بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ون ڈش کا سبق

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

پچھلے دنوں ہماری پارلیمنٹ نے ایک بل پاس کیا ہے، جس کی رو سے اب شادیوں میں ون ڈش کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل نواز شریف صاحب کے دورِ حکومت میں شادی کی تقریب میں کھانے پر پابندی لگائی گئی تھی۔ شادی میں ون ڈش کھانوں کی اجازت کے اس حالیہ بل کے پاس ہونے سے قبل یہ پابندی کسی نہ کسی حوالے سے قانونی طور پر موجود تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ عملاً شادی کے موقع پر کھانا کھلانے کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔

رنگ رلیوں میں رہنے والا جلد ہی کنگال ہو جاتا ہے۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام

ابتدا میں اس قانون کی پابندی کرانے کے لیے بڑی سختی کی گئی۔ پیسے والے لوگوں نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حیلے کا طریقہ اختیار کیا۔ جس میں شادی کی تقریب کو سالگرہ اور عقیقہ وغیرہ کا نام دیکر مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا۔ جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے تو وہ شادی ہال میں توکھانا نہ کھلاتے، البتہ سسرال والوں کے گھروں میں پر کھانا پکوا کر ضرور بھجوادیتے تاکہ مہمان وہاں کھانا کھا لیں۔ بعد میں اس قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی شروع ہوگئی اور اعلانیہ شادی کے موقع پر پر تکلف کھانوں کا اہتمام کیا جانے لگا۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ کھانے کے بل میں پولیس والوں کا حقِ خدمت باضابطہ طور پر شامل ہوگیا جو ہال والے باقاعدگی سے وصول کرتے۔ چنانچہ اس بل کے پاس ہونے سے اگر کسی کو نقصان ہوا ہے تو وہ پولیس والوں کو ہوا ہے جن کی لگی بندھی آمدنی ختم ہوگئی۔

شادی کے کھانے پر پابندی کی اس دس سالہ کہانی میں ہم سب کے لیے ایک بڑا سبق موجود ہے۔ وہ سبق یہ ہے کہ قانون کے زور پر معاشرتی رویوں کو نہیں بدلا جاسکتا۔ یہ معاشرہ ہے جس کی اقدار و روایات قانون سازی کی بنیاد ہوتی ہیں۔ اس لیے کرنے کا کام یہ نہیں کہ شادی کے کھانے پر پابندی لگائی جائے۔ اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کی تربیت کی جائے۔ اسراف اور دولت کی نمائش جیسی برائیوں کو ان کی نظروں میں اتنا ناپسندیدہ بنادیا جائے کہ ان کا ارتکاب کرنے والا معاشرے میں صاحبِ حیثیت کے بجائے ایک بے کردار انسان سمجھا جائے۔

اس داستان میں ایک اور سبق ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو اخلاص کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کو قانون کی طاقت پر لوگوں میں نافذ کرکے خلافتِ راشدہ کا احیا کرلیں گے۔ ون ڈش کا قانون یہ بتاتا ہے کہ ایسے لوگ یقیناً غلطی پر ہیں اور اب تو ان کی غلطی کی تصدیق پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ نے بھی کردی ہے۔

پاکستان کی تحریک آزادی میں اسلام کا نعرہ لگایا گیا ۔اس نعرے کی اپنی وجوہات اور پس منظر تھا۔مگر اس کے نتیجے میں ہمارے بعض مخلص لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ پاکستان کے عوام پورے طور پر اسلام پسند ہوچکے ہیں ۔بس اب اسلامی قانون نافذ ہونے کی دیر ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول شروع ہو جائے گا اور مسلمان خلافت راشدہ جیسا عروج حاصل کرلیں گے۔

چنانچہ اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریک شروع کی گئی۔قراردادِ مقاصد پاس ہوئی۔دستور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا اعلان ہوا۔یہاں تک کہ نظام مصطفی کی تحریک کے بعد جنرل ضیاء الحق کی اسلام پسند حکومت قائم ہوئی۔ہر طرف اسلام کا شور وغوغا بلند ہوا۔مختلف اسلامی قوانین نافذ ہوئے۔مگر نتیجہ کیا نکلا؟ خدا کی رحمتوں کا نزول تو دور کی بات ہے، مہنگائی اور بدامنی نے لوگوں کی زندگی عذاب بنادی ہے۔قوانین کی سطح پر ہمارے ہاں جتنا اسلام ہے، عوام الناس اتنا ہی ایمان و اخلاق سے دور ہوچکے ہیں۔اسلاف کی عظمتوں کا حصول تو آج تک ایک قصہ پارینہ ہے، البتہ ہم دنیا کی کرپٹ ترین قوم گنے جاتے ہیں۔

معاملہ بالکل واضح ہے۔اسلام کے تمام قوانین اپنی اصل شکل میں انسانوں کے لیے بہترین رہنمائی ہیں۔ مگر یہ قوانین ماضی میں صرف اس وجہ سے موثر ہوئے کہ ایمان و اخلاق کے اعتبار سے بہترین لوگوں پر نافذ تھے۔ جبکہ آج کا مسلمان ان دونوں اعتبارات سے غیر تربیت یافتہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے مرحلے پر اصل فرد کی تربیت کو مقصد بنایا جائے۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ دین اصل میں کچھ قوانین کا مجموعہ نہیں بلکہ ایمان و اخلاق کی دعوت کا نام ہے۔ایمان و اخلاق کی اس دعوت میں اہل اقتدار رقیب نہیں بلکہ محبوب ہوتے ہیں، جنہیں انتہائی دردمندی کے ساتھ حق کی دعوت دی جاتی ہے۔اس دعوت میں عالمِ دین خدائی فوجدار کے مقام پر نہیں بلکہ دین کے داعی کے مقام پر کھڑا ہوتا ہے۔

ایمان و اخلاق کا یہ بے خزاں شجر اقتدار کے ایوانوں میں نہیں، دلوں کی زمین میں اگایا جاتا ہے۔اس کا نشانہ معاشرے کا اجتماعی وجود نہیں بلکہ فرد ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ دستور کی سطح پر نہیں فرد کے کاروبارِ حیات اور معمولات میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں ایسے افراد ایک قابل ذکر تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں جو ایمان و اخلاق کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں تو بس ایک نسل تک محنت کرنی ہوتی ہے۔ اس کے بعد جب اس کی فصل اگتی ہے تو دنیا و آخرت کی ساری رحمتیں جمع ہوجاتی ہیں۔معاشرہ اجتماعی طور پر بہتر ہوتا ہے ۔اور ایک وقت آتا ہے کہ معاشرہ غیر اللہ کے قوانین کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ ورنہ یہ ممکن نہیں کہ افراد عملی زندگی میں شیطان کے بندے ہوں اور اجتماعی زندگی میں اسلامی قوانین قبول کرلیں۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اپنے خیالات اور تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

اس مضمون کو ٹاپ ڈاؤن اور باٹم اپ ماڈل والے مضمون کے ساتھ ملا کر پڑھیے۔ اس سے آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے