بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن مجید سے محبت ۔۔ چند سوالات

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

پچھلے دنوں امریکی فوجیوں کی طرف سے قرآن مجید کی توہین کے متعدد واقعات پیش آئے اور اس پر پاکستان اور بعض دیگر مسلم ملکوں کے عوام کی طرف سے احتجاج کے بعض مظاہر بھی سامنے آئے ۔

قرآن مجید کی توہین کایہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی کئی یورپی ممالک اور خود امریکہ میں ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ مثلاً ١٩٩٤ء میں فرانس کے ایک فیشن چینل میں ماڈل لڑکیوں نے ایسے لباس کی نمائش کی جس میں کمر کے مخصوص حصوں اور سینے پر قرآنی آیات کا ڈیزائن بنایا گیا تھا۔ ١٩٩٣ء کی خبر ہے کہ ہالینڈ میں ایسا کپڑا فروخت ہوتا رہا جس پر سورہ فاتحہ پرنٹ تھی۔ اسی طرح ١٩٩٥ء میں خبر آئی کہ ایک امریکی کمپنی نے ایسے کارڈ تیار کیے ہیں جن میں قرآنی آیات کے فریم میں برہنہ عورتوں کی تصاویر ہیں۔لیکن یہ ضرور ہے کہ توہین کے موجودہ واقعات زیاد ہ گھناؤنے اور خبیث انداز میں پیش آئے اور غالبا ًبڑے پیمانے پر رپورٹ بھی ہو گئے ورنہ شاید پہلے کی طرح اس بار بھی کسی کو کچھ پتا نہ چلتا۔

ہمارے خیال میں ان واقعات پر مسلم معاشروں میں جو احتجاج ہوا وہ ایک مردہ احتجاج تھا۔ اس احتجاج کو بہت منظم ، موثر اور جاندار انداز میں ہونا چاہیے تھا لیکن فی الواقع ایسا ہوا نہیں۔اربوں مسلمانوں میں کتنے ایسے ہیں جنہوں نے منظم اور پرامن طریقے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہو؟ ان کی تعداد شاید ایک فیصد بھی نہیں بنتی۔خود پاکستان میں بھی یہی حال رہا۔ چند سیاسی جماعتوں نے اپنے مخصوص پس منظر میں عوام سے سڑکوں پر آنے کی اپیل کی لیکن جواب میں انہیں عوام کی طرف سے سرد مہری اور لا تعلقی کے سوا کیا ملا؟

اس کے جواب میں کہا جا سکتا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جناب ان جماعتوں کے تو اپنے مخصوص مفادات تھے لیکن ہمارے خیا ل میں یہ جواب کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک بہت بڑی وجہ اور بھی موجود ہے اور وہی ہمارے نزدیک اصل وجہ ہے اور جسے ہم تجاہل عارفانہ سے ہمیشہ ہی نظر انداز کر تے آئے ہیں اور کر رہے ہیں۔ اور وہ وجہ یہ ہے کہ تمام مسلم معاشروں میں الا ماشاء اللہ مسلمانوں کا قرآن مجید سے زند ہ تعلق قائم نہیں رہا۔ قرآن مجید کو مسلمانوں کی انفرادی اوراجتماعی زندگی میں جو مقام ملنا چاہیے تھا وہ اسے نہیں دیا گیا۔قرآن نے خود کہا کہ وہ فرقان ہے ، میزان ہے ، مهيمن ہے لیکن کتنے مسلمان ہیں یا مسلمان ملک ہیں جو قرآن کواس کا یہ مقام دینے کو تیار ہیں؟قرآن کہتا ہے کہ وہ حق و باطل کا فیصلہ کرنے والا ہے ۔ کتنے نظام، کتنے ازم ، کتنے سسٹم ، کتنے نظریے ، کتنی آرا، کتنی باتوں اور خود کتنے دینی مباحث کا حق جاننے کے لیے ہم اسے قرآن پر پیش کرنے کو تیار ہوتے ہیں اور کتنے باطل ہیں جنہیں ہم ازروئے قرآن باطل ماننے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں؟ قرآن کہتا ہے کہ ہر چیز اس کے ترازو میں تولی جانی چاہیے ۔ کتنے مسلمان اس کے لیے تیار ہیں کہ ان کے رویے ، ان کا اخلاق ، ا ن کی خلوت و جلوت اس ترازو میں تولی جائے؟قرآن کہتا ہے کہ وہ مهيمن یعنی نگران ہے ، سابقہ صحف پر تو نگران ہے ہی لیکن کتنے مسلمان، اپنے سارے علوم پر بھی اس کو نگران بنانے کے لیے تیار ہیں؟

قرآن مجید اس دھرتی پر اللہ کا آخری کلام اور صحیفہ ہدایت ہے ۔ اب قیامت تک اسی کی روشنی میں چلنے والے منزل پا سکیں گے ۔ لیکن کتنے مسلمان اس روشنی میں چلنے کو تیا رہیں؟ بطو رمثال ہم چند سوال قارئین کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، ان سوالوں کا جواب یہ بتائے گا کہ قرآن کی توہین کے حوالے سے ہمار ا احتجاج مردہ کیوں تھا اور یہ کہ قرآن سے محبت اور تعلق کے حوالے سے ہمارا مقام کیا ہے؟

١۔ قرآن نے توحید کو مسلمانوں کی زندگی کا مرکزومحور قرار دیاہے اور بتایا ہے کہ اللہ ہی خالق،مالک ، رازق، حاجت روا ، مشکل کشا اور الٰہ ہے۔ ہر دکھ ، ہر رنج ، ہر مصیبت ، ہر مشکل ، ہر بیماری اسی طرح ہر راحت ، ہر خوشی اور ہر نعمت پر مسلمان کی نگاہ سب سے پہلے اسی ایک اللہ کی طرف اٹھنی چاہیے، بعد میں اسباب کے درجے میں کسی اورطرف اور ان اسباب کا استعمال بھی انہیں موثر بالذات (یعنی خود بخود اثر پیدا کرنے والے) سمجھتے ہوئے نہ ہو۔ لیکن کتنے مسلمان ایسے ہیں جن کی نگاہوں کا مرکز و محور اللہ ہوتا ہے اور کتنے ایسے ہیں جن کی نگاہوں اور امیدوں کا رخ ایسے مواقع پر مال و دولت، قوت و اقتدار، دوست احباب، پیر فقیر،اولاد رشتہ دار ، برادری قبیلہ، ڈاکٹر ، دوا اور اپنے زور بازو کی طرف ہوتا ہے ؟

٢۔قرآن نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کومسلمانوں کی زندگی میں ایک خاص مقام دیا ہے ۔اللہ نے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت ، رسول کی محبت کو اپنی محبت ، اور رسول کی راہ چلنے پر جنت کی ضمانت دی ہے ۔کتنے ہیں جو اس ضمانت پر یقین رکھتے ہیں؟ اور کتنے ہیں جو اس بات کو سمجھتے ، جانتے اور مانتے ہیں کہ رسول سے محبت دعووں ، نعروں اور محض باتوں کی حد تک مطلوب نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عمل بھی مطلوب ہے ۔ کتنے اس مطلوب کو پورا کرنے کے لیے تیا رہیں؟قرآن کہتا ہے کہ رسول کے فیصلوں پر دل میں بھی تنگی محسوس نہ ہو۔ کتنے مسلمان خوش دلی سے رسول کی تعلیمات اور فیصلوں پر سر تسلیم خم کرنے کو تیا رہیں؟

٣۔قرآ ن کہتا ہے کہ مسلمان کا اصل گھر آخرت ہے ، اسی گھر کو بنانے کے لیے اس کو اس دنیا میں بھیجا گیا ہے، اس لیے مسلمان کے اعما ل طیبہ کی جڑ آخرت ہی میں ہونی چاہیے اوراس کی زندگی اس دنیا میں آخرت ہی کے لیے بسر ہونی چاہیے۔کتنے مسلمان اس مقصد کے تحت زندگی بسر کرنے کو تیا رہیں اور کتنے ہیں جنہیں اس بات کا عملی یقین ہے کہ بالآ خر انہیں اللہ کے حضور پیش ہو کر جوابد ہ ہونا ہے ؟

٤۔قرآن چاہتا ہے کہ مسلمان کے رویے قرآن سے تشکیل پائیں ، مسلمان کے اخلاق قرآن سے وجود پائیں ، مسلمان کا کردا رقرآن کا پرتو ہو، کتنے مسلمان اپنے رویوں ، کردار اور اخلاق کو قرآن کے تحت لانے کو تیار ہیں؟

٥۔قرآن انصاف کو مسلمان کی زندگی کی بنیادی قدر قرار دیتا ہے اور چاہتا ہے انصاف کے معاملے میں باپ کی بھی پروا نہ کی جائے ۔ کیا مسلمان انفرادی اور عالمی سطح پر انصاف کے موید بننے کو تیار ہیں؟

٦۔قرآن سود کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ قرار دیتا ہے ۔ مسلمان ہر لمحے اس جنگ میں اللہ اور اس کے رسول کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں کہ ہم اس جنگ میں اللہ کے خلاف کھڑے ہیں بلکہ جواز کے کئی خوبصورت رستے، تاویل کی کئی جدید راہیں تلاش کررکھی ہیں۔ کیا یہ جواز ، یہ تاویلیں اللہ کے حضور کام دے سکیں گی؟ مسلمان اس بات پر شکوہ کنا ں ہیں کہ ہم تو سود کے ہاتھوں مجبور ہیں کیونکہ نظام ہمارے قبضے میں نہیں ۔ ٹھیک ہے ،لیکن جو کچھ ان کے بس میں ہے کیا وہ اسے بھی کرنے کو تیار ہیں؟ انفرادی سطح پر جس سود سے وہ اجتناب کر سکتے ہیں کیا وہ اس سے اجتناب کرتے ہیں یا اس کا نام بدل کر دل کو تسلی دے لیتے ہیں؟

٧۔ قرآن عورت کو ایک محترم ہستی قرار دیتا ہے اور تقویٰ و نیکی کے میدان میں اسے مرد کے برابر درجہ دیتاہے بلکہ کہتا ہے کہ وہ چاہے تو اس میدان میں مرد سے بھی آگے بڑھ سکتی ہے ۔ کیا مسلمان اپنے معاشروں میں عورت کو محترم درجہ دینے کو تیار ہیں؟ کاروکاری ،قتل غیرت، قرآن سے شادی، بیویوں کی مار پیٹ اورعورت کا استحصال کس قرآن سے ماخوذ ہے ؟ اور کیا مذہبی طبقہ قرآن کے ان احکامات کو معاشرو ں میں لاگو کرانے کے لیے تحریک برپا کرنے کو تیار ہے ؟

٨۔قرآن ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے جبکہ مسلمان دن رات مختلف نظریہ رکھنے والوں کو گولی اور بم سے اڑانے کے لیے کوشاں ہیں اور وہ بھی مذہب کے نام پر ۔ کیا یہ بھی قرآن سے محبت کا تقاضا ہے ؟

٩۔قرآن فتنہ فساد کو قتل سے بھی اشد قرار دیتا ہے اور امن کو ہر حال میں پسند کرتا ہے ۔ کیا ہم بھی ایسا ہی چاہتے ہیں یا ہمار ا عمل اس کے برعکس ہے ؟

١٠۔ قرآن اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے احسن طریقہ اختیار کرنے اور بحث و تمحیص میں شائستہ رویہ اپنانے کی تلقین کرتا ہے جبکہ ہم اختلاف رائے رکھنے والے کو نہ صرف برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ اس کی تذلیل و رسوائی کے درپے بھی رہتے ہیں۔ کیامحبت قرآن کا یہی تقاضا ہے ؟

١١۔قرآن کہتا ہے کہ تمہارا نظام مشورے پر مبنی ہونا چاہیے ۔ آج دنیا میں کس مسلمان ملک کا نظام اس اصول پر استوار ہے ؟ اگر کہیں جمہوریت کے نام پر مشورہ بذریعہ الیکشن ہوتا بھی ہے تو کیا اس میں ووٹر کو آزادانہ رائے کا حق حاصل ہوتا ہے یا برادری ، دولت ، دھونس ، دھاندلی سے ان کا مشورہ اپنے نام منتقل کیا جاتا ہے ؟

١٢۔قرآن خاندانی نظام ، نکاح و طلاق کے تفصیلی احکامات عنایت کرتا ہے ۔ کتنے مسلمان ہیں جو ان احکامات کو اپنے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں؟

١٣۔ قرآن وراثت میں ہیر پھیر کرنے والوں کو جہنم کی نوید سناتاہے اور وراثت کی تفصیلی ہدایات کے ساتھ انہیں نافذ کرنے کی بھی تاکید کرتا ہے ۔ کتنے فیصد مسلمان وراثت کے احکامات کو دیانتداری سے نافذ کرنے کو تیار ہیں؟ خصوصا وراثت میں لڑکیوں کو حصہ دینے کے لیے کتنے مسلمان خوشی سے راضی ہوتے ہیں اور کتنے ہیں جو حیلے بہانے تلا ش کرتے ہیں یا زبردستی کرتے ہیں یا پھر خوبصورت ناموں سے تاویل کرکے لڑکیوں کو خاموش کرا دیتے ہیں۔

١٤۔کتنے مسلمان معاشروں میں حدود الہی کا نفاذ جاری ہے اوراگر کہیں ہے بھی تو کیا وہ واقعتا قرآن کی روح کے مطابق ہے ؟ اور کتنے مسلمان ہیں جو ان حدود کو ظلم سمجھتے ہیں؟

١٥۔قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی اور غیبت ، بدگمانی ، پردہ دری جیسے دیگر کئی اخلاقی رذائل سے منع کیا ۔ کتنے مسلمان ہیں جو اس ممانعت پر عمل پیرا ہیں؟

١٦۔اللہ نے اپنے بندوں کی صفات تفصیل کے ساتھ قرآن میں بیا ن کیں ۔ کتنے ایسے ہیں جو ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟کتنے ہیں جن کے پہلو راتوں کو بستروں سے الگ رہتے ہیں؟ کتنے ہیں جن کی راتیں اپنے مولا کے حضور سجدے اور قیام میں گزرتی ہیں؟ کتنے ہیں جوزمین پر عاجزی سے چلتے ہیں؟ کتنے ہیں جنہیں موقع ملے بھی تو بدکاری سے بچتے ہیں؟ اور کتنے ہیں جن کی نگاہوں میں حیا اور دلوں میں خوف ِخدا جاگزیں رہتا ہے ؟

١٧۔آج کتنے مسلمان گھرانے ہیں جن میں والدین کو وہ مقام دیا جا تا ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے؟

١٨۔ قرآن نے نماز کی اس روایت کو جو تمام انبیا کا شیوہ تھی، مسلم معاشروں میں از سر نو زند ہ کرنے کے لیے باربار تاکید کی۔ کتنے فیصد مسلمان اس پر عمل پیرا ہیں؟اور جو پڑھتے ہیں ان میں سے کتنوں کی نماز ان کو بے حیائی ، فحاشی ، بد دیانتی ، دھوکے ،جھوٹ اورکم تولنے سے روکتی ہے؟

١٩۔ روزہ بھی سب قوموں پر فرض رہا۔ ہم میں سے کتنے اس فرض کو نبھاتے ہیں؟اور اس سے مطلوب تقویٰ تک رسائی تو شاید پوری امت میں سے چند ایک کی ہو۔

٢٠۔ زکوٰۃ بھی ہمیشہ سے آسمانی مذاہب میں موجود رہی۔ قرآن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں پر بھی اس کا نفاذ کیا لیکن کتنے مسلمان اس فرض کو دیانتداری سے نبھانے پر آماد ہ ہیں اور کتنے اس سے جان چھڑانے کے لیے حیلے بہانوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور کتنے ہیں جو اس سے بالکل ہی غافل ہیں؟

٢١۔قرآن نے ہر صاحب استطاعت مسلمان پر حج فرض کیا ۔ کتنے صاحب استطاعت اس حکم پر عمل پیرا ہیں؟اور جو صاحب استطاعت ہر سال پکنک کی طرح حج اور عمرے پر چلے جاتے ہیں اور پھر اسے بلاوے کا نام دیتے ہیں، کون جانے ان میں کتنے ہیں جن کاواقعی بلاوا آتاہے اور کتنے ہیں جو زبردستی گھر میں گھستے چلے جاتے ہیں۔ بھلا جو زبرد ستی گھر میں گھس آئے ، اسے بلاوے سے کیا نسبت؟ آپ کے گھر میں کوئی زور سے داخل ہو جائے تو آپ تو مزاحمت کریں گے لیکن اللہ نے اس دنیا میں آزمائش کے لیے ڈھیل دے رکھی ہے ۔ دنیا میں تو طفل تسلی چل جائے گی لیکن یہ قیامت ہی کو معلوم ہو گا کہ کتنے ایسے تھے جن کا بلاوا آتا تھا اور کتنے ایسے تھے جو منہ اٹھائے ویسے ہی گھر میں گھسنے والوں میں سے تھے۔اور یہ بھی قیامت ہی کو معلو م ہو گا کہ کتنے ہی ایسے بھی تھے جوکبھی وہاں نہ جا سکے لیکن حاجیوں کے زمرے میں شامل ہوں گے۔

٢٢۔قرآن نے بار بار انفاق کی ترغیب اور حکم دیا لیکن کتنے مسلمان اس پر آمادہ ہیں؟ کیا محلوں کے سائے میں آج بھی ہزاروں جھونپڑیاں موجود نہیں ہیں؟ کیا روشن گھروں کی اوٹ میں غریب کی کٹیاآج بھی تاریک نہیں ہے؟ کیا آج بھی بچے ،بوڑھے بے دوا اور بے علاج نہیں مرتے ؟ کیا آج بھی سرد اور گرم ہوائیں بے گھروں کوموت کی آغوش میں نہیں پہنچاتیں؟

٢٣۔قرآن نے مومنوں کو بھائی بھائی قرار دیا ۔ کتنے مومن ہیں جن کی نیندیں مسلمانوں کی بے بسی اور بے گوروکفن لاشے دیکھ کر حرام ہو گئی ہیں؟ اور کتنے مسلمان ملک ہیں جو مظلوم مسلمانوں کی مدد کو بے چین نظر آتے ہیں؟

٢٤۔کتنے ایسے ہیں جنہوں نے قرآن کو اپنے گھر میں قسمیں کھانے ، مُردوں پر پڑھنے ، بچیوں کو جہیز میں دینے ، خوبصورت غلافوں میں بند کرکے الماریوں کی زینت بنانے اور محض برکت کے لیے رکھ چھوڑا ہے اور کتنے مسلمان ہیں جنہوں نے قرآن کو اپنے گھر میں اس لیے رکھا ہے کہ ہم اس سے ہدایت حاصل کریں گے، اسے سمجھیں گے اور اس سے پوچھ پوچھ کر زندگی بسر کریں گے؟پہلے تو مسلمانوں کے گھرانوں سے کم از کم تلاوت کی آواز آ جایا کرتی تھی، اب تو وہ بھی عنقا ہوتی جا رہی ہے۔

قارئین محترم ! آپ کہیں گے کہ وعظ بہت طویل ہو گیا ہے لیکن یقین مانیے یہ صرف چند سوال ہیں اور وہ بھی بطور مثال ۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے ۔اپنے ذہن پر زور دیجیے تو اس طرح کے اور بہت سے سوالات آپ خود سے کر سکتے ہیں۔اور پھر ان جوابات کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس پرقرآن کی محبت کے کتنے آثار ہیں ۔ہمیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ محبت کا دعویٰ تو بڑی بات ہے ہم توشاید اس بات کے مستحق ہو گئے ہیں کہ ہمیں قیامت کے دن اس قوم میں شامل کر دیا جائے جس کے خلاف رسول گواہ بنیں گے: وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً۔ اے میرے رب! میر ی قوم نے اس قرآن کو پس انداز کردہ چیز بنا رکھا تھا۔

اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہم نے قرآن کو پس انداز کردہ چیز نہ بنایا ہوتا تو قرآن کی بے حرمتی پر ہم واقعتا ً تڑپ اٹھتے اور پورے عالم کے مسلمان قرآن کو سینوں سے لگائے، جب گھروں سے نکلتے تو کفر پر ہزاروں ایٹم بموں سے بھاری ہوتے ۔لیکن آخر کیوں نکلتے؟ دن رات توہمارے اپنے گھر وں میں قرآن کی توہین ہور ہی ہے۔وہاں ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے تو اب کیوں ہوتے ؟کیا کسی بڑے کے حکم کو پرکاہ سی حیثیت دینا اس بڑ ے کی توہین نہیں ہوتی؟ تو قرآن سے بڑا ہمارے گھر وں میں کون ہے؟ قرآن کے سائے میں بیٹھ کر ہم اس کا حکم پس پشت ڈال رہے ہوتے ہیں اور پھر خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ اس سے قرآن کی توہین نہیں ہوتی ۔اگر ہم قرآن کی حرمت و ناموس کے بارے میں حقیقتاً حساس ہوتے توہمارے گھروں کامنظر ہی اور ہوتا اور اگر ایسا ہوتا تو پھر اس امریکی توہین پر بھی یقینا کہیں زیاد ہ تڑپ اٹھتے ۔ لیکن وہ تڑ پ ہی تو مرد ہ ہو گئی۔

دینی سیاسی جماعتوں نے حرمت قرآن کنونشن کیے اور اس میں اس طرح کے پیغامات تقسیم کیے گئے: ''امریکی دہشت گردوں نے گوانتا نا موبے میں قرآن مجید کو لیٹرینوں میں بہایا اور سنگینوں پہ اچھالا۔ یوں قرآ ن مجید کی توہین کر کے عالم اسلام کی غیرت کو للکارا گیا ہے ۔ اس موقع پر امریکیوں کو یہ بتا دو کہ تم نے غیرت مند قوم کو للکارا ہے جو قرآن کی حرمت پر کٹ مرنے کو تیا رہے۔ '' ہا ں شاید قرآن کی حرمت پر مسلمانوں کوکٹ مرنا آسان ہو لیکن قرآن کے نام پر جینا بہر حال ان کے لیے مشکل ہے۔ اگر یہ قرآن کے نام پر جیتے ہوتے تو امریکیوں کو یہ جرات ہی نہ ہوتی۔ اور اگر کہیں ہوتی بھی تو قرآن والوں کی ایک آواز، ایک احتجاج امریکیوں پر ایٹم بم سے بڑھ کر موثر ہوتا۔ قرآن سے خالی زندگیوں کے کٹ مرنے کی انہیں کوئی پروا نہیں لیکن قرآن کی حامل زندگیوں کا تیز نظر سے دیکھنا بھی انہیں گھائل کر دیتا ہے۔ یقین نہ آئے توتجربہ شرط ہے ۔ اللہ کرے کہ ہم تجربتاً ہی اس کے لیے تیار ہو جائیں۔ ورنہ یہ آوازیں ، یہ کنونشن ، یہ جلسے ، یہ جلوس ، یہ سب صدا بصحرا ثابت ہوں گے بلکہ ہو چکے ہیں ۔ کیا ہم اب بھی حقیقت کا ادراک نہ کریں گے؟اور کیا ہم اپنے جسموں پر اور اپنے گھروں، اپنے ماحول اور اپنے معاشرے میں اپنے ہاتھوں ہونے والی قرآن کی توہین کو روکنے کے لیے آگے بڑھیں گے؟ یا صرف دور دور سے اور وہ بھی دور کے دشمن کو دیکھ کر غرانے پر اکتفا کریں گے اور اگر دشمن قریب آئے تو یوں آنکھیں بند کر لیں گے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر!

(محمد صدیق بخاری)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

۱۔ قرآن مجید سے ہمارے تعلق کی اصل بنیاد کیا ہونی چاہیے؟

۲۔ اپنے لیے لائحہ عمل تیار کیجیے کہ ہم کس طرح سے قرآن کو اپنی زندگی میں علم و عمل کا محور بنا سکیں۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

| جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter