بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حیا ایمان کا حصہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ: "جب تمہارے اندر حیا باقی نہ رہے تو پھر جو چاہے کرتے پھرو۔" سب سے پہلے تو والدین کو خود اس لفظ کا معنوی و حقیقی، اخلاقی و مذہبی لحاظ سے شعور ہونا چاہیے۔ شرم و حیا سے عاری گفتگو، انداز و اطوار، حرکات و سکنات اور لب و لہجہ باقی تمام محاسن پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اگر اس باب میں احتیاط اور شائستگی نہیں اختیار کی جاتی تو پھر بڑی دین داری اور عبادت گزاری کا بھی بچے پر کوئی تاثر نہیں جم سکتا۔۔۔۔۔

تمہاری خدمت کرنے والا شخص تم میں سب سے عظیم انسان ہے۔ خود کو دوسروں سے اعلی و ارفع سمجھنے والے کو جھکا دیا جائے گا اور عجز و انکسار والے کو باعزت بنا دیا جائے گا۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

لڑکے اور لڑکیوں کو عمر کے ساتھ ساتھ لباس کا احساس دلایا جائے۔ اگرچہ سالگرہ منانا اسلامی تہذیب کا رواج نہیں ہے، تاہم سالگرہ کا دن بچے میں خود احتسابی کے تصور کے ساتھ متعارف کروا دیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔ چھوٹے بچے کو سالگرہ کے دن اخلاقی نصاب کا کوئی ایک قرینہ سکھایا جائے۔ یہ نصاب کتاب و سنت نے مقرر کر دیا ہے۔ ہمارے معاشروں نے مغرب کی تقلید میں سالگرہ منانے کا رواج تو اپنا لیا، لیکن اب اس کو اپنے انداز فکر سے کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔

اس کے ذریعے بچے میں احساس ذمہ داری پیدا کیا جا سکتا ہے کہ عمر کا ایک سال بڑھا نہیں، بلکہ کم ہو گیا ہے۔ اچھے کام کرنے کی مدت اور تھوڑی رہ گئی ہے۔ قد بڑا ہو گیا ہے، لباس پہلے سے زیادہ بڑا آنے لگا ہے تو اس کے ساتھ اچھی باتوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ بتدریج ساتر لباس کی طرف ذہن راسخ کیا جائے۔

حیا ایمان کا حصہ ہے۔ جہاں پر گفتگو سے لے کر اعمال تک میں حیا نہ ہو، وہاں پر بچوں کے ناپختہ ذہنوں میں شرم و حیا کا تصور کیسے جڑ پکڑ سکتا ہے؟ جس معاشرے میں بچے، جوان اور بوڑھے ایک ہی جیسے فحش و عریاں ماحول میں سانس لیں اور حیا سے عاری ہو جائیں تو انہیں ذلت و رسوائی سے کون بچا سکتا ہے؟

محرم اور غیر محرم کا وہ شعور جو قرآن و سنت میں بتایا گیا ہے اس کو بتدریج اجاگر کیا جائے۔ بیماری کا خطرہ جس قدر بڑھ جاتا ہے، پرہیز اتنا ہی زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ عریانی، فحاشی، مرد و زن کا اختلاط، حیا سے عاری گفتگو، ستر سے بے نیاز لباس، بدکاری کو فیشن کے طور پر اپنانا ایسی بیماریوں کا ایک طومار ہے جس کی کوئی انتہا نہیں رہی۔ ان بیماریوں کے خلاف جہاد کرنے کے لئے اپنے بچوں کو ایک اسلامی اسپرٹ کے ساتھ پرورش کرنا ہوگا۔ اس کو ایک مہم کے طور پر جاری رکھنا پڑے گا۔ معاشرہ ان برائیوں کا عادی ہوتا چلا جائے تو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے پہلے کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔

کسی دینی مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک طالب علم کو عملی زندگی میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ جدید ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنے والا کوئی شخص اگر دین کی طرف مائل ہو جائے تو اس پر کیا گزرتی ہے؟ دین دار افراد کو اپنے معاشی مسائل کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

گھروں میں نوعمری کے دوران ہی لڑکے لڑکیوں کی نشست و برخاست کا انتظام علیحدہ ہونا چاہیے۔ نرسری اور پرائمری اسکول عام طور پر مخلوط ہی ہوتے ہیں۔ انتہائی چھوٹی عمر میں بھی مخلوط تعلیم کے رواج کو ختم کیا جائے یا وہاں پر بچوں کو نہ بھیجا جائے۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اسی عمر میں بچوں کو مخلوط اداروں میں بھیجنے سے پہلے یہ شعور دیا جائے کہ آنکھ اور دل کے بارے میں سخت حساب لیا جائے گا اور بدکاری کے سب کھلے اور چھپے کام اللہ تعالی نے حرام قرار دیے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی نے بدی کی شروعات کو بھی بدکاری ہی قرار دیا ہے۔

وہ بچے جن کو ابتدا ہی سے عمر کے ساتھ ساتھ فرائض کی پابندی کا سبق ملتا رہا ہو، ان کے لئے یہ پابندیاں بالکل دشوار نہیں ہوتیں۔ بچی کو تین سال کی عمر سے ساتر لباس اور پھر گھر میں اور گھر سے باہر محرم اور غیر محرم کی تمیز سکھائی جاتی رہے تو چودہ پندرہ سال کی عمر میں وہ گاؤن، اسکارف یا پردہ و حجاب کی کسی بھی شکل کو اپنی عمر کا تقاضا سمجھ کر قبول کر لے گی۔

(مصنفہ: بشری تسنیم، بشکریہ www.quranurdu.com )

موجودہ دور میں اس ضمن میں میڈیا کا مناسب استعمال نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے ہاں میڈیا کی جو صورتیں موجود ہیں، وہ تواتر سے بچوں اور بڑوں کو بے حیائی کا درس دے رہی ہیں۔ اس میڈیا کو مسلسل دیکھتے رہنے کے نتیجے میں جو نسل پروان چڑھ رہی ہے وہ عفت و عصمت کے تصور سے ناآشنا ہے۔ میڈیا کے استعمال سے متعلق چند دوستوں کے تجربات شاید قارئین کے لئے مفید ثابت ہوں۔

      ایک صاحب نے ٹی وی چینلز کے تمام پروگرامز کا جائزہ لے کر اچھے پروگرامز کی ایک فہرست تیار کر لی ہے جسے وہ ہر مہینے اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ تمام چینلز کو پاس ورڈ کے ذریعے کنٹرول کرنا ان کی اہلیہ کی ذمہ داری ہے۔ وہ اس فہرست کے مطابق بچوں کو ٹی وی لگا کر دیتی ہیں۔ اس طریقے سے بچے اپنی مرضی کے اچھے پروگرام دیکھ لیتے ہیں اور برے پروگرامز سے محفوظ بھی رہتے ہیں۔

      ایک صاحب نے گھر میں ٹی وی نہیں رکھا بلکہ وہ چن چن کر بچوں اور بڑوں کے اچھے پروگرام سی ڈی کی شکل میں لے آتے ہیں اور اسے کمپیوٹر کے ذریعے اپنے اہل خانہ کو دکھاتے ہیں۔

      ایک صاحب نے میڈیا کا مثبت استعمال کرنے کا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسی کہانیوں، ڈراموں اور فلموں کا انتخاب کرتے ہیں جن میں عفت و عصمت اور مثبت طرز فکر کا درس ملتا ہو۔ ان ڈراموں اور فلموں کو وہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں اور اس کے بعد نتائج کو ڈسکس کرتے ہیں۔

ٹی وی اور کمپیوٹر کی گھر میں جگہ بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر انہیں کسی کھلی جگہ جہاں والدین کا آنا جانا ہو، رکھ دیا جائے تو ان کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ والدین کو اپنے بچوں سے مکالمے کو فروغ دینا چاہیے اور ان کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو سختی سے دبا دینے کی بجائے ان پر کھل کر بحث کرنی چاہیے۔

انٹرنیٹ کے غلط استعمال کو روکنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ کمپیوٹر کو گھر میں مناسب جگہ پر رکھا جائے۔ انٹرنیٹ پر بچوں کے لئے بہت سے مثبت ویب سائٹس موجود ہیں، بچوں کو ان ویب سائٹس کی ترغیب دلائی جانی چاہیے۔

بچوں پر سختی سے ہر حال میں پرہیز کرنا چاہیے۔ اس سختی کے نتیجے میں بچے یا تو بغاوت پر اتر آتے ہیں، یا وہ منافقت کا رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یا پھر والدین کی مرضی کے مطابق خود کو ڈھال تو لیتے ہیں لیکن ان کی اپنی شخصیت اور تخلیقی قوتیں مسخ ہو کر رہ جاتی ہیں۔ بعض مخصوص حالات میں معمولی سختی کے کچھ فوائد ہوتے ہیں لیکن اس کا استعمال نہایت ہی احتیاط سے کرنا چاہیے۔

(محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      میڈیا کے منفی اثرات سے اپنے بچوں کو بچانے کے لئے اگر آپ کے ذہن میں کوئی اور تجویز ہے تو وہ بھی پیش کیجیے۔

      بچوں میں شرم و حیاء کے جذبات پیدا کرتے ہوئے لڑکیوں پر تو فوکس کیا جاتا ہے مگر لڑکوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے کیا اثرات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ تبصرہ کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے