بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مسلمانوں کی تاریخ کے کئی ادوار ہیں۔ ایک دور وہ تھا جس میں امت کی قیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض یافتہ صحابہ کرام کے ہاتھوں میں تھی۔یہ خلافت راشدہ کا دور تھا۔ دین حق کا غلبہ تھا۔ زمین پر وہ عدل تھاکہ آسمان والے بھی داد دیتے تھے۔زمین والوں نے بھی یہ دیکھ لیا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایمان لانے کی جزا دیتے ہیں توزمین کا اقتدار کیسے ان کے حوالے کردیتے ہیں۔ اسی طرح روزِقیامت دنیا کا اقتدار اور جنت کی بادشاہی ،ابدی طور پر اللہ کے نیک بندوں کے حوالے کردی جائے گی۔ وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِیْ الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یرِثُھَا عِبَادِیَ الصَّالِحُوْن۔ (الانبیا 21:105

کثرت خاموشی سے گمراہی پیدا ہوتی ہے اور کثرت گفتگو سے قوت عمل ضائع ہوتی ہے۔ جالینوس

یہ دنیا انعام کی نہیں آزمائش کی جگہ ہے۔ اس لیے جلد ہی خلافت راشدہ کا دور ختم ہوگیا۔یہ ایک عظیم سانحہ تھا مگر اس کے باجود مسلمانوں کے عروج کا سورج آنے والے دنوں میں مزید بلند ہوا۔بنو امیہ کے دور میں برعظیم ہند اور براعظم یورپ میں مسلمانوں کے قدم جاپہنچے۔چین کی عظیم سلطنت نے مسلمانوں کو خراج ادا کرنا شروع کردیا۔بنو عباس کے دور میں مسلمانوں کو ایک دھچکہ یہ لگاکہ مسلم امہ کی وحدت باقی نہ رہی اور اندلس میں بنو امیہ کی الگ حکومت قائم ہوگئی ۔تاہم اس کے باوجود مسلمانوں کی عظمت و سطوت میں اضافہ ہوتا گیا۔ ایک طرف مسلمانوں کی پیش قدمی فرانس کے قلب تک جاپہنچی اور دوسری طرف عیسائی دنیا قسطنطنیہ کی مضبوط فصیلوں اوررومی حکومت کے کمزور سائے میں بمشکل چھپی ،مسلمانوں کی یلغار کو خائف نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

مسلمان ذرا کمزور ہوئے تو عیسائی دنیا نے اپنی پوری قوت کے ساتھ نبیوں کی سرزمین ۔شام و فلسطین پر حملہ کردیا۔ مگر مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہی یورپ بھر کی قوتوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ دوسو برس بعد انہیں ذلت آمیز طریقے سے اسلامی ممالک سے رخصت ہونا پڑا۔ مسلمان اس مغربی یلغار کو سہہ گئے مگر مشرق سے اٹھنے والے تاتاریوں کے ٹڈی دل نے مسلم اقتدار کو حرف غلط کی طرح مٹادیا۔

اسلام میں جسمانی و نظریاتی غلامی کے انسداد کی تاریخ۔ غلامی کا آغاز کیسے ہوا؟ دنیا کے قدیم معاشروں میں غلامی کیسے پائی جاتی تھی؟ اسلام نے غلامی سے متعلق کیا اصلاحات کیں اور ان کے کیا اثرات دنیا پر مرتب ہوئے؟ موجودہ دور میں غلامی کا خاتمہ کیسے ہوا۔

صدی بھر کو تو یوں لگا کہ مسلمانوں کی تاریخ اگر ختم نہیں ہوئی تو کم از کم ان کی عظمت کا چراغ ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا ہے۔ مگر ایسے میں دینِ اسلام کی دعوتی قوت حرکت میں آئی۔ تاتاری جو مسلمانوں کے فاتح تھے، اسلام سے مغلوب ہوگئے۔ ان نئے مسلمانوں نے آنے والوں دنوں میں ایسی عظیم سلطنتیں قائم کیں کہ مسلمان نہ صرف بغداد بلکہ غرناطہ کا غم بھی بھول گئے۔ خاص طور پر عظیم عثمانی سلطنت نے جو چھ سو سال تک تین براعظموں ایشیا، افریقہ اور یورپ میں تنہا سپر پاور تھی، مسلمانوں کی عظمت کا علم اٹھائے رکھا۔

انیسویں صدی میں مغربی اقوام سائنس اور ٹیکنالوجی کے اسلحے سے لیس ہوکر یورپ سے نکلیں اور دنیا بھر پر چھاگئیں۔ مسلمانوں کی دنیا اب یورپی اقوام کی دنیا تھی۔ نئی زبان، نئے تمدن اور نئی فکر کے اس دور میں مسلمان مغلوب ہوگئے۔ مسلمانوں کے اس زوال پر اب کم و بیش دو سو برس گزر چکے ہیں۔ محرم کے مہینے میں جب نئے ھجری سال کا آغاز ہوتا ہے تو نئے سورج کا سوال ہے کہ مسلمانوں کا یہ زوال کب تلک جاری رہے گا؟

اس سوال کا جواب ہمارے اس عظیم ماضی میں پوشیدہ ہے جس کی ایک جھلک چند سطروں میں ہم نے قلمبند کی ہے۔ ہمارا ماضی یہ بتاتا ہے کہ چاہے قریش مکہ کا ظلم ہو یا تاتا ریوں کا فساد، یہ اسلام کی دعوتی طاقت ہے جو مایوسی اور ناامیدی کے ہر موڑ کے بعد امید کی راہ کھول دیتی ہے۔مکہ میں جب ظلم کی رات ناقابل برداشت حد تک طویل ہوگئی تو سحر، انصارِمدینہ کے قبولِاسلام کی شکل میں ظاہر ہوئی۔اسی طرح تاتاریوں کے سیلابِ بلا خیز کو اسلام کی دعوتی طاقت نے ایک ایسے پرسکون دریا میں بدل دیا جو صدیوں تک عالم اسلام کی بنجر زمینوں کو زرخیز کرتا رہا۔

ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

دو سو برس کی مسلسل شکستوں کے بعد آج بھی اگر کوئی امید ہے تو اسلام کی اسی تسخیری قوت سے ہے جو ہر دور کی فاتح ہے۔شرط یہ ہے کہ مسلمان صبر کرنا سیکھ لیں۔ صبر کے بغیر کوئی دعوتی عمل ممکن نہیں ہوسکتا۔صبر کرنا بزدلی کی علامت نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا عمل ہے جس کا اجر وہ بغیر حساب عطا کرے گا۔دعوت کے لیے صبر اس لیے ضروری ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ آپ بیک وقت اپنے مدعو سے جنگ بھی کررہے ہوں اور اسے اسلام کی دعوت بھی دے رہے ہوں۔ دعوت اصلاً ایک مظلومانہ جدو جہد ہے۔ یہ ظلم کے باجود کی جاتی ہے۔اس میں مخاطب کے مقابلے سے ہٹنا پڑتا ہے۔مگر یہ پسپائی اپنے مقابل سے ہار جانے کا نہیں اسے جیت لینے کا نام ہے۔

آج مسلمان دوسروں سے اپنی قومی جنگ لڑرہے ہیں۔وہ ہر اعتبار سے کمزور ہیں۔ اس لیے دو سو برس سے پٹ رہے ہیں۔جب وہ لوگوں کو دین حق کی دعوت دیں گے تو وہ خدا کی جنگ لڑیں گے۔ خداسے کوئی نہیں جیت سکتا۔جو خدا کی سمت کھڑا ہوکر اس کی جنگ لڑے گا، فتح ہر حال میں ا س مقدر ہے۔ یہی قرآن کا پیغام ہے۔ یہی تاریخ کا سبق ہے ۔ یہی ہر سال کے طلوع ہوتے ہوئے سورج کے ہر سوال کا جواب ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اپنے خیالات اور تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      مغرب کی سیاسی یلغار کے نتیجے میں ہم جس غلطی میں مبتلا ہوئے، وہ کیا تھی؟

      ہمارے لئے بحیثیت قوم اور بحیثیت فرد درست طرز عمل کیا ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے