بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

عقل اور وحی کا باہمی تعلق (۲)

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

عقل کا دائرہ کار

بلاشبہ دین کے انتخاب کے بارے میں عقل کو حق دیا گیا ہے کہ وہ اس کے اصول و مبادیات کی جانچ اور تحقیق کرے پھر چاہے تو اسے قبول کرے اور چاہے تو رد کر دے کیونکہ دین کے اختیار کرنے میں کوئی مجبوری نہیں لیکن دین کو قبول کرنے کے بعد عقل کو ہرگز یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ اس کے اہم اور بنیادی عقائد و نظریات جو وحی کی صورت میں اسے ملے ہیں، پر ہی ہاتھ صاف کرنا شروع کر دے بلکہ اسے اب وحی کے تابع ہو کر چلنا چاہیے اور یہ اتباع اندھی عقیدت کے طور پر نہیں بلکہ علی وجہ البصیرت ہونا چاہیے۔ لہذا ہمارے خیال میں عقل کے کام مندرجہ ذیل قسم کے ہونے چاہییں۔

      وحی کے بیان کردہ اصول و احکام کے اسرار اور حکمتوں کی توضیح و تشریح

      احکام کے نفاذ کے عملی طریقوں پر زمانہ کے حالات کے مطابق غور کرنا اور پیش آمدہ رکاوٹوں کو دور کرنا۔ مثلاً وحی نے اگر سود کو حرام کر دیا ہے تو عقل کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وحی کی حدود کے اندر اس کو ختم کرنے کے لئے حل پیش کرے۔ پھر اگر عقل سود یا اس کی بعض شکلوں کو حرام سمجھنے کی بجائے اس کو حلال بنانے کے حیلے سوچنے لگے تو عقل کے استعمال کا یہ رخ قطعاً صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ بات طے شہدہ ہے نص یا کتاب و سنت کے واضح احکام کی موجودگی میں اجتہاد یا بالفاظ دیگر عقل کا [غلط] استعمال قطعاً حرام ہے۔

      موجودہ دور کے نظریات کے مقابلہ میں وحی کے نظریات کی برتری ثابت کرنا اور ان کو مدلل طور پر پیش کرنا اور اگر موجودہ نظریات سے عقل خود مرعوب ہو کر وحی میں کانٹ چھانٹ اور اس کی دور از کار تاویلات کر کے اس کے واضح مفہوم کو بگاڑنے کی کوشش کرے گی تو اس کا یہ کام دین میں تحریف شمار کیا جائے گا۔

      تحریف شدہ ادیان پر اسلام کی برتری اور فوقیت کو دلائل سے ثابت کرنا اور بیرونی حملوں کا دفاع کرنا۔

      نفس و آفاق کی وہ آیات جن میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ ان میں تحقیق و تفتیش کر کے انہیں آگے بڑھانا اور ان سے مطلوبہ فوائد حاصل کرنا جن کی پہلے وضاحت کی جا چکی ہے۔

یہ اور اس جیسے کئی دوسرے کام ہیں جن میں عقل سے کام لیا جا سکتا ہے۔ اسی لئے تو اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ اعلان کر دیجیے کہ:

قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنْ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ (یوسف 12:108)

کہہ دیجیے کہ میرا راستہ تو یہی ہے کہ میں اور میرے پیروکار خدا کی طرف سمجھ بوجھ کی بنیاد پر دعوت دیتے ہیں اور اللہ تعالی پاک ہے اور میں مشرکوں سے نہیں۔

عقل کی ناجائز مداخلت

پھر وہی لوگ جو ذہنی طور پر جدید فلسفہ یا سائنسی نظریات سے مرعوب ہو جاتے ہیں۔ محض اس لئے کہ وحی اس کی ہمنوا نہیں ہوتی تو وہ وحی سے انکار کر بیٹھتے ہیں۔ ان کے متعلق فرمایا:

بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (یونس 10:39)

بلکہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہ پا سکے، اس کو جھٹلا دیا حالانکہ ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح ان سے پہلے لوگ بھی جھٹلاتے رہے۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سائنس کے نظریات ہر دور میں بدلتے رہتے ہیں۔ ایک دور میں ایک نظریہ قبول عام کا شرف حاصل کرتا ہے تو تھوڑی مدت کے بعد اس کی تردید شروع ہو جاتی ہے۔ پھر ایک تیسرا نظریہ سامنے آتا ہے۔ اب بتائیے کہ وحی آخر کون سے نظریہ کا ساتھ دے؟ اور کیا باقی ادوار میں اس کو جھٹلا دیا جائے؟ اس بات کو ہم ایک مثال سے واضح کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔

چوتھی صدی قبل مسیح میں یونان کے مفکر بطلیموس نے [یہ نظریہ پیش کیا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے اور سورج اس کے گرد گردش میں ہے۔ اہل کلیسا نے اس نظریے کو اپنے مذہب کا جزو بنا کر عقائد کا حصہ بنا دیا] مصر، یونان، ہند اور یورپ میں پندھرویں صدی عیسوی تک اسی نظریہ کی تعلیم دی جاتی رہی اور 1800 سال تک یہ نظریہ دنیا بھر میں مقبول رہا۔۔۔ بعد ازاں اٹلی کے ایک مفکر گلیلیو (1564-1642) نے زمین کو مرکز تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔ چنانچہ پادریوں نے اسے مذہب کے خلاف مسائل قرار دے کر اسے مجرم گردانا اور وہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ بعد ازاں سر آئزک نیوٹن (1643-1727) نے کوپر نیکس کے نظریہ کو درجہ تحقیقات پر پہنچایا۔۔۔۔

لہذا جدید نظریات صرف اسی صورت میں قابل قبول سمجھے جائیں گے جب کہ وہ وحی سے مطابقت رکھتے ہوں۔۔۔۔۔ بعض لوگ انہی جدید نظریات سے مرعوب ہو کر قرآن میں تاویل و تحریف یا نئی تعبیر پیش کر کے بزعم خود قرآن کو اپنے دور کی علمی سطح کے مطابق لانے کی کوشش میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ کوئی دینی خدمت نہیں ہوتی بلکہ اس سے الحاد اور ذہنی انتشار کی راہیں پیدا ہو جاتی ہیں۔

(مصنف: عبدالرحمٰن کیلانی، "آئینہ پرویزیت" سے انتخاب)

اہل ایمان تو رحم دل اور محبت کرنے والے ہوا کرتے ہیں۔ ان کی مثال ایک جسم کی سی ہے جس کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم اس کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (بخاری، کتاب الادب)

فاضل مصنف نے وحی اور عقل کے باہمی تعلق سے متعلق جو تفصیلات پیش کی ہیں، اس میں ایک بات قابل غور ہے۔ مجرد عقل کی یہ خامی ہوتی ہے کہ یہ جذبات سے مغلوب ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی انسان شہوت سے مغلوب ہو جائے تو اس کی عقل شہوت پرستی کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے میں مشغول ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص غصے اور انتقام کے جذبات میں جل رہا ہو تو اس کی عقل اسے انتقام کے شدید طریقے سکھاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ڈارون کا نظریہ جو کہ بعد کی تحقیقات میں غلط ثابت ہوا، اپنے دور میں بہت مقبول ہوا کیونکہ اہل مغرب کلیسا کے خلاف انتقام کے جذبات سے مغلوب تھے۔ گویا یہ حمایت عقل کے تحت نہیں بلکہ غصے اور انتقام کے جذبات کے تحت کی گئی۔ جب یہ نظریہ غلط ثابت ہوا تو اہل مغرب کے ہاں اس نظریے سے کوئی عوامی توبہ سامنے نہیں آئی۔ حالانکہ اگر اہل مغرب عقل کے اتنے ہی دلدادہ ہوتے تو انہیں برملا اعلان کرنا چاہیے تھا کہ ہم نے ڈارون کے نظریے کے نتیجے میں خدا کا انکار کر کے ایک اجتماعی غلطی کی ہے، جس سے ہم اب توبہ کر کے خدا کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں۔

ان میں سے بعض سائنسدانوں اور فلسفیوں جیسے انتھونی فلیو، جان میڈکس اور ایچ پی لپسن نے انفرادی طور پر یہ اعتراف کیا ہے کہ بہرحال کائنات کا انٹیلی جنٹ ڈیزائن یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق موجود ہے۔ اس کی تفصیل آپ میری تحریر "الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات" میں دیکھ سکتے ہیں۔

عقل کو وحی کے تابع کر دینے سے یہ مسئلہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اب عقل، جذبات سے مغلوب نہیں بلکہ خالص عقل بن جاتی ہے۔ خالص عقل اور وحی میں کبھی بھی تعارض پیدا نہیں ہوتا۔ وحی کی کوئی بات ایسی نہیں ہے جس کی عقل تردید کر سکے۔ اسی طرح عقل کا کوئی بھی ثابت شدہ کلیہ یا قانون ایسا نہیں ہے جو وحی کے خلاف ہو۔

اگر کسی کو بظاہر عقل اور وحی میں کہیں تضاد نظر آئے تو وہاں دو صورتیں ہوا کرتی ہیں: یا تو عقل کا پیش کردہ نظریہ قانون نہیں ہوتا بلکہ محض ایک نظریہ ہی ہوتا ہے۔ یا پھر جس چیز کو وحی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہوتا ہے وہ کوئی انسانی نظریہ ہی ہوتا ہے جسے وحی کی شکل دے دی گئی ہوتی ہے۔ مصنف کی بیان کردہ مثال میں بطلیموس کا نظریہ ایک انسانی نظریہ ہی تھا جسے ارباب کلیسا نے مذہب کا حصہ بنا کر وحی کی حیثیت سے پیش کر دیا تھا۔

(محمد مبشر نذیر)

آپ کے سوال سے کسی اور کی الجھن دور ہو سکتی ہے۔ اپنے سوالات، خیالات اور تاثرات کو ای میل کرنا نہ بھولیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      ملحدین خدا کا انکار کیوں کرتے ہیں؟ کیا ان کے پاس کوئی ایسا ثبوت موجود ہے جس سے وہ یہ ثابت کر سکیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق موجود نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو وہ خدا کا انکار کیوں کرتے ہیں؟

      مصنف نے انسانی عقل کا جو کردار بیان کیا ہے، اس کی روشنی میں اپنی شخصیت کا جائزہ لیجیے کہ آپ کیا کردار ادا کرنا پسند کریں گے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter