بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

 بیٹی بہتر یا بیٹا

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جون  ۲۰۱۱ کے ایکسپریس اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر چھپی  کہ چار سدہ  کے علاقے میں ایک حاملہ عورت نے الٹرا ساؤنڈ کروایا ۔جب  اسے علم ہوا کہ  اس کی ہونے والی اولاد بیٹی ہےتو وہ دلبرداشتہ ہوگئی۔چنانچہ وہ گھر واپس  آئی اور گن سے  فائر کرکےخود  کو ہلاک کردیا۔ 

ہماری سوسائٹی میں یہ ایک عام رویہ ہے کہ بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ عام طور پر بیٹا ہونے پر خوشی منائی جاتی اور بیٹی پر منہ بنایا جاتا ہے۔اگر عقل و فطرت اور اسلام کے لحاظ سے لڑکا لڑکی سے بہتر ہے تو اس روئیے میں کوئی قباحت نہیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں تو روئیے کی  اصلاح ضروری ہے۔ آئیے اس مسئلے کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہیں۔

ماضی کی داستان

اس مسئلہ کا اگر دقت نظر سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم  ہی سے بیٹوں کو فوقیت دی جاتی رہی ہے۔ اس ترجیح کی کچھ معاشی، سماجی اور نفسیاتی بنیادیں ہیں۔ انسان کا ابتدائی دور قبائلی اور زرعی نظاموں پر مشتمل تھا۔ غذا کا   حصول یا تو شکار کرنے پر منحصر  تھا یا پھر کھیتی باڑی کے ذریعے غلہ اگانے پر۔ دونوں ہی صورتوں میں بڑی تعداد میں کام کرنے والی لیبر فورس یعنی مزدوروں     کی ضرورت ہوتی  تھی۔ بیٹا ہونے  کی صورت میں ایک فرد کو مفت کے مزدور ہاتھ آجاتے  اور بیٹی ہونے کی صورت میں وہ ان کماؤ پوتوں سے محروم رہ جاتا تھا۔یہ بات واضح رہے کہ  قدیم زمانے میں باپ کو اپنے بیٹوں پر تشدد، انہیں خاندان سے خارج  کردینے، یہاں تک کہ انہیں قتل تک کرنے کے  اختیارات  بھی بعض صورتوں میں حاصل تھے ۔ چنانچہ بیٹے اپنی معاشی اور سماجی بقا کے لئے باپ کی حکم ماننے  اور مشترکہ جائداد سے جڑے رہنے پر مجبور تھے ۔

ماضی میں بیٹے کو ترجیح دینے  کی ایک سماجی وجہ بھی تھی وہ یہ کہ بیٹوں اور پوتوں کی کثرت سماج میں ایک احساس تحفظ فراہم کرتی اور مبینہ دشمنوں سے دفاع میں معاون ثابت ہوتی تھی۔اس کے برعکس بیٹی کی ولادت کی صورت میں  ایک  طرف تو محافظوں کی نفری میں کمی واقع ہوجاتی  اور دوسری جانب لڑکی کی بلوغت اور شادی تک حفاظت کا بار بھی بڑھ جاتا تھا۔

بیٹو ں کو ترجیح  دینے کا ایک پہلو نفسیاتی بھی تھا ۔ جب لڑکے کے اس قدر دنیاوی فائدے نظر آنے لگے تو لوگ مرد کو برتر اور عورت کو کمتر مخلوق سمجھنے لگے۔ اسی طرح نسل کے تسلسل   کا سلسلہ بیٹے سے جوڑ دیا گیااور ایک غلط تصور پیدا ہوگیا کہ  اگر بیٹا نہ ہو ا تو نسل ختم ہوجائے گی۔ ان سب باتوں کا  لازمی نتیجہ یہ نکلا بیٹی  کی ولادت نفسیاتی طور پر ناپسند کی جانے لگی۔ پھر بعد میں پیدا ہونے والی نسلوں نے اس  ناپسندیدگی کو ایک روایت کے طور پر قبول کرلیا۔ 

 موجودہ صورت حال

موجودہ دور  صنعتی معاشرے ، منظم ریاست  اور شخصی آزادی کا دور ہے۔  اس  پروفیشنلزم  کےدور میں  کوئی باپ مزدوروں کی فراہمی کے لئے بیٹوں کا محتاج نہیں بلکہ اس مقابلے کی اکانومی میں پروفیشنل اور قابل  ملازم  کو  نا اہل بیٹے پر ترجیح دینا لازم  ہوتا ہے۔ اسی طرح ریاستی نظم کی موجودگی میں تحفظ کی ذمہ داری حکومتی اداروں پر ہے ناکہ خاندانوں پر۔ نیز اس شخصی آزادی کے دور میں ایک باپ کو اپنے بچوں پر انتہائی محدود اختیارات ہیں ۔چنانچہ آج کوئی باپ قانونی طور پر اپنے بچوں پر تشدد نہیں کرسکتا، ان کی مرضی کے خلاف ان کی شادی نہیں کرسکتا اور انکی کمائی پر اپنا تسلط نہیں کرسکتا۔ جہاں تک نفسیاتی طور پر عورت کو کمتر سمجھنے کی بات ہے تو  اسلام کے علاوہ جدید سماجی علم  نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عورت اور مرد بحیثیت انسان برابر ہیں۔ البتہ  یہ دونوں اپنی  طبعی ساخت  اور ذمہ داریوں کی بنا پر مختلف ہیں تو ان کے حقوق و فرائض میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ اسی طرح نسل چلنے کا قدیم نظام جس میں شجرہ وغیرہ بھی محفوظ رکھا جاتا تھا  وہ اب ختم ہوچکا ہے۔ اور آج لوگوں کو اپنے داد ایا پردادا تک کا نام معلوم نہیں ہوتا۔ چنانچہ نسل کا تسلسل کوئی معنی نہیں رکھتا ۔

قرآن کا تبصرہ

سورہ شوریٰ  کی درج ذیل آیات ملاحظہ فرمائیں

اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے (نری) لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے (نرے) لڑکے عنایت کرتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں (ملاجلا کر) دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔ وہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے۔(الشوریٰ: ۴۹-۵۰:۴۲)

احادیث میں بیٹی کی اہمیت

۱۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس مرد کی بھی دو بیٹیاں بالغ ہو جائیں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے (کھلائے پلائے اور دینی آداب سکھائے) جب تک وہ بیٹیاں اسکے ساتھ رہیں یا وہ مرد ان بیٹیوں کے ساتھ رہے (حسن سلوک میں کمی نہ آنے دے) تو یہ بیٹیاں اسے ضرور جنت میں داخل کروائیں گی ۔( سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 551)

۲۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا جسکی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے (جزع فزع نہ کرے کہ بیٹیاں ہیں) اور انہیں کھلائے پلائے۔ پہنائے اپنی طاقت اور کمائی کے مطابق تو یہ تین بیٹیاں (بھی) روز قیامت اس کے لئے دوزخ سے آڑ اور رکاوٹ کا سبب بن جائیں گی ۔( سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 550)

۳۔ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ مانگتے ہوئی آئی، اس نے میرے پاس سوائے ایک کھجور کے کچھ نہیں پایا، تو میں نے وہ کھجور اسے دیدی، اس عورت نے اس کھجور کو دونوں لڑکیوں میں بانٹ دیا اور خود کچھ نہیں کھایا، پھر کھڑی ہوئی اور چل دی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ نے فرمایا کہ جو کوئی ان لڑکیوں کے سبب سے آزمائش میں ڈالا جائے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے آگ سے حجاب ہوں گی۔( صحیح بخاری  جلد  1  حدیث نمبر  1333)

ان آیات  اور احادیث کی  میں یہ بیان کردیا کہ بیٹا اور بیٹی کی پیدائش اور بانجھ پن سب کچھ اللہ  کے چاہنے پر منحصر ہے اور اس کا چاہنا کوئی الل ٹپ نہیں کہ آنکھیں بند کرکے   اولاد بانٹ دی۔ بلکہ وہ سب کچھ جانتے بوجھتے ، کامل علم کے ساتھ، حکمتوں اور مصلحتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کام کرتا ہے۔ وہ حکمت اور مصلحت کیا ہے؟ اس کا جواب اس آیت کے سباق میں موجود ہے کہ یہ دنیا  جزا  سزا  اور نعمت و نقمت کا مقام نہیں بلکہ آزمائش کی جگہ ہے ۔ چنانچہ بیٹے  یا بیٹی کا پیدا ہونا انسان کو شکر  یا صبر کے امتحان میں  ڈالتا ہے ۔نیز لڑکا ہو یا لڑکی ، اللہ تعالیٰ یہ دیکھتے ہیں کہ والدین کس طرح ان کی درست تربیت کرکے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں ۔ دوسری جانب بانجھ پن انسان کو صبر کی آزمائش میں لے آتا ہے ۔ چنانچہ اس سارے عمل میں انسان کی آزمائش یہی  ہے کہ وہ کس خوبی سے محرومی پر صبر و استقامت کرتا، جزا فزا  سے گریز کرتا ، اللہ کی حکمتوں پر بھروسہ کرتااور غیراللہ کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خالص رب ہی  سے رجوع کرتا ہے۔

خلاصہ

 ۱۔ ماضی میں انسان  معاشی فائدے حاصل کرنے لئے بیٹوں کو پسند کرتا تھا لیکن آج کے دور میں یہ صورت حال نہیں۔آ ج ایک بیٹا معاشی طور پر کمانے لگتا ہے تو والدین کو اس کی کمائی پر کوئی اختیار نہیں۔نیز آج کے دور میں بیٹی بھی کما سکتی اور اپنی شادی اور تعلیم کے اخراجات اٹھا سکتی ہے۔

۲۔شخصی آزادی کی بنا پر والدین کا اولاد پر مطلق اختیار نہیں۔ چنانچہ اگر بیٹی نے اٹھ کر کسی دوسرے گھر چلے جانا ہے تو بیٹے نے نفسیاتی طور پر  علیحدگی  اختیار  کرکے اپنا الگ گھر بسانا  ہے۔

۳۔ریاستی نظم کی موجودگی میں بیٹوں کی کثرت کا کوئی فائدہ نہیں۔ کسی دشمن سے نبٹنے کے لئے ہر فرد کو پولیس کی ضرورت ہے خواہ  اس کی بیٹیاں ہوں یا بیٹے۔

۴۔جہاں تک بیٹی کے تحفظ اور اسکی ذمہ داری کا تعلق ہے تو یقیناََ اس کی تعلیم ، تربیت، عفت کی حفاظت اور شادی کے اخراجات  وغیرہ بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ لیکن کم و بیش یہی ذمہ داریاں بیٹے  کے کیس میں بھی ہیں۔اس کی تعلیم، تربیت میں وہی اخراجات ہیں۔اسکی عفت کی حفاطت کی بجائےبری صحبت سے بچانے کی ذمہ داری ہے ۔ یعنی اگر لڑکی کی حفاظت ایک داخلی معاملہ ہے تو لڑکے کو خارجی ماحول میں رہ کر کنٹرول کرنا پڑتا ہے ۔ اسی طرح لڑکا اور لڑکی کی شادی میں اخراجات کی نوعیت کم و بیش برابر ہی ہے۔ اگر لڑکی کو جہیز دینا پڑتا ہے تو لڑکے کو بری چڑھائی جاتی ہے۔اگر فرنیچر اور الیکٹرانک آئٹمز کو نظر انداز کردیا جائے تو بری اور جہیز  میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔

۵۔نفسیاتی طور پر بیٹے کو ترجیح دینا  ایک مغالطہ  اور غلط روایت ہے ۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار صاحبزادیاں اور دو بیٹے پیدا ہوئے۔  لیکن بیٹوں میں سے کوئی بچ نہیں پایا۔ اس کے باوجود آپ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہاسے بہت زیادہ محبت اور تعلق کا اظہار کیا۔چنانچہ اسلام میں بیٹوں کو فوقیت دینے کی کوئی بنیاد نہیں ملتی بلکہ یہ تو جاہلی معاشر ے کی بنیاد ہے۔

۶۔ نسل چلنے کا تصور انتہائی فرسودہ ہے۔ آج لوگوں کو اپنے دادا پردادا  کا  نام معلوم نہیں ہوتا ۔ لہٰذا نسل چلانے کے لئے وارث کی خواہش  کو طول دینا ، اس کے لئے عورت کی صحت کا خیال رکھے بنا بچوں کی فوج تیار کرلینا مناسب نہیں ۔ اسی طرح لڑکی پیدا ہونے کی صورت میں عورت کو مورد الزام ٹہرانا یا دوسری شادی کرنا  بھی خلاف عقل ہے کیونکہ آج  سائنس نے ثابت کیا ہے کہ لڑکا یا لڑکی بننے کا انحصار مرد کے اسپرم میں ہوتا ہے ۔ مرد کے خارج کئے ہوئےکروموسومز  میں سے  اگر ایکس ولادت میں استعمال ہو تو لڑکی اور اگر وائی استعمال ہو تو لڑکا پیدا ہوتاہے۔ چنانچہ عورت کا کردار اس ضمن میں ایک مفعول کا ہوتا ہے۔ 

۷۔ بیٹے یا بیٹی کی خواہش کرنا اور اسکے لئے دعا کرنا کوئی بری بات نہیں البتہ جب ولادت ہوجائے اور اللہ کا فیصلہ صادر ہوجائے تو  اس کی رضا پر راضی رہنا اور اس کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرنا  ہی عبدیت اور  دانش مندی  کا تقاضا ہے۔

(پروفیسر محمد عقیل، aqilkhans.wordpress.com, aqilkhans@gmail.com )

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں  کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com , mubashir.nazir@islamic-studies.info

غور فرمائیے!!!

۱۔   اگر آپ کے گھر بیٹی کی ولادت ہو تو آپ کے جذبات کیا ہوں گے؟ اس تحریر کی روشنی میں اپنا محاسبہ کیجیے۔

۲۔کیا آپ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے معاملے میں انصاف سے کام لیتے ہیں؟ کہیں کسی کو کسی پر ترجیح تو نہیں دیتے؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html