بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اپنے آپ کو پہچانیے

 

سوالنامہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے ۔ ( الذاریات56:51 )اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے ( النحل 36:16 )۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے ( الملک 2:67 ) لیکن اس نے انسان کو اس آزمائشی میدان میں تنہا نہیں چھوڑ ا بلکہ وقتاً فوقتاً اپنے پیغمبر بھیجے تاکہ وہ ان ہدایت کے متلاشی نفوس کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیں اور انھیں آلودگی سے پاک کریں ( الجمعہ2:62 ) اس پاکی کا نتیجہ آخرت کی فلاح اور آلودگی کا انجام آخرت کی نا کامی ہے (الشمس 109:91)۔ چنا نچہ نفس کو پاک کرنے کا طریقہ کار انسانوں کے اجتہاد، قیاس اور خواہشات پر نہیں چھوڑ ا بلکہ وحی کے ذریعے انسانیت کو بتا دیا کہ خدائی رضا کا حصول محض ا سلام کو دین کی حیثیت سے ماننا اور اس پر عمل کرنا ہے ( آل عمران 85:3 ) اسی طرح دین کو چند مخصوص عقائد، فلسفوں اور نظریاتی مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس پر عمل کرنے کے لیے ایک واضح شریعت عطا کی ( الجاثیہ 95:45 ) ۔اس شریعت میں انسانی زندگی سے متعلق ہر پہلو کی جز ئیات تک بیان کر دیں تاکہ تمام انسانوں پر اتمامِ حجت ہو جائے اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں خبر نہ تھی ( الملک 11-9:97 )۔

خدا کی شریعت قرآن کے اوراق اور پیغمبر ﷺ کے افعال و اقوال میں موتیوں کی طرح بکھری ہوئی ہے ۔ اس کے ہر موتی پر خدا کی رضا کی مہر ثبت ہے ۔ اگر کسی نے خدا کو راضی کرنا ہے تو اسے رہتی دنیا تک انہی تعلیمات کی روشنی میں عمل کرنا ہے اور اپنی ذہنی اختراع، فلسفہ، رجحان، خواہش اور میلان کو قرآن و سنت کی بیان کردہ حدود کے تابع رکھنا ہے ۔(آل عمران 85:3(

اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ یہ احکامات قرآن کی مختلف سورتوں میں اور پیغمبر کی احادیث میں بالکل واضح طور پر موجود ہیں ۔ ان ہد ایات کا تعلق ایمان ، عبادت، اخلاق، معاشرت، معیشت ، خوردو نوش اور زندگی کے دیگر پہلوؤں سے ہے ۔ چونکہ ایک فرد کو زندگی کے ان تمام ہی شعبوں سے واسطہ پڑ تا ہے ۔ لہٰذا اسے ان اصول و ضوابط کو جاننا اور ماننا انتہائی ضروری ہے ۔ خداکی بندگی کے یہ اصول کسی ایک مقام یا ایک أیت یا حدیث میں موجود نہیں بلکہ یہ ہدایات قرأن اور نبی کریمﷺکی سنت میں مختلف پیرأئے میں موجود ہیں ۔ اسی لئے ایک عام فرداکثر فراموش کر بیٹھتا ہے کہ دین نے اس سے کیا تقاضے کئے ہیں ۔چنانچہ وہ لا علمی میں صراط مستقیم سے روگردانی کر بیٹھتا ہے ۔

سوالنامے کے مقاصد

اس سوالنامے کا بنیادی مقصد ایک ایسی فہرست مرتب کرنا ہے ۔ جس میں تمام مطلوب عقائد ، اعمال صالحہ اور اعمال سیئہ ( برے اعمال ) بیان کر دئیے جائیں جو قرآن اور سنت میں بیان ہوئے ہیں ۔ تاکہ کوئی بھی شخص ایک نظر میں یہ جان لے کہ اس کا خالق کس چیز کا حکم دیتا اور کس سے منع فرماتا ہے ۔ اس سوالنامے میں جو امور بیان ہوئے ہیں ۔ وہ بہت حد تک ایک شخص کی زندگی سے متعلق ان تمام عقائد و اعمال کا احاطہ کرتے ہیں جو دین اسلام میں مطلوب یا ممنوع ہیں ۔

اس سوالنامے کا دوسرا مقصد ایک عام مسلمان کو اس انداز میں دینی احکامات کی جانب توجہ دلانا ہے کہ اس کی دلچسپی بھی بر قرار رہے اور بات اس کی سمجھ میں بھی آ جائے ۔ اسی لیے تمام اوامرو نواہی اور عقائد و عبادات کو سوالات کی شکل میں بیان کیا گیا ہے ۔

اس سوالنامے کا تیسرا مقصد احکامات کی شدت میں فرق کو واضح کرنا ہے مثال کے طور پر زنا کرنا اور چغلی کرنا دونوں گناہ ہیں لیکن زنا ایک قبیح تر گناہ ہے ۔ اسی لیے اسے الگ زمرے میں رکھا گیا ہے ۔

اس کا ایک اور مقصد ایک عام فرد کو یہ حسابی طریقے سے یہ علم دینا ہے کہ وہ کتنا فیصد یا کس حدتک دین کے احکامات کو مانتا اور عمل کرتا ہے ؟ وہ کون سے امور ہیں جہاں اسے اصلاح کی ضرورت ہے ؟ مزید یہ کہ بحیثیت مجموعی اس کی کیا کار کر دگی ہے ؟ در حقیقت یہ مختصر کتابچہ قرآن کی اس ہدایت کی تکمیل کی کاوش ہے کہ تم میں ہر شخص یہ جان لے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ( الحشر18:59(

سوالنامہ اور اعمال نامہ:

آخرت میں ہر فرد کو اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ جسے یہ اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ کامیاب اور جس کو بائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ نا کام ۔ ( الحاقہ 25,19:69 ) ۔ یہ اعمال نامہ خدا کے حکم سے اس کے فرشتے تیار کرتے ہیں جو انسان کی ہر چھوٹی اور بڑ ی اچھائی یا برائی کو نوٹ کر لیتے ہیں اور یہ اعمال نامہ ہر شخص کیلئے حجت ہے جسے پڑ ھ کر وہ خود فیصلہ کر لے گا کہ اس کا مستقر کہاں ہے۔ ( بنی اسرائیل 114-113:17 ) یہ اعمال نامہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص علم سے ترتیب دیں گے اور اس علم تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ ایک شخص نے نماز پڑ ھی تو کس نیت سے پڑ ھی اور کیا یہ نماز قبول کی جا سکتی ہے یا نہیں ۔

دوسری جانب جب ہم اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لیتے ہیں ۔ تو ہم صرف یہ ہی جان سکتے ہیں کہ ہم نماز پڑ ھتے ہیں یا نہیں یا روزہ رکھتے ہیں یا نہیں ، یا توحید کو مانتے ہیں یا نہیں ۔ لیکن ہمارے پاس علم کا کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ نماز، روزے اور عقیدے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہیں یا نہیں ۔

لہٰذا اعمال نامہ اللہ کے کامل ترین علم پر مشتمل ہے اور یہ ہمارے معاملات کی خدا کی بارگاہ میں قبولیت ورَد کا فیصلہ کرتا ہے جبکہ یہ سوالنامہ ناقص انسانی علم پر مبنی ہے جو محض ایک تخمینہ اور انداز ہ ہے کہ ہم کس حد تک دین کے احکامات پر عمل کرتے ہیں ۔ چنانچہ اس سوالنامے کا کسی بھی طرح اعمال نامے سے موازنہ کرنا مرتب اور قاری کے ساتھ زیادتی ہو گی۔

سوالنامے کی خصوصیات :

      یہ سوالنامہ عقائد۔، عبادات، اوامر ، نواہی، اخلاقیات ، معیشت، معاشرت اور دیگر امور سے متعلق اسلامی ہدایات کی ایک لسٹ فراہم کرتا ہے ۔

      یہ تمام ہدایا ت کی نوعیت اور شدت میں فرق واضح کرتا ہے ۔

      یہ ایک فرد کو پوائنٹس کی صورت میں یہ معلومات مہیا کرتا ہے کہ وہ کتنے فیصد دینی ہدایات پر عمل کرتا ہے ۔

      یہ ایک مسلمان کے کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کر کے اصلاح کی جانب راغب کرتا ہے ۔

      اس سوالنامے کے اجزاء براہ راست قرآن کی آیات یا احادیث صحیحہ سے اخذ کیے گئے ہیں جن کا حوالہ موجود ہے ۔

      اس سوالنامے کا تعلق کسی مخصوص فرقے ، تنظیم یا مسلک سے نہیں بلکہ اس کے مخاطب ہر مسلک کے مسلمان ہیں ۔

سوالنامے کا استعمال

یہ دستاویز آپ نے کسی شخص کے پاس جمع نہیں کرانی بلکہ یہ آپ کی ذاتی ملکیت ہے ۔ جب آپ اسے ایک مرتبہ پُر کر لیں تو اپنا اسکور نوٹ کر لیں ۔ ایک مہینے کے بعدد وبارہ اسے پُر کریں اور دیکھیں کہ کیا ترقی یا تنزلی ہوئی ۔ ہر مہینہ اس سوالنامے کو پُر کر کے اپنی کارکردگی معلوم کرتے رہیں ۔ بہتر یہ ہو گا کہ ایک فائل بنا لیں جس میں اس دستاویز کی پُر کی ہوئی کاپیاں لگا دیں ۔ تاکہ آپ ماضی اور حال کی کیفیات کا موازنہ کر سکیں ۔ اور اسی کے مطابق اپنی اصلاح کرتے رہیں ۔ اس طرح آپ کو وہ تمام احکامات ازبر ہوجائیں گے جو آپ کا رب آپ سے منواناچاہتا ہے اور جس کے بارے میں قیامت کے دن وہ آپ سے سوال کرے گا۔

سوالنامہ پر کرنے کا طریقہ

اس سوالنامے میں ہر سوال کے سامنے پانچ خانے ہیں ۔ پہلا خانہ کبھی نہیں ، دوسرا کبھی کبھی تیسرا اکثر، چوتھا ہمیشہ اور پانچواں خانہ نا قابل اطلاق کے زمرے کا ہے ہر سوال کا جواب ان پانچ میں سے کسی ایک باکس میں موجود ہے ۔ چنانچہ آپ اپنے مطلوبہ خانے میں 1 لکھیے۔ اگر وہ سوال آپ سے متعلق نہیں تو نا قابل اطلاقکے خانے میں 1 لکھیے ۔ مثال کے طور پر یہ سوال کہ میں اشیاء میں ملاوٹ یا انکی ذخیرہ اندوز ی کرتا ہوں ایک اشیاء کے تاجر کے لیے تو موزوں ہے لیکن ایک پروفیسر سے غیر متعلق ہے ۔ لہٰذا پروفیسر نا قابل اطلاق کے خانے پر نشان لگائے ۔ اسی طرح حجاب سے متعلق سوال مردوں کے لیے نا قابل اطلاق ہے ۔ چند مخصوص سوالات کے علاوہ ہر سوال مرد اور عورت دونوں کے لئے ہے البتہ آسانی کے لئے مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ۔ باقی تمام خانوں کو خالی چھوڑ دیجیے۔

ا سکور جانچنے کا طریقہ

سوالنامہ پُر کرنے کے بعد آ پ اپنا ا سکو ر فیصد کی صورت میں معلوم کر سکتے ہیں ۔ جب آپ متعلقہ خانے میں 1 لکھیں گے تو کمپیوٹر خود بخود آپ کا اسکور کیلکولیٹ کرے گا۔

ا سکور سے اخذ شدہ نتائج

      اس سوالنامے میں بیان کردہ اجزاء کا تقریبا 94%حصہ ان احکامات پر مبنی ہے جن کو ماننا لازمی ہے اور رُوگردانی گناہ ہے ۔ لہٰذا ایک فرد کو کم از کم 94%ا سکور تو ضرور حاصل کرنا چاہئے ۔ اگر ا سکور 94%سے کم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود اپنی ہی نظروں میں آخرت میں کامیابی سے دور ہیں ۔ چنانچہ اس سلسلے میں اصلاح کی ضرورت ہے ۔ اگر ا سکور94% سے کم ہو تو مندرجہ ذیل نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں ۔

      اگر ا سکور -71% 93%کے درمیان ہے تو اصلاح کی ضرورت ہے اور یہ اصلاح اپنی زندگی کے شب و روز کا جائزہ لے کر کی جا سکتی ہے ۔

      اگر ا سکور 51% - 70% کے درمیان ہے تو معاملہ خاصا بگڑ ا ہوا ہے ۔ اب اصلاح محض شب و روز کے جائزہ سے نہیں ہو گی بلکہ کسی نیک صالح اور دانشمند ساتھی یا رہنما کی ضرورت ہے ۔ اور پھر مضبوط قوت ارادی بھی درکار ہے ۔

      اگر ا سکور 31% - 50% کے درمیان ہے تو آپ خطرے کے دائرے ( Red Zone )میں ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دین کے ایک بہت بڑ ے حصے پر عمل نہیں کر رہے ۔ اس سلسلے میں آپ کو اپنے عقائد ایمان اور نظریہ حیات کو نئے سرے سے دیکھنا ہو گا ۔کیونکہ اتنے کم ا سکور کا مطلب علم کی کمی نہیں بلکہ ایمان اور عقیدے کی کمزوری ہے جو انسان کو انکار آخرت اور انکار خداتک لے جاتی ہے ۔

      اگر ا سکور 11% - 30% کے درمیان ہے تو معاملہ بے حد خطرناک ہے اور آپ کو اس ضمن میں خاصی محنت درکار ہے ۔ تاخیر یا لا پرواہی تباہ کن نتائج کو جنم دے سکتی ہے ۔

      اگر ا سکور 10% سے کم یا منفی ہے تو مندرجہ بالا پوائنٹ نمبر4 میں بیان کردہ تمام ہدایات کو غور سے پڑ ھ لیں ۔ مزید یہ کہ منفی زون (Negative Zone ) کا مطلب یہ ہے کہ آپ دین کے احکامات پرعمل کے مقابلے میں خلاف ورزی کے زیادہ مر تکب ہو رہے ہیں ۔ آپ دیکھ لیں کہ آپ کا ایمان صرف زبانی اقرار تک محدود تونہیں اور اگر ایسا ہے تو آپ خسارے میں ہیں جیسا کہ سورہ عصر میں بیان ہوتا ہے ۔

بے شک انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ( العصر 3-2:103 (

ا سکور کا اشاریہ

      94% سے زیادہ ا سکور: قابل قبول

      71% - 94% : قابلِ اصلاح

      51% - 70% : خراب (Poor)

      31% - 50% : خطرہ (Red Zone)

      11% - 30% : اسلام سے رُوگرادانی

      10% سے کم یا منفی ا سکور : سرکشی

 

(مصنف: پروفیسر محمد عقیل)

 

سوالنامہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter