بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

تباہی کی وجہ

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

قرآن میں سحری کے اختتام اورروزہ کے آغازکوایک تمثیل سے بیان کیاگیاہے کہتم کھاؤپیویہاں تک کہ سفیددھاری سیاہ دھاری سے جداہو جائے۔[1] یہاں سفیددھاری سے مرادصبح کی سپیدی ہے۔حدیث میں آتاہے کہ ایک صحابی حضرت عدی بن حاتم نے اس آیت کامطلب کچھ اورلیا۔ وہ یوں کرتے کہ سحری کرتے وقت ایک سیاہ اورسفیددھاگہ سامنے رکھتے اورکھاتے پیتے رہتے۔یہاں تک کہ جب سفیداورسیاہ دھاگوں کارنگ نمایاں ہوجاتا تو سحری ختم کردیتے ۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے انہیں بتایا کہ وہ غلطی پر ہیں۔ اور آپ نے ان کی تصحیح فرمائی کہ سفید اور سیاہ دھاری کے الگ الگ ہونے کا مطلب صبح کی سپیدی کا نمودار ہوجانا ہے۔

اسی طرح ایک مرتبہ مسجدنبوی میں نبی صلی اﷲعلیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرماتھے کہ اچانک ایک دیہاتی آیااورمسجدکے احاطے میں پیشاب کرنے لگا۔اصحاب رسول اٹھے کہ اسے سختی سے منع کریں لیکن آپ نے انہیں روک لیااورکہاکہ اسے اطمینان سے فارغ ہولینے دوکہیں وہ مزیدگندگی نہ پھیلائے۔پھرجب وہ فارغ ہوگیا توآپ نے بلاکراسے سمجھایاکہ یہ مسجدخداکاگھرہے اوریہاں گندگی پھیلانامناسب نہیں۔[2]

اسلامی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔نبی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم نے اپنے اصحاب کوصرف لوگوں کی غلطیوں کی نشاندہی ہی نہیں کی بلکہ نے بلکہ انکی اصلاح اور تعلیم و تربیت بھی فرمائی۔ اسی تعلیم و تربیت دینے کے عمل کواصحاب رسول رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدجاری رکھا اور مسلم معاشرے کی اصلاح میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ حدِیث میں بیان ہوتا ہے کہ ہم لوگ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ نہ تو فحش گوئی کی عادت تھی اور نہ قصدا فحش کلامی فرماتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے بہتر ہو۔[3]

آج ہم پاکستانی معاشرے کاجائزہ لیں توعلم ہوتاہے کہ ہر شخص دوسر ے کی غلطی تو واضح کررہا ہے لیکن اس کا کوئی حل نہیں بتارہا۔ ہمارا تعلیمی نظام ڈاکٹر ، انجینئر اور دیگر پیشہ ورانہ ماہرین تو پیدا کررہا ہے لیکن اچھے انسان نہیں پیدا کررہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہماری سوسائٹی کا تقریباََ ہر شعبہ کرپشن، خراب کارکردگی اور زبوں حالی کا شکار ہے۔ اسی طرح ہماری تربیت کا ادارہ یعنی خاندان بھی اپنی افادیت کھو رہا ہے۔ والدین بچوں کو اسکول بھیج کر انکی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت سے بھی بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔جبکہ اساتذہ یہ دلیل دے کر جان چھڑالیتے ہیں کہ ہمارے پاس تو بچہ محض چھ گھنٹے ہی رہتا ہے لہٰذا اصل ذمے داری تو والدین ہی کی ہے۔ اسی طرح معاشرے کے بزرگوں کو پہلے ہی عضوِ معطل بنا کر بولنے کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ اچھی کتب کا مطالعہ بھی مفقود ہوچکا۔چنانچہ نئی نسل کی تربیت کے لئے اب یا تو ٹیلی وژن اور انٹرنیٹ جیسے بدچلن استاد بچے ہیں یا پھر ہم عمر نا تجربے کار دوست۔

آج ہمیں سنت نبوی کے احیا کی ضرورت ہے جس کا مقصد دینی واخلاقی تعلیم بھی ہے اور تربیت بھی۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ اس سنت کی پیروی کرے ۔ اس تعلیم و تربیت کی ذمہ داری صرف اساتذہ اور والدین تک محدود نہیں۔ بلکہ بزرگ ونوجوان، افسر و ماتحت، امیر و غریب، آجر و مزدور ہر ایک اپنے دائرۂ کار میں اس کا مکلف ہے۔

اس کا طریقہ بہت سادہ ہے۔ پہلے مرحلے میں بنیادی اخلاقیات کو ہم میں سے ہر شخص اپنی زندگیوں میں نافذ کرے اور اپنے اپنے دائرہ کار میں اس کا پرچار بھی کرے۔ دوسرے مرحلے میں کچھ ایسی تربیت گاہیں بنائی جائیں جہاں شارٹ کورسز کے ذریعے بنیادی تصورات کی اصلاح کی جائے اور جدید خطوط پر ان کی تربیت کی جائے ۔تیسر مرحلے میں اخلاقیات کو درس گاہوں میں ہر سطح پر شامل نصاب کرکے ہر پیشے کو ان پر استوار کرنے کی کوشش کی جائے۔ایک اور تجویز یہ ہے کہ ہمارے دینی لیڈروں کو ترغیب دی جائے کہ وہ دینی تعلیمات کے ساتھ اخلاقیات پر بھی زور دیں اور اسکی اہمیت کوعبادات ہی کی طرح اجاگر کریں۔

ان اقدام کے بعد ہی امید کی جاسکتی ہے کہ ادارے درست ہوجائیں گے، کرپشن ختم ہوگی، انسانی جان کی حرمت بحال ہوگی اور دینی اور اخروی فلاح کے دروازے کھل جائیں گے۔ اگر یہ نہ ہوا تو شاید حالات کبھی نہ سدھریں اور بلیم گیم میں ہم سب ہی فنا ہوجائیں۔

(پروفیسر محمد عقیل، aqilkhans.wordpress.com )

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com , mubashir.nazir@islamic-studies.info

غور فرمائیے!!!

۱۔ انگریزی لفظ blamegame کا مطلب کیا ہے؟

۲۔ خود سے سوال پوچھیے کہ کیا آپ اپنا احتساب کرتے ہیں یا غلطیوں کا الزام دوسروں پر دھرتے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html



[1] البقرۃ۔ 2:187

[2] صحیح بخاری ۔جلد اول ۔ حدیث نمبر 217

[3] صحیح بخاری۔جلد سوم۔حدیث نمبر 973