بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ایڈیٹ باکس

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

آج کل یہ بات عام طور پر کہی جارہی ہے کہ ٹیلیوژن کے آنے کے بعد کتاب اور قلم کا زمانہ ختم ہوگیا ہے۔اس کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عصرِحاضر میں الیکٹرونک میڈیا کے عام ہونے کے بعد مطالعے کا رواج بہت کم ہوگیا ہے۔یہ بات ہماری سوسائٹی کے اعتبار سے ٹھیک ہے مگر اہل مغرب کے ہاں آج بھی کتاب علم سیکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ان کے ہاں الیکٹرونک میڈیا خبر،کھیل اور تفریح (Infotainment) کے معاملے میں تو یقیناً بہت زیادہ موثر ہوگیا ہے مگر علم کی دنیا میں آج بھی کتاب و قلم کی حکمرانی ہے۔ ان کے ہاں ٹیلیوژن کو Idiot Box کہا جاتا ہے۔اس یقین کی بنا پر کہ بہت زیادہ ٹیلیوژن دیکھناانسان کی ذہنی سطح کو کم تر کردیتا ہے۔

Watching too much television causes stupidity.

یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔کیونکہ ٹیلیوژن دیکھنے کے عمل میں انسان اپنی عقل کو ،جو اس کا اصل شرف ہے، بہت کم استعمال کرتا ہے۔جبکہ مطالعہ کرنا ایک بھرپور ذہنی ورزش ہے جس میں انسان کی علمی و عقلی صلاحیتیں بے پناہ بڑھ جاتی ہیں۔

مومن ایک ہی سوراخ سے دو بار ڈسا نہیں جا سکتا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

ٹیلیوژن دیکھنے والے شخص کے مقابلے میں کتاب پڑھنے والا شخص اپنے ذہن کا بہت زیادہ استعمال کرتا ہے۔ جب وہ الفاظ پڑھتا ہے تو ان کے معنی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر بات سمجھ میں نہ آئے تو دو تین دفعہ رک کر دیکھتا ہے۔اپنے تخیل کو استعمال کرکے وہ ان کو تصورات میں تبدیل کرتا ہے۔ان کا تجزیہ کرتا ہے۔الفاظ نئے ہوں تو ڈکشنری سے ان کے معنی دریافت کرتا ہے۔اس طرح نہ صرف اس کا علم بڑھتا ہے بلکہ اس کی تخیلاتی طاقت (Imagination Power) اس عمل سے مضبوط ہوتی ہے۔ اس کی تجزیہ (Analysis) کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔چیزوں کو سمجھنے اور اخذ کرنے کی استعداد میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔

جبکہ مطالعہ نہ کرنے اور صرف ٹیلیوژن پر انحصار کرنے والا کبھی اس عمل سے نہیں گزرتا۔ وہ اس Idiot Box پر ہر چیز اپنے سامنے مجسم دیکھتا ہے۔ہر پیغام اور ہر واقعہ آواز، تصویر ،رنگ اور روشنی کی مدد سے اس طرح اس کے سامنے برہنہ ہوکر آجاتی ہے کہ عقل کا استعمال کرنے کی ضرورت بہت کم ہوجاتی ہے۔ آہستہ آہستہ اس کی ذہنی صلاحیت کو زنگ لگنا شروع ہوجاتا ہے ۔ اور آخرکار وہ اتنی کم زور ہوجاتی ہے کہ اور وہ حق و باطل اور صحیح وغلط کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہی کھوبیٹھتا ہے۔ اس کی زندگی بس سنی سنائی باتوں میں گزرنے لگتی ہے۔

دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار۔ یہ تحریر دعوت دین کی اہمیت، دین کا کام کرنے والوں کی شخصیت، دعوت دین کی منصوبہ بندی اور دعوتی پیغام کی تیاری کے عملی طریق ہائے کار کی وضاحت کرتی ہے۔ ان افراد کے لئے مفید جو کہ دعوت دین میں دلچسپی رکھتے ہوں۔

یہ ہماری قوم کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں مطالعے کی روایت جو پہلے ہی بہت کمزور تھی اب کم و بیش ختم ہوتی جارہی ہے۔لوگ اول تو اپنی معاشی اور معاشرتی مصروفیات ہی سے وقت نہیں نکال پاتے۔ اور جو وقت انہیں ملتا بھی ہے وہ ٹیلیوژن کے چینل بدلتے ہوئے گزرجاتا ہے۔ لوگ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے پاس مطالعے کا وقت نہیں ہے یا پھر مطالعہ کرنا انہیں بہت مشکل لگتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص بڑے فخر سے بتائے کہ وہ ورزش نہیں کرتا ۔ ایسے شخص کا جسم بے ڈول اور دل کمزور ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مطالعہ نہ کرنے والے اور کیبل کے چینل بدلتے رہنے والے افراد ذہنی طور پر اسمارٹ نہیں رہتے ۔ذہنی طور پر پسماندہ ہوجاتے ہیں۔ذہنی پسماندگی کی اس سے بڑی نشانی کیا ہوسکتی ہے کہ لوگ خود اپنی جہالت کو فخریہ طور پر بیان کرنے لگیں۔

اجتماعی طور پر جس قوم کے افراد میں مطالعہ کی عادت ختم ہوجائے وہاں علم کی روایت کمزورہوجاتی ہے۔ علم کی مضبوط روایت کے بغیر دنیا کی کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی ۔یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے باجود دنیا میں بہت پیچھے ہے۔

ہمارے ہاں بدقسمتی سے ٹیلیوژن کے سامنے کتاب کوشکست ہورہی ہے۔یہ شکست زندگی کے ہر میدان میںہماری شکست کا سبب بن سکتی ہے۔یہ نوشتہ دیوار ہے ۔ مگر کیا کیجیے اسے پڑھنے کے لیے بھی مطالعے کی عادت ہونی چاہیے جو بدقسمتی سے ہم میں نہیں۔ ایسے میں ہر باشعور شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ مطالعے کی عادت کو فروغ دینے کے لیے کوشش کرے۔آج اس سے بڑی کوئی قومی خدمت ممکن نہیں۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      مطالعے اور ٹیلی وژن کے ذریعے علم کے حصول میں بنیادی فرق کیا ہے؟

      انٹرنیٹ کے مطالعے پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ تبصرہ کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter