بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

بڑی بی کا مسئلہ

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اسحاق ناگی صاحب ہمارے بزرگوں میں سے ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے مجھے فون کر کے ایک مسئلہ میرے سامنے رکھا۔ وہ مسئلہ صرف ان کا یا میرا مسئلہ نہیں ہے، ہم سب کا مسئلہ ہے۔ اس لیے میں اسے اپنے قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں۔

جنت مچھلی کے جال کی طرح ہے جس میں ہر طرح کی مچھلی پھنس جاتی ہے۔ اس کے بعد مچھیرے اچھی مچھلیوں کو تو رکھ لیتے ہیں مگر خراب مچھلیوں کو پھینک دیتے ہیں۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

ایک بزرگ خاتون ناگی صاحب کے پاس تشریف لائیں۔ انہوں نے ناگی صاحب سے کہا کہ وہ دودھ بیچنے کا کام کرتی تھیں۔ انہوں نے کبھی اپنے کام میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں کی۔ لوگوں سے اگر دودھ کے پیسے لیے تو انہیں خالص دودھ ہی بیچا۔ لیکن اب انہیں یہ خیال ہوتا ہے کہ لوگوں کو دودھ دیتے وقت ناپ تول میں جو کمی بیشی ان سے ہوگئی ہوگی، اور ایسا ہونا ناممکن نہیں ہے تو اس کا کیا ہوگا۔ کہیں خدا کے ہاں اس کا حساب کتاب تو نہیں ہوگا۔ یہ کہہ کر وہ بزرگ خاتون بہت روئیں۔ یہاں تک کہ ناگی صاحب کو بھی اس نے رلادیا۔

جس وقت ناگی صاحب نے مجھے لاہور سے فون کرکے یہ بات بتائی میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہسپتال میں موجود تھا۔ ایک مہینے سے میں ہسپتال، لیبارٹریوں اور ڈاکٹروں کو بھگت رہا تھا۔ میں نے ان میں سے ہر شخص کو پیسے لینے کے معاملے میں اتنا حساس پایا کہ اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ مگر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے معاملے میں بیشتر لوگوں کا معاملہ یہ تھا کہ گویا مفت میں اس سے کوئی بیگار لیا جارہا ہے۔

ہماری سوسائٹی میں برسوں سے صرف حقوق کی نفسیات پیدا کی جارہی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شخص صرف لینے کے معاملے میں حساس ہوچکا ہے۔ دینے کے معاملے میں کم ہی لوگ حساس رہ گئے ہیں۔ حالانکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں اپنا فیصلہ اس طرح سنا دیا ہے۔

تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے، یہ جو دوسروں سے لیتے، تو پورا لیتے ہیں، اور جب ان کے لیے ناپتے یا تولتے ہیں تو اس میں ڈنڈی مارتے ہیں۔ کیا یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک دن اٹھائے جائیں گے؟ ایک بڑے دن کی حاضری کے۔اس دن جب لوگ رب العالمین کے حضور پیشی کے لیے اٹھیں گے۔ (المطفّفین83:1-6 )

قرآن پاک کی یہ آیت صاف طور پر بتاتی ہے کہ قرآن نا پ تول میں ڈنڈی مارنے والوں کے لیے ہلاکت کا فیصلہ سناتا ہے۔ناپ تول میں یہ ڈنڈی عام سوچ کے مطابق صرف دکان داروں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اطلاق ہر ایسے معاملے پر ہوتا ہے جہاں لوگ، اس معاہدے پردوسروں سے کچھ لیتے ہیں، کہ وہ اس کے عوض لوگوں کو کچھ دیں گے بھی۔ چاہے دینے والا کوئی دکان دار ہو جو لوگوں کو سامان ضرورت دیتا ہو، چاہے دینے والا اپنا وقت دینے کا پابند ہو یا دفتروں میں ڈیوٹی کرنے والا کوئی ملازم۔ جس شخص نے پورا لینے کے بعد پورا نہ دیا وہ بلاشبہ ہلاک ہوگا۔

ناپ تول میں کمی اگر انسان سے ہوجائے، جیسا کہ ان بڑی بی سے زندگی میں کبھی ہوئی ہوگی، تو قرآن پاک کے مطابق (الانعام153:6) یہ قابل معافی ہے۔ مگر جہاں لوگ لینے اور دینے کے پیمانے مکمل طور پر بدل دیں۔ جہاں یہ طے ہوجائے کہ دودھ بہرحال خالص نہیں دیا جاسکتا، پیٹرول بہرحال پورا نہیں دیا جاسکتا، دفتر میں پورا کام کرنا بہرحال ممکن نہیں ہے تو ایسی قوم کی ہلاکت کے لیے خدا کو قیامت کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

موجودہ دور کیا ہے؟ اس زمانے میں وہ کیا نفسیاتی، عمرانی اور معاشی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں جن سے ہمارے اہل دانش ابھی ناواقف ہیں۔ اس ناواقفیت کے نتائج کیا نکل رہے ہیں؟ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

ہماری سوسائٹی میں بدقسمتی سے ایک سانحہ اور ہوگیا ہے کہ اب یہاں لینے کے بعد پورا نہ دینا، کچھ افراد کا معاملہ نہیں رہا ہے، بلکہ اب یہ سوسائٹی کا معروف طریقہ بن گیا ہے۔ جو شخص دفتر میں اپنا کام محنت سے کرتا ہے وہ بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ ایسا کرنے والا سب سے زیادہ عقلمند ہوتا ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن وہ باالیقین اپنے آپ کو خدا کے احتساب سے بچا رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ لینے کے بعد دینا تو ہر حال میں پڑے گا۔ دنیا میں نہیں دیا تو کوئی بات نہیں خدا قیامت کے دن دلوا دے گا۔ مگر اس روز انسان کے پاس دینے کے لیے سوائے اپنی نیکیوں کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ اس روز اپنی غلطی پر رونے والی بڑی بی کو توجنت میں بلند درجات مل جائیں گے،، مگر جان بوجھ کر دھوکہ دینے والوں کے لیے جہنم کی وہ وادی ہوگی جس سے خود جہنم بھی پناہ مانگتی ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      بڑی بی کا اصل مسئلہ کیا تھا؟ کیا آپ کے ذہن میں بھی کبھی ایسا کوئی مسئلہ پیدا ہوا ہے؟

        حقوق کی جو نفسیات ہمارے ہاں پیدا ہو چکی ہے، اس کے کیا اثرات معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter