mily:"Times New Roman";mso-bidi-language: ER'>    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |   

بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

نظریہ سازش (Conspiracy Theory)

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

روز مرہ کے اخبارات و رسائل پڑھیے یا ٹیلی وژن پر سیاسی تجزیے سنیے، بہت سے تجزیہ نگار، صحافی بلکہ مذہبی علما بھی یہ خیال پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ دنیا بھر کی قومیں ہمارے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ ہم خود کو دنیا کا مرکز سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا کو اس کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے کہ وہ ہمارے خلاف سازش کرے۔ ہمارے لوگ، خواہ وہ مذہبی ہوں یا نہ ہوں، اپنے ذہن میں کسی سازش کا تانا بانا ترتیب دیتے ہیں اور پھر انکشاف کرنے کے سے انداز میں اس سازش کو بیان کرنے میں فصاحت و بلاغت کا زور صرف کر دیتے ہیں۔ یہ حضرات اٹھارہویں صدی سے جاری امت مسلمہ کے اس زوال کو اہل مغرب کی سازش قرار دیتے ہیں۔ ان کے نظریہ تاریخ میں مغرب و مشرق کی اقوام امت مسلمہ کے خلاف مسلسل سازشیں کرتی نظر آتی ہیں۔ انہی سازشوں کو یہ حضرات امت کے زوال کا سبب قرار دیتے ہیں۔ اہل پاکستان کو یہ خیال یہ ہے کہ بھارت ان کے خلاف مسلسل سازشیں کرنے میں مشغول ہے اور اسی طرح عرب دنیا میں اسرائیل کی سازشوں کا تذکرہ ہے۔ ان سازشی تھیوریز کو پھیلانے میں سب سے اہم کردار ہمارے جاسوسی اور تاریخی ناول نگاروں نے ادا کیا ہے۔

یہ معاملہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کی دیگر اقوام کا معاملہ بھی یہی ہے۔  اہل مغرب کے ہاں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو ہمہ وقت اپنی قوم کو مسلمانوں کی سازشوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ اسلامو فوبیا  (Islamophobia)یعنی اسلام کا خوف  اپنے لوگوں میں پھیلانے میں مشغول ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی امیگریشن کا راستہ نہ روکا گیا اور موجودہ مسلمانوں کو مغرب سے نکال باہر نہ کیا گیا تو ایک وقت آنے والا ہے جب اسلام یورپ اور امریکہ کا غالب مذہب ہو گا اور ان کی وہ آزادیاں چھین لی جائیں گی  جنہیں انہوں نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے۔ پھر ان کی خواتین کو حجاب پہننا پڑے گا اور انہیں اپنے مذہب پر عمل کی آزادی حاصل نہیں ہو گی۔  اسی طرح بھارت کی انتہا پسند تنظیموں کے لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو وہ بھی مسلمانوں اور عیسائیوں کو سازش کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور انہیں ہندو مذہب کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔

اصل میں ہوتا یہ ہے کہ سازشی نظریات کی مدد سے لوگوں کے جذبات سے کھیلنا آسان ہوتا ہے۔ ہر قوم میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو منفی سیاست کرتے ہیں۔ ان کے لیے بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی سازش کا ذکر کر کے لوگوں کے جذبات سے کھیلیں اور اس طریقے سے اپنی سیاسی قوت میں اضافہ کریں۔ اس قسم کے لوگ ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں اور غیر مسلم اقوام کے ہاں بھی۔  جن قوموں میں جہالت اور منفی سوچ پائی جاتی  ہے، وہاں یہ سیاست دان زیادہ کامیاب رہتے ہیں لیکن جن قوموں میں علم اور شعور پایا جاتا ہے، وہاں یہ ناکام رہتے ہیں۔

اس سازشی سوچ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان منفی طرز فکر کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ دشمن نے بہت سے ایجنٹ اس کے ملک میں چھوڑ رکھے ہیں جو اس کی جڑیں کاٹنے میں مشغول ہیں۔ ایسا شخص اپنے گرد و نواح میں موجود ہر دوسرے شخص  کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے بارے میں بدگمانی جیسے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے ہاں دیکھیے کہ جتنے بھی فرقے  اور مذہبی جماعتیں ہیں، ان میں سے ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہ راست پر ہے اور بقیہ تمام فرقے اور جماعتیں انگریزوں کی سازش کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس مرض کو سائیکاٹری کی اصطلاح میں پیرا نوئیا (Paranoia) کہا جاتا ہے اور جب یہ کسی معاشرے میں پھیل جائے تو پوری قوم پیرا نوئیا کا شکار ہو جاتی ہے۔  اس میں جو لوگ انتہا تک پہنچتے ہیں، وہ اپنے سوا ہر کسی کے خلوص پر شک کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں، فلاں قوت کا آلہ کار اور ایجنٹ بنا ہوا ہے اور ان کے ایجنڈے پر عمل کر رہا ہے۔

جب انسان سازشی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ دوسروں کے خلاف بدگمانی جیسے بڑے گناہ کا ارتکاب کرنے میں بھی حرج محسوس نہیں کرتا۔ اس وقت وہ قرآن مجید کی اس ہدایت کو فراموش کر دیتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ.

اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے بچا کیجیے کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ (ایک دوسرے سے متعلق) تجسس نہ کیا کیجیے اور نہ ہی آپ میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا آپ میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ یقیناً آپ اس سے کراہت محسوس کریں گے۔ اللہ سے ڈرتے رہیے، یقیناً اللہ توبہ قبول کرنے والا اور ہمیشہ رحمت فرمانے والا ہے۔ (الحجرات 49:12)

یہ بات تو درست ہے کہ جب دو افراد یا قوموں میں کوئی کشمکش چل رہی ہو تو وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے ہیں لیکن یہ سازشیں کبھی کبھار ہی رو بہ عمل ہوتی ہیں اور ان کا دائرہ اثر ہمیشہ محدود ہوتا ہے۔ سازش کے کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ مخالف کی کسی کمزوری کو استعمال کیا جائے۔   اگر یہ کمزوری نہ ملے تو سازش ناکام ہو جاتی ہے۔ اسے ہم ایک مثال سے واضح کرتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ کوئی شخص سازش کے ذریعے کسی میاں بیوی میں علیحدگی کروانا  چاہتا ہے اور اس میں اس کا کوئی مفاد ہے۔ اگر ان میاں بیوی کے رشتے میں اعتماد، محبت اور  خلوص پایا جاتا ہو گا تو اس شخص کی سازش کبھی کامیاب نہ ہو سکے گی۔ لیکن اگر ان میں بدگمانی،  شک اور نفرت پائی جاتی ہو تو یہ سازش کامیاب ہو جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی ان کے خلاف بہت سی سازشیں ہوئیں مگر وہ ناکام رہیں کیونکہ ان میں  یہ کمزوریاں نہیں پائی جاتی تھیں۔ عہد زوال میں یہ سازشیں کامیاب ہو گئیں کیونکہ خود مسلمانوں میں کمزوریاں پائی جاتی تھیں۔  اس وجہ سے امت کے زوال کا اصل سبب دشمنوں کی سازش نہیں بلکہ ہماری اپنی کمزوری ہے۔

سازشی نظریات میں مبتلا ہونے کا سب سے بڑ انتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسا ن اپنے مسائل کی وجہ اپنے اندر نہیں بلکہ دوسروں میں ڈھونڈتا ہے اور ہر وقت ایک منفی طرز فکر کا شکار رہتا ہے۔ اٹھارہویں صدی میں انگریزوں کے مقابلے میں سراج الدولہ کی شکست (1761)کو میر جعفر اور ٹیپو سلطان کی شکست (1799) کو  میر صادق کے ذمے ڈال کر ہم مطمئن ہو جاتے ہیں کہ  اگر یہ غدار نہ ہوتے تو ہم زوال پذیر نہ ہوتے۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تجزیہ کرتے کہ یہ غدار ہمارے اندر ہی کیوں پیدا ہوئے؟ انگریزوں کے اندر ایسے غدار پیدا کیوں نہیں ہوئے جو اندر ہی اندر سراج الدولہ یا ٹیپو سلطان سے مل جاتے اور اپنی قوم کو شکست سے دوچار کرتے؟ جیسے انگریزوں نے سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان کی افواج میں غدار تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، بالکل ایسی ہی کوشش مسلمانوں نے بھی کی ہو گی، کیا وجہ ہے کہ انگریز ہماری صفوں میں غدار تلاش کرنے میں کامیاب رہے جبکہ ہم ناکام؟

اسی منفی نفسیات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم خود ترسی کا شکار رہتے ہیں۔ 1920 کے آس پاس کا زمانہ امت مسلمہ کے سیاسی اور معاشرتی زوال کا کلائمیکس تھا۔ اس کے بعد سے امت کے حالات بہتر ہونا شروع ہوئے اور تقریباً سو برس کے اس عرصے میں ہم بہت بہتر ہو چکے ہیں۔ لیکن اب بھی دیکھیے کہ ہمارے بہت سے مصنفین اسی زوال کا رونا رو رہے ہیں۔ یہ حضرات اس بات پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنےسے قاصر ہیں کہ 1920 کے مقابلے میں آج ہم بہت بہتر مقام پر کھڑے ہیں اور امت مسلمہ اپنے زوال کے انتہائی نقطے کو چھونے کے بعد الحمد للہ ترقی کی طرف گامزن ہو چکی ہے اور امید ہے کہ اگلے سو برس میں ہم مزید بہتر مقام پر پہنچ چکے ہوں گے۔

ہونا یہ چاہیے کہ ہم دوسروں کی سازشوں کو بے نقاب کرنے میں اپنی قوت صرف کرنے کی بجائے اپنی کمزوریوں کی اصلاح کریں۔ دنیا پرستی، لالچ، حسد، بغض، بدگمانی، غیبت، تجسس، تکبر، منفی طرز فکر  اور اس نوعیت کے بہت سے امراض ایسے ہیں جو ہمارے ہاں موجود ہیں جن کی وجہ سے  ہم زوال پذیر ہوئے۔ اگر ہم اپنے اندر آخرت پرستی، بے نفسی، باہمی محبت، اخوت، عجز و انکسار، مثبت طرز فکر  اور خدا پرستی پیدا کر لیں تو اگر ہمارے خلاف کوئی سازش ہو گی بھی تو وہ ناکام رہے گی۔  اس کے بعد اگر ہمیں کسی سازش کا علم ہو تو اسے بغیر تحقیق آگے پھیلا دینے کی بجائے اپنے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ معلومات دیجیے جن کی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ وہ ان سازشوں کی تحقیق کر کے ان کا حل نکالیں۔ بغیر تحقیق بات کو آگے پھیلا دینے سے ہم جھوٹ، بدگمانی اور تجسس کے مجرم بنیں گے اور اس کے لیے ہمیں اللہ تعالی کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا۔

(محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں  کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔mubashirnazir100@gmail.com ,

mubashir.nazir@islamic-studies.info

غور فرمائیے!!!

۱۔ سازشی نظریات کے انسانی نفسیات اور معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

۲۔ سازشی نظریات کی بجائے ہمیں کس جانب توجہ دینی چاہیے؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام