بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

احساس برتری اور احساس کمتری

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

بعض انسان کم ظرف ہوتے ہیں۔ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس پر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اسے اپنی کاوشوں کا نیتجہ سمجھتے ہیں۔ اپنی کامیابیوں کے زعم میں وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسروں کو حقیر سمجھنا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرنا ان کی عادت بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنے گرد و پیش ایسے بہت سے کردار ملیں گے۔ غرور و تکبر کی بڑی وجوہات میں مال و دولت، اعلیٰ عہدہ، حسب و نسب اور سب سے بڑھ کر علم اور دین داری شامل ہیں۔

کوئی شخص اپنے منہ سے کھانے پینے والی چیز کے باعث ناپاک نہیں ہوتا لیکن اسی منہ سے جو جھوٹے کلمات نکلتے ہیں، ان کے باعث ناپاک ہو جاتا ہے۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

جدید شہری معاشروں میں اب حسب و نسب کا غرور نسبتاً کم ہو گیا ہے لیکن دیہاتی معاشروں میں اس کی وجہ سے امتیازی سلوک آج بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ مال اور عہدے کا غرور آج بھی اسی طرح قائم ہے ۔ علم اور دین داری کا غرور وہ ہے جس کا شکار سب سے زیادہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دین کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ بعض کم ظرف اہل علم خود کو دوسروں سے زیادہ بہتر سمجھ کر انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہر بات میں "جاہل" کا لفظ بڑی نفرت اور حقارت سے ادا کرتے ہیں۔

بعض لوگ اپنی عبادت کے زعم میں ساری دنیا کو گناہ گار سمجھتے ہیں اور ڈنڈا لے کر سب کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں کافر، مشرک، بدعتی، بے عمل، گستاخ نجانے کیا کیا قرار دیتے رہتے ہیں۔ دین اسلام ایسے تمام رویوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا:

انہ لا یحب المستکبرین۔ (النحل 16:23)

بے شک اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

جو لوگ زمین پر اکڑ کر چلتے ہیں، ان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

ولا تمش فی الارض مرحا ، انک لن تخرق الارض و لن تبلغ الجبال طولا۔ (بنی اسرائیل 17:37) زمین پر اکڑ کر نہ چلو، بے شک تم نہ تو زمین کو پھاڑ سکتے ہو او رنہ ہی پہاڑوں جتنے بلند ہو سکتے ہو۔

اسماء الرجال کا فن کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث کو پرکھنے کا معیار کیا ہے؟ فنون حدیث کی دین میں کیا اہمیت ہے؟ تفصیل کے لئے "علوم الحدیث: ایک تعارف" کا مطالعہ فرمائیے۔

احساس برتری یا غرور و تکبر کے برعکس بعض افراد احساس کمتری کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں کسی بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ایسے والدین، جو اپنے بچوں کو بہت زیادہ دباؤ میں رکھتے ہیں، کے بچوں میں بالعموم احساس کمتری بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس مرض کے شکار لوگوں میں عموماً قوت ارادی اور قوت فیصلہ کی کمی ہوتی ہے۔

احساس برتری ہو یا احساس کمتری، یہ دونوں امراض کسی بھی انسان کی شخصیت پر بہت برا اثر چھوڑتے ہیں۔ ایک متکبر شخص معاشرے میں اپنی عزت اور مقام کھو بیٹھتا ہے۔ اگر کوئی اس کی عزت کرتا بھی ہے تو صرف اس کے سامنے، اس کی عدم موجودگی میں عام طور پر لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں یا پھر اس کی برائیاں کرتے ہیں۔ اسی طرح احساس کمتری کا شکار انسان بھی دوسروں سے ملنے جلنے سے گھبراتا ہے اور اپنے ہی خول میں بند ہو کر رہ جاتا ہے۔

دین اسلام ہمیں غرور و تکبر کے مقابلے میں عجز و انکسار اور احساس کمتری کے مقابلے میں عزت نفس کا تصور دیتا ہے۔ عجز و انکسار کا مطلب احساس کمتری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کم حیثیتی کا اعتراف کرنا ہے۔ ایک عاجز انسان اپنی ہر کامیابی کو اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنے رب کا فضل سمجھتا ہے اور اس کے سامنے سر بسجود ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو وہی مقام دیتا ہے جو خود اسے حاصل ہے۔

دین اسلام ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں ایک انسان کی عزت کو حرم کعبہ کی طرح محترم بتایا ہے۔ احساس کمتری کے شکار انسان کو سوچنا چاہئے کہ اگر اسے ایک مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا بھی پڑا ہے لیکن زندگی میں اسے بارہا کامیابیاں بھی ملی ہیں۔ یہ جو دنیا میں وہ چلا پھر رہا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا اس پر فضل ہی تو ہے۔ شیخ سعدی نے کیا خوب درس دیا ہے کہ جس کے پاس جوتے نہ ہوں ، وہ جوتے پہننے والوں کو نہ دیکھے بلکہ اسے دیکھے جس کے پاس پاؤں ہی نہیں ہیں۔

احساس برتری کا علاج تو اس میں مبتلا شخص اگر خود چاہے تو کر سکتا ہے لیکن احساس کمتری کے شکار افراد کا علاج اس کے دوست اور رشتے دار بھی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے نزدیک کوئی ایسا دوست یا رشتے دار ہے جو اس احساس کا شکار ہے تو اسے حوصلہ دلائیے اور اس میں جینے کی امنگ پیدا کیجئے۔ آپ کی یہ نیکی کبھی ضائع نہیں جائے گی اور ایک انسان کی زندگی سنور جائے گی۔ اس بات کا خیال رہے کہ یہ علاج نہایت محبت اور شفقت سے ہونا چاہئے، طعن و تشنیع کے انداز سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہئے۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      احساس کمتری اور احساس برتری کے کیا نتائج انسان کی شخصیت اور اس کے قریبی لوگوں پر مرتب ہوتے ہیں؟

      ایک معتدل شخص جو احساس کمتری و برتری سے پاک ہو، کی شخصیت کا ایک نقشہ بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter