بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

لوز لوز سچویشن Loose-Loose Situation

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

انیس سو ساٹھ کے عشرے میں ہماری دنیا، ایک بائی پولر دنیا تھی۔ دنیا میں دو ہی سپر پاورز تھیں جن کی کشمکش دیگر ممالک کی سیاسی پالیسیوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی تھی۔ 1965 میں امریکا ویت نام کی جنگ میں شریک ہوا۔ یہ جنگ دس سال جاری رہی جس میں امریکہ جیسی سپر پاور ناکام رہی۔ اگرچہ ویت نام اس جنگ میں پوری طرح تباہ ہو گیا لیکن امریکا بھی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہا۔

زندگی کیا ہے؟ محض وقت۔ اگر ہم وقت ضائع کرتے ہیں تو زندگی کو برباد کر رہے ہوتے ہیں۔ ہربرٹ سپنسر

یہی تجربہ 1979 میں سوویت یونین کے ساتھ پیش آیا۔ سوویت یونین نے افغانستان میں اپنی افواج اتار دیں۔ دس سال کی شدید جنگ سے افغانستان تباہ ہو گیا لیکن روس بھی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہا اور بالآخر اپنی افواج کو واپس بلانے پر مجبور ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور اس کی کئی ریاستیں اس سے الگ ہو گئیں۔ 2000 کے عشرے میں امریکہ نے پھر افغانستان اور عراق پر حملہ کیا۔ یہ دونوں ممالک بری طرح تباہ ہو گئے لیکن امریکہ بھی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہا۔ ان جنگوں کے باعث امریکہ کی معیشت کو بہت بڑے بوجھ کا سامنا کرنا پڑا جس سے دنیا میں امریکہ کی سپر پاور ہونے کی حیثیت کو خاصا دھچکا لگا۔

قدیم ادوار اور موجودہ دور میں ایک جوہری فرق وقوع پذیر ہو چکا ہے۔ پہلے زمانوں میں جب افواج آپس میں ٹکرایا کرتی تھیں تو ان کے پاس ایک ہی جیسے ہتھیار ہوا کرتے تھے۔ ان ہتھیاروں کی تعداد میں اگرچہ فرق ہوتا لیکن ان کی کوالٹی میں کوئی بڑا فرق نہ ہوا کرتا تھا۔ جنگیں عموماً میدانوں میں لڑی جاتیں جس کے باعث شہر عام طور پر محفوظ رہا کرتے تھے۔ نقصان عام طور پر فوجوں ہی کا ہوتا۔

موجودہ دور میں ترقی یافتہ ممالک نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کے ہتھیار ایجاد کئے۔ ان ہتھیاروں کے استعمال سے صرف دشمن فوج ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف کمزور ممالک نے ان ہتھیاروں کے جواب میں گوریلا جنگ اور خود کش حملوں کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طریقے سے بھی دشمن فوج کو کم اور عام شہریوں کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات۔ مغربی تہذیب میں وہ کیا عناصر تھے جنہوں نے اہل مغرب کو خدا اور مذہب سے بغاوت پر مجبور کیا؟ موجودہ دور کے الحاد کے خدوخال کیا ہیں؟ کیا یہ ملحدانہ خیالات مسلم دنیا میں بھی اپنے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ان سوالات کے جواب کے لئے اس تحریر کا مطالعہ کیجیے۔

امریکہ اور روس اپنے ہتھیاروں کی فراوانی اور ایٹمی اسلحے کے باوجود ان جنگوں میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ ان جنگوں کی جو قیمت انہیں ادا کرنا پڑی وہ یہ تھی کہ ان کے اپنے معاشرے محفوظ نہ رہ سکے۔ ان کے اپنے ہاں خود کش حملے شروع ہو گئے۔ ان کے اپنے شہری عدم تحفظ کا شکار ہو گئے اور ان کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی۔ روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور امریکہ کی سپر پاور کی حیثیت دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

دوسری طرف ویت نام، افغانستان اور عراق کے مزاحمت کار بھی ان جنگوں سے کچھ حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے اگرچہ امریکہ اور روس کی پیش قدمی کو روک لیا۔ اس سے انہیں سوائے ایک قومی فخر کے اور کچھ نہ ملا لیکن اس کی جو قیمت انہیں ادا کرنا پڑی وہ ان کے اپنے ممالک اور معاشروں کی مکمل تباہی کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ ان ممالک کا انفرا اسٹرکچر بری طرح تباہ ہو گیا۔ صنعتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ سونا اگلتی زمینیں بنجر ہو گئیں۔ بچے یتیم اور خواتین بیوہ ہو گئیں۔ خوراک سمیت ضرورت کی ہر چیز انتہائی مہنگی ہو گئی۔ روزگار ختم ہو گیا۔ عام لوگوں کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہا کہ مرد بھیک مانگنا شروع کر دیں اور خواتین اور بچے انہی فوجیوں کے جنسی استحصال کا شکار ہو کر اپنی روزی روٹی کا کچھ بندوبست کر سکیں۔

انسان ایک بڑی عجیب مخلوق ہے۔ تاریخ کے ان پے در پے تجربات سے وہ کچھ سبق نہیں سیکھتا۔ اگر قدیم دور میں جنگ Win-Loose Situation تھی تو اب موجودہ دور میں یہ Loose-Loose Situation بن چکی ہے۔ پہلے اگر قوموں کے مابین مسائل جنگ کے ذریعے حل ہو جایا کرتے تھے لیکن اب جنگوں سے اس کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کہ دونوں فریق تباہ ہو کر رہ جائیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کمزور فریق بری طرح تباہ ہو جاتا ہے جبکہ طاقتور فریق مکمل طور پر تو نہیں لیکن جزوی طور پر تباہ ہو سکتا ہے۔ اب اقوام عالم کو اپنے مسائل حل کرنے کے لئے جنگ کے علاوہ کوئی اور راستہ تلاش کرنا ہو گا۔

عجیب ہیں کمزور اقوام کے وہ افراد جو اس راستے سے اپنے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں جس راستے پر سپر پاورز ناکام ہو گئیں۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والی انارکی کے اسباب کیا ہیں۔ بیرونی سازشوں سے قطع نظر ہماری اپنی کمزوریاں کیا ہیں جن کے باعث ہمارے معاشرے لاقانونیت کا شکار ہیں؟

      ہم کس طریقے سے اپنی قوم کو تخریب کے راستے سے نکال کر تعمیر کے راستے پر لگا سکتے ہیں۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter