بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سانحوں کے شہر کراچی میں 12 ربیع الاول کا سورج غروب ہوا۔ شہر سے آنے والے تمام جلوس نشتر پارک میں جلسہ کی پہلی نشست میں شریک تھے۔ مسجد کے میناروں سے نغمۂ توحید بلند ہوا۔ حاضرین نے نماز مغرب کی ادائیگی کے لیے صفیں ترتیب دیں۔ نماز شروع ہوئی، مگر اس کے اختتام سے قبل ہی ایک ہولناک دھماکہ ہوا۔جس کے نتیجے میں ممتاز اہل علم سمیت درجنوں افراد خالق حقیقی سے جاملے۔ متعدد زخمی ہوئے۔

علم کے بغیر جلد بازی سے کئے گئے (عمل کا) جوش انسان کو گمراہ کر دیتا ہے۔ سیدنا سلیمان علیہ والصلوۃ والسلام

اس کے بعد وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے۔حسب روایت احتجاج ہوا۔ گاڑیاں، پٹرول پمپ جلائے گئے۔ سوگ منایاگیا۔ کئی دن کے لیے شہر کراچی میں قبرستان کا سا سناٹا طاری رہا۔ کچھ بھی نیا نہیں ہوا۔ ۔ ۔ حکمرانوں کے روایتی بیانات،اپوزیشن کے الزامات،اخبارات کے اداریے، میڈیا کی رپورٹیں، ہمدردی و تاسف کی لہر، معمول کے اعلانات، خفیہ ہاتھوں اور سازشوں کی دریافت۔ ۔ ۔ کچھ بھی تو نیا نہیں۔موت کا رقص بھی وہی اور رقص کے لوازمات بھی وہی۔ جلد ہی سب بھول جائیں گے کیا ہوا تھااور کیوں ہواتھا۔ اب دوبارہ جب کوئی نیا سانحہ ہوگا، جو جلد یا بدیر بہرحال ہونا ہی ہے، تو پھر یہی کہانی نئے مقام اور کرداروں کے ساتھ دہرادی جائے گی۔

ہم نہیں جانتے کہ یہ شہر اور یہ ملک کب تک یوں مقتل بنا رہے گا۔کب تک بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی یہ لہرجاری رہے گی۔ کب تک اہل علم اور اہل مذہب نشانہ بنتے رہیں گے۔ایک بات ہم البتہ ضرور جانتے ہیں۔ وہ یہ کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ ہماری اپنی کمائی ہے۔ مذہبی انتہا پسندی، عدم برداشت، فرقہ واریت، نفرت و عداوت، احتجاج و ہنگامہ آرائی اور انسانی جان کی بے وقعتی کی جو تربیت ایک طویل عرصے سے ہورہی ہے، اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نہیں نکل سکتا۔ اب یہ سب کچھ ہمارے قومی مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا۔ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں قوم کی تربیت کرنے والے ہمارے مفکرین نے کیا بنیادی غلطی کی اور کیے جارہے ہیں جس کے نتائج یہ نکل رہے ہیں۔

ہم نے ہزار سال تک دنیا پر اس طرح حکو مت کی ہے کہ ہمارے مقابلے میں جو اٹھتا ہم اسے عراق و افغانستان میں بدل دیتے تھے۔کتنے ہی صدام حسین اور اسامہ بن لادن ہم سے ٹکرانے آئے مگر ہمارے اقتدار کی ایک اینٹ بھی نہ ہلاسکے۔ ہماری طاقت کے مراکز مدینہ سے دمشق، دمشق سے بغداد اور بغداد سے قسطنطنیہ تک تو یقیناً منتقل ہوئے مگر ہم رہے وہی سول سپریم پاور۔ مگر عروج و زوال کا ابدی قانون حرکت میں آیا اور ہمارے اقتدار کے سورج کو گہن لگ گیا۔ مسلمان غالب سے مغلوب ہوئے۔ خلافت ختم ہوگئی ۔براعظم یورپ میں ہسپانیہ کو گرانے کے بعد برعظیم ہند میں بھی ہماری سلطنت کا سورج غروب ہوا۔بیسویں صدی کے آغاز پر مسلمان دنیا بھر میں سیاسی طور پر غلام بن چکے تھے۔

قرآن اور بائبل کے دیس میں۔ اس سفرنامے کے مصنف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ دنیا میں گھوم پھر کر خدا کی نشانیوں میں غور و فکر کیا جائے۔ یہ نشانیاں اللہ تعالی کی تخلیق کردہ فطرت کی صورت میں ہوں یا اس کی عطا کردہ انسانی عقل نے ان نشانیوں کو تیار کیا ہو، یہ انسان کو ایک اور ایک خدا کی یاد دلاتی ہیں۔ مصنف نے بعض قوموں کے تاریخی آثار کو خدا کے وجود اور اس کے احتساب کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔ تفصیل کے لئے مطالعہ کیجیے۔

یہ وہ صورتحال تھی جس میں ہمارے ہاں احساسِ زیاں پیدا ہوا۔ہماری بدقسمتی یہ ہوئی کہ ہمارے ہاں زیاں کے نام پر صرف سیاسی زوال کو اہم سمجھا گیا اور اس کا ذمہ دار یورپی اقوام کی سازشوں کو قرار دیا گیا ۔یہی ہمارے مفکرین کی بنیادی غلطی تھی ۔کیونکہ ہمارا سیاسی زوال ہمارے علمی اور اخلاقی زوال کا نتیجہ تھا جبکہ یورپی اقوام کے عروج کے پیچھے یہ حقیقت کار فرما تھی کہ انہوں نے ایک طویل سفر کے بعد طاقت اور توانائی کے نئے ذخائر دریافت کیے اور ان کا استعمال سیکھ لیا تھا۔

جب ہم نے اس بات کو نہیں سمجھا تو علم و اخلاق کے اپنے زوال کو دور کرنے اورطاقت و توانائی کے نئے ذخائر کو دریافت کرنے کے بجائے عوامی جذبات کا تمام تر رخ نفرت، غصے، احتجاج اور ٹکراؤ کی طرف موڑ دیا۔اس راستے پر چل کر چند صدی قبل لاکھوں صلیبیوں نے چند ہزار مسلمانوں سے بہت مار کھائی تھی۔آج مسلمان اسی راستے پر چل کر انہی کی نسلوں سے مار کھا رہے ہیں۔

بات صرف اتنی ہی نہیں کہ ہم دو سو سال سے مار کھا رہے ہیں۔ زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ نفرت اور غصے کی یہ آگ ،جلاؤ اور گھیراؤ کا یہ طریقہ، احتجاج اور مظاہروں کی یہ سوچ خود ہمارے معاشروں کو برباد کررہی ہے اور ہم کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتے ۔ ہماری پوری فکری قیادت اس وقت صرف ایک کام کررہی ہے ۔وہ ہے غیر مسلموں کے خلاف نفرت اور انتقام کی فضا بنانا۔ اس فضا میں کوئی تعمیری کام نہیں ہوسکتا۔ صرف تخریب ہوسکتی ہے اور وہی ہو رہی ہے۔

یہ تخریب کبھی غیروں کے خلاف ہوتی ہے اور کبھی اپنوں کے خلاف ہوجاتی ہے۔ جس اصول پر ہم غیر مسلم عوام الناس پر خود کش حملے کرتے ہیں اسی اصول پر ہم اپنے معاشروں میں یہ کام کرتے ہیں۔ جس سوچ کے ساتھ ہم غیر مسلم عوام کی جان و مال کو مباح سمجھ لیتے ہیں اسی سوچ کے ساتھ ہم دوسرے فرقے اور دوسری قومیت کی جان و مال کی بربادی کو معمولی بات سمجھ لیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمیں دنیا کی طاقتور اقوام کی پٹائی بھی سہنی پڑتی ہے اور ایک دوسرے کے ہاتھوں بدترین نقصانات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ مگر ہمارے نام نہاد مفکرین اپنی حقیقی کمزوری کے اسباب دور کرنے کے بجائے تیاری کے بغیر طاقتور اقوام سے ٹکرانے کا مشورہ دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف اپنے بدترین اخلاقی جرائم پر غیر ملکی سازش کا پردہ ڈال دیتے ہیں۔

ان حالات میں ہم اپنی قوم کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ بربادی کا راستہ ہے۔دوسروں کی نہیں اپنی بربادی کا راستہ۔ یہ تخریب کا راستہ ہے ۔ دوسروں کی نہیں اپنی تخریب کا راستہ۔ یہ زوال کا راستہ ہے ۔ دوسروں کے نہیں اپنے زوال کا راستہ ہے۔تعمیر کا راستہ احتجاج سے نہیں صبر سے شروع ہوتا ہے۔ یہ ٹکراؤ سے نہیں اعراض سے شروع ہوتا ہے۔یہ نفرت سے نہیں درگزر سے شروع ہوتا ہے۔یہ غیر مسلموں کو دشمن سمجھنے سے نہیں ان کو اسلام کا مخاطب بنانے سے شروع ہوتا ہے۔ یہ سیاست کے میدان سے نہیں علم کے میدان سے شروع ہوتا ہے۔

اب فیصلہ ہماری قوم کو کرنا ہے کہ اسے کس راستہ پر چلنا ہے۔ دونوں راستے اس کے سامنے ہیں۔ وہ چاہے تو احتجاج، ٹکراؤ، نفرت، انتقام کے راستے پر چلے اور اس کے نتائج کا سامنا نئے نئے سانحات کی شکل میں کرتی رہے یا چاہے تو صبر، محبت، دعوت اور علم کے راستے پر چلے اور اس کے نتائج آنے والے دنوں میں دیکھ لے۔فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے ۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والی انارکی کے اسباب کیا ہیں۔ بیرونی سازشوں سے قطع نظر ہماری اپنی کمزوریاں کیا ہیں جن کے باعث ہمارے معاشرے لاقانونیت کا شکار ہیں؟

      ہم کس طریقے سے اپنی قوم کو تخریب کے راستے سے نکال کر تعمیر کے راستے پر لگا سکتے ہیں۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter