بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلامی تہذیب اور اختلاف رائے

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

رات کی تاریکی میں مدینے کی ایک گلی میں دو دوست باتیں کرتے ہوئے جا رہے تھے۔ایک نے دوسرے سے کہا، عمر نے خالد کو معزول کر کے اچھا نہیں  کیا۔ دوسرے نے کہا ،ہاں، میرا بھی یہی خیال ہے ۔انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے پیچھے عمر بھی آرہے ہیں اورانہوں نے ان دونوں کی باتیں سن لی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی  آواز بدل کر کہا، تو پھر آپ کے خیال میں اب عمر سے کیا سلوک کرناچاہیے ؟ دونوں نے بلا کسی توقف کے کہا ، عمر سے کیا سلوک کرنا ؟ کیا مطلب ؟ وہ امیر المومنین ہیں ، بات تو ہم انہی کی مانیں گے ، یہ توہماری ذاتی رائے ہے۔ اس پر عمرآگے بڑھے ، اپنا تعارف کروایا اور ان سے کہا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جس نے تم لوگوں جیسے ساتھی عطا کیے ۔ عمر نے کہا جب تک تم جیسے لوگ موجود ہیں، مسلمان شکست نہیں کھا سکتے ۔

سید نا عمر نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہما کو فوج کی سپہ سالاری سے عین اس وقت معزول کر دیا تھا جب کہ ان کی شہرت بام عروج پر تھی اور و ہ ہر معرکے میں کامیابی پہ کامیابی حاصل کیے جا رہے تھے ۔ عوام میں  یہ خیال جڑ پکڑ رہا تھا کہ کامیابی خالد کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے ۔اس خیال کے رد اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ کامیابی صرف اللہ کی مدد سے حاصل ہوتی ہے، عمر نے خالد کو معزول کر دیا۔ عمر کے اس اقدام پر عوا م میں اختلاف رائے پا یا گیا جس کے اظہار کی ایک صورت وہ گفتگو تھی جو اوپر نقل ہوئی ۔ سیدنا عمر نے اس اختلاف رائے کی نہ صرف تحسین فرمائی بلکہ اللہ کا شکر بھی ادا کیا کیونکہ یہ اختلاف رائے کی وہ مثبت اور صحت مندصورت تھی جو معاشرے کو صحیح راہ پر گامزن رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کسی نظام یا سسٹم سے وابستہ رہتے ہوئے اس سے اختلاف رکھنا، یا اختلاف رکھتے ہوئے بھی اس سے وابستہ رہنا اور اس کی ترقی میں اپنا کردا ر ادا کرتے رہنا ،ایک ایسی خوبصورت روایت ہے جو اسلامی معاشرے کا لازمی جزورہی ہے۔کسی بھی سسٹم سے اختلاف کی اجازت نہ دینا اصل میں اس کو الہامی ثابت کرنا ہے ۔یہ عمل جلد یا بدیر خودسسٹم کی تباہی کا باعث بن جاتا ہے۔جس معاشرے یا ادارے میں یہ بات رواج پا جائے وہاں کے افراد میں بدترین قسم کی منافقت جنم لیتی ہے جو غیبت ، چغلی سے ہوتی ہوئی حسد ، کینے اور بغض تک جا پہنچتی ہے اور بالآخر سازشوں کوجنم دیتی ہے ،جس سے نہ صرف ان افراد کا نقصان ہوتا ہے بلکہ ادارے اور معاشرے بھی رو بہ زوال ہوجاتے ہیں۔

یہی وہ نقصان تھا جس سے اپنے معاشرے اور افرا د کو بچانے کے لیے اسلامی معاشرے کے بانی اور قائد سید دو عالم محمد ِعربی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اختلاف رائے کی اجازت دی بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو ایک مہم پر اس ہدایت کے ساتھ روانہ فرمایا کہ عصر کی نماز نہیں پڑھنی جب تک کہ تم فلاں مقام پر نہ پہنچ جاؤ۔ وہاں پہنچنے میں دیر ہوئی او رراستے ہی میں عصر کاوقت ہو گیا۔ اس موقع پر صحابہ کی اس جماعت میں اختلاف ہوا ۔ ایک گروپ نے کہا کہ چونکہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا ہے اس لیے ہمیں یہیں نماز ادا کر لینی چاہیے ۔ دوسرے گروپ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ عصر کی نماز نہیں پڑھنی اس لیے ہم تونہیں پڑھیں گے ۔ اور وہاں جا کر پڑھیں گے چاہے قضا ہی کیوں نہ ہو جائے ۔پہلے گروپ نے کہا کہ اصل میں حضور کی ہدایت کا مطلب یہ تھا کہ تم کوشش کر کے عصر تک وہاں پہنچ جاؤ ۔ اب چونکہ ہم لیٹ ہو گئے ہیں اس لیے ہمیں یہیں نماز ادا کر لینی چاہیے ۔ لیکن دوسرا گروپ نہ مانا۔ اس لیے جن کی رائے نماز ادا کر لینے کی ہوئی، انہوں نے وہاں نماز ادا کر لی جبکہ باقی صحابہ نے وہا ں جاکر قضا ادا کی۔ واپسی پر جب اختلاف رائے کا یہ معاملہ حضور کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے دونوں کی تصویب فرمائی۔ معلوم ہو ا کہ اخلاص کے ساتھ کسی حکم کا منشا سمجھنے میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے اور اس کی ادائیگی کے طریق کا رمیں بھی ۔ لوگ اگر سسٹم کے ساتھ مخلص ہیں تو ان کی عقل پر پہرے بٹھانے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہی نبوی طریقہ ہے ۔

جس معاشرے میں عقل پر پہرے بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے وہاں تعمیر کے بجائے تخریب جنم لیتی ہے کیونکہ عقل ایسی چیز ہے کہ جس کو پابند سلاسل نہیں کیا جا سکتا ۔ اس نے بہرحال اپنا راستہ ڈھونڈنا ہوتا ہے اگر مثبت راستے بند کر دئیے جائیں گے تو پھر یہ منفی راہیں تلاش کر لے گی۔ اس لیے جومعاشرے یا ادارے ترقی کے خواہاں ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اختلاف رائے کی نہ صرف قدر کرتے ہیں بلکہ اس کو پروان چڑھانے کی سعی بھی کر تے رہتے ہیں۔

اسلامی معاشرے میں اللہ کے بعد صرف پیغمبر کی ذات ایسی ہوتی ہے جس کی غیر مشروط اطاعت کی جاتی ہے ۔ پیغمبر کے حکم کے منشا کے سمجھنے میں تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کے حکم کی اطاعت میں کسی اختلاف کی گنجایش نہیں ہوتی۔عزت ، اطاعت او رمحبت کے حوالے سے پیغمبر کی ذات مسلم معاشرے میں ایک ایسا منفرد مقام رکھتی ہے کہ جس کا تقابل کسی بھی لیڈ ر سے نہیں کیا جا سکتا۔اس عالی مقام اور سٹیٹس کے باوجود پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف لوگو ں سے رائے طلب کی بلکہ بعض مواقع پراپنی رائے کے بر خلاف ان کی رائے پر عمل بھی کیااور بعض تہذیبی اور نجی معاملات میں لوگوں کو یہ آزادی بھی دی کہ وہ چاہیں تو پیغمبر کے مشورے پر عمل کریں اور چاہیں تو نہ۔ ایک صحابیہ نے د رخواست کی کہ انہیں طلاق دلوا دی جائے جبکہ ان کے خاوند انہیں بے حد چاہتے تھے ۔ اس بنا پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابیہ سے کہا کہ اگر تم طلاق نہ لو تو بہتر ہے۔ صحابیہ نے کہا کہ یہ آپ کا حکم ہے یا مشور ہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشورہ ہے ۔ چاہے تو عمل کرو او ر چاہے تو نہ ۔ اس پر صحابیہ نے کہا کہ پھر مجھے اس پر عمل سے معذور سمجھیے ۔ چنانچہ حضور نے طلاق دلوا دی اور اسی طرح کا معاملہ آپ نے تابیر نخل کے معاملے میں کیا اور لوگوں سے کہا کہ تم لوگ کھیتی کے معاملات بہتر سمجھتے ہو۔ تم چاہو تو اپنی رائے کے مطابق کرتے رہو۔

یہی وجہ تھی کہ اسلامی معاشرے میں یہ بات کبھی مسئلہ نہیں بنی تھی کہ حدود اور آداب کی رعایت کرتے ہوئے اولاد ، والدین سے اختلاف کر سکتی ہے یادلیل کی بنیاد پر شاگرد استاد سے اختلاف کر سکتا ہے یا مرید پیر سے اوررعایا حاکم سے اختلاف کر سکتی ہے۔ہماری تاریخ میں اس بات پر تو تنقید یا بحث مل جاتی ہے کہ اختلاف کرتے ہوئے آداب کا خیال نہیں رکھا گیا یا حفظ مراتب کو نظر انداز کر دیا گیا لیکن یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ اختلاف رائے کیوں کیا گیا۔اسلامی تہذیب میں جس طرح حفظ مراتب کو ایک بنیادی قدر کی حیثیت حاصل ہے اسی طرح اختلاف رائے اور ا ظہار رائے کی آزادی کو بھی اہم قدر کی حیثیت حاصل رہی ہے ۔

یہ سوال کہ اختلاف رائے کیوں کیا گیا ، مسلمان معاشروںمیں بہت بعد کی پیداوار ہے اس کا نہ اللہ اور رسول کے حکم سے کوئی تعلق ہے اور نہ اہل علم کی روایات سے ۔ ہمارے تمام جلیل القدر علما پر یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں رہی ہے کہ غیر مشروط سمع و طاعت کا حق صرف پیغمبر کی ذاتِ عالی کے لیے خاص ہے  اور ختم نبوت کی وجہ سے اب یہ حق قیامت تک کسی اور کے لیے خاص نہیں ہو سکتا ۔ اور اگر کوئی ایسی کوشش کی جائے گی تو یہ اصل میں ''چھوٹے چھوٹے پیغمبر '' بنانے کی کوشش ہو گی۔ بدقسمتی سے اہل علم کا یہ رویہ ان کے پیروکاروں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا اور انہوں نے انہی اہل علم کی آرا کو اتنا مقدس بنا لیاکہ ان سے اختلاف کی گنجایش کو حق و باطل کی جنگ بنا ڈالا۔

اسی رویے نے اسلامی تہذیب اور معاشرے میں نہ صرف جمود اور اندھی تقلید کو جنم دیا بلکہ انسانوں کو عقل کل اوردیوتا بنانے کی رسمِ قبیح کو بھی پروا ن چڑھایا۔اور اب صورتِ حالات یہ ہو گئی ہے کہ مسلم معاشروں میں جگہ جگہ قائم مذہبی ، سیاسی ، معاشی ، علمی اورعملی دیوتاؤں کو اپنا مفاد اسی میں نظر آتا ہے کہ اختلاف رائے کو ادب ، محبت اور عشق کے نام پر غیر اسلامی باور کرایا جائے تا کہ ان کی 'دیوتائی' بھی قائم رہے اور 'گلشن' کا کاروبار بھی چلتا رہے۔ان حالات میں ہر وہ مسلمان جو اللہ کی رضا کا طالب ، آخرت کی کامیابی اور مسلم معاشروں اور اداروں کی ترقی کا خواہاں ہو،اس پر لازم ہے کہ وہ جہاں بھی ہو بسا ط بھر اس بات کو عام کرے کہ آداب کی رعایت کرتے ہوئے ،اختلاف رائے اسلامی تہذیب کے ماتھے کا جھومر ہے اور اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے عین مطابق ۔ مگر خیا ل رہے کہ اس پیغام اور اس بات کو عام کرنے میں شائستگی اور تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے ورنہ ہم میں اور  ان 'دیوتاؤں ' میں کیا فرق رہ جائے گا۔۔۔!

 (محمد صدیق بخاری)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

۱۔ فرض کیجیے کہ آپ کسی ایسی جگہ کام کر رہے ہیں جہاں آپ کی سوچ پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں اور اپنے سینئرز کے ساتھ معمولی سا اختلاف رائے بھی برداشت نہیں کیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کے احساسات کیا ہوں گے؟

۲۔ اختلاف رائے اور تفرقہ میں کیا فرق ہے؟ دونوں کے تین تین نتائج بیان کیجیے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter