بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

آرنلڈ شیوارزنگر کا سبق

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

آرنلڈ شواز نگر کا شمار ہالی وڈ کے مقبول ترین فنکاروں میں ہوتا ہے۔آسٹریا سے تعلق رکھنے والے آرنلڈ 30 جولائی 1947 میں پیدا ہوئے۔ عملی زندگی کا آغاز ایک باڈی بلڈر کے طور پر کیا اور کئی بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے۔ 1968 میں وہ امریکہ آئے۔ باڈی بلڈنگ کے ساتھ انہوں نے فلموں میں آنے کی تگ و دو شروع کردی ۔ 1970 میں انہیں ایک فلم Hercules in New York میں کام کرنے کا موقع ملا۔ تاہم ان اصل شہرت 1984 میں منظر عام پر آنے والی فلم The Terminator کے ذریعے سے ہوئی۔ پھر اس میدان میں انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

مایوسی سے نجات کیسے؟ ان قارئین کے لئے جو کسی بھی قسم کی مایوسی کا شکار ہیں۔

فلمی دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ یہاں بھی تقدیر ان پر مہربان رہی اور فلم کا ہیرو سیاست کے میدان میں بھی ہیرو بن گیا۔ اکتوبر 2003 میں امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کی گورنری کا تاج ان کے سر سج گیا۔

حال ہی میں آرنلڈ کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ آرنلڈ نے موٹر سائیکل کا لائسنس بنوانے کا ارادہ کیا۔ وہ آخر کار اس مقصد میں کامیاب ہوگئے مگر اس کے لیے انہیں چھ مہینے تک مختلف عملی اور تحریری امتحانات سے گزرنا پڑا۔

اہل پاکستان کے لیے یقینا یہ ایک انتہائی عجیب و غریب خبر ہے۔ اس لیے کہ ہمارے ملک میں کسی گورنر کو اول تو کسی قسم کے لائسنس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر ضرورت پیش آجائے تو امتحان سے گزرنا تو دور کی بات ہے، متعلقہ ڈپارٹمنٹ کا اعلیٰ ترین افسر اس کی خدمت میں پیش ہوکر لائسنس اس کے قدموں میں رکھ دے گا۔ معاملہ صرف لائسنس بنوانے تک ہی محدود نہیں، زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو، حکمران طبقے کے لیے ہمارے ملک میں کوئی قانون نہیں ہوتا۔ ان کے لیے ہر جگہ ہر قانون معطل کردیا جاتا ہے۔

تاہم معاملے اتنا سادہ نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں حکمرانوں نے اپنے لیے یہ انداز پسند کرلیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون کی حکمرانی Rule of Law کو کبھی ایک معاشرتی قدر کے طور پر پیش ہی نہیں کیا گیا۔ یہی سبب ہے کہ بظاہر لوگ اس طرح کے واقعات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں مگر جیسے ہی انہیں موقع ملتا ہے وہ خود بھی اسی طرح قانون کو پامال کرتے ہیں۔ آپ دیکھ لیجیے کہ عوام کی خدمت کا نعرہ لگانے والے لوگوں سے لے کر اسلام کے نام پر منتخب ہونے والے لوگ جب اقتدار میں آتے ہیں تو ان کے لیے اسی طرح قانون معطل ہوجاتا ہے جس طرح ایک فوجی حکمران کے لیے ہوجاتا ہے۔

یہی معاملہ عوام الناس کا ہے۔ انفرادی طور جب کبھی اور جتنا کبھی انہیں اختیار ملتا ہے وہ یہی پسند کرتے ہیں کہ انہیں قانون کی پاسداری نہ کرنی پڑے۔ چونکہ حکمران قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اختیار رکھتے ہیں اس لیے ان کے لیے بڑا آسان ہوتا ہے کہ وہ قانون کو جب چاہیں اپنے لیے معطل کردیں۔ عوام کو یہ اختیار کم کم ملتا ہے مگر جب کبھی ملتا ہے ان کا رویہ حکمرانوں سے قطعاَ مختلف نہیں ہوتا۔ یہی وہ رویہ ہے جسے ہم قانون کی حکمرانی کا ایک قدر کے طور پر نہ ہونے سے تعبیر کررہے ہیں۔

دنیا میں کوئی قوم قانون کی پاسداری کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب فیصلہ فرد کی حیثیت کے بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ اصول اور ضابطہ پر ہوگا۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب کمزور بھی طاقتور کے برابر کا مقام رکھتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو معاشرے میں فساد کو پھیلنے سے روکتی ہے۔ اس لیے کہ فساد اصل میں طاقتور لوگ پھیلاتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی ان کی طاقت کو محدود کردیتی ہے۔

اگر کوئی مومن پودا لگاتا ہے، جس میں سے انسان اور جانور کھاتے ہیں تو اس شخص کو اس پودے کے پھل کو صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (بخاری)

زندہ قومیں جس قدر کو معاشرے میں سب سے پہلے عام کرتی ہیں وہ یہی رول آف لا ہے۔ ہمیں اگر اپنے ملک میں سے ظلم اور ناانصافی کو ختم کرنا ہے تو اس کے لیے رول آف لا کو سب سے بڑا مقام دینا ہوگا۔اس کے بغیر امن اور انصاف کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      ہمارے معاشرے میں قانون کی حکمرانی قائم کیوں نہیں ہو سکی۔ اس کا تجزیہ کیجیے۔

      قانون کی حکمرانی کے نہ ہونے کے جو نتائج ہمارے معاشرے میں نکل رہے ہیں، ان کی تفصیل بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter