بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

زہریلا نشہ

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

کہتے ہیں کہ اخبار کے مطالعہ کی عادت ایک نشے کی طرح ہوتی ہے۔ جسے یہ لت ایک دفعہ لگ جائے وہ مرتے دم تک اس سے پیچھا نہیں چھڑا پاتا۔ بعض لوگ تو اس عادت کے ایسے اسیر ہوجاتے ہیں کہ بستر چھوڑنے سے قبل، حوائج ضروریہ سے فارغ ہوئے بغیر، ناشتہ کرنے سے پہلے ہی اخبار کوچاٹنا شروع کردیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کے اس دور میں بھی اخبارات اتنے ہی مقبول ہیں جتنے پہلے ہوا کرتے تھے۔

اخبارات کا بنیادی کام معلومات فراہم کرنا ہے اور لوگوں کو دنیا بھر کے حوادث و واقعات سے باخبر رکھنا ہوتا ہے۔تاہم صحافت کا اصول ہے کہ خبر یہ نہیں کہ کتے نے آدمی کو کاٹ لیا ہے بلکہ خبر یہ ہے کہ آدمی نے کتے کو کاٹ لیا ہے۔ یعنی زندگی کے عام معاملات کے برعکس جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے وہی زیادہ اہم ہوتا ہے اور اسی سے وہ قارئین کو مطلع کرتے ہیں۔

لوگوں سے مت ڈرو۔ وہ تمہارے جسم کو تو مار سکتے ہیں مگر روح کو نہیں۔ اللہ سے ڈرو جو جسم اور روح دونوں کو عذاب دینے پر قادر ہے۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

اس کا سبب یہ ہے کہ انسان عام طور پر معمول کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے ۔ ان کی توجہ صرف وہی چیزیں حاصل کرپاتی ہیں جن میں کوئی غیر معمولی بات ہو۔جن کے ذریعے سے لوگوں میں زیادہ سے زیادہ سنسنی پھیلے۔ ہمارے ہاں اخبارات مکمل طور پر کمرشل مقاصد کے تحت چلتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ بک جانا ان کی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے، اس لیے اخبار والے زیادہ سے زیادہ سنسنی خیز انداز میں اخبار و واقعات کو بیان کرتے ہیں۔ جرائم، حادثات، اسکینڈلز اور اسی نوع کی دیگر منفی چیزیں چونکہ اپنے اندر اسی پس منظر کی نیوز ویلیو رکھتی ہیں، اس لیے اخبارات والے انہیں نمایاں کرکے شائع کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی معاملات کو حد سے زیادہ اہمیت دے دی گئی ہے۔ چنانچہ اخبارات بھی سب سے بڑھ کر سیاسی نوعیت کی خبروں کو اہمیت دیتے ہیں۔ہمارے ہاں سیاست چونکہ خود منفی نوعیت کی چیز ہے اس لیے اس کے حوالے سے بھی زیادہ تر خبریں منفی انداز میں سامنے آتی ہیں۔

اخبارات کے کالم نگار حضرات انہی چیزوں کو اٹھاتے ہیں اور انہی پر اپنے مضامین کی بنیاد رکھتے ہیں۔ یہ کالم نگار حضرات زیادہ تر صحافیہ پس منظر ہی رکھتے ہیں، اس لیے جب یہ کالم لکھتے ہیں تو غیر محسوس طریقے پر یہ ٹھیک وہی منفی رپورٹنگ شروع کردیتے ہیں جو اخبارات کا طریقہ ہوتا ہے۔

ان کی دلچسپی کا موضوع سیاست کا وہ میدان ہوتا ہے جہاں سے اچھی خبریں نہیں آتیں یا پھر معاشرے کے وہ منفی واقعات جو تعداد کے اعتبار سے کم اور نیوز ویلیو کے اعتبار سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔چنانچہ یہ لوگ چن چن کر معاشرے کے تاریک اور منفی پہلوؤں کو اٹھاتے ہیں اور حال اور مستقبل کا ایسا بھیانک نقشہ کھینچتے ہیں کہ پڑھنے والا بے پناہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسے دنیا میں صرف تاریکی اور اندھیرا نظر آتا ہے۔اس کی ہر امید ختم ہوجاتی ہے۔ یہ قاری ایک منفی انسان بن جاتا ہے اور عملی زندگی میں جب لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے تو منفی سوچ ہی کے ساتھ کرتا ہے۔یہی سبب ہے کہ آج اخبار کا مطالعہ ایک زہریلا نشہ بن گیا ہے۔

جان ایل ایسپوزیٹو ان امریکی ماہرین میں سے ایک ہیں جو اسلام اور مغرب کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج کو روکنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مسلم کرسچن انڈراسٹینڈنگ کے نام سے واشنگٹن یونیورسٹی میں ایک ادارہ بنایا ہوا ہے۔ مصنف نے اپنی ایک کتاب میں عصر حاضر کی اسلامی تحریکوں کا دقت نظر سے جائزہ لیا ہے۔ یہ مضمون ان کی کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے۔ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ تجربے کے طور پر ایک قاری اخبار پڑھنے کے بعد اپنے آپ سے سوال کرلے کہ جن منفی چیزوں کا اس نے اخبار میں ذکر پڑھا ہے، ان سے وہ خود کتنا متاثر ہوا ہے۔ تھوڑے سے غور وفکر کے بعد وہ جان لے گا کہ وہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں گھرا ہوا ہے۔وہ جان لے گا کہ وہ بیوی بچوں اور گھر والوں کے درمیان باسلامت بیٹھا ہے، اس کی جان، مال اور آبرو محفوظ ہے۔ اس کے ہاتھ پاؤں اور آنکھیں سلامت ہیں۔ پھر یہ تنہا اس کاہی معاملہ نہیں بلکہ اردگر دپھیلے ہوئے تمام لوگوں کا معاملہ ہے۔ یعنی ان کی غالب ترین اکثریت روزگار، تعلیم اور صحت کی حامل ہے۔

یہ سوچ اور یہ رویہ اسے رب کی شکر گزاری پر ابھارے گا۔ شکر گزاری کی یہ سوچ اسے آمادہ کرے گی کہ وہ اپنے دائرے میں بندگانِ خدا کے لیے مفید بنے۔ ان کے کام آئے۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہو۔ اگر کسی کے لیے کچھ نہیں کرسکتا تو کم از کم دعا ہی کردے۔ وہ کسی کا مسئلہ حل نہیں کرسکتا تو کم ازکم دوسرے کے لیے خود مسئلے پیدا نہ کرے۔

اس کے ساتھ اگر وہ صبح سویرے قرآن پاک کا مطالعہ کرلے تو اس پر واضح ہوجائے گاکہ اصل خبر اخبار میں نہیں بلکہ قرآن کریم میں موجود ہے ۔ وہ قیامت کے دن رب کے حضور پیشی اور حساب کتاب کی خبر ہے۔ یہ خبر اسے دن بھر کے معمولات میں محتاط بنادے گی۔ اس سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہوگا جو خالق یا مخلوق کے حقوق تلف کرنے والا ہو۔

آج کے اخبارات کا غیر شعوری مطالعہ زہریلا نشہ بن گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لوگ قرآن پڑھ کر اور فجر کی نماز میں اپنے اوپر ہونے والی نعمتوں کا شکر ادا کرکے اخبار کا مطالعہ کریں۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      میڈیا میں منفی رپورٹنگ کے زہریلے اثرات سے خود کو کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟

      شکر گزاری کے رویے کی اہمیت بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter