بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

عورت کی امامت اور ہمارا رویہ

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

آج کل مذہبی حلقوں میں عورت کی امامت کا مسئلہ زیر بحث ہے اور اس میں اصل نکتہ یہ ہے کہ آیا عورت ،مرد اور عورتوں کی مخلوط نماز کی امامت کروا سکتی ہے۔ اور اس کے پس منظر میں نیویارک میں ہونے والا وہ واقعہ ہے (جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے غالبا اسلامی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے) جس میں ڈاکٹر امینہ ودود صاحبہ نے( جو ورجینیا یوینورسٹی میں اسلامیات کی پروفیسر ہیں)عورتوں اور مردوں کے مخلوط اجتماع میں نماز جمعہ کی امامت کروائی اور یہ سار ا پروگرام ایک چرچ میں ہوا کیونکہ امینہ اور اس کے حامیوں کو کسی بھی مسجد میں ایسا کرنے کی اجازت نہ مل سکی تھی۔

اس کے جواب میں پوری اسلامی دنیا میں دو رد عمل سامنے آئے۔ ایک تو اس موضوع پر علمی بحث شروع ہوئی کہ آیا عورتیں مخلوط اجتماع کی امام بن سکتی ہیں اور دوسرے یہ کہ عامۃ المسلمین کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ہمارے نزدیک علمی بحث ایک مستحسن امر ہے کیونکہ اس سے مسائل پوری تنقیح کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں اور تشکیک و اوہام کے بادل چھٹ جاتے ہیں، بشرطیکہ بحث معروف علمی اصولوں اور احسن طریق سے انجام پائے اور الزام تراشی اور بازاری زبان سے گریزکیا جائے۔یہ معاملہ علما سے متعلق ہے اور وہ اس سلسلے میں اپناکردار ادا کر رہے ہیں۔

اگرچہ ان میں سے بعض حسب معمول ٹھوس علمی دلائل کے بجائے الزامی نوعیت کے کلام سے بات بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔لیکن پھر بھی ایسے جید علما بہر حال ہیں جو اس سارے معاملے کو غیر جذباتی اور خالص علمی انداز میں حل کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل پیغمبروں کی قائم کردہ روایت کے بر خلاف ہے۔نماز ایک عبادت ہے اورعباد ت کی روح اپنے پروردگار کی طرف کامل متوجہ ہونا ہے، اس لیے ہر وہ عمل جو توجہ کے ارتکاز میں حائل ہواور انتشارِ توجہ کا باعث بنے اس سے پرہیز لازم ہے۔ عورت اور مرد کے مابین چونکہ ایک صنفی کشش موجود ہے اور مخلوط اجتماع کی صورت میں یہ کشش یقیناً اپنا  کام کر ے گی اورعباد ت کی روح بری طرح مجروح ہوگی ۔ اس لیے مخلوط اجتماع کی امامت عورت کے لیے بہر حال جائز نہیں، البتہ عورت عورتوں کی امامت کرائے، اس کا جواز بھی اور مثالیں بھی موجود ہیں۔

علما کے دلائل اور ان کی بحث سے قطع نظر ہم تو یہاں یہ عرض کر نا چاہتے ہیں کہ اس قسم کے معاملات میں ہمیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔عامۃ المسلمین کا تو کیا کہنا اس طرح کے ہر معاملے میں ہمارے علما تک یہ کہہ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ یہ اہل مغرب  کی سازش ہے اور وہ لعین و مردود ہیں اور ایساکرتے ہی رہتے ہیں۔ بس اسی طر ح کی دو چارمسجع و مقفٰی گالیاں دے کرگویا وہ اپنی ذمہ داری پوری کر دیتے ہیں۔ اور اگر زیادہ' حمیت دینی' غالب آئے تو کفر کافتویٰ بھی دے دیں گے اور ساتھ ہی فسخِ نکاح بتانا کبھی نہ بھولیں گے ۔ اس معاملے میں بھی جب الیکٹرانک میڈیا پر ایک معروف عالم دین کی رائے پوچھی گئی تو انھوں نے متعلقہ معاملے کی علمی وضاحت سے زیاد ہ اس بات پر زور دیا کہ جن لوگوں نے اس نماز میں حصہ لیا ان کے نکاح فسخ ہو گئے اور انہیں تجدید ایمان کے بعد تجدید نکاح بھی کرنا ہو گی۔

ہمارے خیال میں امت کا مسئلہ جذباتیت ہے اور ایسے معاملات میں وہ بالخصوص جذبات کا شکار ہو کر راہیں کھوٹی کر لیتی ہے اور مخصوص عناصر اپنے اپنے مفادات کے لیے ان کے جذبات سے کھیلتے رہتے ہیں۔ یہ عناصر تو اپنا کام نکال کر فارغ ہو جاتے ہیں اور امت اس جذباتیت کا نقصان تا دیر بھگتتی رہتی ہے۔ ہمار ے نزدیک اس طرح کے معاملات میں بہترین پالیسی اعراض اور خاموشی کی پالیسی ہے۔ بعض اوقات ایک خاموشی سو مسائل کا حل ہوتی ہے۔ شرارتی عناصر کو نظر اند از کرنے سے وہ اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ پو ری امت کے سمندر میں ان برساتی نالوں کی آخر اہمیت بھی کیا ہے ؟ یہ ہمار ا رویہ ہے جو انہیں اہم بنا دیتا ہے اور یہ ہمار ا رد عمل ہے جو انہیں پبلسٹی کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔کسی چیز کا جتنا تذکر ہ کیا جائے گا اتنی ہی وہ معروف ہو گی ورنہ ایسی باتوں کی زندگی دو چار دن سے زیادہ نہیں ہوتی اور انہیں بہر حال مرنا ہی ہوتا ہے ۔ بقا ہمیشہ دین کے ابد ی اصولوں اور اقدارکو حاصل ہوتی ہے۔

امت کا اجتماعی شعور دین کے معاملے میں ہمیشہ سے اس عمل کو قبول کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا جس کی پشت پر سنت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی مہر ثبت ہو یا پھر اسے وحی کی تائید حاصل ہو۔اس کے علاوہ امت داعی کے کردار و سیرت کے بارے میں بھی حساس رہی ہے اور ہے۔ یہ خالص علم اور کردار وسیرت ہی ہیں جو کسی شخصیت کے نظریے یاعمل میں جان پیداکرتے ہیں۔ جس نظریے کو داعی کے کردار کی تائید حاصل نہ ہو وہ تاریخ کے کوڑا دان کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ عمل بھی اپنی مدت پوری کر کے اسی 'دان'کاحصہ ہو گا۔ چارپانچ دہائیاں قبل شہر لاہور میں ایک معروف دانشور نے پنجابی میں نماز پڑھانا چاہی لیکن امت کی اجتماعیت نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہ عمل بھی اپنی موت آپ مر گیا۔ لہذا ہم خلوص نیت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس طرح کے اعمال کے مقابلے میں وقت اور توانائی ضائع کرنے کے بجائے دین کی مثبت اشاعت و دعوت میں ان توانائیوں کو صرف کرنا چاہیے ۔فتوے ، گالم گلوچ اور الزامی زبان نہ صرف ان معاملات کو ا جاگر کرتی ہے بلکہ ان کی زندگی کو دو دن سے بڑھا کر چار دن کردیتی ہے۔ اگر ہم شور نہ مچاتے تو دنیا کے لاکھوں لوگوں کو کبھی یہ علم بھی نہ ہو پاتا کہ کہیں اس طرح کا واقعہ بھی ہوا ہے۔

ایسے تمام معاملات میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہم بجائے اہل مغرب  کے خود اپنی صفوں میں جھانکنے کی کوشش کیا کریں کہ یہاں کیاغلطی ہے ۔ اگر بالفرض اہل مغرب سازشیں کرتے بھی ہیں تو ان کے لیے بھی تو آخر ہمارے لوگ ہی استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ان کو متہم کرنے کے بجائے ہمیں اپنے آپ کو الزام دینا چاہیے جو ان کے آلہ کار بنتے ہیں اور یہ آلہ کار بھی شاید اس لیے بنتے ہیں کہ ہمارے ہاں تربیت اور کردار سازی کا  وہ نظام ہی موجود نہیں رہا جو کسی قوم کے افرادکی سیرت کو فولاد سے مضبوط اور ہر قیمت سے بالاتر بنا دیتا ہے۔اور وہ لوگ جو آلہ کار بنتے ہیں ان کے ساتھ بھی سختی کارویہ ان کی انا کو مہمیز دے گا اور وہ اپنے عمل میں مزید پختہ ہوتے چلے جائیں گے۔ اس لیے ان کو بھی نظر انداز کر دینا ہی صحیح راستہ اور درست سمت ہے، البتہ مثبت ذرائع اور احسن طریقوں سے اپنا پیغام پہنچانے کی سعی کرتے رہنا بہر حال ہمارے ذمہ ہے۔ اس سے بڑھ کر نہ ہماری ذمہ داری ہے اور نہ ہم سے اللہ کے ہاں پوچھ ہو گی۔دانش اور عقلمند ی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس کی فکر میں زندگی بسر کریں جس کی ہم سے پوچھ ہونی ہے نہ کہ اس کی فکر میں جس کے بارے میں ہم سے کوئی سوال نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ ہر ایک کا دائرہ کا ر الگ الگ اور ذمہ داریاں جدا جدا ہیں اور پرسش ذمہ داریوں اور فرائض کے حوالے سے ہے۔ معاملہ وہا ں بگڑتا ہے جب ہم دوسروں کے فرائض اپنے سر لینے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے فرائض کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔یعنی بیٹا باپ بننے کی کوشش کرتا ہے اور عوام حکمران ۔ باپ باپ ہے اور بیٹا بیٹا ۔باپ غلط ہے تو بیٹے کے ذمہ صرف باپ کو احسن اور آداب کے دائرے میں رہتے ہوئے پیغام پہنچانا ہے نہ کہ خود باپ بن جانا۔آج ساری کی ساری دعوت ' باپ 'کو معزول کر کے خود باپ بننے کی دی جار ہی ہے ۔ اس غلطی کی جس قد ر جلد ی ہم اصلاح کر لیں اسی قدر جلد صحیح سمت میں ہمار ا سفر شروع ہو جائے گا۔

(محمد صدیق بخاری)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں  کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com , mubashir.nazir@islamic-studies.info

 غور فرمائیے

۱۔  کسی برائی پر نظر پڑے تو اس کی اصلاح کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

۲۔ بعض لوگ منفی انداز میں دوسروں پر فتوے عائد کرتے ہیں اور مثبت انداز میں اصلاح کی کوشش  نہیں کرتے۔ اس رویے کی وجہ کیا ہے؟

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html