلوم ہوتی ہے لیکن ان پڑھ تو کیا پڑھے لکھے بھی ایسا نہیں کرتے ۔

نقلی مال وہیں بکتا ہے ، جہاں اصل موجود نہ ہو یا لوگوں کو اصل کا علم نہ ہو۔ہمارے ہاں اصل دین بحمداللہ قرآن و سنت کی شکل میں موجود تو ہے لیکن لوگوں کو اس کا علم نہیں ۔ نیم ملانے دین کاماخذ بزرگ لوگوں کو بنا رکھا ہے کیونکہ اصل ماخذ یعنی قرآن وسنت تک اس کی رسائی ہی نہیں ۔ہر بات کا ماخذ کوئی نہ کوئی بزرگ ، ہر مسئلے کاحل کوئی نہ کوئی کرامت اور ہر عقید ے کا منبع کوئی نہ کوئی قصہ یا کہانی ہوتی ہے۔ہمیں بھی ماخذ سے کوئی غرض نہیں ہوتی اس لیے کہ اس طرح معاملہ ہمارے لیے بھی آسان رہتا ہے ۔ مسلمان ہونا تو شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ اگر جنت کی ضمانت ایک دیگ ، ایک محفل ، ایک زیارت، ایک عمرے اور چندرسومات سے مل جائے تو پھر محنت کی کیا ضرورت؟ کون شہادت گہ الفت میں قدم رکھے؟

نیم ملا کا کاروبار ہم سے چلتا ہے اور ہمارا ، اس سے ۔ہم سب ہی شریک جرم ہیں ۔شریک جرم نہ ہوتے ،تو یقینا مخبری کرتے۔ اس زوال کا ذمہ دار کون ہے ، کون مجرم ہے اور کون معصوم ، مجھے تو پیارے قارئین ،کچھ پتا نہیں چلتا۔آپ ہی کچھ مدد کریں کہ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ؟

(محمد صدیق بخاری)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

۱۔ ہمارے معاشرے میں نیم حکیم، نیم ڈاکٹر اور نیم ملا موجود ہیں اور ان کے کاروبار چل رہے ہیں، اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

۲۔ ہم کس طریقے سے اپنے ایمان کو ان لوگوں سے بچا سکتے ہیں جو اس سے اپنے مفاد کے لیے کھیلتے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter