بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اپنی غلطی

 

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

وہ بہت عرصے سے جرمنی میں مقیم تھا۔ اس دن اسے صبح کام پر جانے کی جلدی تھی، اس لیے اس نے شاہر اہ پر گاڑی کی رفتار سو کلومیٹر کر دی ۔ جبکہ اس شاہراہ پر نوے کلومیٹر کی اجازت تھی۔ابھی تھوڑی ہی دور گیاتھا کہ سائڈ کی چھوٹی گلی سے ایک لڑکی اپنی کار کو یک دم سے شاہر اہ پر لے آئی۔ بریک لگا نے کی ہر کوشش ناکام ہو گئی اور گاڑی براہ راست اس لڑکی کی کار سے جا ٹکرائی۔زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد اسے کچھ یاد نہ رہا۔ ہوش میں آیا، تو وہ ہسپتا ل میں پڑا تھا۔ اس کے پورے جسم پر بری طرح چوٹیں آئی تھیں لیکن جان بچ گئی تھی۔

چند دن بعد جب وہ ہسپتال سے فارغ ہونے کے قریب تھا تو ایک بوڑھی خاتون اور مر د پھولوں کا گلدستہ لیے اس کے پاس حاضر ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں اور ساتھ ہی معذرت بھی کرتے ہیں کہ ہماری بیٹی کی غلطی کی وجہ سے آپ کو اتنی تکلیف اٹھانی پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لڑکی جس کی کار سے آپ کی گاڑی ٹکرائی تھی ، وہ ان کی بیٹی تھی ۔اور انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ و ہ بڑی بے بسی کے ساتھ ماں باپ کو دیکھ رہا تھا اور حیرا ن ہورہاتھا کہ یہ کیسی اخلاقی جرأت ہے کہ بیٹی کی موت کے باوجود وہ اپنی غلطی کی معافی مانگنے اور اعتراف کرنے آئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جائے حادثہ سے پولیس نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے تم دونوں کو ہسپتال منتقل کیاتھا مگر ہماری بیٹی نہ بچ سکی ۔انہوں نے کہا کہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ غلطی ان کی بیٹی کی تھی ،وہ چھوٹی گلی سے مین روڈ پر داخل ہو رہی تھی، اس لیے اس کا فرض تھا کہ وہ ،رک کر دیکھتے ہوئے داخل ہوتی، اس نے چونکہ یہ ذمہ داری پوری نہ کی، اس لیے حادثے کا باعث اصل میں وہ ہے، آپ نہیں ، اور آپ کوجو تکلیف اٹھانی پڑی ہے ،اُس کی وجہ سے ہے ۔ صحت یابی کے بعد جب وہ گھر منتقل ہوا تو اس کو عدالت سے نوٹس موصول ہوا کہ اس حادثے کی وجہ وہ لڑکی تھی، اس لیے آپ بری الذمہ ہیں، تا ہم چونکہ آپ کی سپیڈ مقررہ رفتار سے زیاد ہ تھی یعنی نوے کے بجائے سو تھی، اس لیے آپ کو اتنا جرمانہ ادا کرنا ہے۔ اس نے جرمانہ ادا کیا اور آج تک اس پر حیران ہے کہ یہ کیسا سسٹم ہے اور کیسے لوگ ہیں جو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں اس حدتک دیانت دار ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جاپان کی ایک سڑک پر جا رہاتھا ، اس نے دیکھا کہ دو گاڑیا ں معمولی سی ٹکرا گئیں۔ وہ کھڑا ہو کر اس منظر کو دیکھنے لگا ۔اسے امید تھی کہ اب دونوں گاڑیوں والے جلدی سے نیچے اتریں گے اور ایک دوسرے سے الجھ جائیں گے ۔ لیکن اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب دونوں گاڑیوں والے نیچے تو اترے لیکن وہ ایک دوسرے سے الجھ نہیں رہے تھے بلکہ ایک دوسرے سے معافی مانگ رہے تھے ۔ وہ دونوں اپنی اپنی غلطی کا اعتراف کر رہے تھے ۔ اوردونوں میں سے ہر ایک اس بات پر اصرار کر رہا تھا کہ اس کی غلطی زیادہ ہے۔ اسی طرح چند منٹ ایک دوسرے سے معافی مانگنے کے بعد وہ ہنسی خوشی اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔

زوال آشنا او ر زوال پذیر قوموں میں بہت سے امراض پید ا ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے ایک بہت بڑا مرض یہ بھی ہے کہ وہ قومیں اپنی غلطی کااعتراف کرنا معیوب سمجھتی ہیں ۔وہ یا تو اس کی تاویل کرتی ہیں یا پھر اسے دوسروں کے سر ڈال کر خوش ہوتی رہتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایسی سب قومیں دائرے میں گھومتی رہتی ہیں اور اسی گھومنے کو ترقی سمجھنے لگتی ہیں۔دوسری بہت سی قوموں کی طرح مسلمان بھی بحیثیت قوم اس مرض کا شکار ہیں۔ ان کے افراد سے لے کر ان کے خاندانوں تک ، ان کے اداروں سے لے کر ان کی حکومتوں تک سب اسی چکر میں پڑے ہوئے ہیں کہ کس طرح ان کی غلطی پر پردہ پڑ جائے اور کس طرح کوئی خوبصورت تاویل کر کے جان چھڑالی جائے یا پھر کس طرح اسے کسی اور کے سر پر ڈال کر فارغ ہو لیا جائے۔یہ رویہ ہمارے اندر بری طرح سرایت کر گیا ہے ۔ اور آج یہ حال ہے کہ بظاہر بڑے بڑے سمجھ دار ، دانا ، اہل علم، اہل مناصب ، اور اونچی اونچی ڈگریوں والے بھی اس سے مبرا نظر نہیں آتے ۔ الا ماشا ء اللہ۔

غلطی کو تسلیم کرنااور اس کااعترا ف کرناترقی کے زینے کاپہلا قدم ہے ۔ جب کوئی یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہو کہ وہ غلطی پر ہے تو ٹھیک کیسے ہو گا۔ مسلمان چاہے افراد ہوں یاجماعتیں یا پھر ممالک، یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ ان سے پچھلی دو صدیوں میں بالعموم اور رواں صدی میں بالخصوص بہت سی مہلک غلطیا ں سرزد ہوئی ہیں اور وہ راستہ بھول گئے ہیں۔ حالانکہ مسلمانوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اسلا م کا پہلا سبق ہی غلطی کا اعتراف ہے ۔ ان کے بابا آدم علیہ الصلوۃ السلام نے فوراً غلطی کا اعتراف کیا (ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔۔۔) جبکہ شیطان اس پر اڑ گیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ آدم علیہ السلام اور ان کی ذریت ترقی کے باغوں میں پھلنے پھولنے لگے اور شیطان اور اس کی ذریت تنزل اور ذلت کے گڑھوں میں گرنے لگے۔

مسلمانوں کی معلوم او رروشن تاریخ بھی اس طرح کے بے شمار واقعا ت سے بھر ی پڑی ہے ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب چاہا کہ مہر کی مقدار مقرر کر دیں تو ایک عام سی خاتون نے بر سر محفل اعتراض کر دیا کہ عمر یہ بات قرآن کے خلاف ہے ۔قرآن تو مہر کے لیے قنطارکالفظ استعمال کرتا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بیوی کو قنطار (ڈھیروں خزانہ ) بھی دیا جاسکتا ہے ، پھر تم مقدار مقرر کرنے والے کون ہو۔ عمر نے فوراً تسلیم کیا کہ ان سے غلطی ہو گئی اور بر سر منبر انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور مہر کی مقدار مقرر کرنے کا ارادہ واپس لے لیا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مرض کو سمجھنے کی کوشش کریں او رہر ہر فرد اس کوشش میں لگ جائے کہ کوئی اور چلتا ہے یا نہیں ،کم ازکم وہ خود تو اس راہ پر گامزن ہو جائے کہ جب کہیں ، جب کبھی کوئی غلطی سر زد ہو یا کوئی اور اس کی نشان دہی کر دے تو فوراً اس کو تسلیم کر لے اور نشان دہی کرنے والے کو اپنامحسن سمجھے ۔ جو کوئی بھی ایسا کرے گا، وہ آدم علیہ السلام کی راہ پر چلنے والا ہوگا اور جو بھی اس سے احتراز کرے گا وہ شیطان کاپیروکار بنے گا۔ اللہ کی طرف سے مغفرت اور کامیابی کا وعدہ بھی ان کے لیے ہے، جو اپنی غلطی پر اڑتے نہیں اور ضد نہیں کرتے بلکہ اعتراف کر لیتے ہیں۔انہی کے لیے مغفرت اور جنت ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ. أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ.

وہ لوگ جو کوئی فحش کام کر لیتے ہیں [یا کسی اور طریقے سے] اپنی جانب پر ظلم کر بیٹھتے ہیں۔ پھر وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیتے ہیں اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا ہو۔ وہ اپنی غلطی پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے ۔ انہی کے لیے ان کی جزا ہے یعنی ان کے رب کی جانب سے مغفرت اور ایسے باغات ہیں، جن کے نیچے دریا جاری ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اچھے عمل کرنے والوں کا صلہ بھی کیا خوب ہے۔ (آل عمران 3:135-136)

اگر ہم انفرادی طور پر یہ روش اختیار کریں گے تو انفرادی کامیابیاں ملیں گی اور اگر اجتماعی طور پر کریں گے تواجتماعی کامیابیاں ۔ فیصلہ کسی اور کو نہیں ہمیں خود کرنا ہے ۔ مگر مسئلہ تو یہ ہے کہ بھولا ہوا خود ہی گھر واپس نہ آنا چاہے تو اسے کون لا سکتا ہے !

(محمد صدیق بخاری،www.suayharam.com )

غور فرمائیے!

      اپنے بارے میں غور فرمائیے کہ جب آپ کو آپ کی غلطی کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو آپ کا رویہ کیا ہوتا ہے؟

      کیا وجہ ہے کہ ہمارے یہاں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی غلطی کی تاویل یا کسی اور کے سر پر ڈالنے کا رویہ پرورش پا رہا ہے؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html