بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

تخیل کی قوت

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

کسی شہر میں ایک گمنام آرٹسٹ رہتا تھا۔ وہ کوئی ایسا فنی شہ پارہ نہیں بناسکا تھا جو اس کی کامیابی کی بنیاد بنتا۔

ایک دن اس نے ایک مفلس شخص دیکھا جس کا چہرہ افسردگی اور پریشان حالی کی منہ بولتی تصویر تھا۔ اس کی آنکھوں میں مایوسی ہی مایوسی تھی۔ آرٹسٹ کے ذہن میں ایک عجیب سا خیال آیا، اس نے اس مفلس شخص کو اپنے سامنے بٹھایا اور اپنے رنگوں سے اس کی تصویر بنانے لگا۔

آرٹسٹ نے تصویر میں اس شخص کے چہرے کو ایسا روشن اور تروتازہ بنایا کہ وہ پر عزم اور پروقار دکھائی دینے لگا۔ اس کی آنکھوں میں اس نے امید کی چمک پیدا کردی۔ جب آرٹسٹ نے اس شخص کو تصویر دکھائی تو وہ حیران رہ گیا کہ کیا وہ ایسا بھی دکھائی دے سکتا ہے۔ آرٹسٹ نے اسے کہا وہ اسے ایسے شخص کے طور پر ہی دیکھ رہا ہے۔ مفلس شخص نے فیصلہ کیا وہ اپنی زندگی بدلے گا اور کامیاب اور خوشحال انسان بنے گا۔ اس نے ذہن کے فریم سے اپنی تصویر ہٹا دی اور اس کی جگہ آرٹسٹ کی بنائی ہوئی نئی تصویر فٹ کردی۔ ایک دن وہ شخص اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

آرٹسٹ نے ایک بہترین فنی شہ پارہ بنالیا، اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایک انسانی زندگی کو بھی ایک شاہکار میں بدل دیا تھا۔ ہم کیا بن سکتے ہیں اور کیا کرسکتے ہیں۔ اس کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ہمارا اپنے بارے میں کیا تصور ہے۔ اس تصور کو سیلف امیج کہا جاتا ہے۔ تخیل انسان کی اہم ترین صلاحیت ہے۔ انسان اپنے ذات کے بارے میں جو تخیل قائم کرتا ہے اسی کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔

کامیابی کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ انسان اپنا سیلف امیج بڑے سے بڑا رکھے۔ عام لوگ اپنی اہلیت اور صلاحیت سے کم سطح پر زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ اسی لیے وہ حقیقی اطمینان، خوشی اور کامیابی نہیں حاصل کر پاتے۔ خاص لوگ خود سے بڑی توقعات وابستہ کرتے ہیں۔ اپنے ذہن میں خود کو کامیاب ہوتا دیکھتے ہیں۔ اس تصویر کو ذہن میں دھندلا نہیں ہونے دیتے اور پھر اپنے عزم اور ثابت قدمی سے اپنی منزل حاصل کرلیتے ہیں۔ عام لوگ خود پر اعتماد نہیں رکھتے، ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں، بہانے تراشتے ہیں اور حالات کے مکمل سازگار ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ وہ تنقید اور مسترد کیے جانے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ کسی بھی ناکامی سے بچنے کے لیے وہ اپنے اہداف نیچے سے نیچے رکھنے لگتے ہیں۔

ہمارے اردگرد ایسی کئی کہانیاں ہیں جن میں لوگوں نے اپنے ذہنوں میں اپنے لیے بہترین تصورات قائم کیے اور پھر انہیں حاصل کرلیا۔ ایسی مثالیں بزنس، آرٹ، سائنس، سیاست، ادب اور کھیل سمیت سب شعبوں میں موجود ہیں۔ دنیا کی معروف کمپیوٹر کمپنی آئی بی ایم، 1925ء میں ایک چھوٹی سی کمپیوٹر کمپنی تھی۔ اس کے چیئرمین نے اس کمپنی کے نام کے ساتھ انٹرنیشنل کے لفظ کا اضافہ کردیا۔ وہ اسے ایک عالمی کمپنی بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ لوگ حیران تھے یہ چھوٹی سی کمپنی عالمی سطح پر اپنی شناخت کیسے قائم کرسکتی ہے۔ لیکن ٹائم واٹسن اپنے خواب کو حقیقت بنانے میں کامیاب ہوگیا اور آئی بی ایم ایک عالمی کمپنی بن گئی۔

ڈائلمر نے 1890ء میں اپنی فیملی کو ایک پوسٹ کارڈ لکھا اور اس پر ایک تین کونوں والا ستارہ بنایا۔ اس نے انہیں لکھا کہ وہ ایک بڑا کام کرے گا اور یہ ستارہ اس کی پہچان بنے گا۔ اس نے اپنی بات سچ کر دکھائی۔ اس نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر دنیا کی ایک بڑی کمپنی مرسڈیز کی بنیاد رکھی اور وہ ستارہ اس کی پہچان بنا۔

کمپیوٹر آج ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے۔ اس کی ایجاد کے ابتدائی دنوں میں ایسا کوئی تصور نہیں تھا کہ اسے عام لوگ استعمال کریں گے۔ بل گیٹس نے ایسا ممکن کردکھایا۔ جب وہ یونیورسٹی کا طالب علم تھا تو وہ اپنے ذہن میں ایک سافٹ ویئر کی تصویر بنایا کرتا تھا جس کی مدد سے عام لوگ بھی کمپیوٹر استعمال کرسکیں۔ اس نے اپنی اس ذہنی تصویر کو کاغذ پر منتقل کیا اور ایک ایسا سافٹ ویئر تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ بل گیٹس نے معروف کمپنی مائیکروسافٹ کی بنیاد رکھی۔ اس کا شمار دنیا کے مؤثر ترین افراد میں کیا جاتا ہے۔

1957 میں ایک 10 سالہ بچے نے فٹ بال کا عظیم کھلاڑی بننے کا خواب دیکھا۔ وہ غریب والدین کا بیٹا تھا، فاقوں کے باعث ہڈیوں کی بیماری کا شکار بھی ہوا۔ یہ لڑکا اس وقت کے ایک بڑے کھلاڑی جم براؤن سے ملنے کے لیے گھر سے نکلا۔ا اس کے پاس میچ کا ٹکٹ خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے لیکن وہ کسی نہ کسی طرح اس بڑے کھلاڑی کا آٹو گراف لینے میں کامیاب ہوگیا۔ اس لڑکے نے جم براؤن سے کہا کہ میں ایک دن تمہارے تمام ریکارڈ توڑ دوں گا۔ اس لڑکے کا نام اوجے سمپسن تھا اور ایک دن اس نے جم براؤن کے بیشتر ریکارڈ توڑ دیئے۔

اسی طرح کی ایک اور کہانی ایک طالب علم کے بارے میں ہے جب اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو اس کے پاس ایک دھات کا بنا علامتی نشان تھا۔ وہ اس کا نقش ہر وقت اپنے ذہن میں رکھتا تھا مگر اس کے بارے میں کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ یونیورسٹی میں تعلیمی سفر کے اختتام پر اسے بہترین طالب علم کا ایوارڈ دیا گیا۔ جب وہ انعام وصول کرنے سٹیج پر جارہا تھا تو وہ علامتی نشان اس کی جیب میں تھا۔ یہ نشان درحقیقت اس ایوارڈ کے پہلے حرف پر مشتمل تھا۔ یہ طالب علم کو سارے تعلیمی سفر میں یہ یاد دلاتا رہا کہ اس نے سب سے بڑا ایوارڈ حاصل کرنا ہے۔

تخیل جب منفی انداز میں کام کرتا ہے تو ہم صرف پریشان ہوتے ہیں اور کام سے پہلے ہی ناکامی تسلیم کرلیتے ہیں۔ تخیل جب مثبت انداز میں کام کرتا ہے تو ہم خواب دیکھتے ہیں، بڑے منصوبے بناتے ہیں، خود سے بڑی توقعات وابستہ کرتے ہیں اور تخلیق کرنے لگتے ہیں۔ تمام انسانی ترقی تخیل کی کرشمہ سازی کا نتیجہ ہے۔ بلند حوصلہ لوگ اپنے ذہن میں کسی شے کا مثالی روپ بناتے ہیں اور پھر اسے حقیقت بنادیتے ہیں۔ بے شمار ایجادات، تصانیف، سافٹ ویئر، پراڈکٹس اور تخلیقات اسی طریقے سے ہمارے سامنے آتی ہیں۔ کسی شے یا منصوبے کا مثالی روپ ہمارے ذہن میں جتنا زیادہ واضح ہوگا اسے حاصل کرنا اتنا ہی آسان ہوجاتا ہے۔

کامیاب انسان اپنے ذہن میں خوبصورت اور حیرت انگیز تصویریں بنانے میں مصروف رہتا ہے۔ وہ چشم تصور سے دیکھتا ہے کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرچکا ہے یا اپنی منزل پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے ذہن میں بسنے والی تصویریں اسے پیشگی مشاہدہ کرواتی ہیں کہ اس کا خواب حقیقت بن چکا ہے۔ اس کا آئیڈیا زبردست نتائج پیدا کرچکا ہے یا اس کا پراجیکٹ کامیابی سے مکمل ہوچکا ہے۔

 آپ کا تخیل آپ کی ذاتی تجربہ گاہ ہے۔ آپ یہاں کاموں کی پیشگی مشق کرسکتے ہیں، خود کو راستے میں آنے والی رکاوٹیں عبور کرتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ اس تجربہ گاہ میں آپ امکانات کو حقیقت بنتا ہوا بھی دیکھ سکتے ہیں۔ آرکیٹکٹ بھی اپنے ذہن میں عمارت کا خاکہ بناتا ہے اسے کاغذ پر منتقل کرتا ہے اور پھر ایک دن وہ عمارت حقیقت بن جاتی ہے۔ کئی ایسے مصنفین ہیں اپنے کام کے آغاز میں چشم تصور سے اپنی کتاب کو مقبولیت حاصل کرتا ہوا دیکھتے ہیں اور ایک دن وہ اپنی تخلیق دنیا کے سامنے لے آتے ہیں۔ ایک نامور آرٹسٹ کا کہنا تھا کہ وہ خواب دیکھتا ہے اور پھر اس خواب کو حقیقی رنگوں سے پینٹ کردیتا ہے۔

جن لوگوں کو کم عمری میں تخیل کی قوت سے کام لینا سکھا دیا جاتا ہے ان کے لیے زندگی میں کامیابی حاصل کرلینا آسان بن جاتا ہے۔ بچوں سے جب آئیڈیل لوگوں کے بارے میں بات کی جاتی ہے یا انہیں عظیم داستانیں یا کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کیا جاتا ہے تو اس کا مقصد بھی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہنوں میں رول ماڈل کا تصور قائم کرلیں۔ اچھے خاندانوں میں والدین اپنے بچوں سے اعلیٰ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ سمجھ دار اساتذہ بھی اپنے طالب علموں سے اعلیٰ توقعات وابستہ کرتے ہیں۔ یہی توقعات نوجوانوں کو یاد دلاتی ہیں کہ انہیں حالات کا مقابلہ کرنا ہے اور کامیابی حاصل کرنا ہے۔

جو لوگ اپنے تخیل کو مضبوط بنانے کی جستجو میں رہتے ہیں وہ ایسا مطالعہ کرتے ہیں جو ان میں کامیابی حاصل کرنے کا جوش پیدا کرتا ہے۔ وہ ایسی تصویروں اور آرٹیکلز کو سنبھال لیتے ہیں جو ان کے تخیل کی دنیا کو روشن، واضح اور رنگین بناسکتے ہوں۔ وہ ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو انہیں ایک اعلیٰ زندگی گزارنے کا حوصلہ اور امید دیتے ہیں۔ تخیل آپ کا اہم اثاثہ ہے۔ یہ آپ کے لیے حیرت انگیز کام کرسکتا ہے۔ زندگی میں کوئی بڑا مقصد طے کرلیجیے۔ اسے پوری توجہ دیں۔ خود کو کامیابی کے روپ میں دیکھیں۔ ذہن میں موجود اس تصور سے نظریں نہ ہٹائیں، اگر آپ ایسا کرسکیں تو آپ کو شاندار کامیابی حاصل کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔

(مضمون نگار اسپیکر اور ٹرینر ہیں، نوجوانوں کے لیے مثبت نفسیات، تخلیقی صلاحیت، ہیومن ریسورس منیجمنٹ جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں)

(عاطف مرزا، facebook/atif.mirza.56)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں  کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com , mubashir.nazir@islamic-studies.info

غور فرمائیے!!!

۱۔ آپ اپنے تخیل سے کام لے کر خود کو ایک کامیاب انسان کیسے بنا سکتے ہیں؟

۲۔ کیا آپ اپنے تخیل کا منفی استعمال کرتے ہیں؟ اگر ہاں، تو اس سے نجات کا طریقہ کیا ہے؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html