بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

محبت اور نفرت

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

محبت و نفرت بھی انسان کی شخصیت کے اہم پہلو ہیں۔ ہم بہت سی چیزوں کو پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔ یہی جذبے کچھ شدت اختیار کرکے محبت اور نفرت اور پھر اس سے بھی بڑھ کر عشق اور شدید نفرت کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ اگر تو یہ جذبے اپنی فطری حدود میں رہیں تب تو ٹھیک ہے لیکن ان میں حدود سے تجاوز انسان کی شخصیت کو بری طرح مسخ کردیتا ہے۔ آپ نے یقینا ایسے کئی لوگ دیکھے ہوں گے جو عشق یا نفرت کی شدت کا شکار ہو کر اپنی پوری زندگی تباہ کربیٹھے یا پھر اس سے ہاتھ ہی دھو بیٹھے۔

جنت رائی کے دانے کے مشابہ ہے۔ یہ دانہ سب سے چھوٹا ہوتا ہے مگر سب سے زیادہ تناور درخت بنتا ہے۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

ان جذبوں کو اپنی حدود میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا رخ موڑ کر صحیح سمت میں لگا دیا جائے۔ انسان کی محبت کا محور و مرکز اللہ تعالیٰ کی ہستی ہونا چاہئے جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس کی ہر ہر ضرورت کا ایسا خیال رکھتا ہے جو اور کوئی نہیں رکھ سکتا۔ بعض انسان بڑے ناشکرے ہوتے ہیں اور وہ اپنے رب کے ساتھ شریک بنا کر ان سے محبت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

و من الناس من یتخذ من دون اللّٰہ اندادا یحبونھم کحب اللہ، والذین اٰمنوا اشد حبا للہ ۔ (البقرہ 2:165) انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے ساتھ کچھ شریک بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسے محبت کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے کرنا چاہئے، (ان کے برعکس) اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے شدید محبت کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے محبت ہی کی اہم ترین شکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے بندے اور آخری رسول ہیں۔ آپ کی محبت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہو سکتا اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت ہے۔ اس محبت کے بارے میں ہمارے ہاں افراط و تفریط کے رویے پائے جاتے ہیں۔

بعض لوگ اپنی حماقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے الگ سمجھتے ہیں اور پھر رسول کا مقابلہ اللہ تعالیٰ سے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایک طرف تو آپ کو اپنی محبت کے غلو میں خدا کا شریک دیتے ہیں اور دوسری طرف شخصی محبت کا دعویٰ کرنے کے باوجود آپ کی تعلیمات کی پیروی بھی نہیں کرتے حالانکہ محبت بغیر اتباع کے محض دکھاوا اور فریب ہے۔

ہمارے میڈیا میں اربوں روپیہ ایڈورٹائزنگ پر صرف کیا جاتا ہے۔ کیا اس ایڈورٹائزنگ سے معاشرے کو حقیقی فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ موجودہ ایڈورٹائزنگ کے ہماری اصل زندگی یعنی آخرت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے اس تحریر کا مطالعہ کیجیے۔

اسی طرح کچھ دوسرے لوگ آپ کی محبت کو محض اتباع سنت ہی قرار دیتے ہیں اور آپ کے ساتھ محبت کے ذاتی تعلق کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ یہ دونوں راستے غلط ہیں۔ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ محبت و عقیدت ایک عظیم نعمت ہے وہاں اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اپنے ہر معاملے میں آپ کی اتباع اور پیروی کی جائے۔

اسی محبت کی ایک اور شاخ آپ کے اہل بیت اور آپ کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی محبت ہے جس کا کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا لیکن اس معاملے میں بھی ہر قسم کے غلو سے اجتناب کرنا چاہئے تاکہ یہ عظیم نعمت ہمارے لئے شرک کی مصیبت نہ بن جائے۔

جب انسان اپنی محبت کا رخ اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اور آپ کی آل و اصحاب کی طرف موڑ دے تو پھر اسے دنیاوی محبتوں سے نجات مل جاتی ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ والدین اور بیوی بچوں سے محبت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ محبتیں بھی انسان کی فطرت میں داخل ہیں۔ لیکن ان سب محبتوں کو خدا و رسول کی محبت کے تابع ہونا چاہئے۔

یہی حال نفرت کے جذبے کا ہے۔ جب نفرت کے جذبے کو غلط استعمال کیا جائے تو انسان تخریب کار اور دہشت گرد بن جاتا ہے اور اپنے جیسے انسانوں کے خون میں ہاتھ رنگنے لگتا ہے۔ اس کا صحیح استعمال یہ ہے کہ اسے برائیوں کے خلاف نفرت میں تبدیل کر دیا جائے۔ ایک بندہ مومن کے نزدیک کفر اور فسق و فجور کی طرف جانا آگ میں جل جانے سے زیادہ قابل نفرت ہونا چاہئے۔ اسی چیز کا ہمارے دین میں تقاضا کیا گیا ہے۔ اس جذبے کو بھی بعض اوقات غلط رنگ دے دیا جاتا ہے۔ برائی سے نفرت کو انسانوں تک پھیلا دیا جاتا ہے۔ نفرت برائی سے ہونی چاہئے برے انسان سے نہیں۔

ایک مسلمان کو دین اور اخلاقیات کا داعی ہونا چاہئے اور اسے برائیوں میں مبتلا شخص کو اپنا بھائی سمجھ کر اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہئے نہ کہ اسے برا قرار دے کر دھتکار دے اور وہ اپنی برائیوں میں اور شدت اختیار کر جائے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم سے بھی بہت سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو کیا خوب نصیحت فرمائی کہ اس گناہ گار کو وہ سزا دے جس نے خود کبھی یہ گناہ نہ کیا ہو۔

اس اصول سے استثنا صرف ان لوگوں کا ہے جو بہت ہی زیادہ گھناؤنے قسم کے جرائم میں مبتلا ہوں اور اس سے توبہ بھی نہ کرنا چاہتے ہوں اور انہی میں مبتلا رہنا اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہوں۔

اپنی زندگی میں ان دوستوں کا انتخاب کیجئے جو محبتیں پھیلانے والے اور نفرت سے دور بھاگنے والے ہوں۔ اگر آپ کے قریب ایسے منفی ذہنیت کے حامل لوگ موجود ہیں جو ہر وقت دوسروں کی نفرت کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور دوسروں تک بھی یہ آگ منتقل کرنا چاہتے ہیں تو ان سے مکمل طور پر اجتناب کیجئے ورنہ آپ کی شخصیت کو بھی یہ لوگ تباہ کرنے میں کسر نہیں چھوڑیں گے۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      محبت و نفرت کے جذبات جب ضرورت سے زیادہ شدت اختیار کر جائیں تو ان کے کیا نتائج انسانی شخصیت پر وقوع پذیر ہوتے ہیں؟

      نفرت کے شدید جذبات رکھنے والے منفی افراد کو کس طریقے سے مثبت کیا جا سکتا ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter