بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

مثبت طرز عمل ہی زندگی کی ضمانت ہے!

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

یہ کسی شخص کا رویہ ہی ہوا کرتا ہے جو اس کا لائف اسٹائل متعین کرتا ہے۔ انسان کسی چیز کے بارے میں اندازہ لگانے سے پہلے اس کی ایک تصویر اپنے دماغ میں بنا لیتا ہے جو اس چیز کے بارے میں اس انسان کے رویے کو جنم دیتی ہے۔ ایک شخص وقت کے ساتھ ساتھ مثبت یا منفی رویے سیکھ سکتا ہے۔ اس ضمن میں انسانوں کی تین اقسام ہیں:

      بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو کوئی کام شروع کرنے سے پہلے ہی اس کی مشکلات کے بارے میں پریشان ہونا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں کر پاتے۔ یہ لوگ اس کار کی طرح ہوتے ہیں جو صرف دھکے ہی سے اسٹارٹ ہوتی ہے۔

      دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اس کام کی ابتدا میں تو پرجوش اور متحرک ہوتے ہیں مگر اس پر استقامت سے قائم نہیں رہ پاتے۔

      تیسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو کام کو سرانجام دینے کے بارے میں سنجیدہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پسند کرتے ہیں۔

دور حاضر میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو کس نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے؟ یہ تبدیلیاں ہمارے لئے خطرہ ہیں یا چیلنج؟ دور جدید کو سمجھنے کے لئے اس تحریر کا مطالعہ مفید رہے گا۔ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

اگرچہ آپ کامیاب بھی ہوں، پھر بھی منفی ذہنیت کسی بھی وقت آپ کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کر سکتی ہے۔ یاد رکھیے:

1.   یہ صرف آپ ہی ہیں جو اپنے رویے اور طرز عمل کے ذمے دار ہیں۔

2.    آپ کے ذہن میں کسی چیز کی جو تصویر تشکیل پا جاتی ہے، اس کے پیچھے آپ کے رویے ہی کا ہاتھ ہوا کرتا ہے۔ [یعنی اگر آپ کا رویہ مثبت ہوگا تو تصویر بھی مثبت بنے گی ورنہ منفی رویے سے ہر چیز کی منفی تصویر ہی ذہن میں تشکیل پائے گی۔]

3.   آپ کے ذہن میں کسی چیز کی جو [مثبت یا منفی] تصویر بنے گی، آپ دنیا سے اسی تصویر کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات کریں گے۔

4.    آپ دنیا سے جیسے معاملات کریں گے، اس کے مطابق ہی آپ کو اچھا یا برا تجربہ حاصل ہوگا۔ [یعنی اگر آپ مثبت ذہنیت کے ساتھ میدان عمل میں اتریں گے تو آپ کو اچھا تجربہ حاصل ہوگا، کامیابی نصیب ہوگی اور اچھے لوگ ملیں گے۔ اس کے برعکس منفی ذہنیت کے ساتھ کام کرنے والے کو ویسے ہی لوگ ملیں گے اور اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔]

5.   جیسا تجربہ آپ کو حاصل ہوگا، اس کا براہ راست اثر آپ کے معیار زندگی پر ہوگا۔

منفی ذہنیت کے لوگ دوسروں سے صرف اور صرف منفی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ [وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہر شخص انہیں دھوکہ دینے کے لئے کمربستہ ہے۔] یہ منفی ذہنیت بسا اوقات اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ ایک اچھا خاصا مثبت طرز فکر رکھنے والا شخص بھی ان کا شکار ہو جاتا ہے۔ منفی ذہنیت والے افراد نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کچھ کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ منفی ذہنیت کے پیچھے جسمانی، جذباتی اور عقلی اعتبار سے ایک کمزور شخصیت ہوتی ہے۔

ایک شخص کے گناہوں کو اللہ تعالی نے اس لئے معاف کر دیا تھا کہ اس نے پیاس سے مرتے ہوئے ایک کتے کو کنویں سے پانی نکال کر پلایا تھا۔ ہر جاندار چیز کے ساتھ ہمدردی کرنے کا اجر اللہ تعالی کے پاس محفوظ ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم۔ (بخاری، کتاب الادب)

جہاں تک جسمانی قوت کا تعلق ہے تو مناسب خوراک اور باقاعدگی کے ساتھ ورزش کرنے سے اسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ اپنے جسمانی فگر کے بارے میں شکار ہو کر اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ بسا اوقات خود اذیتی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کے والدین [یا دیگر افراد] اگر کچھ کہیں تو وہ اسے غلط معنی پہنا کر پھٹ پڑتے ہیں۔ یہ منفی رویہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگ مناسب خوراک سے محروم ہوتے ہیں۔ خوراک سے محرومی کے باعث ان کے دماغ میں ہر وقت اچھے کھانے کی خواہش موجود رہتی ہے۔ اچھی جسمانی صحت ہمیں منفی ذہنیت سے نجات عطا کر دیتی ہے۔

جذباتی اسٹیمنا، مثبت طرز فکر کے لئے ایک لازمی امر ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کوئی اعلی مقصد دریافت کر لے تو اس سے بے پناہ جذباتی قوت اور استحکام حاصل ہوتا ہے۔ یہ اعلی مقصد اللہ تعالی کو راضی کرنا ہو سکتا ہے۔۔۔۔ مکمل وابستگی اور ایمان کے ساتھ خود کو اس اعلی مقصد کے سامنے جھکا دیجیے۔۔۔۔

جب ہم اپنی عقل اور تلاش کرنے کی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے کوئی کام کامیابی سے سر انجام دے دیتے ہیں تو یہ محض اتفاق نہیں ہوتا بلکہ تمام اتفاقات کی موجودگی میں ایسا ہو رہا ہوتا ہے۔ اس بات کی تحقیق کرتے رہیے کہ "یہ کام ممکن کس طریقے سے ہو سکتا ہے۔"

یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ زندگی ہمیشہ کامیاب رہنے کا نام نہیں ہے۔ یہ اس صلاحیت کا نام ہے جس کی مدد سے کامیابی اور ناکامی دونوں صورتوں کا سامنا عزت، وقار اور شان کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ کامیابی سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں مگر ناکامی سے ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ جب ہم ناکامیوں سے سیکھنے کے آرٹ میں مہارت حاصل کر لیں تو یہ بڑی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔

ناکامی سے متعلق یہ رویہ، ایک مثبت رویہ ہے۔ جب ہماری شخصیت کے ان تین پہلوؤں [یعنی جسمانی، جذباتی اور عقلی] کی تعمیر ہو جائے تو ہم آتما بل یعنی اندرونی قوت حاصل کر لیتے ہیں۔ اس اندرونی قوت کی مدد سے ہم مثبت طرز عمل کو اپنے ہر کام کی بنیاد بنا لیتے ہیں۔ اپنشد کے مطابق، سچائی کو بزدلوں پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔ جسمانی و روحانی اعتبار سے کمزور افراد کامیابی کے مستحق نہیں ہوتے۔

جب آپ اپنی شخصیت کے تین پہلوؤں یعنی جسمانی صحت، جذباتی حسن اور عقل و دانش کی تعمیر کر لیتے ہیں تو آپ کا رویہ مثبت ہو جاتا ہے۔ اس مثبت طرز عمل کےساتھ آپ زندگی کی جنگ میں کود پڑتے ہیں جس میں کامیابی آپ کی منتظر ہوا کرتی ہے۔

(مصنف: انوراگ چندرا، ترجمہ: محمد مبشر نذیر، بشکریہ: www.123oye.com)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      فاضل مصنف نے تعمیر شخصیت کے جو تین پہلو بیان کیے ہیں، ان میں سے ہر ایک کے لئے حکمت عملی وضع کیجیے۔ آپ اپنی شخصیت کے جسمانی، جذباتی اور عقلی پہلو کی تعمیر کس طرح کریں گے۔

      تعمیر شخصیت کے ان تینوں پہلوؤں کا ہماری اصل زندگی یعنی آخرت میں کیا فائدہ ہوگا؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter