بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قانون کا احترام

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

دین اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ لاقانونیت اور انارکی کو سخت ناپسند کرتا ہے اور اپنے ماننے والوں کو ایک اجتماعی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ دین ہمیں ایسے تمام احکامات اور قوانین میں اپنی حکومت کی اطاعت کی دعوت دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف نہ ہوں۔ اس مسئلے پر امین احسن اصلاحی صاحب نے اپنی کتابوں "اسلامی ریاست" اور "تزکیہ نفس" میں بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہاں ہم ان کے بیان کردہ نکات کا ایک خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس مسئلے میں اصلاحی صاحب کا موقف امت مسلمہ کے اکثر علماء کے نقطہ نظر کے مطابق ہے۔

نیکی کا آغاز تکلیف دہ لیکن انجام راحت بخش ہوتا ہے جبکہ برائی کا آغاز بڑا مزے دار مگر انجام نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ بنجمن فرینکلن

اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے حکومتیں چار قسم کی ہو سکتی ہیں: پہلی قسم وہ حکومت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی پابندی کی جاتی ہواور دین اسلام کو بطور قانون قائم کر دیا گیا ہو۔ اس حکومت کے بارے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی واضح ہدایات دی ہیں کہ اس کی ہر حال میں اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ ایسی حکومت کی اطاعت نہ کرنے والاجاہلیت کی موت مرتا ہے۔ بشری تقاضوں کے باعث اس قسم کی حکومت میں چند خامیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں، ان کے باوجود ان حکومتوں کی نافرمانی جائز نہیں بلکہ ان خامیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا حکم ہے۔

دوسری قسم کی حکومت وہ ہے جس میں بظاہر تو اسلام کا نام لیا جاتا ہو اور بعض معاملات میں اس کی پیروی بھی کی جاتی ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ظلم اور کرپشن بھی پائی جاتی ہو۔ موجودہ دور کے زیادہ تر مسلم ممالک میں ایسی ہی حکومتیں قائم ہیں۔ ایسی حکومتوں کے بارے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح ہدایت فرمائی ہے کہ ان کی اس وقت تک اطاعت کی جائے جب تک یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف حکم نہ دیں۔ ظلم اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کی جائے اور معاشرے اور حکومت کی اصلاح کی کوشش جاری رکھی جائے۔ اس قسم کی حکومتوں کے خلاف مسلح بغاوت جائز نہیں۔ آئین او رقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے برائی کے خلاف جدوجہد بہر حال مسلمانوں پر اجتماعی طور پر لازم ہے۔

امام شافعی کی کتاب الرسالہ کا آسان اردو ترجمہ۔ قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کو سمجھنے کا طریق کار کیا ہے؟ عام اور خاص سے کیا مراد ہے؟ حدیث کے صحیح ہونے کو پرکھنے کا طریق کار کیا ہے؟ علماء کے اختلاف رائے کی صورت میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

تیسری قسم کی حکومت غیر مسلموں کی حکومت ہے جہاں مسلمانوں کو اپنے دین اور پرسنل لاء کے بارے میں مکمل آزادی ہو۔ اگر ایک مسلمان کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کرکے کسی ایسے ملک میں زندگی بسر کر سکتا ہے جہاں اسے اسلامی ماحول میسر ہو تب تو ٹھیک ہے ورنہ وہ اسی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنے دین پر عمل کرے اور دنیاوی معاملات میں حکومت کی اطاعت بھی کرے۔ ایسی حکومت کے خلاف بھی مسلح بغاوت درست نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کسی کے والدین اگر غیر مسلم ہوں تو اس پر لازم ہے کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ عدل و احسان کا سلوک جاری رکھے، ہاں دین کے معاملے میں ان کی مداخلت گوارا نہ کرے۔ موجودہ دور میں مغربی ممالک کی حکومتیں اس کی مثال ہیں۔

چوتھی قسم کی حکومت وہ ہے جس میں اہل اسلام کو اپنے دین کے بارے میں آزادی حاصل نہ ہو بلکہ انہیں کفر اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہو خواہ اس کے حکمران غیر مسلم ہوں یا نام نہاد مسلمان ہوں۔ ماضی قریب کا سوویت یونین ایسے طرز حکومت کی مثالیں ہیں جہاں دین پر عمل کرنے والوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے دین کو ترک کردیں۔

ایسی صورت میں مسلمانوں کے سامنے تین راستے ہیں: ایک ہجرت، دوسرے مسلح جدوجہد اور تیسرے صبر۔ موجودہ دور میں ویزے کی پابندیوں کی وجہ سے کسی کمیونٹی کے لئے ہجرت کرنا ممکن نہیں رہا۔جہاں تک جہاد کا تعلق ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کوئی آزاد مسلم حکومت اس پر تیار ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ حالات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

اگر حالات ایسے ہیں کہ حکومتی سطح پر مسلح جدوجہد کے ذریعے ظلم و جبر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور اس جدوجہد کی کامیابی کے معقول حد تک امکانات موجود ہیں تو یہ کوشش کی جاسکتی ہے لیکن اگر مسلح جدوجہد کے نتیجے میں محض انارکی ہی پھیلنے کا غالب امکان ہو اور اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہ آتی ہو تو اپنے ایمان کو بچانے کی ممکن حد تک جدوجہد کی جائے کیونکہ اسلام کی نظر میں لاقانونیت اور انارکی ظلم و جبر سے بھی بڑا جرم ہے۔

لاقانونیت اور انارکی کے نتیجے میں ایک محدود پیمانے پر ہونے والا ظلم و جبر وسیع پیمانے پر پھیل جاتا ہے اور پھر ہر کوئی اپنی اپنی طاقت کے مطابق اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگ جاتا ہے۔ عام لوگوں کی دولت پر بدمعاش قبضہ کر لیتے ہیں، خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں رہتیں اور جرائم پیشہ گروہ منظم ہو جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں افغانستان اور صومالیہ اس کی بدترین مثالیں ہیں جہاں کسی کی مال، جان اور عزت محفوظ نہیں۔

صبر کرکے اور معاشرے سے الگ تھلگ ہوکر اپنے ایمان کو بچانے کی ایک خوبصورت مثال اصحاب کہف کی ہے جو اپنے دین و ایمان کو بچانے کے لئے شہر سے باہر غار میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس کوشش کی بہت تعریف کی ہے۔

اگر ہم پاکستان کے حالات پر غور کریں تو ہمارے ملک میں دوسری قسم کی حکومت قائم ہے۔ یہاں ہمیں انفرادی طور پر تو دین پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے، لیکن اجتماعی طور پر نظام حکومت اور معاشرے میں بہت سی خرابیاں موجود ہیں ۔ ان حالات میں اگرچہ ہمارے لئے یہ درست نہیں کہ ہم حکومت سے محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کریں لیکن معاشرے اور حکومت کی خرابیوں پر احسن انداز میں تنقید کرکے ان کی اصلاح کی جدوجہد کرنا بہرحال بحیثیت ایک قوم کے ہم پر لازم ہے۔

یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ ہمارے ملک میں اس کام پر بھی کوئی پابندی نہیں اور ہم کھل کر یہ کام کر سکتے ہیں۔ صرف اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جذبات کے جوش میں خواہ مخواہ کی محاذ آرائی درست نہیں۔

ہمارے معاشرے میں آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد، پچھلے دو سو برسوں سے ہمارے سیاسی رہنما بالعموم ہمیں قانون توڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ چونکہ ملک میں اسلام کا مکمل نفاذ نہیں ہو سکا اس لئے ہمارے سیاسی کارکن سگنل توڑنے، ٹریفک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس طرح کی حرکتوں سے یہ لوگ اسلام کو تو نافذ نہیں کر پاتے اور نہ ہی حکومت کو کوئی بڑا نقصان پہنچا پاتے ہیں لیکن بے چارے عوام الناس کو تنگ ضرور کرتے ہیں جن کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں۔

اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم خود میں قانون کا احترام پیدا کریں اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف نہ ہو تو اس کی پابندی کریں۔ انارکسٹوں اور دہشت گردوں کو کسی معاشرے میں بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      قانون کا احترام کیوں ضروری ہے؟

      ایسے معاشرے میں جہاں قانون کا احترام نہ کیا جاتا ہو، کس قسم کی شخصیات پیدا ہوتی ہیں اور ان کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter