بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب سے تبدیلی تک

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

آپ نے یقینا ایسی کئی کتابوں کے بارے میں سنا ہو گا جو پڑھنے والے کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتی ہیں۔

جنہیں پڑھنے کے بعد پڑھنے والا خود کو ایک بہتر انسان محسوس کرتا ہے۔ اس کی سوچ میں وسعت آتی ہے یا وہ اپنے اندر ایک نیا حوصلہ اور امید ڈھونڈ لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کوئی بڑی سے بڑی کتاب بھی انسان کو نہیں بدل سکتی جب تک خود اس کے اندر اپنے آپ کو بدلنے اور بہتر بنانے کی خواہش موجود نہ ہو۔ دو شخص ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں ایک اس سے بہت متاثر ہوتا ہے اور اپنی سوچ بدل لیتا ہے جبکہ دوسرا شخص اسے پڑھ کر کچھ بھی ایسا محسوس نہیں کرتا کہ وہ اپنے اندر کوئی مثبت تبدیلی لے کر آئے۔

سمجھنے والا نکتہ یہ ہے کہ کتاب نہیں بلکہ خود انسان اپنے اندر تبدیلی کو جنم دیتا ہے۔ جب آپ پڑھنے کے ساتھ ساتھ غور و فکر بھی کرتے ہیں، اپنے پہلے سے قائم شدہ تصورات کا جائزہ بھی لیتے ہیں اور خود کو بدلنے کے لئے تیار بھی رہتے ہیں تو صرف اسی وقت کتاب اپنا اثر دکھاتی ہے اور آپ کے اندر مثبت تبدیلی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

اس مرحلے پر میں آپ کو دو منظر دکھانا چاہتا ہوں، پہلے منظر میں ایک طالب علم کتاب پڑھ رہا ہے، وہ کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر وہ اس عمل سے پوری طرح بیزار دکھائی دے رہا ہے۔ وہ اس سے ذرا بھی لطف اندوز نہیں ہو رہا۔ اس کے ذہن پر صرف ایک ہی خوف سوار ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ کل اسکول میں اس کتاب کے بارے میں ہونے والا ٹیسٹ پاس کرے۔ اس کتاب میں کن دلچسپ کرداروں کا ذکر ہے، کتاب میں کس جگہ کوئی ڈرامائی عنصر آتا ہے، اسے ان چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے چہرے پر حیرت ہے نہ ہی تجسس کی کوئی کیفیت، وہ جذباب سے عاری ہے۔ وہ صرف یاد کر رہا ہے اور کل ہونے والے ٹیسٹ کا خوف اس پر پوری طرح مسلط ہے۔

دوسرے منظر میں ایک شخص کتاب پڑھ رہا ہے۔ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے سامنے اپنی لاعلمی اپنی غفلت اور کمزوریوں کا نقشہ بھی آ رہا ہے۔ اسی حالت میں اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ جو کتاب کے صفحات گیلے کرتے جا رہے ہیں۔ وہ کہاں بیٹھا ہے، اسے اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ پوری طرح کتاب میں کھو چکا ہے۔ کتاب کا ایک ایک لفظ تاثیر سے بھرا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی اپنے آپ کو بدلنے اور بہتر بنانے کے لئے پوری طرح چوکس ہے۔

پہلے منظر میں کتاب پڑھنے والا اپنے اندر کوئی بھی مثبت تبدیلی لانے میں ناکام ہے جبکہ د وسرے منظر میں کتاب کی تاثیر صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ بعض اوقات بدلنے والے ایک چھوٹی سی تحریر یا مقولہ پڑھنے سے بھی بدل جاتے ہیں۔ میں نے ایک بڑے شخص کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ وہ ایک عام سا شخص تھا۔ اسے کہیں سے ایک کاغذ کا ٹکڑا ملا، اس پر لکھی تحریر نے اس پر اتنا اثر ڈالا کہ اس نے ایک مختلف زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا اور بڑے لوگوں میں اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہو گیا۔ جو لوگ کتابوں کو سنجیدگی سے پڑھتے ہیں وہ اپنی زندگیوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

کچھ لوگ اپنی کتابوں سے حاصل ہونے والے علم کی بدولت مفلسی کے چنگل سے باہر نکل آتے ہیں ذہنی سکون سے مالا مال ہوتے ہیں اور مہلک بیماریوں پر قابو پا لیتے ہیں۔ کچھ لوگ انہی کتابوں کی بدولت مایوسی کے اندھیروں سے نکل آتے ہیں اور اپنی زندگیاں نئے ولولے اور جوش کے ساتھ نئے سرے سے شروع کرتے ہیں۔ کچھ لوگ انہی کتابوں سے سیکھتے ہیں کہ انسانوں سے محبت کرنا اور ان کی خدمت کرنا زندگی کا اصل مقصد ہے۔ کچھ لوگ انہی کتابوں کی بدولت منفرد سوچ اور تخلیق کے رازوں سے آشنا ہوتے ہیں۔

کوئی بڑی کتاب ہماری زندگی کو کسی حد تک متاثر کر سکتی ہے، اس کی شاندار مثال لیسا کی کہانی ہے۔ لیسا کی عمر 22 سال تھی اور وہ ایک کمپنی میں سافٹ ویئر انجینئر تھی۔ اس کی ملازمت اچھی تھی لیکن وہ سمجھتی تھی کہ اس ملازمت میں اس کی پوری شخصیت کا اظہار نہیں ہو رہا۔ وہ سوچتی تھی سکول کے زمانے میں وہ اس سے کچھ مختلف بننے کا خواب دیکھتی تھی یا اس کے قریبی لوگ اسے کسی مختلف شخصیت کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ یہی سوچ اسے اپنی زندگی کے مقصد کی تلاش پر مجبور کرتی رہتی تھی۔ وہ کمپنی میں اپنی ایک سینئر خاتون سے بڑی متاثر تھی، اس خاتون کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ اور اطمینان اسے بہت متاثر کرتا تھا۔ سینئر خاتون نے لیسا کو سٹیفن کووے کی کتاب پر اثر لوگوں کی سات عادات پڑھنے کا مشورہ دیا۔

اس کتاب نے لیسا کو ایک مختلف انداز سے جینا سکھایا دیا۔ سٹیفن کووے کے مشورے کہ اپنی زندگی کا انجام ذہن میں رکھ کر زندگی گزاری جائے نے اسے بہت متاثر کیا۔ وہ اس بات پر سوچنے لگی کہ مرنے کے بعد لوگ اسے کن کامیابیوں کے حوالے سے یاد رکھیں گے۔ اس نے سیکھ لیا تھاکہ وہ صرف وہی کام کرے گی جو اس کے لئے اہم ہیں۔ اس نے اپنی پوری زندگی کا جائزہ لیا اور اپنی کئی خواہشات اور منصوبوں کو ترک کر دیا۔ اس نے اپنے اندر کی آواز محسوس کی تو اسے لگا کہ سافٹ ویئر انجینئر کے بجائے موٹیویشنل سپیکر بننا اس کی زندگی کا مقصد ہے۔ آنے والے برسوں میں اس نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں ولولہ جوش اور امید کی روشنی پیدا کی۔ وہ اپنا ہر دن اس طرح گزارتی رہی جیسے وہ چاہتی تھی کہ دنیا اسے یاد رکھے۔

لیسا کی زندگی میں تبدیلی لانے والی کتاب سات عادات بیسویں صدی میں لکھی گئی اہم کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ دیانتدارانہ اور پروقار زندگی گزارنے کا پیغام دیتی ہے۔ معروف مصنف انتھونی رابز نے اس کے بارے میں کہا یہ کتاب ضرور خریدیں لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اسے استعمال بھی کریں۔ کسی بڑی کتاب کی سچائیوں کا اطلاق اپنی زندگی پر کرنا دشوار ہوتا ہے۔ سات عادات کے مصنف نے خود اقرار کیا کہ اپنی اس کتاب میں میں نے جو باتیں لکھی ہیں ان پر عمل کرنے کے لئے مجھے خود بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن یہ محنت ضروری بھی ہے اور اطمینان بخش بھی، یہ میری زندگی کو معنی دیتی ہے۔

جب آپ پڑھیں تو اپنے سامنے کوئی واضح مقصد بھی رکھیں، اسی صورت میں پڑھنا ہمارے لئے فائدہ مند ہوتا ہے۔ ڈیل کارنیگی اپنی عظیم کتاب پریشان ہونا چھوڑیئے اور جینا شروع کیجئے میں اپنے قارئین کو یہی مشورہ دیتا ہے۔ اپنی کتاب کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس کتاب کے پانچ باب پڑھ جایئے، اگر انہیں پڑھنے کے بعد آپ کو اپنے اندر ایک نئی قوت کا احساس نہ ہو جس سے آپ اپنی پریشانیوں پر قابو پا سکیں اور آپ کے دل میں نئی زندگی کی تڑپ پیدا نہ ہو تو اس کتاب کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیجئے۔ یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں۔ مصنف کے خیال میں اگر قارئین پرانی عادات کو چھوڑ کر نئی زندگی اپنانا نہیں چاہتے تو کتاب ان کے لئے کسی طرح کار آمد ثابت نہیں ہو گی۔

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک بیٹ سیلر کتاب پڑھی، اس میں مصنف اپنے قاری کو بڑا کارآمد مشورہ دیتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک وقت میں قاری کتاب کا ایک باب پڑھے کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اگلا باب پڑھے۔ اس طرح اسے یہ سوچنے کا وقت ملے گا کہ کتاب اس سے کسی قسم کی تبدیلی کا تقاضا کر رہی ہے۔ مصنف کا کہنا تھا کہ کتاب کو اس طرح پڑھیں کہ آپ کتاب کے ساتھ Interact کریں۔ اس کے اہم جملوں کو انڈر لائن کریں اور پڑھتے ہوئے اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو حاشیے میں تحریر کرتے جائیں۔

ایک دلچسپ حکایت ہے کہ ایک شخص دانائی اور بصیرت کے حصول کے لئے ایک درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس شخص نے اپنا مدعا پیش کیا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی اور جواب کا انتظار کرنے کے بجائے بولتا رہا۔ درویش خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔ اسی دورن درویش نے اس کے پیالے میں چائے ڈالنا شروع کی، پیالہ بھر گیا لیکن درویش اس میں چائے ڈالتا رہا۔ یہاں تک کہ چائے باہر گرنے لگی، وہ شخص چلانے لگا یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ پیالہ بھر چکا ہے اور آپ اس میں چائے ڈالتے جا رہے ہیں۔ درویش نے کہا جب تک تم اپنے ذہن کے پیالے کو خالی نہیں کرو گے کچھ نہیں سیکھ پاؤ گے۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ کچھ نیا جاننے کے لئے ذہن کو پہلے سے قائم شدہ تصورات سے خالی کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

آپ اس بات پر بھی غور کریں سکولوں اور کالجوں میں طالب علموں کو ایک طویل عرصے تک اعلیٰ ادب پڑھایا جاتا ہے۔ اس کوشش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ عملی زندگی میں بھی اعلیٰ ادب کی سچائیوں سے فیض یاب ہوتے رہیں۔ لیکن عملی زندگی میں ان کی اعلیٰ ادب سے دلچسپی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ پوری زندگی کوئی اچھی کتاب کھول کر بھی نہیں دیکھتے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ طالب علم صرف مجبوری کے باعث کتابیں پڑھتے ہیں۔ تعلیمی ادارے طالب علموں کا کتابوں سے دیرپا تعلق پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ مطالعہ کو مؤثر بنانا اور اس سے زندگی بہتر بنانا خود ہمارے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ اگر ہم خود بدلنے کے لئے تیار نہ ہوں تو کوئی بڑی سے بڑی نصیحت بھی ہمارے لئے کارگر ثابت نہیں ہو گی۔

(مضمون نگار سپیکر اور ٹرینر ہیں، نوجوانوں کے لیے مثبت نفسیات، تخلیقی صلاحیت، ہیومن ریسورس منیجمنٹ جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں)

(عاطف مرزا، facebook/atif.mirza.56)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com , mubashir.nazir@islamic-studies.info

غور فرمائیے!!!

۱۔ کیا آپ ہر ماہ ایک نئی کتاب کے لیے وقت نکالتے ہیں؟اگر نہیں، تو اس کی وجہ کیا ہے؟

۲۔ آپ کس طریقے سے کتاب پڑھتے ہیں اور اس میں کن کن پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html