بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اختلاف کے آداب

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

یہ بات واضح ہے کہ ہمیں قرآن اور سنت سے محبت ہے ۔ اور یہ بات بھی مخفی نہیں ہے کہ ہماری اس بحث کا سبب قرآن و سنت سے لگن ہی ہے۔ اور ہم یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اختلاف کی صورت میں سنت سے قریب تر بات اپنانی چاہیے۔ اور اس کی بنیاد بھی رضاء الہی کا حصول ہو۔ اللہ تعالی ہمیں اخلاص عطا فرمائیں۔ اگر آپ مذکورہ بالا باتوں سے اتفاق کرتے ہیں، اور یقینا کرتے ہوں گے، تو آگے پڑھیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا آپ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ اختلاف رائے کا وجود فطری امر ہے۔ اور اختلاف عموما جہاں نصوص (قرآن و حدیث کی عبارت) کے فہم میں فرق ہونے کی وجہ سے ممکن ہے تو وہاں اس کا سبب علم میں کمی و بیشی بھی ہوسکتا ہے۔ جبکہ بعض اوقات چیزوں کو پرکھنے کا معیار (Criteria) اور اصول و ضوابط میں فرق اختلاف کا باعث ہوتا ہے۔ ان سب کے علاوہ ایک اور وجہ ،جو عموما ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے، ضد، تعصب اور انا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اس سے محفوظ رکھیں۔ میں اس بحث میں پڑنا چاہتا کہ دوسرے شخص کے ضد اور تعصب میں آنے کی وجہ بھی بعض اوقات ہمارا اپنا رویہ ہوتا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اختلاف رائے کوئی اجنبی معاملہ نہ تھا، کئی ایک موقعوں پر وہ دوسرے سے اختلاف رائے رکھتے۔ اور اس کا سبب فہمِ نصوص میں اختلاف کے ساتھ بسا اوقات علم نصوص میں کمی بیشی بھی تھا۔ مگر جب غلط فہمی سے صحیح فہمی کی طرف سفر کیا یا عدم علم سے علم کے زینے پر چڑھے تو اپنے رائے تو بے دھڑک بدل ڈالا۔

کیا ہم اتنی جرات رکھتے ہیں کہ اپنی بات کے کا ضعف واضح ہونے کے بعد کھلے عام اعتراف کر لیں؟اگر جواب ہاں میں ہے تو آگے بڑھیے ابھی تک ہم متفق ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی مسئلہ میں آپ سے مختلف رائے رکھتا ہے ، اور متبع سنت ہونے کے علاوہ دین کے ساتھ مخلص بھی ہے تو اس کا آپ سے مختلف الرائے ہونا ، اس سے نفرت کا سبب قرار نہیں پا سکتا ہے۔ اگرچہ آپ کو ہزار بار ہی یقین ہو کہ آپ درست رائے پر ہیں۔ قابل نفرت ہونا تو درکنار، اللہ تعالی تو مخلص مجتہد کو اجر سے نواز رہے ہیں۔اب یقینا آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اسے بتانا تو آپ کا فریضہ ہے۔ آپ یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں۔ اسے وہ کچھ ضرور بالضرور جسے آپ درست سمجھ رہے ہیں مگر اس طریقے سے التي هي احسن۔ شريعت اسلامیہ آپ کو اپنے رائے کے اظہار کے لیے صرف ایک راستہ فراہم کرتی ہے اور وہ صرف احسن انداز اور طریقہ ہے۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اچھے ترین طریقہ سے اپنی رائے کا اظہار کرنا ہم پر فرض ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دوسرے سے اختلاف رکھنے کے باوجود بھی احترام کا دامن نہیں چھوڑا۔

یہ تو تصویر کا ایک رخ آپ نے ملاحظہ فرمایا ۔اب ذرا دوسرے رخ کی طرف بھی التفات کیجئے۔ جس طرح آپ اپنے آپ کو درست سمجھ رہے ہیں، بعینہ مخاطب و فریق ثانی بھی اسی نفسیات میں جی رہا ہے۔ اور جس طرح آپ درست بات کو (جو آپ کے نزدیک درست ہے) پہنچانا اپنا فریضہ خیال کرتے ہیں اسی طرح مسلمان ہونے کے ناطے وہ بھی اس عقیدہ پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جس طرح آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کی بات دھیان اور توجہ سے سنی جائے، بعینہ دوسرا شخص بھی یہی چاہتا ہے کہ اس کی بات بھی دھیان اور توجہ سے سنی جائے۔ اس وجہ سے اخلاقیات او رتہذیب آپ دونوں کے لیے یہ دائرہ کھینچتی ہے کہ مخاطب کی بات کوپورے انہماک سے سنیے، ایسے کہ جیسے آپ اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نہ کہ آپ کی باڈی لینگویج (Body language) چیخ چیخ کر بتلا رہی ہو کہ آپ تو محض بات ختم ہونے کے منتظر ہیں (ویسے ہمارے یہاں یہ بھی غنیمت ہے) اور بات ختم ہوتے ہی اپنی رائے تو تھوپنے کی کوشش کریں گے۔ انہماک اور لگن دوسرے کی بات سننے کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوجاتی ہے جب ہم انسان ہونے ناطے ہم اس بات پر یقین رکھیں کہ غلطی کا امکان مجھ سے بھی ہے۔

اگر آپ کا جواب اثبات اور ہاں میں ہے تو آپ کا مزید ساتھ نصیب ہورہا ہے۔آپ کی یہ ہاں بہت اہم ثابت سبق دے رہی ہے کہ ہمیں اپنی رائے کے درست ہونے کا یقین ہے اس امکان کے ساتھ کہ یہ غلط بھی ہوسکتی ہے۔ اور مخاطب کی رائے کو ہم غلط سمجھتے ہیں اس امکان کے ساتھ کہ وہ درست بھی ہوسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب بھی کسی مسئلہ میں اختلاف ہو جائے تو سب سے پہلے رب تعالی کے سامنے سر بسجود ہو کر حق تک رسائی کے طلب گارہونا چاہیے، اور پھر اپنی تئیں جتنی جستجو و سعی ممکن ہو کی جائے۔

(محمد شکیل عاصم)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com , mubashir.nazir@islamic-studies.info

غور فرمائیے!!!

۱۔ اختلاف رائے کی صورت میں ہمیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟

۲۔ ہمارے ہاں لوگ جب اختلا ف کرتے ہیں تو وہ اخلاقیات کی کن حدود کو پامال کرتے نظر آتے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html