بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

شادی اور عورت

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ہمارے معاشرے میں شادی کے بعد ایک لڑکی اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہے۔اس کے بعد عام طور پر پورے سسرال کے کام کاج کا بوجھ اس پر ڈال دیا جاتا ہے۔یہ خاتون اگر شادی کے بعد اپنے شوہر سے علیحدہ گھر کا مطالبہ کرے تو معاشرے میں خاتون کی اس بات کو معیوب بات سمجھا جاتا ہے۔

سلسلہ نسب پر فخر کرنے والا احمق ہے۔ ارسطو

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خاتون کو کس اصول کے تحت اس کے والدین اور گھر والوں سے جدا کرکے پابندِ سسرال کیا جاتا ہے۔ کیا لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کا سودا کرتے ہیں جس کے عوض وہ سسرال کے حوالے کردی جاتی ہے؟ کیا شوہر لڑکی کی قیمت ادا کرتا ہے کہ اسے لڑکی سے اپنی اور اپنے گھر والوں کی غلامانہ خدمت لینے کا حق حاصل ہوجاتا ہے؟گھر چھوڑنا اگر نیا خاندان بسانے کی قیمت ہے تو یہ قیمت صرف لڑکی کیوں ادا کرتی ہے؟ اصولی طور پر تو لڑکی اور لڑکے دونوں کو اپنا گھر چھوڑ کر ایک نیا گھر آباد کرنا چاہیے۔

    یہ وہ سوالات ہیں جو دورِ جدید میں تیزی کے ساتھ ذہنوں میںس پیدا ہورہے ہیں۔نکاح چونکہ ایک مذہبی رسم ہے اس لیے عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان باتوں کو مذہب کی تائید حاصل ہے۔یہ بات درست نہیں ہے۔ ہمارے یہاں نکاح کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے وہ اکثر و بیشتر ہندی ثقافت کی عطا ہے نہ کہ اسلام کی تعلیم۔

    اسلام نکاح کے بارے میں بڑی فطری جگہ پر کھڑا ہے۔ وہ اسے ایک ایسا معاہدہ قرار دیتا ہے جس میں ایک مرد اور ایک عورت مل کر خاندان کا ادارہ قائم کرتے ہیں۔مرد اس ادارے کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے، جبکہ عورت اس کی ماتحتی میں خاندان کا نظم و نسق چلانے کی ذمہ داری اس شرط کے ساتھ قبول کرتی ہے کہ اس کے معاش کی کل ذمہ داری مرد پر ہوگی۔ معاہدے کے دونوں فریقین کے خاندان والے اور والدین یکساں طور پر عزت، احترام، محبت، اور خدمت کے مستحق ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی امتیاز برتنا دین کی ہدایت نہیں۔

زندگی کی ناکامیاں، رشتوں کی تلخیاں،  انسانوں کے رویے ہمیں مایوس کر دیتے ہیں۔ بسا اوقات یہ مایوسی انسان کے ذہن پر اس حد تک دباؤ پیدا کر دیتی ہے کہ انسان دنیا کی جدوجہد کے مقابلے میں اس دنیا سے فرار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس حد تک پہنچنے سے پہلے اس تحریر کا مطالعہ کر لیجیے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تحریر آپ کے کام آ جائے۔ یہاں کلک کیجیے۔

اسلام میں نکاح کا تصور یہ نہیں کہ لڑکی کو اس کے والدین سے جدا کرکے اجنبیوں کے حوالے کردیا جائے۔وہ کسی خاندان سے اس کا کوئی فرد کم نہیں کرنا چاہتا بلکہ دونوں خاندانوں میں ایک ایک فرد کا مزید اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ یعنی لڑکی، لڑکے کے والدین اور اقربا کو اپنے عزیز سمجھے اور لڑکا، لڑکی کے رشتہ داروں کو اپنے خاندان میں شمار کرنے لگے۔ دین کی تعلیمات انسانوں کو تقسیم نہیں، انہیں جمع کردیتی ہیں۔

    تاہم انسان چونکہ ایک معاشرے میں رہتے بستے ہیں اس لیے دین کسی معاشرے کے عرف کی بڑی رعایت کرتا ہے۔ یعنی معاشرتی روایات میں سے جو چیزیں اجتماعی مصلحتوں کی بنا پر رواج پا گئی ہوں انہیں قبول کرلیا جائے۔ ہمارا معاشرتی نظام میں مشترکہ خاندان اس کی ایک مثال ہے۔ ایک شادی شدہ نوجوان چونکہ ابتدائی دنوں میں خود کفیل نہیں ہوتا اس لیے وہ اپنی بیوی کو اپنے والدین کے گھر رکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔دین کی نظر میں یہ بات قابل اعتراض نہیں ہے۔

    قابل اعتراض بات یہ ہے کہ حقوق صرف مرد، اس کے والدین اور اقربا کے سمجھے جائیں۔ یہ خیال کیا جائے کہ یہ خاتون بس اب اپنے گھر والوں کو بھول کر لڑکے کے والدین کی خدمت میں مشغول رہے۔ ہفتوں بلکہ مہینوں لڑکی کو اس کے گھر والوں سے ملنے سے روکا جائے صرف اس بنا پر کہ اس کی غیر موجودگی میں سسرال کے کام کاج کا بوجھ کون اٹھائے گا۔جبکہ دوسری طرف لڑکے کو بھولے سے بھی لڑکی کے والدین کی خدمت کا خیال نہ آئے۔ لڑکی کے گھر والوں سے وہ ہمیشہ ناز برداریاں کرنے کی توقع رکھے۔جہیز کا مال کھانے کے بعد بھی ہمہ وقت سسرال سے کچھ نہ کچھ لینے کے لیے وہ تیار رہے۔ بیوی کے گھر والوں سے اس کا تعلق انسیت و محبت کا نہیں بلکہ اجنبیت کا ہو۔

    اس رویہ کا یقیناً دین سے کوئی تعلق نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو صاف بتایا ہے کہ ان کی بیوی کے والدین ان کے والدین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کی خدمت و احترام اسی طرح ان پر لازم ہے جس طرح لڑکی پر اس کے والدین کی خدمت و احترام فرض ہے۔ نکاح انسانوں کی خرید و فروخت کا نام نہیں۔یہ خدمت و محبت کے ایک دو طرفہ رشتے کا نام ہے۔مرد ہو یا عورت ہر فریق پر اس تعلق کو نبھانے کی ذمہ داری یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

شادی کے فوراً بعد مرد اور خاتون کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ اپنے تجربات کی روشنی میں بیان کیجیے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے