بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اسلام کا نفاذ یا نفوذ

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

بیسویں صدی کا نصف آخر جدید مسلم تاریخ کا ایک بہت اہم وقت ہے۔ یہ وہ عرصہ ہے جس میں مسلم ممالک نے نوآبادیاتی طاقتوں سے سیاسی آزادی حاصل کرلی تھی اور دنیا بھر میں 50 سے زیادہ مسلم ریاستیں وجود میں آگئی تھیں۔اس دور میں مسلمانوں کی مذہبی اور فکری قیادت کا اہم ترین مسئلہ یہ تھا کہ ان ممالک میں دین اسلام کا نفاذ ہوجائے۔ معاشرے سے غیر اسلامی شعائر کا خاتمہ ہو۔ اسلامی سزائیں نافذ ہوں اور اقتدار صالحین کے ہاتھ میں آجائے۔

جھوٹ بولنے کا نقصان یہ ہے کہ جھوٹے کی سچی بات کا اعتبار بھی چلا جاتا ہے۔ بطلیموس

چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہر سطح پر بہت زیادہ کام کیا گیا۔ عوام الناس کی ذہن سازی سے لے کر سیاسی تنظیموں کے قیام تک اور فکری و قلمی جہاد سے لے کر حکمرانوں کے خلاف تحریک چلانے تک سارے اقدامات کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں بیسویں صدی کے ربع اخیر یعنی آخری پچیس برسوں میں صورتحال تیزی سے بدلی اور بہت سے مسلم ممالک میں اسلام پسند قوتیں برسر اقتدار آگئیں۔ اسلامی نظام کے نفاذ کا عمل شروع ہوا اور سیکولر عناصر کو پسپائی ہوگئی۔

تاہم اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں یہ معلوم ہورہا ہے کہ حکومت کی سطح پر نفاذ اسلام کا تجربہ وہ اثرات و ثمرات نہیں دے پایا جس کے خواب دکھائے گئے تھے۔ اس معاملے میں حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کا یہ اندیشہ بالکل درست ثابت ہوا کہ نفاذ اسلام کا معاملہ ترکش کے واحد تیر کی طرح ہوگا۔ یہ تیر اگر خطا ہوگیا تو پھر نشانے پر لگانے کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ آج یہ اندیشہ ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آگیا ہے کہ تیر نشانے سے خطا ہوچکا ہے۔

بدقسمتی سے 80 کی وہ دہائی جس میں پاکستان میں اسلامائزشن کا عمل پوری قوت سے جاری تھا، اسی دہائی میں ہمارے ہاں کرپشن، کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر اپنی جڑیں پھیلارہا تھا۔ 90 کی دہائی تک یہ بات اندھوں کو بھی نظر آنا شروع ہوگئی تھی کہ نظام زکوٰۃ نافذ ہوچکا ہے ، مگراس کے باوجود دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور غربت کا عمل بڑھ رہا ہے۔ حدود نافذ ہیں، مگر زنا اور بدکاری کا زنگ ہمارے نظام اقدار کو بری طرح چاٹنے لگا ہے، آئین میں اسلامی شقیں بڑھ رہی ہیں ، مگر عوام میں اسلامی کرداراور اخلاقی اوصاف کم ہورہے ہیں۔

علوم الحدیث کی صورت میں قدیم دور کے مسلمانوں نے ایسے فنون ایجاد کیے جن کی مثال اس سے پہلے اور بعد کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جرمن ماہر اسپرنگر نے اس کارنامے پر مسلمانوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یہ علوم کیا ہیں؟ تفصیل کے لئے "علوم الحدیث: ایک تعارف" کا مطالعہ فرمائیے۔

ہمارے نزدیک اس معاملے میں اصل غلطی یہ تھی کہ اسلام کو قانون کے ذریعے سے نافذ کرنے کی چیز سمجھ لیا گیا تھا۔ بجائے اس کے کہ اس غلطی کی اصلاح کی جاتی آج یہ فکری غلطی اتنی بڑھ چکی ہے کہ لوگ قانون کے بجائے ڈنڈے کے زور پر اسلام نافذ کرنے پر اتر آئے ہیں۔ یہ پچھلی غلطی سے بھی زیادہ بڑی غلطی ہے۔ پہلی غلطی کے نتائج تو یہ نکلے تھے کہ منافقت کا مرض عام ہواتھا۔ اس غلطی کے نتیجے میں تو لوگ علانیہ اسلام سے بغاوت کردیں گے۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ نئی غلطی اور پرانی غلطی پر پوری طاقت کے ساتھ لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے لوگوں کو اس راستے کی طرف بلایا جائے جو صحیح راستہ ہے۔

ہمارے نزدیک اسلام اپنے آپ کو انسانی معاشروں میں نافذ نہیں کراتا بلکہ وہ معاشروں میں نفوذ کرجاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسلام کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ معاشرے کے ثقافتی ڈھانچے میں اپنی رسوم اور آداب داخل کرنا شروع کرتا ہے۔ وہ اپنے دلائل سے اس کے سوچنے والے اذہان کو مسخر کرتا ہے اور اپنی اقدار پر مبنی ایک تہذیبی روایت کی داغ بیل ڈالتا ہے۔ اس کے بعد قانون کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ مرحلہ تہذیب و ثقافت سے متعلق نہیں ہوتا بلکہ تمدن کا وہ معاملہ ہوتاہے جس میں ہر قوم اور ہر گروہ اصولی ہدایات اسلام سے لے کر اپنے دور اور حالات کے مطابق اپنے اجتماعی نظام میں تبدیلی لاتی ہے اور قانون سازی کرتی ہے۔

یہ بات کسی نومسلم معاشرے کے بارے ہی میں درست نہیں بلکہ ایک ایسے مسلم معاشرے کے بارے میں بھی درست ہے جو صدیوں سے غیر اسلامی تہذیب و ثقافت کے زیر اثر پروان چڑھا ہو۔ پاکستانی معاشرہ بھی در حقیقت ایک ایسا ہی معاشرہ ہے ۔ یہاں پر بھی اسلام نافذ نہیں ہوسکتا بلکہ اس سے قبل اس کے نفوذ کی ایک بھرپور مہم شاید کئی عشروں تک چلانا ضروری ہے۔ اس کی اقدار، روایات، رسوم و آداب کو موجودہ ثقافت کے ڈھانچنے میں شامل کرنے اور اس کے فکر و نظریہ کو سوچنے والے اور اقتدار رکھنے والے طبقات کے دل و دماغ میں راسخ کرنا ہی اس وقت اصل کام ہے۔ اسلام کے اس نفوذ کے بغیر اس کے نفاذ کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اپنے خیالات اور تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      نفاذ اور نفوذ میں کیا فرق ہے؟

      اسلام کے بارے میں نفوذ کی بجائے نفاذ کو زیادہ اہم کیوں سمجھ لیا گیا ہے؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے