بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

جمود

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

پہلا منظر

دس بارہ برس پہلے کی بات ہے کہ سرد دسمبر کی ایک شب تھی اور ملک کی ایک اہم دینی جماعت کے مرکز کے ایک کمرے میں چار افراد محو گفتگو تھے جن میں سے ایک اس جماعت کے اہم رہنما اور باقی تین ان کے چاہنے والے تھے۔ مذکورہ رہنما اپنی زمانہ طالب علمی کی یادوں کے دریچے وا کر رہے تھے ۔ انہوں نے فرمایا کہ ' ہمارے سالانہ امتحان تھے ۔ مہتمم صاحب نے نتیجے کا اعلان فرمایا اور یہ کہتے ہوئے رو پڑے کہ فلا ں طالب علم میرا انتہائی عزیز شاگر د ہے ، ذہین بھی ہے اور با صلاحیت بھی لیکن میں اسے جان بوجھ کرفیل کر رہا ہوں کیونکہ اس نے فقہ کے پرچے میں لکھا ہے کہ'' امام شافعیؒ کی رائے یہ ہے'' جب کہ میرے خیا ل میں یہ مسئلہ اس طرح ہونا چاہیے تھا۔ مہتمم صاحب نے فرمایا کہ اس کی اتنی جسارت کہ یہ امام شافعیؒ کے مقابلے میں اپنی رائے ظاہر کر رہا ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کل کلا ں کو فتنہ بن جائے گا، اس لیے میں اسے سند جاری نہیں کروں گا۔

دوسرا منظر

ملک کی ایک دوسر ی ،اہم دینی جماعت کے مرکز میں بعض مرکزی رہنما محو گفتگو تھے ۔ ان میں سے سب سے بزرگ رہنما نے فرمایا کہ فلاں نام کی جو جماعت ہے اس کا تو نام ہی مناسب نہیں۔ دوسرے بزرگ نے فرمایا کہ حضرت یہ نام تو آپ کے استاد صاحب نے تجویز کیا تھا۔ اس پر پہلے بزرگ فرمانے لگے کہ تب میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔ استاد کے تجویز کرد ہ نام کے بارے میں یہ خیال کرنا بے ادبی ہے۔

تیسرا منظر

کالج کے ایک طالب علم کو دین پڑھنے کا شوق ہوا ۔ وہ اس تلا ش میں لاہو ر کے ایک بڑ ے مدرسے میں جا پہنچا ۔ مہتمم صاحب نے اس کو اپنے ایک عزیز استاد کے حوالے کیا ۔ استاد نے تعلیم کا آغاز فارسی زبان سے کیا ۔ ایک دن طالب علم کی سمجھ میں ایک گردان نہ آئی ۔ اس نے سوال کیا ۔ استاد نے کوئی جواب نہ دیا ، دوسرے اور تیسرے دن شاگرد نے پھر وہی سوال دہرایا۔ استاد نے تیز نظر وں سے شاگرد کی طرف دیکھا اور فرمایا: میرے استاد نے مجھے اسی طرح پڑھایا تھا اور مجھے اسی طرح آگے پڑھانا ہے ۔ اسی طرح پڑھنا ہے تو پڑھو ورنہ جاؤ۔ سوال وغیر ہ مت کر و۔ وہ طالب علم دوبارہ اس مدرسے میں نظر نہ آیا۔

چوتھا منظر

استاد صاحب غسل فرما رہے ہیں اور ایک ننھا شاگرد ان کے کپڑے تھامے غسل خانے کے باہرمؤدب کھڑا ہے ۔ اسی طرح دوسرے استاد صاحب وضو فرمار ہے ہیں اور ان کا شاگرد ان کی ٹوپی اور رومال تھامے ان کے پیچھے مؤدب کھڑا ہے ۔ ایک نمازی نے پوچھا کہ بھئی بچو تم کیوں اس طرح کھڑ ے ہو ۔ انہوں نے کہا کہ جی استاد صاحب کا حکم ہے ۔ نمازی نے اساتذہ سے پوچھا کہ ان معصوم بچوں کا کیا قصور ؟ انہوں نے فرمایا کہ جنا ب، ان کو ادب بھی تو سکھانا ہے۔

بہت سے دوست یہ سوال کِیا کرتے ہیں کہ ہمارے دینی مدارس اور مذہبی دنیا آج جس جمود ، تقلید ، فرقہ واریت اور عدم برداشت کا شکا رہے، اس کی آخر،کیا وجہ ہے ؟ یہ مناظر ہم نے ان ہی دوستوں کی خدمت میں پیش کیے ہیں اور انہی سے سوال کرتے ہیں کہ جس نظام میں طالب علم کے حقیقی ذہن پر اس حد تک پہرے بٹھا دیے جاتے ہوں ، اس کی سوچ سمجھ کی صلاحیتوں کو بجائے نشو ونما دینے کے دبایا جا تا ہو اور استاد اور بزرگوں کے مقابل بات کرنا گویا اللہ اور رسول کے خلاف بات کرنا سمجھا جاتا ہو ،جہاں تعلیم کا سارا زور قرآن کے بجائے چند کلامی مباحث ، فقہ اور صرف و نحو پر ہواور جہاں قرآن و سنت کے بجائے اسلاف ( اور وہ بھی صرف اپنے فرقے اور مسلک کے ) معیار حق ہوں، وہ نظام سوائے تقلید اور جمود کے اور کیا پید ا کر سکتا ہے ؟

کسی زمانے میں عالم اور مولوی بننا ایک منصب ہوتا تھا۔ اب یہ ایک پیشہ ہے اور اپنے پیشے کا تحفظ کرنا فطر ی سی بات ہے ۔جس نظام کے ساتھ انسان کی ''روٹی '' وابستہ ہو جائے، وہ پھر ہر حال میں اس نظام کی بقا کا طالب ہوتا ہے ۔ آج کے مولوی کی بقا( مستثنیات کے سوا) اپنے گروہ ، فرقے ، مریدوں ، شاگردوں اور اپنے لوگو ں پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے اپنے گروہ اور لوگوں کی تعداد برقرار رکھنا بلکہ اس کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہنا اس کامسئلہ بن جاتا ہے ۔ اور اس مسئلے میں تقلید اور جمود کی ''قوتیں'' سب سے زیادہ معاون ہوتی ہیں۔چنانچہ در سِ تقلید کو اپنا وظیفہ بنانا ان حضرات کی مجبوری بن جاتا ہے۔مجبوری کا لفظ اگر گراں ہو تو ''دانشورانہ انداز'' میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ''مسئلہ'' تبدیل ہونے سے انسان کی حکمت عملی اور ترجیحات بدل جایا کرتی ہیںاور اس سے یہ مذہبی دنیا بھی بہر حال مستثنیٰ نہیں ہے۔عدم برداشت ، جہالت، نفرت ، اظہار رائے پر پابند ی اور کفر کے فتوے جیسے امراض تقلید ہی کے بطن سے جنم لیتے ہیں کیونکہ تقلید کا یہ منطقی نتیجہ ہے کہ باقی سب غلط اور صرف ہم اور ہمارے بزرگ درست ہیں۔ اور جب صرف ہم صحیح ہیں تو پھر غلط کی اجاز ت کیوں دی جائے ؟

وہ مدارس اور ادارے جہاں کبھی امام ابوحنیفہ ؒ کے شاگرد ابو یوسف اور محمد برملا اپنے استاد سے اختلاف کرتے نظر آتے تھے، آج وہاں قبرستان کی خاموشی ، بد ترین جمود اور خوفناک تقلید جاری ہے۔ دین کو چار اماموں کی آرا میں مقید کر کے گویا ان جلیل القد ر ائمہ ( جو سب کو دلیل کی بنیا د پر اپنے سے اختلاف کا حق دیتے تھے )کی آرا کو شریعت کا درجہ دے دیا گیا ہے جب کہ شریعت دینے کا حق صرف اللہ اور اس کے رسول کا ہوتا ہے ۔ اور اس سب کے پیچھے کسی غیرکا نہیں اپنوں ہی کا ہاتھ ہے، کسی کی سازش نہیں اپنی ہی کم نصیبی اور کوتا ہی ہے۔سوال کر نے والے بہر حال سوال کرتے ہیں کہ جب چار آرا موجو د ہیں تو انہیں اصولو ں پر پانچویں ، چھٹی یا ساتویں رائے کیوں قائم نہیں کی جاسکتی ۔ اس پر پابند ی کیا قرآن نے لگائی ہے یا سنت نے ؟ مگر قرآن و سنت کو دیکھ کر کون جواب دے گا کہ ان تک رسائی میں 'بزرگ' اور تقلید حائل ہیں۔ اللہ غریق رحمت کر ے اقبا ل کو، بہت پہلے کہہ گئے ۔گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا۔۔۔۔۔۔۔۔!

(محمد صدیق بخاری)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں  کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com , mubashir.nazir@islamic-studies.info

 غور فرمائیے

۱۔ ان واقعات میں کیا پہلو مشترک ہے؟

۲۔ ہم نئی نسل کی تربیت کیسے کریں کہ وہ ادب بھی سیکھ جائیں اور ذہنی جمود کا شکار بھی نہ ہوں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html